مدینہ میں اسلام کا داخلہ
Al-Risala, June 2021, pp. 28–47
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام ابھی مکہ میں تھے کہ آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ کیا۔ یہ لوگ وہاں اس لیے گئے تھے تا کہ آپ کا پیغام مدینہ والوں کو پہنچائیں۔ مدینہ والوں کی زبان عربی تھی، جس طرح مکہ والوں کی زبان عربی۔ چنانچہ ان لوگوں نے یہ کیا کہ قرآن کے مختلف حصوں کو پڑھ کر اُنہیں سنانے لگے۔ اسی لیے ان کا نام مقری پڑ گیا (وَكَانَ يُدْعَى الْمُقْرِئُ) معرفۃ الصحابہ لابی نعیم الاصفهانی، جلد 5، صفحہ 2556۔ عربی زبان میں مقری کے معنی ہیں: پڑھ کرسنانے والا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مکہ کے برعکس مدینہ میں پیغمبر اسلام کا پیغام تیزی سے پھیلنے لگا۔ کے تقریباً ہر گھر میں ایسے افراد پیدا ہو گئے جنہوں نے بتوں کی پرستش چھوڑ دی اور پیغمبر اسلام کے دین کو اختیار کر لیا۔ مکہ میں مخالفت اور مدینہ میں موافقت کا یہ دو مختلف تجربہ کیوں ہوا۔ اس کا ایک معلوم وہ یہ کہ مکہ عرب کے صحرائی علاقے میں واقع تھا۔ یہاں زراعت وغیرہ موجود نہیں تھی۔ والوں کی معیشت بڑی حد تک بت پرستی کے کلچر سے وابستہ تھی۔ کعبہ اُس زمانے میں پورے عرب میں بت پرستی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا تھا کہ عرب کے تمام قبائل کے لوگ سال بھر یہاں اس طرح بت پرستی میں مکہ والوں کے لیے ایک اقتصادی قدر(commercial value) پیدا ہو گئی تھی۔ گویا کہ قدیم مکہ میں بتوں کو وہی حیثیت حاصل ہو گئی تھی جس کو موجودہ زمانے میں ٹورسٹ انڈسٹری کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر مکہ کے لوگ ڈرتے تھے کہ اگر عرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہو جائے تو ان کی ٹورسٹ انڈسٹری‘ ختم ہو جائے گی۔
اہل مدینہ کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ مدینہ عرب کے ایک ایسے علاقے میں واقع تھا جہاں پانی کی کمی نہیں تھی۔ اس بنا پر وہاں زراعت اور باغبانی کا کافی رواج تھا۔ یہاں کے لوگوں کے لیے یہ ڈر نہ تھا کہ اگر بت پرستی کا خاتمہ ہو جائے تو اُن کی معاش کا ذریعہ ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ بت پرستی
ان کی معاش کا ذریعہ ہی تھی۔
اس بنا پر ایسا ہوا کہ توحید کا مذہب اہل مکہ کے لیے ابتدائی زمانے میں قابلِ قبول نہ ہوسکا۔ مگر اہل مدینہ اس قسم کی نفسیات سے خالی تھے۔ بت پرستی کا خاتمہ ان کے نزدیک صرف ایک مذہبی کلچر کا خاتمہ تھا، نہ کہ ان کے معاشی ذریعے کا خاتمہ۔ چنانچہ مدینے میں پیغمبر اسلام کا پیغام تیزی سے
پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل ٹکراؤ کے طریقے کو چھوڑ کر امن کے طریقے کو اختیار کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام کے اس اصول کو آپ کی اہلیہ حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی پیغمبر اسلام کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ یہ کرتے کہ مشکل کے مقابلے میں آسان طریقے کا انتخاب فرماتے۔ اس معاملے کی ایک واضح مثال مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے آخری دنوں میں آپ کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ یا تو قریش سے جنگی ٹکراؤ کریں، یا خاموشی کے ساتھ پُرامن طور پر مکہ سے نکل کر مدینہ چلے جائیں۔ اُس وقت کے حالات میں پہلا انتخاب مشکل انتخاب (harder option) اس کے مقابلے میں دوسرا انتخاب، یعنی خاموشی سے مدینہ چلے جانا ایک آسان انتخاب (easier چنانچہ پیغمبر اسلام نے اپنے اصول کے مطابق اُس کو لے لیا جو آسان تھا، اور اس کو چھوڑ دیا جو مشکل تھا۔
مکہ سے مدینہ کا یہ سفر تقریباً پانچ سو کلومیٹر کا سفر تھا۔ یہ پورا سفر فرنٹ پر گذرا۔ مگر چوں کہ آپ کو معلوم تھا کہ مکہ کے لوگ آپ کو پکڑنے کے لیے آپ کا پیچھا کر رہے ہیں، اس لیے آپ نے ان سے بچاؤ کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔ مثلاً مکہ سے رات کے وقت خاموشی سے روانگی۔ مدینہ سفر کرنے کے بجائے مخالف سمت کے ایک غیر آباد کھوہ میں تین دن چھپے رہنا۔ کے بجائے نئے راستے سے سفر کرنا، وغیرہ۔
ہجرت کے اس سفر میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جو بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کا مزاج کیا مثلاً ایک مقام پر آپ کو دو شخص ملے۔ وہ دونوں آپس میں بھائی تھے۔ آپ نے اُن سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قبیلے نے ہم دونوں کا ایک ہی نام رکھا ہے۔ المَهَانَانِ (دو بے عزّت آدمی)، آپ نے فرمایا کہ نہیں، تم دونوں باعزت آدمی ہو (بَلْ أَنْتُمَا المُكْرَمَان) مسند احمد، حدیث نمبر 16691۔
یہ طریقہ آپ کے اصول تربیت کا ایک حصہ تھا۔ آپ جانتے تھے کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر مثبت انداز میں کی جائے۔ اس لیے آپ نے اُن کا نام بدل دیا۔ اس طرح انہیں یہ نفسیاتی ترغیب دی کہ وہ اپنے آپ کو اعلی انسانیت کے رُخ پر ترقی دیں۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں آپ کی صاحب زادی حضرت فاطمہ کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب سے ہوا۔ ان کے یہاں پہلا لڑکا پیدا ہوا تو پیغمبر اسلام نے علی سے پوچھا کہ تم نے بیٹے کا نام کیا رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حرب (جنگ) پیغمبر اسلام نے کہا کہ یہ نام درست نہیں۔ اس کے بعد آپ نے اس کا نام حسن رکھا (فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2777۔ 622 عیسوی سے پیغمبر اسلام کی مدنی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ کا ہجرت کر کے مدینہ پہنچنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس سے پہلے مکہ کی تیرہ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ کو نہایت تلخ تجربے پیش آئے تھے۔ آپ کو مسلسل ستایا گیا، آپ کے ساتھیوں کو مارا پیٹا گیا، آپ کا اور آپ کے خاندان کا بائیکاٹ کیا گیا، آپ کو اتنی شدید مصیبتوں میں مبتلا کیا گیا کہ آپ اور آپ کے ایک سو سے زیادہ ساتھی اپنے وطن اور اپنی جائیداد کو چھوڑ کر مکہ سے مدینہ آگئے۔ یہاں انہیں اپنے گھر اور اپنے عزیزوں سے محروم ہو کر از سر نو اپنی زندگی کی تعمیر کا مشکل کام کرنا تھا۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ پیغمبر اسلام کا دل شکایت اور احتجاج سے بھرا ہوا ہو اور وہ مدینہ پہنچتے ہی مکہ والوں کے خلاف منفی باتیں کہنا شروع کر دیں۔ مگر معاملہ اس کے برعکس ہوا۔
اسلام نے مدینہ پہنچ کر مدینہ والوں کے سامنے جو پہلی تقریر کی، وہ اب بھی سیرت کی کتابوں میں موجود سیرت ابن ہشام میں اس کو" مدینہ کا پہلا خطبہ" کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے— وَكَانَتْ أَوْلَ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ آپ کے اس خطبے کا خلاصہ یہ ہے— فَمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ مِنْ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ (سیرت ابن هشام، جلد 1، صفحہ 501)۔ یعنی تم میں سے جو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی طاقت رکھتا ہو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو، وہ ضرور کرے۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ دراصل پیس فل ایکٹوزم کی قیمت تھی۔ اُس وقت کے حالات میں بلاشبہ یہ ایک مشکل کام تھا۔ یہ اپنے منفی جذبات کو مثبت جذبات میں کنورٹ کرنا تھا۔ مگر یہی پیس فل ایکٹوزم کی قیمت ہے۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کوئی شخص پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر قائم نہیں رہ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ امن اور تشدد دونوں ہی داخلی احساسات کا اظہار ہوتے اگر آدمی کے ذہن میں نفرت ہو تو اس کا اظہار متشددانہ (violent) عمل کی صورت میں ہوگا، اور اگر اس کے ذہن میں محبت ہو تو اس کا اظہار ہمیشہ پر امن طریق عمل کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ حالت میں پیس فل ایکٹوزم کا نام لینا، کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ قربانی یہ کہ آدمی نفرت کے اسباب کے باوجود فریق ثانی سے نفرت نہ کرے، وہ اپنے دماغ کو نفرت والی باتوں سے پوری طرح خالی رکھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی پر امن طریق کار پر عمل کرنا چاہتا ہو اُس کو سب سے پہلے خود اپنے ذہن کو میانہ روی پر قائم رکھنا ہوگا۔ اُس کو یک طرفہ طور پر یہ کرنا ہوگا کہ فریق ثانی اس کو غصہ دلائے، مگر وہ ہرگز غصہ نہ ہو۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کوئی شخص پر امن طریق کار کے اصول کو اختیار نہیں کر سکتا۔
پیغمبر اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار پر امن ایکٹوزم کا مکمل نمونہ پیش کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ نے یک طرفہ اعتدال پسندی کی مذکورہ قیمت ادا کی۔ آپ کے ساتھ فریق ثانی کی طرف
سے ہر قسم کی زیادتی کی گئی مگر آپ ان زیادتیوں سے اوپر اٹھ کر سوچتے رہے۔ ان کی زیادتیوں کو نظر انداز کر کے آپ نے مثبت انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنایا۔
پیغمبر اسلام کی یہ تقریر بتاتی ہے کہ آپ مکمل معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ بڑے سے بڑا نا خوش گوار واقعہ آپ کے ذہنی سکون (peace of mind) کو درہم برہم نہیں کر سکتا آپ نے اپنے ذہن کی سطح پر ایک ایسی بلند چیز پالی تھی کہ اس کے بعد ہر دوسری چیز آپ کو غیر اہم معلوم ہوتی تھی۔ آپ کامل معنوں میں ایک مثبت ذہن کے انسان تھے۔ آپ کا دماغ گویا ایک ایسا کارخانہ تھا جس میں داخل ہو کر ایک نیگیٹیو آئٹم بھی پازیٹیو آئٹم بن جاتا تھا۔ آپ کو اپنی زندگی میں جب بھی کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آتا تو آپ کا ذہن فوری طور پر ڈفیوز کر کے اس کو ایک مثبت احساس میں تبدیل کر لیتا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کے حافظے تک جب کوئی منفی احساس پہنچتا تو وہ بدل کر مثبت احساس بن چکا ہوتا تھا۔ آپ کی شخصیت کامل معنوں میں ایک مثبت شخصیت تھی۔ آپ منفی حالات میں بھی مثبت ذہن کے ساتھ رہنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ تشدد کے واقعات کو بدل کر امن کا واقعہ بنانے کی غیر معمولی استعداد رکھتے تھے۔ 622 عیسوی میں جب آپ مدینہ پہنچے اس وقت مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی موجود تھے۔ گویا کہ اس وقت کا مدینہ ایک ملٹی ریلیجس سوسائٹی کی حیثیت رکھتا تھا۔ ماحول میں لوگ کس طرح پر امن طور پر رہیں، آپ نے اس کا ایک کامیاب فارمولا دریافت کیا۔ فارمولا اس اصول پر مبنی تھا — ایک کی پیروی کرو، اور سب کا احترام کرو: Follow one and respect all. اس وقت کے مدینہ میں تعداد کے اعتبار سے مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہو چکی تھی۔ اُس وقت کے مدینہ میں جو ابتدائی ریاست بنی، اُس کے صدر خود پیغمبر اسلام تھے۔ آپ نے صدر ریاست کی حیثیت سے ایک ڈیکلیریشن (declaration) جاری کیا، جو تاریخ میں صحیفۂ مدینہ یا میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس ڈیکلیریشن میں بتایا گیا تھا کہ مسلم، مشرک اور یہود، تینوں
کو یہ حق ہوگا کہ وہ اپنے ذاتی معاملات کو خود اپنے مذہب اور کلچر کے مطابق طے کریں۔ تک اجتماعی نزاعات کی بات ہے، اُن کو اللہ اور اس کے رسول کے طریقے کے مطابق طے کیا جائے گَا وَإِنَّكُمْ مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ، فَإِنَّ مَرَدَّهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) سیرت بن ہشام، جلد 1، صفحہ 503۔
یہ کثیر مذہبی یا کثیر کلچر والے سماج میں امن قائم کرنے کا واحد عملی اصول ہے۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اپنے دائرے میں ہر ایک اپنے طریقے کی پیروی کرنے میں آزاد ہو۔ جہاں تک اجتماعی معاملات کا تعلق ہے، یعنی وہ معاملات جن میں رائیں ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتی ہیں، وہاں مرکزی انتظامیہ کی اتباع کرنا۔ اس طریقے کو دوسرے الفاظ میں پر امن ڈفرینس مینجمنٹ (peaceful difference management) کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سماج میں ہمیشہ فرق اور اختلاف پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ سماج واحد مذہبی سماج ہو یا کثیر مذہبی سماج ۔ اس فرق کو تسلیم کیا جا سکتا ہے، مگر اس کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ ایسے حالات میں کسی سماج میں امن قائم کرنا صرف بقائے باہم (co-existence) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس معاملے میں دوسرا کوئی انتخاب ممکن نہیں۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے وہاں ایک مسجد بنائی۔ اس مسجد میں پانچ وقت کی نماز کا نظام قائم کیا۔ اس نماز کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ خدا کی عبادت کا منظم طریقہ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کے اندر وہ صلاحیتیں پیدا ہوں جن کے ذریعے وہ سماج کے اندر پر امن طور پر رہ سکے۔ چنانچہ آپ نے نماز کا جو طریقہ مقرر کیا اس کے خاتمے پر تمام نمازیوں کو اپنا چہرہ دائیں اور بائیں پھیر کر یہ کہنا ہوتا تھا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ اس طرح گویا نمازی ساری دنیا کے انسانوں کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے کہ اے لوگو، تمہارے اوپر سلامتی (peace) ہو۔ اس طرح نماز باجماعت گویا لوگوں کی اس انداز میں تربیت کا ذریعہ تھی کہ وہ اپنے سماج میں پر امن شہری بن کر رہیں۔ سماج کے لوگوں کے لیے ان کے دل میں ہر حال میں مثبت جذبات ہوں، وہ دوسروں کے لیے کبھی مسئلہ نہ بنیں۔ اُن کا رویہ دوسروں کے ساتھ انسان دوستی (human
(friendly والا رویہ ہو۔
پیغمبر اسلام جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آگئے تو یہ ٹکراؤ کا خاتمہ نہ تھا بلکہ یہ ٹکراؤ کے نئے دور کا آغاز بن گیا۔ پیغمبر اسلام نے خود تو یہ قربانی دی کہ جنگ سے بچنے کے لیے اپنے وطن مکہ کو چھوڑ دیا اور مدینہ جا کر آباد ہو گئے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ مدینہ آپ کے مشن کے لیے ایک زرخیز علاقہ ثابت ہوا۔ یہاں کے لوگ تیزی سے آپ کے دین میں داخل ہو گئے۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ کی اکثریت آپ کی ساتھی بن گئی۔
پیغمبر اسلام کی ہجرت کے بعد یہ ہوا کہ مکہ اور مکہ کے آس پاس دوسرے مسلمان بھی اپنے مقامات کو چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ اس طرح مدینہ، پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک مضبوط مرکز بن گیا۔ یہاں مدینہ کے اندر اور مدینہ کے باہر، دونوں علاقوں کے لوگ جمع ہو گئے۔ یہ مکہ والوں کے لیے گویا ایک وارننگ تھی۔ وہ اپنے طور پر یہ سوچنے لگے کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں اپنے افراد کو اکٹھا کر کے ایک بڑی قوت بنائیں گے اور مکہ کو واپس لینے کے لیے مکہ پر حملہ کر دیں گے۔ اس لیے مکہ والوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام کی طاقت کو توڑ کر اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مکہ والوں نے عوامی عطیات سے پچاس ہزار دینار اکٹھا کیے، اور تیاری شروع کر دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ پر باقاعدہ حملے کا منصوبہ بنا لیا۔ حتیٰ کہ ایک ہزار کی تعداد میں مسلح فوج لے کر روانہ ہوئے تاکہ مدینہ کی جدید مسلم ریاست کا خاتمہ کر دیں۔ اس طرح مدنی دور میں غزوات (لڑائیوں) کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سیرت کی کتابوں میں تقریباً 85 غزوات شمار کیے گئے ہیں۔ مگر یہ غزوات فریق ثانی کی طرف سے غزوات تھے اور پیغمبر اسلام کی طرف سے اعراض۔ پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ فریق ثانی کے جنگی اقدام کا مقابلہ پر امن تدبیروں سے کریں۔ اس پر امن تدبیر کے لیے امن پسند انسانوں کی ایک تربیت یافتہ ٹیم درکار تھی۔ اصحاب رسول نے یہی کام کیا۔ چنانچہ تشدد کا مقابلہ امن کے ذریعہ کرنے کی تدبیر اس طرح کامیاب ہوئی کہ بیس سال کی مختصر مدت میں پورا عرب اسلام کے کنٹرول میں آگیا۔
اس پرامن تدبیری مہم کا ایک خاص جز ء یہ تھا کہ پیغمبر اسلام نے عرب کے تمام قبائل سے معاہدے کر لیے، اور تمام قبائل کو امن کا پابند بنا لیا۔ یہ ایک نیا طریقہ تھا جس کو معاہدہ ڈپلومیسی کہا جا سکتا ہے۔ انہیں تدبیروں کا نتیجہ یہ تھا کہ عرب جیسے جنگ جُو ملک میں مختصر مدت کے اندر ایک ایسا انقلاب آ گیا جس کو بلا شبہ ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔ صبر کا فلسفہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ میں تقریباً ایک سو دس آیتیں ہیں جن میں صبر کے الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ صبر ہی پر کامیابی کا مدار رکھا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو! صبر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ ( آل عمران، اسی طرح فرمایا کہ امامت یا لیڈرشپ میں کامیابی کا راز صبر ہے (السجدہ، 32:24 )۔ اسی حقیقت کو پیغمبر اسلام نے اپنی ایک لمبی حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا: وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ (مسند احمد، حدیث نمبر 2803 ) ۔ یعنی جان لو کہ کامیابی صبر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ صبر نہیں تو کامیابی بھی نہیں۔ کامیابی کا درخت ہمیشہ صبر کی زمین پر اُگتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے تمام پیسیفسٹ (pacifist) یا پیس فل ایکٹوسٹ (peaceful activist) اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا مشترک سبب یہ ہے کہ انہوں نے امن کو دریافت کیا مگر وہ صبر کو دریافت نہ کر سکے۔ حالاں کہ صابرانہ روش کے بغیر پرامن تحریک کو چلانا ممکن نہیں۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ کسی کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر اس کے خلاف تحریک چلاتے ہیں۔ جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے ساؤتھ افریقہ میں کیا۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے سفید فام مکینوں کے خلاف نفرت پھیلائی اور پھر کہا کہ ہم ان کو ساؤتھ افریقہ سے نکالنے کے لیے پیس فل تحریک چلائیں گے۔ حالاں کہ دونوں ایک دوسرے کی نفی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیلسن منڈیلا کی تحریک کامیاب نہ ہوسکی۔ کسی گروہ کے مقابلے میں پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر تحریک چلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے دل میں اس کے خلاف منفی جذبات نہ
اس کے مقابلے میں آپ مکمل طور پر مثبت نفسیات کے حامل ہوں۔ یہی واحد بنیاد ہے جس کے اوپر پیس فل ایکٹوزم کی سرگرمیاں جاری ہو سکتی ہیں۔ مدِ مقابل گروہ کے لیے آپ کے دل میں اگر مثبت جذبات نہ ہوں تو آپ کبھی اپنے پرامن مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے مقابلے میں پرامن طریق کار کی بنیاد پر ایک تحریک اٹھاتا ہے، لیکن فریق ثانی کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں کا احساس فریق اوّل کے خلاف اس کے دل میں نفرت ڈال دیتا ہے۔ یہ نفرت دھیرے دھیرے تشدد کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اگر تشدد کے ذریعہ مطلوب کامیابی مل رہی ہو تو فریق اوّل کے دل میں فریق ثانی کے خلاف نفرت کا طوفان اس کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف ہر ممکن تخریبی کارروائی شروع یہاں تک کہ اس کو مٹانے کے لیے اُس قسم کی بھیانک کارروائی کرنے لگے جس کو موجودہ زمانے میں خود کش بمباری (suicide bombing) کہتے ہیں۔
پیس فل ایکٹوزم کے سلسلے میں یہ بات غالباً پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ دوسرے مصلحین کی طرح ان کو بھی فریق ثانی کی طرف سے سخت قسم کی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ مگر آپ نے کبھی اُن کے خلاف نفرت کی زبان استعمال نہیں کی۔ اپنے ساتھیوں کو بھی آپ ہمیشہ نفرت کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ کی زندگی میں اس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔
مثال کے طور پر مکہ میں پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کا ایک خاندان تھا، جس کو آل یاسر کہا جاتا یہ ایک کمزور خاندان تھا۔ چنانچہ آپ کے طاقت ور مخالفین نے انہیں مارنا پیٹنا شروع کیا اور کہا کہ پیغمبر کا ساتھ چھوڑ دو۔ پیغمبر اسلام نے اس منظر کو دیکھا تو آپ نے زیادتی کرنے والوں کے خلاف نفرت کا کوئی کلمہ نہیں کہا، بلکہ یہ کہا: صَبْرًا يَا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 5646)۔ یعنی اے آل یاسر صبر کرو، کیوں کہ تمہارے لیے جنت کا جنت کو صبر کا انعام بتا کر آپ نے اپنے ساتھیوں کو اس کے لیے آمادہ کیا کہ وہ کسی بھی
زیادتی پر مشتعل نہ ہوں ۔ وہ کسی بھی حال میں فریق ثانی کے خلاف اپنے دل میں منفی جذبات کی پرورش نہ کریں ۔
یہ پیغمبرِ اسلام کی پالیسی کا نہایت اہم پہلو تھا جو آپ نے خدا کی رہنمائی کے مطابق اختیار کی۔ یعنی مخالفوں کی ہر زیادتی پر صبر کرنا۔ قرآن میں اس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ مثلاً نبیوں کی زبانی یہ کہا گیا ہے: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا (14:12) ۔ یعنی ہم تمہاری ایذاؤں پر صرف صبر ہی کریں گے ۔
یہ صبر کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فریق ثانی کی ظالمانہ کارروائی کے باوجود مثبت سوچ پر قائم رہنا، اپنے آپ کو اس سے بچانا کہ اپنے ذہن میں فریق ثانی کی منفی تصویر بن کیوں کہ فریق اول کے دل میں اگر فریق ثانی کی منفی تصویر بن جائے تو فریق اول کبھی فریق ثانی کے ساتھ پرامن طریق کار کے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ صبر کا اصول فریق اول کو اس سے بچاتا ہے کہ اس کا ذہن فریق ثانی کے بارے میں غیر معتدل ہو جائے۔ پرامن طریق کار (peaceful activism) دراصل معتدل ذہن کا اظہار ہے۔ غیر معتدل یا منفی ذہن کبھی پرامن طریق کار کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا۔ صبر کا یہ اصول دراصل اسی اعتدال یا مثبت مزاج کی برقراری کی ایک یقینی گارنٹی ہے۔
پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مخاطب گروہ کی طرف سے مسلسل زیادتیاں کی گئیں، لیکن آپ ہمیشہ پابندی کے ساتھ صبر کے اصول پر قائم رہے، اور اپنے ساتھیوں کو اسی کی تلقین کی۔ آپ کی مجلسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ مخالفین کے ظلم کا چرچا کیا جائے ۔ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مخالفین کے ظلم کے حوالے سے ان کے خلاف بددعائیں کریں۔ برعکس، آپ ہمیشہ ظلم کرنے والوں کے خلاف اچھی دعا کرتے تھے۔ آپ نے مخالفوں کو کبھی کافریا دشمن نہیں کہا، بلکہ ہمیشہ ان کے بارے میں انسان کا لفظ بولتے رہے۔ اس معاملے کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ ایک بار آپ کے مخالفوں نے پتھر مار کر آپ کو زخمی کر دیا، اُس وقت آپ کی زبان
سے یہ الفاظ نکلے : اللَّهُمَّ اھْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر میری قوم کو ہدایت دے، کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔
یک طرفہ صبر اور خیر خواہی کا طریقہ جو آپ نے عرب میں اختیار فرمایا، وہ اسی لیے تھا کہ فریق ثانی کے بارے میں آپ، یا آپ کے ساتھیوں کے دل میں شکایت اور نفرت کی نفسیات پیدا نہ ہونے کیوں کہ جو ذہن شکایت اور نفرت لیے ہوئے ہو، وہ اصلاح کا کام درست طور پر نہیں کر سکتا۔ ایسی حالت میں پیغمبر اسلام کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ ایک یہ کہ لوگوں کو کھلے طور پر توحید کی طرف بلائیں اور کھلے طور پر شرک کو غلط قرار دیں۔ آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ خاموشی کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے اپنا مشن شروع کریں اور حالات کا اندازہ کرتے ہوئے تدریجی طور پر آگے بڑھیں۔ پہلے طریقے میں متشددانہ ٹکراؤ کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے آپ نے دوسرے طریقے کو اختیار کیا، جو واضح طور پر امن کا طریقہ تھا۔ جس میں یہ ممکن تھا کہ لوگوں سے ٹکراؤ کی صورت حال پیدا کیے بغیر اپنا کام جاری رکھا جا سکے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں یہ پیس فل ایکٹوزم کی پہلی مثال تھی۔ اسی طرح آپ نے اپنی پوری تحریک امن کے اصول پر چلائی۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث میں آپ نے اس طرح فرمایا: لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ العَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2965)۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو کسی دشمن کا سامنا پیش آئے تو ایسا نہ کرو کہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو کر اس سے لڑ جاؤ، بلکہ امن کے اصولوں کو اختیار کرتے ہوئے دشمنی کے مسئلے کو حل کرو: Solve the problem of enmity by following the اس طرح آپ پُرا من انداز میں کام کرتے رہے یہاں تک کہ دھیرے دھیرے 83 آدمی آپ کے مشن میں شامل ہو گئے ۔ اُس وقت آپ کے ایک سینئر ساتھی ابو بکر صدیق بن ابی قحافہ نے
کہا کہ اب ہم کو اعلان کے ساتھ کھلے عام اپنا کام کرنا چاہیے۔ پیغمبرِ اسلام کہا: اے ابوبکر! ہم تھوڑے ہیں (يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّا قَلِيلٌ) لیکن ابوبکر صدیق نے اس کے باوجود ایسا کیا کہ وہ کعبہ میں گئے اور وہاں بلند آواز سے اعلان کر کے لوگوں کو بتایا کہ میں پوری طرح محمد کا ساتھی بن گیا ہوں۔ سُن کر مخالفین کی ایک جماعت دوڑ کر آئی۔ وہ آپ کو مارنے نے پیٹنے لگی۔ انہوں نے آپ کو اتنا زیادہ مارا کہ آپ زخمی ہو کر گر پڑے۔ مارنے والوں نے ابوبکر صدیق کو صرف اُس وقت چھوڑا جب کہ انہوں نے سمجھا کہ اب ان کا خاتمہ ہو چکا ہے (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 439)۔ عمر بن الخطاب آپ کے ساتھیوں میں نہایت طاقتور شخص تھے۔ انہوں نے بھی پیغمبرِ اسلام سے کہا کہ ہم حق پر ہیں، پھر ہم کیوں خاموش رہیں۔ ہم اعلان کے ساتھ کھلے طور پر اپنا کام کریں یہ سُن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: يَا عُمَرُ إِنَّا قَلِيلٌ قَدْ رَأَيْتَ مَا لَقِينَا (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 441)۔ یعنی اے عمر! ہم تھوڑے ہیں، ابو بکر کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ تم نے دیکھ لیا۔ دھیرے دھیرے پیغمبرِ اسلام کا مشن پھیلنے لگا۔ آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ وہ وقت آیا جب کہ مدینہ سے 73 آدمی آ کر آپ سے ملے، اور بتایا کہ ہم آپ کے مشن میں آپ کے ساتھ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ مکہ والوں کی زیادتی کو اور زیادہ برداشت نہ کیجیے۔ اجازت دیجیے کہ ہم مکہ والوں کے خلاف جہاد کریں۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: اصْبِرُوا فَإِنِّي لَمْ أُومَرْ بِالْقِتَالِ (المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، جلد 1، صفحہ 199)۔ یعنی تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑائی کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔
پیغمبرِ اسلام کی یہ روش بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ عملی نتیجے کو سامنے رکھتے تھے۔ اُن کا یہ ماننا تھا کہ اقدام کو مثبت نتیجے کا حامل ہونا چاہیے، ایسا اقدام جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہو، وہ کوئی اقدام نہیں۔ وہ نتیجہ خیز اقدام (result-oriented action) کے حامی تھے۔ پیغمبرِ اسلام کی لائف بتاتی ہے کہ ان کی اسکیم میں اِس قسم کی چیز کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، جس کو موجودہ زمانے میں خود کُش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے۔
وہ دراصل مایوسی کا آخری درجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے مخالف پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ فریقِ ثانی کو پریشان کرنے کی خاطر خود اپنے آپ کو ہلاک کرے اور پھر اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کرلے کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ میں شہید ہو جاؤں۔
دشمن کے مقابلے میں خود کش بمباری دراصل یہ ہے کہ آدمی کے سامنے پیس فل ایکشن کا انتخاب کھلا ہوا ہو مگر نفرت اور انتقام کے جذبات میں مبتلا ہو کر وہ اس کو نقصان پہنچانے کے لیے اندھا ہو جائے اور اس اندھے پن میں وہ خود اپنے ہی کو ہلاک کر ڈالے۔ کوئی بھی صورتِ حال جہاں کوئی شخص خودکش بمباری کا چانس لیتا ہے، وہاں یقینی طور پر اس کے لیے پُر امن طریقِ کار کا راستہ کھلا ہوتا ہے۔ مگر وہ اس کو دیکھ نہیں پاتا۔
اصل یہ ہے کہ پُر امن طریقِ کار کا انتخاب کرنے کے لیے پہلی ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی کا ذہن نفرت اور انتقام کے جذبات سے خالی ہو۔ وہ غیر متاثر انداز میں واقعات کا تجزیہ کرے۔ اسلام کے الفاظ میں، وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسا کہ وہ ہیں (أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ) تفسير الرازی، جلد 1، صفحہ 119۔ پُر امن عمل ایک مثبت عمل ہے اور مثبت عمل کی اہمیت کو ایک مثبت ذہن ہی سمجھ سکتا ہے، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ امن پسندانہ سوچ پیس فل ایکٹوزم بظاہر ایک خارجی عمل ہے، مگر وہ مکمل طور پر ایک داخلی شعور کا نتیجہ ہوتا یہ صرف پیس فل مائنڈ ہے جو پیس فل ایکٹوزم کی بات سوچ سکتا ہے اور اس کو درست طور پر عمل میں لاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے اس حقیقت کو جانا۔ انہوں نے اس سلسلے میں یہ کیا کہ سب سے پہلے پیس فل مائنڈ بنایا۔ اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہو سکے کہ پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر اپنی تحریک چلا سکیں۔ اسی حقیقت کو آپ نے مذہبی زبان میں اس طرح بیان کیا ہے: جب آدمی کا دل درست ہوتا ہے تو اس کے تمام اعمال درست ہو جاتے ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 52)۔
ذہن سازی کے اس عمل کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اہم کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ کرے (البقرہ، 2:129)۔ یعنی روح کی تطہیر (purification of the soul)۔ اس تزکیہ کا طریقہ کیا تھا۔ یہ پیغمبر اسلام کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ زَادَ زَادَتْ، حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبُهُ (مسند احمد، حدیث یعنی مؤمن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔ تو بہ کرے اور اس کو مٹادے اور استغفار کرے تو اس کا دل دھبے سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر دھبے میں مزید اضافہ ہو تو وہ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ اس حدیث میں پیغمبر اسلام نے ایک اہم نفسیاتی حقیقت بتائی ہے۔ نفسیاتی مطالعہ بتا تا ہے کہ انسان کے ذہن میں جب کوئی بات آتی ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے اس کے حافظے میں اس طرح محفوظ ہو جاتی ہے کہ پھر وہ کبھی نہیں نکلتی۔ نفسیات کا مطالعہ مزید بتا تا ہے کہ انسانی ذہن کے دو بڑے ایک شعور، اور دوسرا، لاشعور۔ جب کوئی بات انسانی ذہن میں آتی ہے تو وہ پہلے اس کے زندہ شعور کے خانے میں آتی ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ لاشعور کے خانے میں چلی
ایک خانے سے دوسرے خانے میں جانے کا یہ عمل خاص طور پر رات کے وقت ہوتا ہے۔ اس طرح اگر چہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات جو آج زندہ حافظہ (active memory) میں ہے، بعد کو وہ دماغ کے پچھلے خانے میں جا کر بظاہر ایک بھولی ہوئی بات بن جاتی ہے۔ مگر جہاں تک شخصیت انسانی کا تعلق ہے، وہ لازمی طور پر اس کا جزء بنتی رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شخصیت انسانی کا براہ راست تعلق انسانی تھنکنگ سے ہے۔ جیسی سوچ ویسی شخصیت۔
پیغمبر اسلام کے مذکورہ قول کا مطالعہ جدید نفسیاتی تحقیق کی روشنی میں کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس قول رسول میں پیس فل تھنکنگ اور پیس فل ایکشنزرم کا اصل راز بتا دیا گیا ہے۔ صحیح معنوں میں
وہی شخص پیس فل ایکٹوسٹ بن سکتا ہے جو مذکورہ قول رسول پر عمل کرے۔ اس عمل کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ کہا جا سکتا ہے۔
ہر انسان اور ہر انسانی گروہ ایسے ماحول میں رہتا ہے جہاں ہر وقت ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اس کے لیے ناخوش گوار ہوں، جو اس کے اندر فریق ثانی کے خلاف منفی احساسات پیدا اس طرح گویا ہر آدمی کے ذہن میں بار بار منفی نوعیت کے احساسات آتے رہتے ہیں۔ آدمی اس منفی احساس کو فوری طور پر بدل کر مثبت احساس نہ بنائے تو وہ آگے بڑھ کر اس کے لاشعور میں ایک منفی آئٹم کے طور پر محفوظ ہو جائے گا۔ یہ عمل اگر بلا روک ٹوک جاری رہے تو آخر کار یہ ہوگا کہ اس کا لاشعور یا اس کا حافظہ منفی آئٹم سے بھر جائے گا۔ اور اس کے نتیجے میں اس کی پوری شخصیت، منفی شخصیت بن جائے گی۔ یہی وہ منفی شخصیت ہے جس کے حامل افراد دوسروں کے خلاف تشدد اور جنگ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تشدد در اصل منفی شخصیت کے خارجی اظہار کا دوسرا نام ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب آدمی کے ذہن میں کوئی منفی احساس آئے تو اسی وقت وہ اس کو بدل کر مثبت احساس بنا لے۔ جو آدمی اپنے اندر کنورزن کا یہ عمل جاری کرے اس کا یہ حال ہوگا کہ اس کا پورا لاشعور یا حافظہ مثبت آئٹم کا اسٹور بن جائے گا۔ اس کا فائدہ اس کو یہ ملے گا کہ اس کی شخصیت ایسی شخصیت بنے گی جو ہر قسم کے نیگیٹیو احساس سے خالی ہوگی۔ ایسا آدمی مکمل طور پر ایک پازیٹیو شخصیت کا حامل ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو پر امن ذہن میں جیتے ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو پیس فل ایکٹوزم کے اصول کے مطابق کوئی تحریک چلا سکتے ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نفسیاتی (psychological) حقیقت کو سمجھا، اور تزکیہ، بالفاظ دیگر ایک ایک شخص پر ڈی کنڈیشننگ کا عمل جاری کر کے ایک سو ہزار سے زائد افراد کی ایک ٹیم بنائی۔ یہ وہ لوگ تھے جو پورے معنوں میں امن پسندی کا مزاج رکھتے تھے۔ مزاج کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ پیس فل ایکٹوزم کے اصول کے مطابق عمل کر سکیں، اور امن کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک انقلاب لائیں۔
سوال و جواب آپ کو اپنا "جاوید" کا تعارف میں کچھ الفاظ لیٹسٹ رومان کے بارے میں بھی غور اور صہ کرے آپ کو لفظ "جہاد" کی تعریف میں کچھ لیف لیٹس روانہ کیے جارہے یہیں۔ غور اور صبر کے ساتھ پڑھ کر اس کا جواب دیں۔ ان کو پڑھ کر ہی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو خدائی کتاب کہنے والا شیوا گور صاحب نے اپنے اس خط کے ساتھ ہمیں انگریزی میں 41 صفحہ کی فوٹو کاپیاں بھیجی اس کا جواب یہاں تحریر کیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنے خط میں قرآن کی 24 آیتیں نقل کی ہیں جن میں اس طرح کی باتیں ہیں ۔ ان سے لڑو، ان سے دوستی نہ کرو، ان کے ساتھ نرمی سے نہ پیش آؤ۔ کے خلاف جہاد کرو، وغیرہ۔
واضح رہے کہ قرآن کی یہ آیتیں جو آپ نے نقل کی ہیں وہ غیر مسلم کے ساتھ مسلمان کے تعلق کو بلکہ وہ جنگ کرنے والوں کے ساتھ مسلمان کے تعلق کو بتاتی ہیں ، اور جنگ کے معاملہ میں یہی ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے ۔ ان آیتوں کی بنیاد پر آپ نے اسلام کے بارے میں جو شدید رائے قائم کی ہے، وہ سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ نے قرآن کی مذکورہ آیتوں کو عمومی معنوں میں لے لیا ہے ۔ حالانکہ یہ آیتیں ہنگامی حالات کے لیے ہیں ۔ یہ اس وقت کے لیے ہیں جب کہ مسلمانوں اور دوسری قوم کے درمیان حالت جنگ (state of war) قائم ہو گئی ہو، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ حالت جنگ میں ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ جہاں تک نارمل حالات میں لوگوں کے ساتھ مسلمان کے سلوک کا تعلق ہے وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے جو قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ ان دوسری آیتوں میں مسلمانوں کو تمام انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے (سورہ البلد، 90:17)۔ اسی طرح حکم ہے کہ درگزر (tolerance) کا
طریقہ اختیار کرو (سورہ الاعراف، 199)۔ اسی طرح پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَضَعُ اللَّهُ رَحْمَتَهُ إِلَّا عَلَى رَحِيمٍ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّنَا يَرْحَمُ، قَالَ : لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ يُرْحَمُ النَّاسُ كَافَّةً (مسند ابویعلیٰ الموصلی، حدیث نمبر 4258)۔ یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ اپنی رحمت صرف رحم کرنے والے پر کرتا لوگوں نے کہا: ہم سب رحم کرتے ہیں، آپ نے کہا: تمھارا اپنے ساتھی پر رحم کرنا مراد نہیں ہے، تمام انسانوں کے ساتھ رحم کا معاملہ کیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔
جہاں تک غیر مسلموں سے تعلق کا معاملہ ہے، قرآن میں اس کی بابت ایک بنیادی اصول مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے: لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ. إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ۔ اور تم کو تمھارے گھروں سے نہیں نکالا کہ تم ان سے بھلائی کرو اور تم ان کے ساتھ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ بس ان لوگوں سے تم کو منع کرتا ہے جو دین کے معاملہ میں تم سے لڑے اور تم کو تمھارے گھروں سے نکالا۔ اور تمھارے نکالنے میں مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو، اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
قرآن کی ان دونوں آیات کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے تم سے جنگ نہیں کی ان سے تم کو بھلائی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ مگر جو لوگ تمھارے خلاف جنگی کارروائی کر رہے ہیں، ان کے ساتھ بطور ڈیفنس جنگ کرو۔ قرآن کے مطابق، عام انسانوں کو تکلیف دینا سخت منع ہے، بلکہ عدو (enemy) اور مقاتل (combatant) کے درمیان بھی فرق کرنا چاہیے۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ بظاہر اگر کوئی شخص یا گروہ تمھارا دشمن ہو تب بھی تم کو اس کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا چاہیے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر حکیم دیا گیا ہے کہ ایک شخص اگر بظاہر تمھارا دشمن ہو تب بھی
تم اس کے ساتھ احسن طریقے پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ فریق مخالف کی طرف سے حملہ کا آغاز ہو چکا ہو۔ لیکن جو اس جنگ میں شامل نہیں ہیں، ان کو بالکل بھی تکلیف نہیں دی جائے گی، خواہ وہ دل میں دشمنی رکھتا ہو۔ بین اقوامی معاملات میں یہی مساویانہ سلوک ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے اور اسلامی شریعت میں بھی مساویانہ سلوک کے اسی اصول کو اختیار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ قرآن بیک وقت ایک واحد کتاب کی صورت میں نہیں اترا۔ بلکہ وہ حالات کے اعتبار سے 23 سال کے دوران اترا۔ 23 سال کی اس مدت کو عمومی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا ایک 20 سال، دوسرے 3 سال۔ 23 سالہ مدت نزول میں 20 سال گویا امن کے سال تھے اور تقریباً 3 سال جنگی حالات کے سال۔ آپ نے جن 24 آیتوں کا حوالہ دیا ہے وہ مذکورہ تقسیم کے مطابق 3 سال والے ایمرجنسی کے حالات میں اتریں۔ قرآن کی دوسری آیتیں 20 سال والی مدت میں اتریں اور وہ سب کی سب امن اور انصاف اور انسانیت جیسی مثبت تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں سے کہتی ہیں کہ کافروں کو قتل کرو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہادی ہو گئے ہیں اور غیر مسلموں کو قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ مثلاً قرآن میں یہ آیت ہے: وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمُ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ یعنی اور قتل کرو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے۔
اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑ و جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے کافروں کی۔ سوال یہ ہے کہ قرآن میں جب تک اس طرح کی آیتیں موجود ہیں تو مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ شانتی سے رہنا کیسے ممکن ہے۔ (اشوک سنگھل، نئی دہلی)
یہ آیت خود ہی یہ بتا رہی ہے کہ جنگ کا حکم کافر کے خلاف نہیں ہے بلکہ مقاتل (حملہ آور) کے خلاف ہے۔ جیسا کہ خود اسی آیت میں کہا گیا ہے: فَإِنْ قَتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ (پس اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو تم بھی دفاع میں اُن سے جنگ کرو)۔ اسی طرح مذکورہ آیت سے پہلے یہ آیت ہے: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا (2:190) ۔ یعنی جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں اُن سے تم (دفاع میں) جنگ کرو، اور تم خود جارحیت (aggression) نہ کرو۔ چنانچہ قرآن اور پیغمبر اسلام کی سنت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے اور اُس کا اختیار بھی صرف حاکم وقت کو حاصل ہوتا ہے، کسی غیر حکومتی گروہ کو مسلح جدوجہد (armed struggle) کی ہرگز اجازت نہیں۔ اسی طرح اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتال (جنگ) کا حکم ایک عارضی (temporary) سبب کے لیے ہے، وہ اسلام کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے، جو ہر لمحہ جاری رہے۔ جب دفاع کا سبب ختم ہو جائے تو جنگ کا حکم بھی عملاً موقوف (suspend) ہو جائے گا، یعنی جب امن کا زمانہ ہو تو جنگ نہیں کی جائے گی۔ یہی اسلام کی ابتدائی تاریخ میں پیش آیا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں، ماضی کے تسلسل (continuation) کے تحت جنگ کی صورت پیش آئی۔ یعنی انھوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ مگر جنگ کا یہ حکم عارضی تھا۔ الفاظ میں، جب فریق مخالف نے اپنا اوزار (ہتھیار) رکھ دیا تو جنگ کا خاتمہ ہو گیا (محمد، اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں جن چند مقامات پر کافر کا لفظ آیا ہے، اُس سے
پیغمبر اسلام کے زمانے کے انکار کرنے والے مراد ہیں۔ قرآنی اصطلاح کے مطابق، ایسا نہیں ہے کہ لفظ کا فرا بد تک کے لیے ہر غیر مسلم گروہ کے لیے بولا جائے گا، یعنی کا فرکسی قوم کا یا نسل کا دائمی لقب چنانچہ اہل اسلام نے بعد کے زمانہ کے لوگوں کے لیے جو الفاظ استعمال کیے وہ کافریا کفارہ تھے بلکہ یہ وہی الفاظ تھے جو کہ قومیں خود اپنے لیے استعمال کر رہی تھیں ۔ مثلاً ہنود، یہود، نصاری، مجوس، بودھ (بوذا) وغیرہ۔ اسلامی اصول کے مطابق کسی قوم کو اسی لفظ سے پکارا جائے گا جو لفظ اُس نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہو۔
قرآن کے مطابق ، پیغمبروں نے جب اپنے زمانہ کے غیر مومن لوگوں کو پکارا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اے کا فرو، بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم کے لوگو۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے پچاس بار یہ الفاظ آئے ہیں: یَاقَوْمِ (اے میری قوم) ۔ اسی طرح قرآن میں پیغمبروں کے ہم زمانہ غیر مومنین کو اُن کی قوم کا نام دیا گیا ہے۔ مثلاً : قوم لوط ، قوم صالح ، قوم ہود، قوم نوح، وغیرہ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک پیغمبر کو اُس کے مخالفین نے پتھر مارا اور ان کی پیشانی سے خون بہنے لگا، اُس وقت پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( مسند احمد، حدیث نمبر 4057 ) ۔ میرے رب، میری قوم کو معاف کر دے کیوں کہ وہ لوگ نہیں جانتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا نظریہ دو قومی نظریہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک قومی نظریہ تھا۔ قومیت پیغمبر کی تھی وہی قومیت پیغمبر کے مخاطبین کی تھی۔ پیغمبر اور اُس کے مخاطبین کے درمیان جو فرق تھا، وہ قومیت کا فرق نہ تھا بلکہ عقیدہ اور مذہب کا فرق تھا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (109:6) ۔ یعنی تمہارے لیے تمہارا دین، اور میرے لیے میرا دین ۔ قرآن میں الا نسان (واحد) کا لفظ 65 بار آیا ہے، اور الناس (جمع) 240 بار آیا ہے۔ کے مقابلہ میں کافر کا لفظ صرف پانچ بار قرآن میں آیا ہے اور اُس کی جمع الکفار، الکافرون اور الکافرین کے الفاظ 150 بار آئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میں قرآن کا تصور کیا ہے۔ قرآن کی نظر میں یہ زمین دار الانسان ہے، نہ کہ دارالحرب ( جنگ کا میدان )۔