Al-Risala · August 2021

پیش لفظ

Al-Risala, August 2021, pp. 6–31

By Maulana Wahiduddin Khan

21 اپریل 2021 کی رات کو میرے والد، مولانا وحید الدین خاں کا انتقال ہو گیا۔ میرے والد ہی نہیں تھے، بلکہ وہ میرے استاد بھی تھے۔ وہ مادی جسم کے اعتبار سے اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں، لیکن معنوی اعتبار سے مشن کے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔ مولانا کی تحریریں اور ان کا مشن ہمارے ساتھ ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 24 جون 1967 کو جب گنگا جمنا ایکسپریس، پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر رکی تو مولانا اپنے ہاتھ میں ایک باسکٹ لیے ہوئے ٹرین سے اترے۔ باسکٹ میں کچھ کھانے کی چیزیں تھیں، جسے میری والدہ نے زاد سفر کے طور پر تیار کیا تھا، کچھ کپڑے اور تقریباً دو سو مولانا ایک ہاتھ میں مجھے تھامے ہوئے تھے، اور دوسرے ہاتھ سے باسکٹ کو۔ وقت تقریباً سات سال کا تھا۔ اس طرح مولانا اعظم گڑھ، یوپی کے ایک دور دراز گاؤں سے دہلی شہر یہ بظاہر ایک عام سفر تھا مگر یہی سفر آگے چل کر الرسالہ مشن کی تاریخ بننے والا تھا۔ دہلی میں مولانا نے ہفتہ وار اردو میگزین الجمعیۃ کے مدیر کے طور پر کام شروع کیا۔ کے بعد میگزین کی اشاعت بند ہوگئی۔ چنانچہ مولانا نے اپنے آبائی وطن لوٹ جانے کا ارادہ کیا، لیکن میری والدہ محترمہ نے گاؤں واپس جانے کے اس خیال سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہم گاؤں واپس نہیں کیونکہ ہمارے بچے یہاں پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت بھائی صاحب (ڈاکٹر ظفر الاسلام خان) نے بھی دہلی میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا، اور یہ بھی مشورہ دیا کہ ہم خود ایک میگزین شروع کریں۔ بعد انھوں نے ہی اس میگزین کا نام الرسالہ تجویز کیا۔ اس طرح بھائی صاحب کی تحریک اور مالی تعاون سے ہم نے اکتوبر 1976 میں الرسالہ کی اشاعت شروع کی۔ اس وقت میں دسویں کلاس میں پڑھ رہا مولانا نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ میں ہر ماہ الرسالہ چھپواؤں اور اسے پوسٹ کروں۔ اسی طرح جب الرسالہ شائع ہونا شروع ہوا تو آپا (ڈاکٹر فریدہ خانم) نے خط و کتابت کرنا اور الرسالہ کے مضامین کو انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ پھر الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن نکلنے لگا جس کو خواجہ کلیم الدین صاحب ناچیز یا سے بھی شائع کرانے لگے ۔ چند سالوں کے بعد اس انگریزی ایڈیشن کو ہارون شیخ

صاحب نے اسپرپچول مسیج (Spiritual Message) کے نام سے ممبئی سے نکالنا شروع کیا۔ یہ انگریزی ایڈیشن اسپرٹ آف اسلام (Spirit of Islam) کے نام سے سارہ فاطمہ صاحبہ کی نگرانی میں بنگلور سے شائع ہو رہا ہے۔ اسی طرح بعد میں الرسالہ کا ہندی ایڈیشن بھی نکالا گیا جو کہ چند سالوں تک نکلا اور اب کیپٹن خرم اسلام قریشی کی کوششوں سے ہندی الرسالہ دوبارہ جاری ہو گیا ہے۔ جیسے جیسے میری عمر بڑھتی گئی، الرسالہ کے مضامین سے میری دلچسپی بھی بڑھنے لگی۔ مولانا کی بہت سی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا۔ جس کی وجہ سے اسلام کے متعلق میرے علم میں اضافہ ہوا۔ مولانا کی تحریروں کا فوکس شعوری سطح پر خدا کی ڈسکوری تھا، اس میں جامد و بے روح رسمی عقیدے کی بات نہیں ہوتی تھی۔ مولانا خدا کے بارے میں ڈسکوری کی سطح پر جو باتیں لکھتے تھے اس سے میرا مائنڈ ایڈریس ہوتا تھا۔ اس طرح خدا کی معرفت کی طرف میرا سفر شروع ہوا۔

میرے اندر دعوتی ذہن پیدا ہوا۔ اور مولانا کی باتوں کو دوسرے لوگوں تک پہنچانا میری زندگی کا مقصد بن گیا۔ اس کے علاوہ مولانا کی مزید باتیں جو مجھے بہت پسند آئیں وہ یہ تھی : مثبت سوچ، ہر قسم کے منفی خیالات سے ذہن کو پاک رکھنے کی تلقین، وقت کی قدر کرنا اور وقت کو ضائع نہ کرنا۔ سے محبت، یہ ماننا کہ انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں، امن، عدم تشدد اور کمیونل ہارمنی، برادران وطن سے آخری حد تک خیر خواہانہ رویہ رکھنا، قرآن کی تلاوت کے بجائے قرآن کی آیات پر تدبر کرنا، ہر موقع پر دعا کرنا اور خدا پر مکمل بھروسہ کرنا۔ اگر ان تمام باتوں کو صرف ایک جملے میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا: مولانا ہمیشہ ہمیں آخرت رخی زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔

یہ کچھ بنیادی تعلیمات تھیں جو میں نے الرسالہ اور مولانا کی دیگر کتابیں پڑھ کر حاصل کیں ۔ ہمیشہ خدا سے دعا مانگتے تھے۔ وہ اکثر موت کو یاد کرتے تھے۔ ان کی زندگی کا فارمولا تھا: سادہ زندگی گزار و مگر اعلیٰ سوچ والے بنو۔ وہ اکثر اٹھتے بیٹھتے، فطرت کے عجائبات پر غور کرتے رہتے تھے۔ اور روزمرہ کے واقعات کو اللہ کی یاد کا ذریعہ بناتے تھے۔ کسی سے کوئی شکایت نہیں اور نہ ہی کسی کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی۔ کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو اس کے حق میں دعا کرنا۔ ہر طرح کے منفی اقدام سے اپنے آپ کو بچانا۔ یہ چند مولانا کی امتیازی خصوصیات تھیں جن سے میں بہت متاثر ہوا۔ 2001 میں چند سیکولر تعلیم یافتہ نوجوانوں نے مولانا کی تعلیمات سے متاثر ہو کر سی پی ایس انٹرنیشنل

(CPS International) کو بطورِ مشن شروع کیا جن میں ڈاکٹر رجت ملہوترا، ڈاکٹر نغمہ صدیقی، ڈاکٹر استوتی ملہوترا اور جناب نو دیپ کپور سر فہرست ہیں۔

جس مشن کا عملی خاکہ مولانا کے ذہن میں پہلے ہی سے تھا اور جس کو اسلامی مرکز کے نام سے جانا جاتا تھا، اب اس نے سی پی ایس انٹرنیشنل کی صورت اختیار کرلی۔ اس طرح مولانا کے مثبت افکار نے ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی اور ہزاروں، لاکھوں لوگ نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ملک میں بھی اس سے جڑ گئے۔ سی پی ایس مشن کے قیام سے الرسالہ کے قارئین کو ایک ٹیم کی صورت میں مولانا کی تعلیمات کو دور دور تک پہنچانے کا ایک بہترین پلیٹ فارم حاصل ہوگیا۔ اب اس مشن کے لوگ ساری دنیا میں قرآن کے تراجم اور مولانا کی کتابوں کو بڑی دلچسپی کے ساتھ تقسیم کر رہے ہیں اور ممکن حد تک لوگوں کو اسلام کا پرامن پیغام پہنچارہے ہیں۔

اب مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے! اب ان کی کتابیں، ان کے خطابات اور ان کی تحریریں ان کا بدل بن گئی ہیں۔ مولانا کے افکار اور ان کا پرامن پیغام ہمارے پاس موجود ہے، اور عصری تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم پوری دنیا میں قرآن کا پیغام پہنچائیں، اس خدائی مشن کے کام کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھیں اور اس میں اپنے آپ کو ہمہ تن لگادیں۔ مولانا کے انتقال کے بعد، انڈیا اور کئی ممالک سے ہمیں مولانا کے بارے میں مضامین، تعزیتی پیغامات، اور مولانا کی تحریروں کے خلاصے موصول ہوئے۔ ہم الرسالہ کے اس خصوصی شمارے میں کچھ منتخب مضامین اور پیغامات پیش کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس خصوصی شمارہ کے ذریعہ قارئین کو مولانا کے مشن کو مزید سمجھنے کا موقع ملے گا۔

اللہ ان تمام لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جنھوں نے اس موقع پر پیغامات ارسال کیے، یا مضامین لکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مولانا کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا

ثانی اثنین خان نئی دہلی، 20 اگست، 2021ء

حق کا مسافر مولانا وحید الدین خاں جنوبی افریقہ کے ناول نگار اولیوشریز (1920-1855ء) کی ایک کتاب ہے : ایک افریقی فارم کی کہانی Story of an African Farm اس میں ایک اجنبی مسافر ایک کسان لڑکے کو ایک شکاری کا قصہ بیان کرتا ہے۔ کو سچائی کی خوبصورت سفید چڑیا کی تلاش تھی، جس کی ایک جھلک اس نے ایک جھیل کے کنارے اس نے خوش اعتقادی کے پھندے اور تصورات کے پنجرے میں چڑیا کو پکڑنا چاہا مگر اسے معلوم ہوا کہ سچائی کو سچائی ہی کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے توہمات کی وادی کو چھوڑ دیا اور سچائی کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ وہ چڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک اونچی کھڑی ہوئی چٹان کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے اس چٹان کو کاٹ کاٹ کر سیڑھیاں بنانی شروع کیں۔ سالہا سال تک وہ سیڑھیاں بناتا رہا اور اوپر چڑھتا رہا، یہاں تک کہ بوڑھا ہوتے ہوتے وہ اس کی چوٹی پر پہنچ گیا مگر اب اسے معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور چٹان ہے جو اس سے بھی زیادہ اونچی ہے مگر اب اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے اور وہ وہیں مر جاتا ہے۔ تاہم مرتے وقت اوپر سے ایک سفید پر آ کر اس کے پاس گرا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ مطلوب چڑیا اس اگلی چٹان پر ہے۔ اگر چہ وہ خود سچائی کی چڑیا تک نہیں پہنچ پاتا۔ مگر وہ اس اطمینان کے ساتھ جان دے دیتا ہے کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ وہ پر کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور یہ کہتے ہوئے مر جاتا ہے:

Where I lie down worn out other men will stand, young and fresh. By the steps that I have cut they will climb... They will mount, and on my work, they will climb, and by my stair!

They will find her, and through me! (The Story of an African Farm, by Olive Schreiner, Chapter جہاں آج میں بوڑھا اور کمزور ہو کر گر پڑا ہوں، دوسرے لوگ یہاں سے کھڑے ہوں گے۔ نو جوان اور تازہ دم۔ جو سیڑھیاں میں نے کاٹی ہیں، وہ اس سے چڑھیں گے۔ وہ کبھی نہ جانیں گے سیڑھیاں بنانے والے کا نام کیا تھا۔ مگر وہ ان سیڑھیوں پر چڑھتے رہیں گے اور بالآخر سچائی تک

راقم الحروف کی پیدائش کی (تخمینی) تاریخ یکم جنوری ۱۹۲۵ء ہے۔ میرے والد فرید الدین خان مرحوم کا ۳۰ دسمبر ۱۹۲۹ء کو اس وقت انتقال ہو گیا جبکہ میری عمر صرف پانچ سال تھی۔ بعد میری پرورش اعظم گڑھ کے ایک روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی ۔ میرے حالات کا تقاضا تھا کہ میں ہر چیز کو تجسس کی نگاہ سے دیکھوں ۔ سن شعور کو پہنچنے کے بعد جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ دین جو ”دورِ قدیم میں ایک ہزار سال تک انسانی افکار پر حکمراں تھا۔ دورِ جدید میں ہر لحاظ سے مغلوب ہو گیا، تو میرے اندر یہ جذبہ ابھرا کہ میں اس مسئلے کی تحقیق کروں ۔ میں نے باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ مجھ کو بہت سے لوگ یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میری باقاعدہ تعلیم تمام تر صرف عربی مدرسوں میں ہوئی ہے ۔ عربی مدرسہ سے فراغت کے بعد میں نے بطور خود بعد کے دور میں انگریزی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے طرزِ تحریر پر جدید اسلوب غالب آ گیا۔ اس سے لوگوں کو شبہ ہونے لگا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تعلیمی اصطلاح میں میں تمام تر ایک مولوی‘‘ ہوں۔

میرے اس تعلیمی اور فکری پس منظر نے اسلام کا کم از کم روایتی علم مجھے دیا تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ دور جدید کی نسبت سے اسلام کو سمجھنے کے لئے وہ ناکافی تھا۔ چنانچہ ۱۹۴۸ء میں میں نے ایک نیا ایک طرف میں نے جدید افکار کو براہ راست مآخذ سے جاننے کی کوشش کی ۔ طرف اسلام کو از سر نو سمجھنے کے لئے قرآن وحدیث اور اس سے متعلق علوم کو پڑھنا شروع کیا۔ زندگی کے ابتدائی ۲۵ سال اگر درسی تعلیم میں گزرے تھے ، تو اگلے ۲۵ سال اس تحقیقی مطالعہ میں صرف

آج جب کہ میری عمر پچاس سال ہو چکی ہے، میں اس کتاب کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں جو گو یا میری طویل تلاش کا جواب ہے۔ میں شاید نظریاتی چٹان کی سیڑھیاں کاٹ چکا تھا کہ میرے سامنے دوسرا پہاڑ آ کر کھڑا ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اسلام کی مہم کو عملی طور پر چلایا جائے۔

مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری طاقت ختم ہوگئی۔ ماضی کی شدید جدوجہد نے مجھے قبل از وقت ’’نظریاتی سیڑھیاں‘‘ کاٹنے میں میں نے اپنی عمر تمام کردی۔ اب ’’عملی سیڑھیاں‘‘ کس تاہم میرے اطمینان کے لئے یہ کافی ہے کہ میں نے سچائی کو کم ازکم فکری طور پر دریافت کر لیا ہے۔ اب شاید میں یہ کہتے ہوئے مر سکتا ہوں کہ ”میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ (”الاسلام‘‘ سے ماخوذ)

”اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی یہاں اس طرح زندگی گزارے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرا بھی نگیٹیو تھاٹ وہ دنیا سے اس طرح چلا جائے کہ اس کا مائنڈ پوری طرح پازیٹیو مائنڈ ہو۔ اس دنیا کی یہی میری آخری دریافت ہے۔ ”زندگی میرے لیے اس دن کا انتظار ہے جب کہ رب العالمين براہِ راست طور پر انسان کے سامنے ظاہر ہوگا اور میں خوشی اور حیرت کے آنسوؤں کے ساتھ اس کا استقبال کروں گا۔

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، دہلی میرے والد مولانا وحید الدین خاں مرحوم کی پیدائش یکم جنوری 1925ء اعظم گڑھ (مشرقی یوپی) کی تھی اور وہ چالیس سال قبل دہلی نظام الدین ویسٹ کالونی منتقل ہوئے۔ 96 سال میں بھی ان کا حافظہ بلا کا تھا۔ وہ تمام سوالات کا حاضر جوابی سے جواب دیتے لیکن جسمانی طور پر اٹھنا بیٹھنا دشوار ہو انھیں بستی حضرت نظام الدین سے متصل پنج پیر اس قبرستان میں ہماری والدہ کے پاس دفن کیا دادی مرحومہ بھی وہاں آسودہ خواب ہیں۔

والد مرحوم کی قرآن پاک کی تفسیر تذکیر القرآن اور دیگر کتب بہت مقبول ہوئیں، لیکن سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت علم جدید کا چیلنج (جس کا نام بعد میں ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ رکھا گیا) کو حاصل ہوئی ۔ یہ 1966ء میں منظر عام پر آئی۔ جدید ذہن کے اسلام پر جو اعتراضات ہیں، اس کتاب میں ان کا سائنس اور نئے فلسفے کے حوالے سے مدلل جواب دیا گیا ہے۔ اس کتاب کو اصل شہرت اس وقت ملی جب میں نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا اور یہ بہت سی عرب یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے بعدازاں اس کا ترکی، فارسی، انڈونیشین اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا۔ والد مرحوم کا کسی سے اختلاف نہیں تھا۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں لڑائی کرکے ساتھ نہیں رہ سکتے اور نہ ہی ترقی کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں وہ آر ایس ایس کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہمارے لوگ اور سیاستدان جذباتی ہو کر سوچتے ہیں۔ انھوں نے کسی کے الزامات کا برا نہیں مانا اور نہ ہی جواب دیا۔ وہ صرف اپنی بات کرتے۔ وہ جسے صحیح سمجھتے تھے وہی کہتے اور بیان کرتے۔ کرتے تھے کہ جنھیں ہم اسلام کی دعوت اور پیغام دے رہے ہیں ان سے اچھے تعلقات استوار کریں، اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے فی الحال فراموش کر دیں۔ صبر کریں، کیوں کہ تناؤ کے ماحول میں دوسرا آپ کی بات کیسے سنے گا؟ والد مرحوم کا جاری کردہ مشہور زمانہ الرسالہ 1976ء سے اردو میں باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے، جب کہ اس کا ہندی اور انگریزی ایڈیشن بھی شائع ہوتا ہے۔

والد صاحب، ایک با اصول مربی ڈاکٹر فریدہ خانم والد صاحب اپنی نوجوانی کے زمانے میں جماعت اسلامی کے افکار سے متاثر ہوئے، اور آزادی کے بعد 1947 میں جماعت اسلامی سے جڑ گئے۔ اعظم گڑھ میں جماعت اسلامی کے حلقہ میں بطور ایک رکن کام کرتے رہے۔ انھوں نے جس مستعدی اور انہماک اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ جماعت کے مقامی کام کو چلا یا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ضلع اعظم گڑھ کے افراد جماعت نے متفقہ طور پر والد صاحب کو ’’ناظم ضلع‘‘ منتخب کیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے کل ہند امیر مولانا ابو اللیث ندوی، ان کو جب یہ معلوم ہوا کہ والد صاحب کو ناظم ضلع منتخب کیا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ ان کے اندر لکھنے کی اعلیٰ صلاحیت موجود ہے اس لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ انہیں جماعت اسلامی کے مرکزی شعبہ تصنیف و تالیف میں لے لیا جائے۔ چنانچہ ناظم ضلع منتخب ہونے کے فوراً بعد والد صاحب جماعت اسلامی کے مرکزی شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ ہو کر 1956 میں تصنیفی کام کرنے کے لئے رام پور چلے گئے۔ اس کے بعد ہم سب لوگ رام پور آگئے۔ اس وقت میری عمر 5 سال تھی۔ ’’بازار نصر اللہ خاں‘‘ میں ہمارا کرایے کا ایک مکان تھا۔ یہاں ہم لوگ 6 سال تک مقیم رہے۔ میں 10 دسمبر 1959 کو ہمارے چھوٹے بھائی ’’ثانی اثنین خان‘‘ کی پیدائش ہوئی۔ بچیوں کا مدرسہ ’’رام پور‘‘ میں جماعت اسلامی کے زیر انتظام کھولا گیا تھا۔ مدرسہ کا کمپاؤنڈ کافی بڑا تھا، لیکن جس وقت ہم لوگوں کو داخل کیا گیا اس وقت وہاں صرف دو کمروں کی تعمیر ہوئی طالبات بھی بہت کم تھیں۔ استانیوں کے نام یاد نہیں البتہ ہیڈ مسٹریس کو لوگ ’’آپَا‘‘ کہا کرتے میں اور میری بڑی بہن ’’ام السلام‘‘ ایک ہی کلاس میں پڑھتی تھیں۔ اس اسکول میں ہم لوگوں نے 5 ویں کلاس تک پڑھائی کی۔

سادہ زندگی اور اونچی سوچ (simple living and high thinking) کا اصول والد صاحب کی ذات پر مکمل طور پر apply ہوتا تھا۔ کھانا انتہائی سادہ کھاتے تھے۔ سال بھر گزر جاتے

تھے مگر گوشت گھر میں نہیں آتا تھا۔ "طعام واحد" کے اصول کے تحت صرف ایک سبزی پکتی تھی۔ ایک بار والد صاحب ایک مہینے کے لیے اعظم گڑھ جا رہے تھے۔ گھر میں 2 ٹن بھنی ہوئی مکئی رکھ کر چلے گئے کہ یہی مہینہ بھر استعمال کرنا۔

والد صاحب انتہائی با اصول ہونے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا اعلیٰ سلیقہ بھی رکھتے تھے۔ اسلامی کے دفتر میں سب سے پہلے داخل ہوتے اور سب سے آخر میں وہاں سے نکلتے۔ مزید یہ کہ دوپہر کو بھی انٹرول نہیں کرتے تھے۔ جب کہ تمام اسٹاف دوپہر کو لنچ کے لیے اور آرام کرنے کے لیے وقت نکالتے تھے۔ اسی حسن کارکردگی کی وجہ سے وہ جماعت اسلامی میں بہت مقبول تھے۔ کے مضامین لوگ بہت شوق سے پڑھتے۔ ’’ماہنامہ زندگی‘‘ کا شمارہ جب لوگوں کو ملتا تو سب سے پہلے اس میں والد صاحب کا مضمون پڑھتے، اس وجہ سے ان کی سخت زندگی بھی لوگوں کو قابل تقلید نظر آتی۔ ہماری ایک پڑوسن راشدہ آپا، جو کہ اس وقت بچیوں کے مدرسے میں عربی کی ٹیچر تھیں، اکثر ہمارے یہاں آتیں۔ ایک بار انھوں نے کہا کہ ہم بھی ’’طعام واحد‘‘ اپنے گھر میں چلائیں گے۔ اسلامی طریقہ بھی ہے اور بہت آسان بھی۔ انھوں نے شاید ایک ہی ہفتہ ایسا کیا۔ ان کے بھائی جوان کے ساتھ رہتے تھے، وہ طعام واحد سے پریشان ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ واحد کو نکالیے اب صرف طعام ہی طعام رہے گا۔

اسی طرح والد صاحب ہم تینوں بہنوں کو ہمیشہ سادہ کپڑا پہناتے۔ ایک بار ملیشیا (خاکی رنگ کا موٹا کھدر) کا ایک تھان لے آئے۔ اماں سے کہا کہ ان لوگوں کو چار چار جوڑا اس کا بنا دو۔ کبھی ابا کی بات سے انکار نہیں کرتی تھیں۔ اس لیے پسند نہ کرتے ہوئے بھی انھوں نے وہ سارے کپڑے ہم لوگوں کے لیے سی دیے۔ اب ہم لوگ روز وہی کپڑا پہنتے۔ یہاں تک کہ محلے کی لڑکیاں ہم لوگوں کو دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگیں کہ یہ ان کا یونیفارم ہے۔ ایک بار والد صاحب اعظم گڑھ گئے ہوئے تھے تو والدہ نے بازار سے پاپلین کی چھینٹ کا ایک ایک جوڑا ہم لوگوں کے لیے خرید کر منگوایا، ہم لوگ اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ جیسے عید کا چاند نکل آیا ہو۔ اس کپڑے کی پرنٹ کا نقش ابھی تک دماغ میں محفوظ ہے۔

ہم لوگوں کو کبھی کہیں گھومنے کے لیے نہیں جانے دیتے تھے۔ حتیٰ کہ 6 سالہ رامپور کے قیام کے

دوران ہم لوگ ایک بار بھی اپنے آبائی گھر نہیں گئے۔ شہر میں بھی کہیں گھومنے کے لیے جانے کی اجازت نہ تھی۔ صرف کام سے باہر نکل سکتے تھے۔

اس وقت والد صاحب کی اصولی زندگی کو ہم ظلم سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ہم دیکھتے تھے کہ ہماری دوسری ہم عمر سہیلیاں ہر طرح کی تفریح کرتی ہیں۔ لیکن ہم لوگ Spartan زندگی گزارنے پر مجبور تفریح کا نام بھی غالباً والد صاحب کی ڈکشنری میں موجود نہ تھا۔ اب باشعور ہونے کے بعد ہماری سمجھ میں آتا ہے کہ یہ دراصل والد صاحب کے بااصول (man of principle) ہونے کی قیمت تھی، جو ہم لوگ ادا کر رہے تھے۔ ان کے کہنے اور کرنے میں کوئی فرق نہ تھا۔ جس بات کی وہ دوسروں کو ترغیب دیتے تھے اس پر پوری شدت سے سب سے پہلے خود عمل کرتے اور گھر میں عمل کرواتے۔ ایک بار ہماری پڑوسی، راشدہ آپا کو آٹا چھاننے کے لیے چھلنی کی ضرورت ہوئی۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ عبدالحئی صاحب (ایڈیٹر الحسنات) کے گھر سے مانگ کر لا دو۔ گھر بالکل قریب تھا۔ مجھے شرارت سوجھی۔ عبدالحئی صاحب کے گھر گئے بغیر میں نے تھوڑی دیر کے بعد راشدہ آپا سے کہہ دیا کہ عبدالحئی صاحب کے گھر والوں نے چھلنی دینے سے انکار کر دیا کہ وہ روز روز مانگتی ہیں۔ صاحب کا خاندان ایک شریف خاندان تھا۔ ان کے گھر والے محلہ والوں کا خیال رکھتے تھے۔ لیے راشدہ آپا کو یقین نہ آیا کہ انھوں نے ایسا کہا ہوگا۔ وہ خود ان کے گھر گئیں تو معلوم ہوا کہ سویرے سے ان کے پاس کوئی آیا ہی نہیں۔ یہ خبر والد صاحب تک پہنچ گئی کہ میں نے اس طرح سے خلاف واقعہ بات کہی ہے۔ والد صاحب انتہائی غضب ناک ہوئے۔ انھوں نے مجھے مارا۔ کے بعد سے میں نے جھوٹ بولنے سے توبہ کر لی۔ اب کسی ضرورت پر بھی جھوٹ بولنا انتہائی مشکل لگتا اگر بروقت تنبیہ نہ ہوئی ہوتی تو شاید جھوٹ بولنے کی عادت اتنی پکی ہو جاتی کہ اس کو چھوڑنا مشکل ہو جاتا۔

والد صاحب چھوٹی سی چھوٹی غلطی کی بھی گرفت کرتے تھے۔ سزائیں بھی اپنی قسم آپ ہی ہوتی اکثر سزا میں سو، سو رکعت نماز پڑھنی ہوتی، بڑی بہن کو میرے پاس بٹھا دیتے کہ تم گنتی کرتے وہ اس قدر فرمانبردار تھیں کہ ایک رکعت بھی چھوڑنے نہیں دیتی تھیں۔ ایک بار اسی طرح میں روتی جاتی تھی، نماز پڑھتی جاتی تھی۔ اس دوران راشدہ آپا آگئیں۔ انھوں نے پوچھا یہ کیا ماجرا

ہے، والد ہ نے بتایا تو وہ بولیں ـــ چچامیاں ( وہ والد صاحب کو چچا میاں کہتی تھیں ) تو زبردستی خشوع و خضوع طاری کرتے ہیں۔

بڑے بھائی ظفر الاسلام خان ( پیدائش 1948ء ) پر پڑھائی کے لیے بہت سختی ہوتی تھی۔ کا بچپن نانا کے پاس گزرا تھا۔ نانا صاحب نے ان کے پڑھائی کے لیے مستقل ٹیوٹر بھی رکھا تھا مگر نانا کی بے حد لاڈ پیار کی وجہ سے ان کے بچپن کے قیمتی دس سال کھیل کود میں گزر گئے۔ ان کے اوپر کوئی سختی نہیں تھی۔ اس لیے وہ پڑھنے بہت کم جاتے تھے۔ جب وہ رام پور آئے تو ان کی پڑھائی پر بہت زور دیا گیا کیوں کہ وہ عمر کے لحاظ سے بہت پیچھے ہو گئے تھے۔ اس طرح اچانک سختی سے وہ لیکن غیر معمولی ذہین ہونے کی وجہ سے انھوں نے بہت جلد اپنی کمی کی تلافی ان کی یادداشت وہ تھی جس کو فوٹو گرافک میموری (photographic memory) کہا ہمیشہ کلاس میں اچھے نمبروں سے پاس ہوتے۔ ان کا داخلہ رام پور میں درسگاہ جماعت اسلامی میں کیا گیا تھا۔ ایک بار بھائی صاحب نے ابا کی کوئی کتاب ابا کی اجازت کے بغیر کسی دوست کو پڑھنے کے لیے دے دی۔ جب ابا کو معلوم ہوا تو وہ اتنا ناراض ہوئے کہ یہ سزا سنا دی کہ جب تک کتاب نہ لاؤ گے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ وہ فورا اپنے دوست کے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔ اتفاق کی بات تھی کہ دوست سفر پر چلے گئے تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کل رات کو آئیں گے۔ 24 گھنٹہ بھائی صاحب نے ایک مسجد میں گزارے، دوسرے دن شام کو کتاب حاصل کر کے دوبارہ گھر میں داخل ہوئے۔ اس لمبی غیر حاضری پر والد اور والدہ دونوں بہت جب بھائی صاحب گھر میں داخل ہوئے تو والد نے ان کو گلے سے لگا لیا۔ وہ کبھی بچوں سے محبت کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ ثانی اثنین جب چھوٹے تھے تو ”ابا ابا“ پڑوس میں آواز جاتی، راشدہ آپا کہتیں کہ صرف ”ابا ابا“ کی آواز ثانی اثنین کی زبان سے سنائی ابا کی طرف سے کبھی ”بیٹے“ کی آواز سننے میں نہیں آتی۔

والد صاحب اپنی زندگی کو اس سے کہیں زیادہ قیمتی سمجھتے تھے کہ وہ بچوں کی تفریح کے لیے ایک منٹ بھی ضائع کریں۔ قریبی لوگ اعتراض کرتے کہ آپ بچوں کا کچھ خیال نہیں کرتے تو جواب دیتے کہ ”میری زندگی ایک حاصل شدہ زندگی ہے میں اپنی زندگی کے مختصر لمحات کو اس امید میں ضائع

نہیں کر سکتا کہ کل میرے بچے بڑے ہو کر دین کا کام کریں گے۔ بچوں کے سلسلے میں والد صاحب کا ایک خاص نظریہ تھا۔ وہ پدرانہ حقوق اور پدرانہ محبت میں فرق کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بچوں کی زندگی کی تعمیر کے لیے انہیں وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو باپ ہونے کا تقاضا ہے۔ نے بچوں کی تعلیم اور ان کی حقیقی مادی ضرورت میں کبھی کمی نہیں کی۔ چنانچہ ایک بہن کو چھوڑ کر تمام بھائی بہنوں نے خدا کے فضل سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ البتہ پدرانہ محبت کے معاملے میں ان کا رویہ عام باپ سے مختلف تھا۔ عام باپ اپنے بیٹے کے حق میں ’’محبت برائے محبت‘‘ کے قائل ہوتے مگر اس معاملے میں والد صاحب کا نظریہ ’’محبت برائے دین‘‘ تھا۔ اولاد اگر دین کے راستے چلے تو وہ تمام محبت کرنے والوں سے زیادہ محبت کرنے والے تھے۔ مگر بے دین اولاد سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اگر چہ والد صاحب کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایسا نہیں ہوا کہ ان کی کوئی اولاد بے دین ہو جائے۔

والد صاحب نے جس طرح اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا اس کا جزئی اندازہ ایک واقعہ سے ہو سکتا ہے ایک بار ہومیو پیتھک ڈاکٹر وکیل احمد صاحب (رامپور) کی بیوی نے والد صاحب کو کہیں راستہ میں چلتے ہوئے دیکھا۔ اس کے بعد جب والدہ سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگیں کہ آج ہم نے وحید بھائی کو دیکھا، بالکل جیسے ’’مجنون‘‘۔ والد صاحب کو نہ وقت پر بال کٹوانا یا د رہتا، نہ کنگھی کرنا۔ ہر وقت سوچ میں غرق رہتے۔ کبھی وہ اپنے دماغ کو خدا کی یاد سے غافل نہیں ہونے دیتے تھے۔ جب کسی سے بات کرتے تو صرف دینی بات کرتے۔ کبھی میں نے فضول قسم کی باتیں کرتے ہوئے نہیں سنا۔ کافی وقت مطالعہ میں گزارتے۔ جو بھی کوئی والد صاحب کی صحبت میں آتا اس کو زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے۔

رامپور کے 6 سالہ قیام کے دوران ایک ملازم بھی نہیں رکھا گیا۔ ہم سب بھائی بہن اتنے بڑے نہیں تھے کہ کسی کام میں والدہ کا ہاتھ بٹا سکیں۔ والدہ سارا دن کام کرتی رہتی، دو پہر کو بھی آرام کرنے کا موقع نہ ملتا۔ ان کے میکہ میں صرف گھر کا کام کرنے کے لیے کئی ملازمین مستقل رہتے اس لیے انہیں محنت کا کام کرنے کی عادت نہیں تھی۔ ایک بار والدہ کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہوں نے چاہا کہ کوئی عورت کام کرنے کے لیے رکھ لی جائے مگر والد صاحب راضی نہیں

کہا کہ ملازم رکھنے سے بہتر کہ کہ تم تسبیح فاطمہ پڑھ لیا کرو ۔ کم از کم میرے علم میں ایسا کوئی کیس نہیں ہے جس میں تسبیح فاطمہ پر اس کے لٹرل معنی میں عمل کیا گیا ہو۔ رامپور میں والد صاحب کو جماعت اسلامی کے مکمل لٹریچر کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے کا وہ روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد فوراً ناشتہ کرتے ۔ والدہ تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد ناشتہ تیار کر دیا کرتیں ۔ ناشتہ کرنے کے بعد والد صاحب جماعت اسلامی کے دفتر چلے جاتے سارا دن لکھنے پڑھنے میں گزارتے۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے بھی گھر نہیں آتے تھے ۔ چونکہ والد صاحب کی صحت بہت اچھی تھی اس لیے عام دنوں میں تو صحت پر مسلسل دماغی محنت کا اثر نہیں پڑا ۔ رمضان کے دنوں میں بھی ایسا ہی کرتے رہے ۔ لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ ان کو رمضان میں اپنے اوقات میں تبدیلی کرنا چاہیے تھا ، یعنی کم از کم دوپہر کو ایک یا دو گھنٹے وہ آرام کرتے ۔ آرام نہ کرنے کی وجہ سے رمضان کے مہینے میں جو کمزوری آئی ، اس کو جسم make up نہ کرسکا۔ اس کے بعد ہر سال رمضان میں جو کمزوری آتی وہ باقی رہتی ۔ اس طرح علم کے شوق میں جسم کے حقوق نظر انداز کر دیے اس کا اثر بعد میں ظاہر ہوا۔

جماعت اسلامی کے لٹریچر کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد والد صاحب کو یہ احساس ہوا کہ جماعت اسلامی کا مشن قرآن کی آیتوں سے ثابت نہیں ہوتا۔ یہ احساس مزید مطالعہ کے ساتھ بڑھتا گیا۔ والد صاحب نے 1962ء میں جماعت اسلامی سے استعفیٰ دے دیا۔

جماعت اسلامی سے تعلق ختم ہونے کے بعد رام پور سے والد صاحب ہم سب لوگوں کو لے کر واپس بڑھریا (اعظم گڑھ) چلے گئے۔ ہم لوگ گاؤں میں رہتے تھے۔ والد صاحب اپنے بڑے بھائی عبد العزيز خاں کے پاس شہر چلے جاتے ۔ وہاں دن بھر دار المصنفین کی لائبریری میں گزارتے۔ اس زمانہ میں ہم لوگوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوتی تھی۔ والد صاحب ہمیشہ کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتے رہتے تھے۔ ایک دو دن کے لیے گاؤں آتے پھر واپس شہر چلے جاتے ۔ میں تقریباً 10-11 سال کی تھی۔ مجھے یاد آتا ہے کہ کبھی کبھی رات کو چھت پر لے جاتے اور ستاروں کو دکھا کر ان کے بارے میں کچھ بتاتے تھے۔ گاؤں میں آسمان ستاروں سے جگمگاتا تھا۔ ستاروں کا ایک مجموعہ ثریا جو سات ستاروں سے مل کر بنتا تھا، اس کو بھی دکھا کر کچھ بتاتے تھے جو کہ اب یاد نہیں۔ رات کو گاؤں

میں اس وقت لائٹ نہیں تھی۔ اس لیے والد صاحب دن ہی کو پڑھتے لکھتے تھے۔

جلد ہی بعد مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (علی میاں) نے 1963 میں والد صاحب کو ند وہ لکھنؤ آنے دعوت دی۔ مولانا status quoist اتنے زیادہ تھے کہ کسی نئے کام کا initiative آسانی سے نہیں لیتے تھے۔ دادی نے بتایا تھا کہ ایک بار جب مدرسہ الاصلاح میں پڑھتے تھے تو ہاسٹل کا کمرہ بدلا گیا تھا۔ اس وقت 13-12 سال کی عمر رہی ہوگی تو وہاں سے روتے ہوئے آئے کہ اب میں پڑھنے نہیں جاؤں گا، میرا کمرہ بدل دیا ہے۔ پھر دادی نے سمجھا بجھا کر دوبارہ واپس بھیجا۔ بہر حال اماں کے اصرار پر وہ لکھنؤ روانہ ہوئے۔ اور ند وہ کے ادارہ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام سے وابستہ ہوئے۔ وہاں والد صاحب کو اسٹڈی کرنے کا اور وہاں کے اساتذہ سے دینی موضوعات پر ڈسکشن کرنے کا بہت زیادہ موقع ملا۔ وہاں کے کتب خانہ میں بہت قیمتی کتابیں وہیں پر مذہب اور جدید چیلنج کی تھیم دماغ میں آئی اور اس پر انھوں نے کام کرنا شروع کیا۔ وہاں ند وہ کے طلبا بھی ملنے کے لیے آتے۔ والد صاحب ہمیشہ علمی باتوں پر ہی گفتگو کرتے تھے۔ طلبا وہاں برابر ملنے آتے تھے۔ ایک بات جو مجھے یاد ہے کہ والد صاحب وہاں لوگوں کو انگریزی زبان اور جدید علوم حاصل کرنے پر بہت زور دیتے تھے۔

والد صاحب کے لکھنؤ جانے سے پہلے مدرسہ کے طلبہ صرف روایتی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ کیونکہ مدرسہ کا ماحول جدید تعلیم حاصل کرنے کو discourage کرتا تھا۔ جدید علوم حاصل کرنا مگر یہ والد صاحب کی ترغیب تھی کہ ند وہ کے کئی ذہین طلبہ نے وہاں کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیم مکمل کر کے یونیورسٹیوں میں اونچے عہدوں پر اپنی خدمات پروفیسر حمید اللہ ندوی اس زمانہ میں ند وہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کو انگریزی کی تعلیم کا شوق دلایا۔ پھر انھوں نے یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کی اور برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال میں ان کا عربی ڈپارٹمنٹ میں تقرر ہوا۔ وہاں سے وہ پروفیسر ہو کر ریٹائر ہوئے۔ اسی طرح پروفیسر شفیق احمد خاں بھی اسی زمانہ میں ند وہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ والد صاحب سے متاثر ہو کر انھوں نے جامعہ میں داخلہ لیا اور عربی ڈپارٹمنٹ سے پی ایچ ڈی کر کے جامعہ میں عربی کے پروفیسر اور ہیڈ ہو کر ریٹائر دھیرے دھیرے باقاعدہ لوگوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی۔

میں نے بھی باقاعدہ انگریزی تعلیم والد صاحب کی وجہ سے حاصل کی۔ میں نے پری یونیورسٹی کا امتحان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1970 میں پاس کیا تھا۔ فارسی میں میری ڈسٹنکشن آئی تھی لہٰذا میں نے دہلی کالج میں فارسی آنرز میں داخلہ لے لیا۔ والد صاحب نے جب یہ خبر سنی تو مجھے فوراً دوبارہ کالج واپس یہ کہہ کر بھیجا کہ فارسی پڑھ کر کیا کروگی، جا کر انگریزی میں داخلہ لو۔ گرمی کا دن تھا، دوپہر کا وقت تھا، اسی وقت میں کالج واپس گئی اور وہاں ایک ہیڈ کلرک، مبارک صاحب کی کوششوں سے مجھے انگلش آنرز میں داخلہ مل گیا۔ بعد میں میں نے ایم اے انگلش بھی دہلی یونیورسٹی سے کیا۔ آج میں سوچتی ہوں کہ اگر بروقت مجھے والد صاحب کی رہنمائی نہ ملی ہوتی تو میں مشن میں اپنا حصہ ادا نہیں کر سکتی تھی۔ والد صاحب جو مطالعہ کرتے تھے اس کو لوگوں سے share کرتے، ڈسکشن کرتے۔ تنقید کرتا تو بہت ہی سنجیدگی سے اس کو سنتے، برا مانے بغیر۔ پھر اس پر غور کرتے کہ فلاں شخص نے ایسا کیوں کہا۔ مثال کے طور پر کسی نے ایک بار کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی۔ یہ واقعہ اس بات کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے کہ تنقید ان کو مزید نئے اینگل سے سوچنے کا موقع فراہم کرتی تھی۔ اس طرح وہ غصہ ہوئے بغیر یہ سوچتے رہے کہ آخر اس شخص نے ایسا کیوں کہا اور ہم کس طرح تشفی بخش جواب اس کو دے سکتے ہیں۔ کئی کئی بار کسی پوائنٹ کو، کسی حدیث کو یا کسی آیت کو لے کر سالوں سوچتے رہتے تھے۔ اسی طرح مذکورہ بالا سوال پر بہت عرصہ تک سوچنے کے بعد انھوں نے اسلام: دورِ جدید کا خالق کتاب تیار کی۔ والد صاحب سے ہی میں نے یہ سمجھا کہ تنقید سے غصہ ہونے میں ہمارا اپنا نقصان ہے۔ تنقید ہمارے لیے ایک چیلنج کا کام کرتی ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بات کا کوئی اینگل ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے، تنقید ہماری توجہ اس طرف مبذول کرتی ہے اور ہماری سوچ کے دائرہ میں وسعت آتی ہے۔ جو لوگ تنقید کو برداشت نہیں کرتے وہ ہمیشہ ایک ہی دائرہ میں گھومتے رہتے ہیں۔ ان کا انٹلیکچول ڈویلپمنٹ نہیں ہو پاتا ہے۔

ہم لوگ بھی 1964 میں لکھنؤ میں تھے۔ مئی 1964 میں جب سابق پرائم منسٹر جواہر لال نہرو کی

وفات ہوئی تو ان کی Ashes ندیوں میں بہائی گئی تھیں۔ گومتی ندی جو ندوہ کے کنارے بہتی تھی، وہاں بھی راکھ ہیلی کاپٹر سے بہائی گئی۔ اسی کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی پنکھڑیاں بھی دریا میں ڈالی ابھی تک وہ منظر مجھے یاد ہے۔

یہ سارا دور والد صاحب کی تیاری کا دور تھا۔ وہاں ایک لائبریری تھی آچاریہ نریندر دیو حضرت گنج لکھنؤ میں واقع تھی۔ وہاں پر والد صاحب برابر اسٹڈی کے لیے جاتے تھے۔ سبجکٹ پر کتابیں پڑھتے تھے۔ والد صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ میں نے پامسٹری سے لے کر اسٹرانمی تک ہر سبجیکٹ کی study کی ہے۔

مولانا ندوہ میں 3 سال رہے۔ ندوہ چھوڑنے کے بعد پھر واپس اعظم گڑھ چلے گئے۔ جون 1967 میں مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر 24 جون 1967 کو نئی دہلی آئے اور جمعیۃ علماء ہند کے ترجمان الجمعیۃ جمعہ ایڈیشن کے ایڈیٹر کے طور پر کام شروع کیا۔ کچھ دنوں کے بعد ہم لوگ بھی دلی آگئے اور یہاں سب بھائی بہن تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے۔ صاحب ڈسٹریکشن سے اتنا زیادہ دور رہتے تھے کہ وہ اپنے پاس کبھی پیسہ نہیں رکھتے تھے۔ اماں گھر کی ہم سب لوگ مل کر گھر چلاتے تھے۔

پرفکشنسٹ اتنے زیادہ تھے کہ وہ اپنا کام کسی سے نہیں کراتے تھے۔ پروف ریڈنگ بھی خود ہی جمعیۃ علماء کی طرف سے ان کو اسسٹنٹ دیا گیا تھا مگر انھوں نے جلد ہی اسسٹنٹ کو رخصت کر دیا۔ الجمعیۃ کا جو زمانہ تھا اس میں والد صاحب نے سب سے زیادہ ملی تعمیر پر زور دیا۔ کے اندر اصلاح کا جذبہ ابھارنا ان کے اندر قومی شعور پیدا کرنا، ملی زندگی کی تعمیر کے لیے کیا کرنا ہے، حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیدا کرنا، زمانہ کو سمجھ کر اس کی قوتوں کو اپنی تعمیری جدوجہد کے لیے استعمال کرنا، ان سب پر زیادہ فوکس تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب کہ جگہ جگہ فسادات ہو رہے تھے، مسلمانوں کے جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا تھا۔ اس لیے والد صاحب نے اپنی تحریر و تقریر اور زبانی بات چیت کے ذریعہ لوگوں کو بہت زیادہ متوجہ کیا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ اعراض، حکمت اور پلاننگ کے ساتھ زندگی کے میدان میں قدم رکھا جائے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو اسلامی اصولوں پر چلنے سے حل نہ کی ہو سکتا ہو۔

مثالوں سے لوگوں کے سامنے ان باتوں کو پیش کیا۔ الجمعیۃ اس زمانہ کا سب سے زیادہ مقبول ہفت روزہ بن گیا۔ بے شمار لوگوں نے ان اصولوں کے ذریعہ اپنی زندگی اور سماج کے مسائل کو حل کیا۔ الجمعیۃ کی مقبولیت کچھ لوگوں کو پسند نہیں آئی اور بلا کسی سبب الجمعیۃ کو اچانک بند کر دیا گیا۔ پر پریشانی ہوئی۔ مگر یہ بلیسنگ ان ڈسگائس کا معاملہ ثابت ہوا۔

الجمعیۃ بند ہونے کے بعد حالات اتنے خراب ہو گئے کہ والد صاحب نے پھر اعظم گڑھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن ہمارے بڑے بھائی ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں اس وقت جامعۃ الازہر، قاہرہ میں اپنی پڑھائی مکمل کر چکے تھے اور ان کو ایک جاب مل گیا تھا۔ انھوں نے خط لکھا کہ آپ لوگ بڑھیا نہ جائیں، میں اخراجات کا بندوبست کروں گا۔ انھوں نے نہ صرف گھر کے اخراجات کی ذمہ داری لی، بلکہ الرسالہ کا initial سرمایہ بھی دیا۔ اس طرح ہم لوگوں کی پڑھائی جاری رہی۔ اس دوران والد صاحب نے الاسلام لکھی۔ الاسلام کی طباعت کا کوئی انتظام نہیں ہوسکا۔ کتاب مکمل ہونے کے بعد الماری میں رکھ دی گئی تھی۔ جب بھائی صاحب دلی آئے اور انھوں نے کتاب پڑھی تو وہ اس سے بہت متاثر ہوئے اور اس کو شائع ہونے کے لیے پریس میں دے دیا۔ اس کے انگریزی ترجمہ کے لیے بھی انھوں نے انگریزی کے ایک استاد سے بات کی اور 10 ہزار روپے اس کے ترجمہ کے لیے ان کو دیے۔ 50 سال پہلے دس ہزار روپے کی بہت قیمت تھی۔ انھوں نے اچھا ترجمہ نہیں کیا۔ لہذ اُس وقت وہ ترجمہ شائع نہ ہوسکا۔ کافی تاخیر سے اس کا انگریزی ترجمہ میں نے تیار کیا، جو اس عنوان The Vision of Islam کے ساتھ 2014 میں گڈ ورڈ بکس، نئی دہلی سے شائع ہوا۔

1976 میں والد صاحب نے بہت زیادہ غور وفکر اور مشورہ کے بعد الرسالہ نکالا۔ الرسالہ کا ٹائٹل بڑے بھائی ڈاکٹر ظفر الاسلام نے منتخب کیا تھا۔ ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع الرسالہ کے مضامین مختصر ہوتے تھے، عام طور پر ایک ہی صفحہ پر مضمون ختم ہو جاتا تھا۔ لوگوں کو بہت پسند آئی۔ ایک صفحہ پڑھ کر کوئی حکمت کی بات مل جاتی تھی۔ لمبے لمبے مضامین کے بارے میں لوگوں کی سوچ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ جب فرصت ملے گی تو پڑھیں گے۔ میں 1976 میں ایم اے کا امتحان دے چکی تھی ۔ جب کہ ثانی اثنین ابھی اسکول ہی میں پڑھ

رہے تھے ۔ لہٰذا دفتر کا کام میں نے سنبھالا۔ باقی کام ثانی اثنین کرتے، الرسالہ کو چھپوانا، پوسٹ کرنا ابتدا میں کم آرڈر آتے تھے۔ کبھی کوئی بڑا آرڈر آتا تو ہم بہت خوش ہوتے۔ مستقل طور پر لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے۔

الجمعیۃ کیے زمانہ میں والد صاحب مسلمانوں کے ملی مسائل پر کافی لکھتے تھے۔ وہ پلیٹ فارم ہی ملی مسائل کا تھا۔ لیکن الرسالہ کے نکلنے کے بعد بالکل آزادانہ طریقہ سے کام کرنے کا موقع ملا۔ دعوت الی اللہ پر زور دینا شروع کیا۔ دعوت الی اللہ کا کانسیپٹ بالکل شروع ہی سے والد صاحب کے اوپر واضح تھا۔ اس کو آپ’’ قرآن کا مطلوب انسان‘‘ کتاب میں دیکھ سکتے ہیں، جو کہ 1955 سے لے کر 1963 تک جماعت اسلامی ہند کے مختلف اجتماعات میں کی گئی تقریروں پر مشتمل ہے۔ الرسالہ کے ذریعہ پہلی بار مکمل آزادی سے پیغام دینے کا موقع ملا۔

والد صاحب نے سب سے پہلے جماعت اسلامی، اس کے بعد ندوة العلماء اور جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم پر کام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن کہیں بھی آزادانہ ماحول نہ تھا۔ والد صاحب سے میں نے اس بارے میں پوچھا تھا تو انھوں نے کہا کہ میں اپنے دعوتی کام کے لیے پلیٹ فارم تلاش کر رہا لیکن کہیں بھی مکمل آزادی نہیں تھی۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ تھا کہ جہاں کسی اکابر پر تنقید ہو جاتی تو اس حلقہ کے لوگ سخت ناپسند کرتے۔ جب کہ تنقید کے بغیر بات میں کلیٹی (clarity) نہیں آتی۔ مثال کے طور پر الجمعیۃ میں ایک بار ایک مضمون میں لکھ دیا کہ مولانامحمودحسن کی ریشمی رومال تحریک ایک جذباتی تحریک تھی۔ اس پر بہت سے لوگ ناراض ہو گئے۔ مولانا اسعد مدنی نے ان کو ٹھنڈا کیا۔ مسلمانوں میں کام کرنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ کسی کے خلاف تنقید نہیں کی پرانی پلاننگ کی غلطی واضح کے بغیر نئی پلاننگ کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیکن اکابر پرستی اتنی گہرائی سے پیوست ہو چکی ہے کہ لوگوں کو اپنے اکابر پر تنقید برداشت نہیں۔ اسی وجہ سے مسلم ادارے ذہین افراد کو ویلکم نہیں کرتے۔ ندوہ سے علیحدگی کی بعد کچھ لوگوں نے وہاں کے اعلیٰ منتظمین سے بات کی کہ مولانا کو دوبارہ ندوہ بلايا جائے ۔ مگر وہاں کے منتظم اعلیٰ نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ہم شیر سے کام نہیں یہی وجہ ہے کہ مسلم اداروں میں بس بلڈنگیں ہیں، کوئی قابل ذکر کام کہیں نہیں ہورہا ہے۔ عام طور پر تو گھر کے کام ہم لوگ خود ہی کرتے تھے لیکن کچھ کام ایسے ہوتے کہ ہمیں والد صاحب

کی مدد لینی پڑتی تو وہ فوراً تیار ہو جاتے۔ مثال کے طور پر میں پی ایچ ڈی پروفیسر مشیر الحق صاحب کے انڈر میں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس وقت ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ اور غالباً فیکلٹی کے ڈین بھی تھے۔ مشغولیت کی بنا پر مجھے لگ رہا تھا وہ منظور نہیں کریں گے۔

والد صاحب جب ندوہ میں تھے تو مشیر الحق صاحب بھی وہاں ایک ادارہ میں کام کرتے تھے۔ وہاں ان سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ لہٰذا والد صاحب مجھے لے کر ان کے پاس گئے۔ والد صاحب کے کہنے پر انھوں نے مجھے اپنے انڈر میں لینا منظور کر لیا۔

الرسالہ کا کام جب کچھ بڑھا تو ہم نے کالج کی دو اسٹوڈنٹس قیصر، شاہ جہاں کو پارٹ ٹائم کے لیے پھر ہم 3 لوگ الرسالہ کا کام کرنے لگے۔ جب تک جمعیۃ بلڈنگ میں رہے، 1982 یا 1983 تک، تب تک اسی طرح کام چلتا رہا۔ نظام الدین آنے کے بعد پھر ثانی اثنین نے دفتر کا نظام سنبھالا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ لائٹ چلی گئی ۔ دور دور تک اندھیرا ہو گیا۔ قیصر اور شاہ جہاں جو کہ دونوں بہنیں تھیں اپنے گھر اندھیرے میں نہیں جا سکتی تھیں۔ تو والد صاحب نے لالٹین لے کر ان کو فراشخانہ پہنچایا جو کہ 20-15 منٹ کا راستہ تھا۔ یہ واقعہ آج بھی مجھے یاد آتا ہے کہ کس قدر modesty تھی ان کے اندر کہ کسی کام کو چھوٹا کام نہیں سمجھتے تھے۔ ان دونوں بہنوں کی شادی پاکستان میں حیدر آباد سندھ میں ہو گئی تھی۔ شاہجہاں کا انتقال ہو چکا ہے۔ قیصر ابھی بھی touch میں ہیں۔ رات کو کبھی میری آنکھ کھلتی تو اکثر میں دیکھتی کہ والد صاحب کے کمرے میں لائٹ جل رہی کوئی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ اصل میں وہ مسلسل سوچتے رہتے تھے۔ جب بھی کوئی ایسا خیال دماغ میں آیا جس کے لیے کسی ریفرنس کی ضرورت ہوتی تو اسی وقت اٹھ کر کتابوں کو دیکھتے تھے۔ کیونکہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ دماغ سے بات نکل جاتی ہے۔

والد صاحب simple living high thinking کی مکمل مثال تھے۔ جہاں تک کھانے پینے کا تعلق ہے، کبھی نہیں کہا کہ کھانا ٹھیک نہیں بنا ہے۔ جو بھی کھانا ہوتا اس کو خدا کا نام لے کر شوق نہ کبھی یہ کہا کہ آج فلاں چیز پکاؤ۔ کبھی روٹی وغیرہ بچ جاتی تو بہت زیادہ پریشان کہتے کہ یہ باسی روٹی مجھے ناشتہ میں دے دو، تازی روٹی نہیں پکانا۔ بہت سختی سے کہتے کہ کھانے کا ایک دانہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ کھانا پانی خدا کی بڑی نعمت ہے۔

کہیں جانا ہوتا تو پیدل جاتے ۔ ایک ایک گھنٹہ کا سفر پیدل کرتے تھے۔ پیدل ہی چل رہے تھے جب بجلی لگنے کا واقعہ ہوا۔ پہلے سڑکوں پر کافی گڈھے ہوتے تھے۔ بارش کی وجہ سے کسی گڑھھے میں پانی بھر گیا تھا۔ بادل چھائے ہوئے تھے ، رات کا وقت تھا ، سمجھ میں نہیں آیا گڈھے میں پاؤں وہاں پر جنکشن باکس کا کھمبا تھا ، اندھیرے میں جب گرنے لگے تو اسی کھمبے کو ہاتھ سے پکڑ وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ مجھے جو بات عجیب لگتی ہے وہ یہ کہ جب بجلی لگی ہوئی تھی اس وقت بھی پریشان نہیں تھے بلکہ یہ سوچ رہے تھے کہ ابھی تذکیر القرآن ختم نہیں ہوئی اور میرا آخری وقت آگیا (تفصیل کے لیے دیکھیے: الرسالہ اکتوبر ، 1983 ، بعنوان: دوبارہ زمین پر)۔ میں نے والد صاحب کو کبھی پریشان نہیں دیکھا۔ لوگوں نے بہت زیادہ ستایا لیکن بس وہ یہ سوچتے تھے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ ان کی سوچنے کی طاقت میں آخر وقت تک کمی نہیں آئی۔ لوگوں نے ان کے خلاف مضامین لکھے، کتابیں لکھیں۔ ان باتوں سے کبھی پریشان نہیں ہوتے کیونکہ ان میں بے دلیل تنقیدیں ہوتی تھیں۔ اس قسم کی کتابیں ان کی کتابوں کی الماری میں رکھی ہوئی ہوتیں ۔ لیکن وہ اس کا جواب نہیں دیتے تھے ۔ بلا دلیل تنقید کی ان کی نظر میں کوئی وقعت نہیں اردو داں طبقہ بلا دلیل باتوں کو تنقید سمجھتا ہے۔ یہ ہماری قوم کا بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ انگریزی الرسالہ کے ریڈرس نے کبھی تنقیدی خطوط نہیں لکھے جب کہ اردو ریڈرس کے ایسے خط روز ہی موصول ہوتے تھے۔ اردو طبقہ اختلاف کو برداشت نہیں کرتا۔ جب کہ انگریزی داں طبقہ کا یہ مسئلہ ہی نہیں۔ انگریزی میں بادلین تنقید کو بڑا درجہ دیا جاتا ہے۔ مطلب ہوتا ہے کہ رائٹرس کے اندر creativity ہے۔ میں نے انگلش میں ایم اے کیا تو اس میں باقاعدہ ایک پیپر تنقید (criticism) پر تھا۔ بڑے بڑے رائٹرس کی کتابوں پر جب تک کوئی بڑا تنقید نگار اپنا تبصرہ لکھ کر شائع نہیں کرتا، وہ مارکیٹ میں نہیں آتی۔ نہ صرف یہ کہ وہ لوگ تنقید کے بارے میں sensitive نہیں ہیں بلکہ وہ تنقید کو بہت ضروری کسی بھی قوم یا فرد کی ترقی اس کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ہم ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے۔ الرسالہ کے مختلف شماروں میں والد صاحب نے بہت وضاحت کے ساتھ بتایا کہ ان کا مشن اسلام کو مسلمانوں کے لیے rediscovery بنانا ہے اور غیر مسلموں کے لیے ڈسکوری بنانا ہے۔

غیر مسلموں سے تعلقات بڑھانا اور ان کو اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے۔ الرسالہ بہت جلد مقبول ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کتابیں برابر شائع ہوتی رہیں ۔ پرانی دلی میں جمعیۃ بلڈنگ کافی انٹیریئر (interior) میں تھی۔ وہ جگہ آسانی سے accessible نہیں تھی۔ نظام الدین ویسٹ آنے کے بعد لوگوں سے ملاقات کی بہت آسانی ہو گئی۔

نظام الدین دہلی کا ایک سنٹرل لوکیشن ہے۔ یہاں آنے کے بعد کافی پروگرام میں جانے کا برابر پروگرام کا مولانا صاحب سفر نامہ لکھتے تھے۔ جن میں سے اکثر الرسالہ میں اور بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ بیرون ہند اسفار نے الرسالہ کی عمومی اشاعت میں بہت زیادہ مدد ان سفروں کے ذریعہ بے شمار تجربات ہوئے جو کسی اور ذریعہ سے نہیں ہو سکتے تھے۔ پھیلانے میں یہ اسفار بہت معاون ثابت ہوئے۔

بعد کے دور میں والد صاحب اپنے ساتھ ہم لوگوں کو بھی لے جاتے تھے۔ رجت ملہوترا، نغمہ صدیقی، پریا ملک، ساجد صاحب، استی ملہوترا، خرم قریشی وغیرہ۔ سفر میں کئی دن کا ساتھ ہوتا، اس سے ٹیم کی زبردست ٹریننگ ہوئی۔

سی پی ایس کا قیام 2001 میں عمل میں آیا۔ سی پی ایس میں کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہوئے۔ مثال کے طور پر پریا ملک، رجت ملہوترا، نغمہ صدیقی، نودیپ کپور، وغیرہ۔ یہ لوگ اور ان کے ساتھی ہر سنیچر اور اتوار کی کلاس میں شامل ہوتے۔ اس میں تعلیم یافتہ ہند و اور مسلمان دونوں شریک ہوتے۔ کی صاحبزادی سعدیہ خان، صوفیہ خان اور ماریہ خان اور مسلمہ صدیقی کی صاحبزادی راضیہ صدیقی، اور صاحبزادے رامش صدیقی۔ یہ لوگ اور ان کے ساتھی اور کلاس میٹ اکثر کلاس میں آتے۔ یہ سب لوگ انگلش اسکولوں کے تعلیم یافتہ تھے۔ لہذا وہ اسلام کو اپنے انٹلیکچول لیول پر سمجھنا چاہتے تھے۔ ان کے سوالات کا جواب دیتے۔ جو لوگ سی پی ایس کی اسپرچول کلاس میں برابر شریک ہوتے تھے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مولانا کو کتابوں سے اتنا نہیں سمجھا تھا جتنا ان اسپرچول کلاس سے سمجھا۔ پہلے یہ لوگ ڈائری پر سارے points کو نوٹ کرتے تھے۔ اس کے بعد جب ڈاکٹر نغمہ صدیقی کلاس میں آئیں تو انھوں نے لیپ ٹاپ پر سب کچھ ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ اس طرح ساری باتیں دوسروں کو forward کرنے میں بہت آسانی ہو گئی۔

جلد ہی بعد ثانی اثنین اور دوسرے سی پی ایس ممبرس نے مل کر باقاعدہ اسٹوڈیو بنایا اور والد صاحب کے سارے پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ ہونے لگی۔ جو کہ آج فیس بک اور یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ اس طرح آج ایک بہت مضبوط ٹیم تیار ہو چکی ہے، جس میں علماء بھی ہیں اور ماڈرن اعلی تعلیم یافتہ افراد بھی۔ ان کے اندر معرفت، خدا رخی سوچ اور دعوہ ورک کا بھر پور جذبہ موجود ہے۔ اور ہندوستان کے باہر مختلف سی پی ایس سنٹر بنے اور پوری دنیا میں دعوہ ورک ہونے لگا۔ جب قرآن کا انگریزی ترجمہ اور ہندی ترجمہ شائع ہوا تو دعوہ ورک کافی بڑھ گیا۔ ٹیم کے لوگ ہر پروگرام میں جاتے اور وہاں قرآن کا ڈسٹری بیوشن کرتے۔ قرآن ڈسٹری بیوشن کا ایک طریقہ اور بھی اختیار کیا گیا ہے۔ یہ کہ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر دنیا کے کسی بھی کونے سے آ کر کوئی بھی شخص قرآن کے لیے ایک ریکویسٹ ڈال سکتا ہے۔ اس کو مقامی ٹیم کے ذریعہ یا بذریعہ ڈاک اس کی اپنی زبان میں قرآن کا ترجمہ بھیج دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ثانی اثنین نے بہت محنت سے قرآن کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں subsidized ریٹ میں دستیاب کیا۔ فی الحال 40 زبانوں میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے، مزید تراجم کا سلسلہ جاری یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ نوبل انعام یافتہ ایچ ۔ کرئیبز (H.A.Krebs) نے اعلیٰ سائنس دانوں کی زندگی کا مطالعہ کیا تو اس نے کہا:

”سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک عظیم استاد یا سائنس داں اپنے شاگرد کے ذہن میں حقائق کے بارے میں معلومات سے کہیں زیادہ ایک ذہنی رویہ (attitude) منتقل کرتا ہے... اس ذہنی رویہ میں دو باتیں بالخصوص بہت اہم ہیں۔ ایک عجز (humility) اور دوسرا شوق (enthusiasm)۔ والد صاحب نے اپنی تمام زندگی مذہبی اعتبار سے یہی کوشش کی۔ اس کو اس کتاب میں موجود تاثرات سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں جب میں دیکھتی ہوں تو مجھے اللہ کی خصوصی مدد کا احساس ہوتا ہے اور والد صاحب کے جانے کے بعد ایک بڑی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔ صاحب کہتے تھے کہ میں ٹیم کے لیے بہت زیادہ دعا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ والد صاحب کی دعاؤں کو قبول فرمائے، ہماری خوب خوب مدد فرمائے تا کہ ہم لوگ والد صاحب کے expectations پر پورے اتریں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں جنت کے ریوارڈ کے مستحق ٹھہریں۔

مولانا وحید الدین خاں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، ڈین آف کیمبرج اسلامک کالج ابھی خبر ملی کہ آج ( بروز چہار شنبہ 9 رمضان المبارک 1442 ھ مطابق 21 اپریل (2021 ہندوستان کے معروف اسلامی مفکر ومصنف مولانا وحید الدین خان کا 96 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا، کئی دہائیوں سے برصغیر میں ان کی انفرادیت مسلم تھی، وہ تقلید، قدامت پسندی اور اکابر پرستی سے دور تھے، مجتہدانہ اور محققانہ شان کے حامل تھے، اور ان کو تخلیق واجتہاد سے دلچسپی تھی، وہ ”نہیں“، ”کو ہے“ میں بدلنے کے قائل تھے، اور اس کے لیے ہر قسم کی جد و جہد کرتے، یہ انہیں کا قول ہے: ”جو لوگ تخلیق کی صلاحیت کھودیں، وہ کسی اور چیز کے ذریعہ یہاں اپنا مقام نہیں پاسکتے، خواہ وہ کتنا ہی شور وغل کریں، خواہ ان کے فریاد واحتجاج کے الفاظ سے تمام زمین و آسمان گونج اٹھیں، وہ لاؤڈ اسپیکروں کا شور تو برپا کر سکتے ہیں، مگر وہ استحکام کا خاموش قلعہ کبھی کھڑا نہیں کر سکتے“ (کتاب زندگی ص 11)۔ مولانا کی پیدائش اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی، مدرسۃ الاصلاح سرائے میر میں تعلیم پائی، ذاتی محنت سے انگریزی میں دسترس حاصل کی اور علوم جدیدہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا، دارالعلوم ندوۃ العلماء میں قیام کے دوران اپنی سب سے معرکہ الآراء کتاب مذہب اور جدید چیلنج تصنیف کی، مجلس تحقیقات ونشریات اسلام سے 1966ء میں شائع ہوئی، اور اس کا عربی ترجمہ ”الاسلام تحدی“ کے نام سے کویت سے 1970ء میں طبع ہوا، جماعت اسلامی سے وابستہ رہے، جمعیۃ علمائے ہند کے ہفت روزہ الجمعیۃ میں کچھ سالوں کام کیا، پھر سب سے الگ ہو کر اپنی منفرد شناخت بنائی، اور مثبت تحریروں کے ذریعہ فکر اسلامی کے ارتقاء میں حصہ لیا۔

ندوہ کی طالب علمی سے میں الرسالہ کا قاری رہا ہوں، اور ہمیشہ مولانا کے مضامین بڑے شوق سے پڑھتا، مولانا ریڈرز ڈائجسٹ اور انگریزی اخبارات اور مجلات سے چھوٹی کہانیوں کو لے کر ان سے بہترین نتیجہ نکالتے تھے۔

مولانا سے پہلی ملاقات نظام الدین میں ان کے گھر پر 1983ء میں ہوئی، وہ ابھی جلد ہی وہاں

منتقل ہوئے تھے، اس وقت وہ زیادہ تر نمازیں مرکز نظام الدین میں ادا کرتے تھے، اور تبلیغی جماعت کی افادیت کے قائل تھے، بعد میں تبلیغ کے متعلق ان کی رائے بدل گئی تھی، اس ملاقات میں ان سے ایک خاص تعلق ہو گیا تھا، پھر جب بھی جانا ہوتا تو ان سے ملاقات کی کوشش کرتا، مولانا کے صاحبزادے جناب ڈاکٹر ثانی اثنین خان اور ان کی پوتیاں یہاں آکسفورڈ مجھ سے ملاقات کے لیےلیے آۓ، اور ان سے ای میل کے ذریعہ وقتاً فوقتاً رابطہ بھی رہا، ہر ملاقات میں مولانا اپنی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہدیہ کرتے، اور ان کی گفتگو سے فکر و نظر کے نئے دریچے وا ہوتے، ایک بار ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو اپنے گھر کے سارے افراد کو بلایا اور مجھ سے کچھ نصیحت کرنے کے لیے فرمایا، میں نے عرض کیا کہ آپ کے سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہیں پڑتی، مگر مولانا کا اصرار جاری رہا تو مولانا ہی کی زندگی کے کچھ اسباق ان کے سامنے رکھے، مولانا نے ایک بار مجھ سے میری کتاب محدثات کے متعلق دریافت کیا اور پوچھا کہ ان خواتین کی زندگی میں غیر مسلم عورتوں کے لیے سیکھنے کی کیا میں نے کسی وجہ سے اس موضوع پر گفتگو کرنے سے معذرت کر لی۔

انہوں نے بڑی فعال، متحرک اور سرگرم زندگی گزاری، وہ ایک محنتی انسان تھے، راحت طلبی سے کوسوں دور تھے، ایک بار گرمیوں میں میں ان سے ملنے گیا تو اپنے بالائی کمرہ میں سخت گرمی میں اپنے کام میں مشغول تھے، چھت کی تپش جسم پر محسوس ہو رہی تھی، ہم لوگوں کے لیے وہاں بیٹھنا مشکل تھا، میں نے عرض کیا کہ اس گرمی میں آپ کو کسی ٹھنڈے کمرہ میں کام کرنا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی عادت ہو گئی ہے، اور کچھ پتہ نہیں چلتا، محنت کا یہ جذبہ ان کی حیرت انگیز کار کردگی کی روح ہے، ان کی یہ بات بڑی قیمتی ہے:”حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم محنت کی درسگاہ میں پڑھائے جاتے ہیں، تمام ترقیاں محنت کی قیمت دے کر حاصل ہوتی ہیں، اور محنت وہ چیز ہے جو ہر آدمی کو حاصل رہتی ہے، حتیٰ کہ اس آدمی کو بھی جس کو بیماری نے معذور بنا دیا ہو، جو کالج اور یونیورسٹی کی ڈگری لینے میں ناکام ثابت ہوا ہو، محنت ایک ایسا سرمایہ ہے جو کبھی کسی کے لیے ختم نہیں ہوتا‘‘ (کتاب زندگی ص 12)۔ مولانا بنیادی طور پر ایک مفکر و دانشور تھے، یعنی وہ جذبات و احساسات کی گرفت سے آزاد ہو کر اصول کی بنیاد پر کوئی بات کہتے تھے یا کوئی اقدام کرتے تھے، بر صغیر میں عام مسلمان رہنما اس فکر میں رہتے ہیں کہ کہیں ان کا حلقہ ان سے کٹ نہ جائے، کہیں ان کی مقبولیت پر آنچ نہ آجائے، نتیجہ یہ ہوتا

ہے کہ ان کی فکر رسوم و روایات سے آزاد نہیں ہو پاتی، ، اور وہ اسی دائرہ میں گردش کرتے رہتے ہیں، انہیں نہ دوسرے جہانوں کا علم ہوتا ہے اور نہ اپنے بادہ دردی آمیز کے سواکسی شراب خالص وصافی کی جستجو ہوتی ہے:

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں مولانا کا خیال تھا کہ ہندوستان کے علماء و مصلحین روح عصر سے خالی ہیں، انہیں یہ اندازہ نہیں کہ آزادی کے بعد ایک نئے ہندوستان نے جنم لیا ہے، ان کے رویوں سے لگتا ہے کہ گویا وہ مغلیہ دور میں، یا خلافت عباسیہ میں، یا عہد آل عثمان میں جی رہے ہیں، کور پسندی اور غفلت کے اس ماحول میں وہ تنہا مفکر ہیں جو روح عصر کی منادی کرتا ہے، طبقہ علماء میں اس وقت ان کے علاوہ کوئی نہیں جو عصری اسلوب میں لکھتا ہو، اس میں شاید کچھ مبالغہ ہو، لیکن اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ جس استقلال کے ساتھ انہوں نے اپنے زمانے کے انسانوں کو خود ان کی زبانوں میں پیغام حق سنانے کی ذمہ داری نبھائی ہے وہ ان کا عظیم کارنامہ ہے۔

ان کو سوچنے کی عادت تھی، اور اس دائرہ سے باہر نکل کر سوچتے تھے جس کے اندر عام پڑھے لکھے لوگ مقید ہوتے ہیں، اور جس سے نکلنے کی نہیں سوچ سکتے، بلکہ نکلنے کو کفر و فسق سے تعبیر کرتے ہیں، مولانا ان بندشوں سے آزاد تھے، ان کی یہ بات بالکل سچ ہے: ”ہر زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض خیالات آدمی کے ذہن پر اتنا زیادہ چھا جاتے ہیں کہ ان سے نکل کر آزادانہ طور پر سوچنا آدمی کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے، یہ مذہبی دائرہ میں بھی ہوتا ہے، اور غیر مذہبی دائرہ میں بھی۔ یہ بند ذہن ہر قسم کی ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘‘ (کتاب زندگی ص 39)۔

اس پر ان کا ایمان واجب الاذعان تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کا راستہ پر امن ماحول میں کام کرنا ہے، ان کا یہ ارشاد گرامی اسلامی مراجع کے وسیع و عمیق مطالعہ کا ثمرہ ہے: ”حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء (exception) کی ، اسلام کی تمام تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی عملی زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے‘‘ (امن عالم ص 13)۔ انہوں نے لوگوں سے اختلاف کیا اور لوگوں نے ان سے اختلاف کیا، اور اختلاف اگر مہذب اور معقول ہو تو افکار و نظریات کی تطہیر کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ان کے متعلق

بدگمانیاں بہت پھیلائی گئیں، ان کے خیالات کو صحیح و معتدل معیار پر نہیں جانچا گیا۔ وہ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں مسلمانوں کو زندہ رہنے، پر امن طریقہ سے اسلام کی تعلیم اور دعوت عام کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کا درس دیتے تھے، وہ ممکن کی موجودگی میں ناممکن کے پیچھے وقت ضائع کرنے کو بیوقوفی سمجھتے تھے، واقعہ ہے کہ متعدد حیثیتوں سے ان کا طریقہ کار قابل عمل ہے، اور شاید آئندہ ان کے مخالفین بھی وہی باتیں کریں گے جن پر اب تک تنقید کرتے رہے ہیں۔ کون ہے جو اس کا اعتراف نہ کرے کہ مولانا نے بے شمار انسانوں کے ذہنوں کو متاثر کیا، ان کی تحریروں نے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی رہنمائی میں بڑا کردار ادا کیا، انہوں نے مثبت اور پر امن طریقہ سے ٹھوس اور پائیدار کام کرنے کا نمونہ پیش کیا، اور کتنے مایوس لوگوں کو یاس و نا امیدی سے نکالا اور انہیں جینے کا حوصلہ دیا، وہ یہ کہہ سکتے ہیں: ”شادم از زندگی خویش که کارے کردم“، رحمہ اللہ رحمۃ واسعہ۔ مورخہ 19 ستمبر 1979ء مولانا وحید الدین خاں صاحب جموں کشمیر کے سفر کے دوران میرے گھر تشریف لائے۔ یہاں میں نے انھیں اپنے گھر میں ابابیلوں کے حوالے سے ایک چشم دید واقعہ سنایا، یہ واقعہ مولانا کی کتاب رازِ حیات میں اس عنوان سے درج ہے:

Printed page