Al-Risala · August 2021

”اتنی عقل جانوروں کو بھی ہوتی ہے“

Al-Risala, August 2021, pp. 31–40

By Maulana Wahiduddin Khan

ابابیلوں کا یہ واقعہ میرے لیے کوئی اہم واقعہ نہ تھا مگر مولانا نے اس واقعہ کو سن کر ایک خوبصورت تحریر قلمبند کی۔ الرسالہ میں یہ تحریر جب میں نے پڑھی تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی، چھوٹے چھوٹے واقعات سے اک بڑی بات نکالنا اس فن میں مولانا کو کمال درجہ کی مہارت تھی۔ تحریر نے میری زندگی کا نقشہ بدل دیا۔ پہلے میں اپنی ناکامی کی وجوہات اپنے باہر دیکھتا تھا مگر اس تحریر نے مجھے سکھایا کہ اکثر ناکامی کی وجوہات اپنے اندر ہوتی ہیں۔ بلاشبہ یہ نکتہ جسے سمجھ میں آ گیا، اس نے زندگی میں کامیابی کا راز پا لیا۔ (خورشید بسمل، تھنہ منڈی، جموں کشمیر) اسلام کا خوبصورت چہرہ پیش کرنے والے حقیقی عالم مولانا وحید الدین اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ (ملک سعد، سی پی ایس اسلام آباد)

ایک عالم ربانی وہمہ جہت شخصیت پروفیسر ظہیر الدین خواجہ، رائچور (کرناٹک)

محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب سے میں تین دہائی قبل 1989ء میں اپنے ایک رفیق کے توسط سے واقف ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کہ ہمارے شہر میں ماہنامہ الرسالہ پڑھا جانے لگا تھا، اور شہر رائچور (کرناٹک) میں فکر الرسالہ سے وابستگان کا حلقہ بھی وجود میں آچکا تھا۔ اس وقت حلقہ الرسالہ رائچور کے روح رواں شہاب الدین صاحب تھے۔ ان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوا کرتی تھی۔ الرسالہ سے وابستہ افراد اپنے فرصت کے اوقات میں مل بیٹھتے۔ میں عام طور پر ماہنامہ الرسالہ کے مضامین پر گفتگو ہوتی، مولانا کے افکار و دیگر علمائے کرام کے علمی کام کا تقابل کیا جاتا۔ اس طرح میری مولانا کی فکر سے واقفیت اور ذہنی وابستگی بڑھتی چلی گئی۔ مولانا وحید الدین خاں سے تعارف ہوئے ایک دو برس بھی نہیں گزرے تھے کہ ان سے ملنے کا واقعہ یہ ہے کہ دسمبر 1990ء کے آخری ہفتے میں مجھے ایک تعلیمی سفر کے سلسلے میں ایک ہفتہ کے لیے نئی دہلی جانے کا موقع مل گیا۔ اس سفر کے دوران میں نے مولانا سے ملاقات کا پروگرام غالباً جنوری 1991 کی 2 یا 3 تاریخ رہی ہوگی، میں مولانا سے ملنے ان کے رہائشی علاقے نظام الدین ویسٹ گیا۔

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مولانا گھر ہی پر ہیں اور ملاقات کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ نے ملاقات کے لیے پہلے سے ان سے وقت نہیں لیا تھا۔ میں سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر کی منزل پر پہنچا، جہاں مولانا رہا کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ میرے استقبال کے لیے مولانا پہلے سے دروازہ پر کھڑے تھے (اس وقت میری عمر 21 سال تھی)۔

سلام و دعا کے بعد میں ان کے ہمراہ فرش پر بچھی ہوئی چادر پر بیٹھ گیا۔ تقریبا ایک گھنٹہ مولانا سے گفتگو ہوتی رہی۔ اب مجھے مکمل گفتگو تو یاد نہیں، البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ مولانا نے مجھ سے تعارف کے بعد مختلف سوالات کیے تھے۔ مثلاً الرسالہ سے آپ کیسے واقف ہوئے۔ شہر رائچور میں

کتنے احباب اس فکر سے جڑے ہوئے ہیں، الرسالہ کی کتنی کاپیاں آپ کے یہاں آتی ہیں؟ مجھے یاد ہے مولانا نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ جانتے ہیں الرسالہ کا مقصد کیا ہے۔ میں نے فورا جواب دیا آخرت اور دعوت۔ میرے جواب سے خوش ہو کر فرمایا کہ اس کے علاوہ الرسالہ کا ایک اور مقصد بھی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو باشعور بنانا۔ یہ تھی مولانا سے میری پہلی ملاقات کی مختصر روداد۔ یہ تو ایک رسمی ملاقات تھی اور اس سے کسی کی شخصیت کو سمجھنا کہاں ممکن ہو سکتا ہے۔ مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرتا گیا، ویسے ویسے یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ اتنی گہرائی سے قدیم و جدید علوم کا مطالعہ اور ان کا اتنا عمیق تجزیہ پڑھ کر ایسا لگا کہ مومنانہ فراست کی اس سطح سے واقعات اور تاریخ کو دیکھا اور سمجھا جا رہا ہے، جس کو حدیث میں ربانی نور سے دیکھنا کہا گیا ہے۔ فطرت اور حقائق کا ایسا بیان مشکل سے کہیں دیکھنے کو ملے گا۔ مولانا کو اپنے لطیف احساسات کو زبان دینے کا ملکہ حاصل تھا۔ الفاظ ، رواں تحریر، فکر میں وضوح ، مدلل اور عصری اسلوب نگارش، ایک بار جو مولانا کو پڑھتا اس کے بعد دوسرے مصنفین کو پڑھنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا۔ ایک عرصے تک مولانا کے افکار کی ترویج کا طریقہ الرسالہ اور دیگر کتب کی اشاعت ہی تک محدود رہا۔ تشنگان علم کو اسی پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ 2001ء میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے قیام کے بعد پہلی بار مولانا کی آڈیو اور ویڈیو انٹرنیٹ پر دستیاب ہونے لگیں۔ ان کو سننے کے بعد یہ احساس تازہ ہوا کہ تحریر کا دامن کتنا تنگ ہے۔ شخصیت و علم کے کئی گوشے جو تحریر میں سمانہ سکے وہ پہلی مرتبہ اب آڈیو اور ویڈیو کے ذریعہ ہم تک پہنچ ابھی اس احساس سے نکل ہی پایا تھا کہ کچھ ایسے احباب سے ملنے کا اتفاق ہوا جنھیں مولانا کی صحبت میں طویل عرصہ رہنے کا موقع ملا تھا۔ ان کے مشاہدات سن کر ایسا لگا کہ مولانا کی شخصیت نہ تو تحریر میں سما سکی ہے اور نہ تقریر میں۔ اس پر میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ تحریر میں پڑھ کر آپ مولانا کی صرف نصف شخصیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ کاش ہم لوگ مولانا کی قدر کرتے اور اپنے آپ کو اس سائنٹفک صوفی کی تربیت میں دیتے تو شاید ہمیں بہت کچھ اور بھی سیکھنے کا موقع ملتا۔ واضح ہو کہ یہ بیان واقعہ ہے، یہ کوئی شخصیت پرستی کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ شخصیت سازی کا اصل المیہ ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم کسی نہ کسی درجے میں بے روح اور رسمی سطح پر باقی رہا، مگر ہمارا نظام تربیت نہ صرف باقی نہ رہا، بلکہ اس کی اہمیت و افادیت بھی ذہنوں سے محو

ہوتی چلی گئی، جس کی وجہ سے آج ہم نہ صرف اخلاقی بحران کا شکار ہیں۔ بلکہ زوال اور پستی کی طرف ہمارا سفر مسلسل گامزن ہے، اور اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے تربیت کے، مگر افسوس اب تو قحط الرجال کا دور ہے ایسے افراد اب بمشکل ہی ملیں گے جن کی صحبت میں رہ کر آدمی اپنی تربیت کا کوئی سامان کر سکے۔

خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے صرف کتابیں نہیں اتاریں بلکہ تربیت کی۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک انسان کو پیغمبر اور ہادی بنا کر اس ذمے داری کے ساتھ بھیجا کہ وہ تعلیم کتاب و حکمت کے ساتھ ساتھ اہلِ ایمان کی لازماً تربیت (تزکیہ) بھی کرے ۔ چونکہ انسان صرف ذہن کا نام نہیں ہے بلکہ انسان ذہن اور وجود دونوں کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں ہمارے ہاں جو تعلیمی نظام بنا اس میں تربیت کو پوری اہمیت کے ساتھ باقی رکھا گیا، بلکہ خانقاہی نظام میں صوفیا نے تو تربیت کو تعلیم پر ہمیشہ مقدم رکھا۔ سالک کی تربیت پہلے ہوتی تھی اور تعلیم بعد میں ۔ اور تربیت کے لیے صحبت لازمی شرط ہے۔ تربیت سے جی چرانے کے لیے موجودہ دور میں ہم نے شخصیت پرستی جیسے خوب صورت الفاظ بھی تراش لیے ہیں، اور علما سے استفادہ کرنے کو ہم نے صرف ذہنی سطح تک ہی محدود رکھ کر ایک طرح کے intellectual entertainment کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

کچھ ایسے ہی تربیتی پہلو جو 2013ء سے 2015ء کے درمیانی عرصے میں منعقد ہونے والے مختلف دعوہ میٹس میں شرکت کے بعد براہ راست میرے تجربے، مشاہدے اور علم میں آئے، انہیں میں یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔

CPS کی ایک کانفرنس میں مولانا نے تمام شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی کے دل میں ذرہ برابر بھی دوسروں کے لیے کوئی منفی احساس (negativity) موجود ہے تو ایسا شخص ہمارے مشن کا ساتھی ہرگز نہیں ہو سکتا۔ آخرت میں کسی کے خلاف میرا کوئی مقدمہ نہیں ہوگا۔ جن لوگوں نے بھی میرے خلاف لکھا، بے بنیاد الزامات لگائے، مجھے بدنام کیا، جو کچھ بھی میری مخالفت میں کیا، سب کو میں نے اسی دنیا میں معاف کر دیا۔

ایک صاحب کا انتقال ہوا جو مولانا کی شدید مخالفت کیا کرتے تھے اس خبر کو سن کر مولانا

ایک ساتھی نے حیرت سے کہا کہ اپنے مخالف کی انتقال کے اطلاع پر آپ کا رونا ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ کہنے لگے: یہ سوچ کر رہا ہوں کہ میرے پاس تو کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کی وجہ سے خدا میری مغفرت کر دے، ہاں مگر ان لوگوں نے مجھے جتنا ستایا ہے، شاید اس پر خدا کو رحم آجائے اور وہ فرشتوں سے کہے کہ میرے اس کمزور بندے کو دنیا میں بہت ستایا گیا مگر اس نے جواب میں صرف صبر کیا لہذا آج میں نے اس کی مغفرت کر دی۔

حیدر آباد دعوت میٹ کا واقعہ ہے۔ شام کی نشست کے لیے اوپر کے حال کی طرف سیڑھیوں سے جا رہے تھے، میں مولانا کے پیچھے ہی چل رہا تھا، داہنی طرف دیوار پر گلوب کا بڑے سائز کا پوسٹر لگا چلتے چلتے رک گئے اور پیچھے میری طرف مڑ کر کہا، یہ نقشہ دیکھ رہے ہو۔ اس طرح دنیا کا نقشہ کسی صحابی کو معلوم نہ تھا۔ جتنی دنیا کو وہ جانتے تھے وہاں تک انھوں نے خدا کے دین کو پہنچایا۔ مگر آج ہم کو پوری دنیا معلوم ہے، ایک ایک گاؤں اور ایک ایک شہر معلوم ہے کہ وہ اس نقشہ میں کہاں ہے اور وہاں کتنے انسان رہتے ہیں۔ یہ معلومات ہماری ذمہ داری کو یاد دلانے کے لیے ہیں، یعنی ہم کو گلوبل سطح پر دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے، تا کہ ہر انسان تک خدا کا پیغام پہنچ جائے۔ ایک مجلس میں کہا نماز بہ اعتبار فارم 5 مرتبہ مطلوب ہے اور بہ اعتبار اسپرٹ ہر وقت 24 گھنٹے مطلوب ہے۔ جو لوگ حدیث کا انکار کرتے ہیں، وہ دراصل نماز کا انکار کرتے ہیں۔ کی تفصیلات قرآن میں نہیں، حدیث میں ملتی ہیں۔

حیدر آباد دعوت میٹ سے واپسی کے بعد فیاض الدین عمری صاحب کا فون آیا کہ مولانا مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں میں حیران رہ گیا۔ اس وقت تک مولانا سے کبھی فون پر بات کرنے کا اتفاق نہیں اگلی آواز مولانا کی تھی۔ سلام دعا کے بعد پوچھا آپ حیدر آباد دعوت میٹ میں شریک تھے، میں نے کہا جی میں شریک تھا۔ اور میں نے مزید بتایا کہ ہم لوگ بہت جلد شہر رائچور میں ایک سینٹر کھولنے والے ہیں تاکہ منظم سطح پر کام کر سکیں، اس پر مولانا نے کہا یاد رکھیے ”اگر سینٹر چلانا ہے تو ہرگز کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں مانگنا۔ اور اگر کوئی خود سے بن مانگے دے دے تو انکار نہیں کرنا“۔ اس اصول پر چلانا ہے تو سینٹر کھولیں، ورنہ نہیں۔

بنگلور دعوت میٹ کے موقع پر ایک غیر رسمی نشست میں کہا کہ اس دعوتی مشن کو ایسے لوگ

درکار ہیں جو آخری حد تک بے نفس ہوں۔ مثلاً اگر کوئی ساتھی اس پروگرام میں شرکت کے لیے یہاں آئے اور کوئی بھی اس کا استقبال نہ کرے، نہ کوئی کھانے کے لیے بلائے، نہ رہنے اور سونے کا کوئی انتظام کرے، یہاں تک کہ کوئی بات بھی نہ کرے، ان سب وجوہات کے باوجود اس کے دل میں کسی بھی ساتھی کے خلاف نہ کوئی منفی سوچ آئے اور نہ کوئی شکایت پیدا ہو۔ ایسے ساتھی ہمیں چاہیے۔ کو ایسا بنائیے تب جاکر آپ اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بنگلور میں، جہاں پروگرام منعقد ہو رہا تھا، اس جگہ کا نام ”وِسْتار“ (Vistar) تھا۔ نے ایک بلی پال رکھی تھی جو کہ بہت زیادہ لحیم شحیم تھی تقریباً 20 کلو کی رہی ہوگی اور کسی کے پاس نہ آتی تھی، ان لوگوں نے بتایا کہ یہ کسی اجنبی کے پاس نہیں جاتی۔ دوسرے دن ایسا ہوا کہ مولانا کے کمرے میں آئی، وہاں کئی ساتھی بیٹھے مولانا سے گفتگو کر رہے تھے، مگر کسی کے پاس نہیں گئی سیدھے مولانا کی گود میں جا بیٹھی اور سو گئی، مولانا خاموش بیٹھے رہے اور کہا کہ اب میں اس کی نیند میں خلل نہیں ڈالوں گا جب تک یہ خود سے بیدار نہیں ہو جائے گی۔ ویسے ہی بلا حرکت بیٹھے رہے۔ بنگلور دعوہ میٹ میں مولانا کا خطاب ہونے والا تھا۔ نشست کی تیاری چل رہی تھی میز پر پانی رکھا ہوا تھا۔ گلاس اٹھا کر مولانا نے تھوڑا پانی پیا اور گلاس واپس میز پر رکھا، ہمارے ایک ساتھی محمد صلاح الدین (رائچور) نے فوراً گلاس اٹھایا اور دوبارہ بھر کر رکھا۔ مولانا نے انھیں قریب بلا کر پوچھا گلاس میں پانی بچا ہوا تھا، اسے پھینکا تو نہیں، انھوں نے کہا نہیں اُسی میں مزید پانی بھر کر لایا ہوں ۔ بولے آپ نے ٹھیک کیا، پانی خدا کی عظیم نعمت ہے، ہم ایک قطرہ پانی بنا نہیں سکتے لہذا ہمیں استعمال کرنے کا حق تو ہے پر ایک قطرہ بھی ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کچھ مشن کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ مولانا سے ملنے گئے ۔ گفتگو کے درمیان کھجور پیش کیے گئے، ہم سب نے کھائے۔ گفتگو کے بعد کل دوبارہ ملنا طے ہوا، اور ہم اپنی رہائش گاہ واپس آگئے۔ دوسرے دن ہم مقررہ وقت پر پہونچے تو پتا چلا مولانا ہم لوگوں سے سخت ناراض ہیں اور ملنے سے انکار کر دیا۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا ہے، بہت معذرت کے بعد اجازت ملی تو فرمایا کچھ پتا بھی ہے کہ آپ لوگوں نے کل کیا حرکت کی؟ ہم نے کہا کہ ہمیں کچھ یاد نہیں۔ کل کھجور رکھا کر آپ لوگوں نے گٹھلیاں ادھر ادھر رکھ کر چلے گئے۔ آپ کیا سمجھتے

ہیں اس طرح کے لوگوں کو جنت میں بسایا جائے گا، بلکہ ایسے لوگ شاید جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں جنت انتہائی درجہ کی صاف ستھری اور پاک جگہ ہوگی۔ اور وہاں انہی لوگوں کو بسایا جائے گا جو اپنے ظاہر اور اپنے باطن دونوں اعتبار سے انتہائی نفاست پسند لوگ ہوں گے۔ طور پر بھی ایسا کرنا قابل معافی نہ ہوگا۔ ان چھوٹے چھوٹے سماجی آداب کو معمولی مت سمجھیں، بلکہ اپنے لاشعور کو اس قدر ٹرین (train) کریں کہ غیرشعوری طور پر بھی آپ سے ایسی حرکت نہ ہونے پائے۔ بنگلور میں ایک روز فجر کے بعد خطاب فرمایا اور ’’الحمدللّٰہ رب العالمین‘‘ کی تشریح کی۔ سے زندگی میں پہلی بار سمجھ میں آیا کہ خدا کی حمد اور شکر میں جینا کسے کہتے ہیں۔ یہ صرف دس نکات ہیں جو میں نے یہاں پیش کیے ہیں اور اس احساس کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ ہم نے تو مولانا کی قدر نہ کی، ہو سکتا ہے بعد میں آنے والے کو اس میں کوئی کام کی بات مل جائے۔ مولانا اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے۔ ان کی اکثر دینی تعبیر سے اختلاف اپنی جگہ مگر بطور ایک داعی آپ کی تحریریں ہمیشہ رہنمائی فراہم کرتی رہیں گی۔ دین کے تذکیری پہلو کے لحاظ سے لکھنے میں بھی مولانا اپنے ہم عصروں سے آگے نظر آتے ہیں۔ مولانا کا جدید اسلوب میں اسلام کا تعارف بھی ان کا ایک خاصہ ہے۔ پھر مولانا نے جس طرح الحاد کا علمی رد کیا ہے، اس پر مولانا کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جا سکے کم ہے۔ رد الحاد کے حوالے سے مولانا کی تین کتابیں ’’مذہب اور سائنس‘‘، ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ اور ’’اسلام، دورِ جدید کا خالق‘‘ بہترین کتب ہیں۔ ان میں بھی ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ سب سے اہم کتاب ہے۔ آج کل مولانا کی ایک ضخیم کتاب ’’کتاب معرفت‘‘ پڑھنا شروع کی تھی معلوم نہیں تھا کہ کتاب ختم ہونے سے پہلے مصنف ہی نہیں رہیں گے۔ (قاسم محمود، اسلام آباد) ہمارے عہد کے عظیم مذہبی اسکالر اور دانشور مولانا وحیدالدین خان بھی اپنے خالق حقیقی سے جا انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اس قدر مثبت سوچ رکھنے والے مذہبی اسکالر تاریخ میں خال خال ہی ملتے ہیں۔ (شجاعت علی راہی، کوہاٹ، پاکستان)

مولانا سے میرا تعلق خواجہ کلیم الدین، سی پی ایس، امریکہ یہ مجھ پر اللہ رب العزت کا کرم رہا ہے کہ اس نے مجھے عرصہ دراز پہلے مولانا کی تصنیفات سے متعارف ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ یہ میرا وہ وقت تھا جب کہ میں اپنی عملی اور پروفیشنل زندگی میں داخل ہورہا تھا۔ میری بچپن کی شخصیت روایتی مسلم ماحول سے تشکیل پائی تھی جس میں مذہب صرف چند بے جان رسوماتی عبادتوں کا مجموعہ تھا۔ ہر عبادتی عمل کو فضائل کے ترازو میں تولا جاتا تھا، مثلاً ان عبادتوں کو چند مخصوص دنوں اور اوقات میں ادا کرلو تو اس کی قیمت اور کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ آگے چل کر کالج کے زمانہ میں میری شخصیت اسلام کی سیاسی تعبیر پر مبنی تشریحات سے متاثر ہونے لگی تھی۔ میری بچپن کی شخصیت روایتی مسلم ماحول سے تشکیل پائی تھی تو کالج کے زمانے میں وہ اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہونے لگی تھی۔ اس وقت یہ بتایا جارہا تھا کہ اسلام اور مسلمان اعلیٰ ہیں اور خدا مسلمانوں کو اس کی حکمرانی قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ مسلمانوں کی حکومت جو تقریبا ہزار سال تک جاری تھی مغرب نے سازش کے ذریعہ اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان تشریحات کے زیر اثر ایسا منفی ذہن بن رہا تھا کہ دوسری قومیں ہمیں اپنی دشمن نظر آنے لگی تھیں۔ ہم اور وہ (we and they) کی تقسیم ذہن میں بٹھائی جارہی تھی۔ غیر مسلم حکومتوں کو طاغوتی حکومتیں بتایا جاتا تھا، جس کے تحت زندگی گزارنا شرک تھا۔ یہ باتیں کتابوں اور اخبارات کے ذریعہ علم میں آرہی تھیں۔ میری پرورش ہائی اسکول کی تعلیم مکمل ہونے تک ایک دیہات میں ہوئی تھی۔ یہاں پر دین کا روایتی ماڈل مجھے روحانی تشفی نہیں دے رہا تھا تو کالج کے دور میں دین کی سیاسی تعبیر کی وجہ سے بیچینی تھی۔ غالباً وہ اس لئے تھا کہ دیہات ماحول میں ہم اور وہ (we and they) کا غیر فطری ماحول موجود نہ تھا، نہ ہی کالج میں ایسی سوچ پائی جاتی تھی۔ میرے زیادہ تر دوست غیر مسلم ہوا کرتے تھے اور ان کے ساتھ میرے اچھے مراسم تھے اور کافی فکری تبادلہ خیال بھی ہوا کرتا تھا۔ ہم مل کر خوب اسٹڈی کیا کرتے تھے۔ 1976ء میں جب میں کالج سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں داخل ہوا تو میرے ایک رفیق کار نے

مجھے اردو الرسالہ کا ایک نسخہ دیا۔ مجھے اس وقت اردو پڑھنی نہیں آتی تھی۔ لیکن بچپن میں قرآن ناظرہ کے ساتھ پڑھنے کی وجہ سے چند عرصہ کی محنت کے بعد اردو پڑھنا ممکن ہو گیا۔ چونکہ الرسالہ کا ہر صفحہ نصیحت اور حکمت کا خزانہ ہوا کرتا ہے، اس لئے اس کا مطالعہ بلا انقطاع جاری رہا۔ الرسالہ میں تقریبا ہر مضمون کو میں نے قرآن یا حدیث پر مبنی پایا، ان کی تشریح دورِ جدید کی اصطلاحوں میں ہونے کی وجہ سے الرسالہ کے بعد مولانا کی دوسری کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ سب سے پہلے میں نے مولانا کی کتاب’’الاسلام‘‘ کو پڑھا، بلکہ اس کو میں نے کئی بار بغور پڑھا۔ اس کے مطالعے سے مجھے رسوماتی دین (جس پر میں بچپن سے قائم تھا) ایک غیر عقلی ریاضت لگنے لگا، اور سیاسی تعبیر والا دین غیر مدلل۔ مولانا کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد اسلام مجھے ایک زندہ مذہب لگنے لگا۔ یہ میرے لیے صرف ایک ذاتی تزکیہ ہی کا ذریعہ نہیں بنا، بلکہ میرے لئے یہ ایک آفاقی، دعوتی اور فکری تحریک بن گیا۔ اس کا عملی نمونہ کتاب’’پیغمبر انقلاب‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملا۔ پھر اس کے بعد میں نے مولانا کی اس وقت کی ساری کتابوں کو پڑھ ڈالا، بلکہ میں نے ان کو دو دو تین تین مرتبہ دہرایا۔ یہی طریقہ میں نے مولانا کی آنے والی ہر نئی کتاب کے ساتھ اپنایا۔ مولانا کی کتابوں میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے وہ معرفت خدا، موت کی یاد، خود احتسابی اور ترغیب دعوت۔ مولانا کے لٹریچر میں اتنی تاثیر ہے کہ اس سے ہر سنجیدہ قاری کی شخصیت میں مثبت تبدیلی آنا یقینی وہ ایک داعی بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس لٹریچر کے مطالعہ سے میری شخصیت میں اولین ایام سے ہی تبدیلی آنا شروع ہوگئی۔ چنانچہ اسی وقت سے میں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ قرآن وسنت کے دلائل پر مبنی جدید اسلوب میں لکھے ہوئے اس لٹریچر کو خدا کی مدد سے لوگوں سے شیر (share) کرتا رہوں گا۔ جہاں بھی رہوں، اس کو دوسروں تک پہنچاؤں گا۔ مولانا کی فکر کو لوگوں تک پہنچانے کا کام نائجیریا سے شروع ہوا۔ میں وہاں پہلے مرحلے میں اردو اور انگریزی کتابوں کو دوستوں میں مفت تقسیم کرتا رہا۔ اس کے بعد عام نائجیرین تک پہنچنے کی غرض سے الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ری پرنٹ (reprint) کروا کر لوگوں میں تقسیم کرتا تھا۔ کے بعد بھی یہی کام جاری رہا۔ اس وقت کے میرے نیو یارک کے اپارٹمنٹ میں جہاں میری رہائش تھی، کوئی ایسی خالی جگہ نہیں تھی جس کو میں نے کتابوں سے بھر نہ دیا ہو۔ اس کے بعد اللہ کی مدد آئی

اب مجھے ساتھی ملنا شروع ہو گئے۔ ان کی مدد سے یہاں امریکا میں مولانا صاحب کی موجودگی میں ہم نے الرسالہ کی ایک باقاعدہ تنظیم رجسٹر کروا کر کام کو آگے بڑھایا۔ اس تنظیم کا Alrisala Forum International نام رکھا۔

اس کے بعد مولانا کی فکر کو عمومی لوگوں تک پہنچانے کی غرض سے اس تنظیم کی ایک ویب سائٹ www.Alrisala.org بنائی۔ اس ویب سائٹ پر نہ صرف مولانا کی ساری کتابوں کے pdf بلکہ ان کے متعدد کتابوں اور رسالوں کے صوتی ایڈیشن کو بھی upload کر دیا گیا۔ بعد جب امریکا کی مختلف ریاستوں میں اس تحریک سے وابستہ افراد کی تعداد بڑھنے لگی تو مولانا کا ایک ہفتہ وار ٹیلی کانفرنس پروگرام چلایا گیا۔ اس پروگرام میں مولانا پر 15 منٹ کسی ایک موضوع پر ایک تقریر کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد مولانا مشارکین کے سوالوں کا جواب دیتے ۔ اس کے بعد اس پروگرام کو عالمی شکل دینے کے لئے CPS دہلی کے تعاون سے مولانا کی ان تقاریر کا ہفتہ وار پروگرام Ustream کے ذریعہ streaming live ہونے لگا۔ پھر اس پروگرام کو CPS دہلی نے مزید آگے بڑھایا، اور اس کو مولانا کے فیس بک پیج کے ذریعے live broadcast کرنے لگے۔ افراد کا تعاون اس سارے دعوتی مہم میں میری اہلیہ تسنیم اور بچوں کے تعاون کے علاوہ اس مہم میں جو اولین ٹیم بنی تھی ان افراد کے نام یہ ہیں: عرفان عمر، فاروق چشتی ، ارتقاء جمیل، ابراہیم صاحب، ابراہیم لودھیہ، گل زیبا احمد، انیس میمن، مرتضی افضل، وقار عالم، فائق فاروقی وغیرہ۔ سن 2009 میں مولانا کا قرآن کا انگریزی ترجمہ آیا۔ اور 2010 میں مولانا نے پیغمبر اسلام کی سنت کی اتباع میں قرآن کے تراجم کو سارے عالم کے ہر گھر میں ان کی اپنی زبان میں پہنچانے کا ہدف دیا۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی مدد ہماری ٹیم کو بہت زیادہ ملی۔ اب تک ہم لوگ قرآن کے ایک ملین سے زائد نسخے نہ صرف امریکا میں، بلکہ دوسرے ممالک جیسے کینیڈا، نیوزی لینڈ، برازیل وغیرہ میں بھی پہنچا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں اس مہم کو آگے پہنچانے کے لئے نو جوانوں کی ایک ٹیم درکار تھی۔ نے اس ضرورت کو اسد پرویز کی قیادت میں ہمیں مہیا کیا۔ ان شاء اللہ اب یہ کام مزید تیزی کے ساتھ انجام پائے گا۔

Printed page