مولانا کے ساتھ انٹرایکشن
Al-Risala, August 2021, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
میری پہلی ملاقات مولانا سے ان کے لٹریچر سے واقف ہونے کے دس سال بعد 1986 میں ان کے دہلی کے دفتر میں ہوئی۔ اس کے بعد مولانا سے کئی بار دہلی میں، اسی طرح امریکا کے چار مختلف اسفار کے دوران ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ کینیڈا اور دبئی کے اسفار میں مولانا کے ساتھ لمبا وقت گزرا۔ مولانا سادگی کے پیکر تھے۔ ان کی اپنی ضروریات بالکل مختصر ان کو ککبھی میں نے فضول اور وقت گزاری کی بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ میں نے ان کو یا تو تدبر وتفکر میں ڈوبا ہوا یا کچھ لکھتے ہوئے یا پھر لوگوں سے کوئی فکری اور نصیحت کی بات کرتے ہوئے ہی دیکھا۔ میرا کچھ وقت دوسرے علماء کے ساتھ بھی گزرا ہے۔ ان سب کو میں نے ان کی اپنی تقاریر کے فوراً بعد غیر سنجیدہ موڈ میں دیکھا ہے۔ لیکن میں نے مولانا کو بھی غیر سنجیدہ بات کرتے ہوئے یا کوئی مزاحیہ کلام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ان کی خوراک بہت سادہ اور بہت کم ہوتی تھی۔ دوران اسفار وہ ہوٹل کے بجائے (اپنے کسی جاننے والے کے) گھر پر رہنا پسند کرتے تھے، اور وہ میزبان کے ساتھ no problem man کی حیثیت سے رہتے تھے۔ ان کا لباس بہت ہی سادہ میں نے دیکھا ہے کہ سفر کے دوران ایک عدد کرتا پاجامہ ان کے جسم پر ہوتا، اور ایک عدد بیگ میں ہوتا، اور اس لباس میں ایک کوٹ بھی ہوتا تھا۔ مولانا کے امریکا کے پہلے سفر کا واقعہ وہ ہمارے گھر پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میری اہلیہ نے جب ان کے کپڑوں کو واش کرنے کے لئے لیا تو پایا کہ اس کوٹ کی دونوں جیبیں پھٹی ہوئی تھیں۔ میری اہلیہ نے اس بات کا ذکر فاروق چشتی صاحب سے کیا تو وہ مولانا کے لیے ایک عدد اچھا سا نیا کوٹ تحفے میں لے آئے۔ مولانا نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور نم آنکھوں سے کہنے لگے کہ میری اپنی ضرورتیں کوئی نہیں ہیں اور مجھے جیبوں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے وہ نیا کوٹ واپس کروا دیا اور اپنا پرانا کوٹ ہی رکھ لیا۔ صاحب کا ہی واقعہ ہے۔ وہ مولانا کی گفتگو کوریکارڈ کرنے کے لئے ایک ریکارڈر لائے تھے۔ نے اس کومشن کے promotion کے لئے بخوشی قبول کر لیا۔