خلاصہ
Al-Risala, August 2021, pp. 43–61
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا کے لٹریچر سے جو موضوعات مختلف انداز میں نمایاں ہوتے ہیں، وہ ہیں: عظمتِ خدا، احساس جنت اور جہنم، تزکیہ نفس، قرآن وسنت کی روشنی میں تعمیر شخصیت، لائف مینجمنٹ وغیرہ۔ 21 اپریل 2021 کو مولانا کے گزر جانے کا مجھے شدید صدمہ ہوا۔ اتنا صدمہ جو کہ میرے والدین کے گزرنے پر نہیں ہوا تھا۔ غالباً یہ اس لئے ہوا کہ میرے والدین نے میری جسمانی غذا کی فراہمی کا انتظام کیا، لیکن مولانا سے مجھے میری روحانی غذا ملی۔ مولانا حکمت و دانائی کے پہاڑ تھے۔ اس نکٹر (nectar) کو قرآن و پیغمبر کے اسوہ سے نچوڑ کر اپنی ڈھائی سو سے زائد کتابوں میں محفوظ کر دیا یہ کتابیں مولانا کے گزر جانے کے بعد ان کے بدل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو اپنے پڑوس میں پیغمبر، صالحین اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ جگہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ مولانا نے مسلسل ہم سب کو اسلام کا پیغام یعنی قرآن کو دنیا کے سارے انسانوں تک ان کی اپنی زبان میں پہنچانے کے عمل کو انجام دیتے رہنے کی ترغیب دی ہے۔ اس کام کو میں آخری سانس تک جان و مال کی قربانی کے ساتھ انجام دیتے رہنے کا تہیہ کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما اور اس میں آسانی عطا فرما۔
میں نے مولانا وحید الدین خان سے بہت کچھ سیکھا، مسلمانوں میں ان جیسے دو تین علما اور پیدا ہو جاتے تو شاید مسلمان اتنے زوال یافتہ نہ ہوتے۔ (کامران طفیل، پاکستان)
محمد فاروق، لاہور مولاناوحیدالدین خاں رخصت ہو گئے اور علم و معرفت کا گنج ہائے گراں مایہ دہلی کی خاک میں شامل ہو گیا۔ اکیس اپریل نے علامہ اقبال کے بعد ایک اور جلیل القدر عالم اور غیر معمولی شخصیت کا سانحہ ارتحال اپنے نام لکھ لیا۔ مولانا اپنی پختہ عمر کو پہنچ چکے تھے، عموماً چھیانوے برس کا سفر کم ہی لوگ طے کرتے ہیں۔ ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ اگلی منزل کیا ہو سکتی ہے۔ آخری ایام کی بیماریوں نے اندیشوں کو جنم دینا شروع کر دیا۔ مولانا کی زندگی کے ٹمٹماتے چراغ کو دیکھ کر دل بیٹھ سا جاتا تھا۔ ایسی حالت میں خدا سے بڑا کوئی سہارا نہیں تھا۔ لہذا گھر بیٹھا ہوں یا راہ چل رہا ہوں ایک ہی فکر دامن گیر رہتی تھی کہ مولانا کو کچھ ہو نہ جائے۔ فجر کی نماز ہو یا تراویح کا قیام ، بس مولانا کی صحت کے لیے دست دعا دراز رہتے تھے۔ یا اللہ ابھی بہت کام باقی ہے۔ اس مرد درویش کو تھوڑی مہلت اور دے دے۔
اچھی خبر آنے کی اُمید میں، میں دن میں واٹس ایپ کے متعلقہ گروپ کو بار بار دیکھتا۔ کھولتا، کہیں آشاؤں کے پھول کھلتے نظر آجائیں۔ کسی طرف سے اُمید بہار کی خوشبو آ جائے۔ دوران اطلاع آئی کہ مولانا کی صحت میں کچھ استحکام آیا ہے۔ اس خبر دلکش میں قیامت کا اثر تھا۔ کے پھول کھل گئے، آرزوؤں کے چراغ جھلملانے لگے۔ حوصلہ ہوا کہ مفسر قرآن اور داعی اسلام کا قلم پھر متحرک ہوگا، ایک محدث پھر احادیث کی حکمت کو عیاں کرے گا۔ لیکن اگلے دن خبر آئی کہ صحت میں استحکام تو ہے مگر بہتری کمیاب ہے۔ میں خود سے ہم کلام ہو گیا۔ یہ ماجرا کیا ہے۔ دعاؤں کی تاثیر کہاں زائل ہوگئی۔ ہماری شب بیداری میں اثر کیوں نہ رہا۔
جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے تھے خدشات بڑھتے جا رہے تھے۔ 21 اپریل 2021 کو رات گیارہ بجے کے قریب مجھے اطلاع ملی کہ مولانا کو اللہ کی طرف سے بلاوا آگیا۔ مجھے اسی ہونے کا ڈر تھا۔ مگر بشری کمزوری ہے کہ جن سے محبت ہو، اُن کی موت کا یقین نہیں آتا۔ عمر اور بیماری سب
ثانوی ہو جاتے ہیں۔ پھر اُس شخص کی موت کا یقین کیسے آسکتا تھا جو ہمیں جینا سکھاتا ہو۔ وہ آدمی کیسے خاموش ہو سکتا ہے جو کہتا تھا کہ۔ جسے چپ رہنا آ گیا اسے کلام کرنا آگیا۔
میں نے جھٹ سے فیس بک گروپ دیکھا کہ شاید وہاں کچھ منظر مختلف ہو، مگر وہاں بھی یہی لکھا تھا کہ مولانا اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ میں چپ سا ہوگیا، قانون فطرت ہے کہ کل نفس ذائقۃ الموت ۔ کے سامنے سب بے بس ہیں کیا انبیا، کیا اولیا، کیا بادشاہ، کیا فقیر، کیا طبیب اور کیا مریض ۔ بقا تو صرف میرے اللہ کو ہے۔ آنکھیں اشک بار ہوگئیں ۔ دفعۃً حافظے نے کروٹ لی۔ میں نے تصور کی آنکھ سے زمانہ رسالت کو دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی حالت نازک ہے۔ آپ عبد الرحمن بن عوف کے ساتھ اِم سیف کے ہاں تشریف لائے۔ کی حالت میں تھے۔ آپ نے اُن کو گود میں لیا، چوما، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ عبد الرحمن بن عوف نے جب اشک رواں دیکھے تو فرمایا، ’’یارسول اللہ! آپ کی یہ حالت ہے۔ نے فرمایا یہ رحمت ہے ( اِنَّھَا رَحْمَۃٌ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1303۔ یہ واقعہ یاد آنے کے بعد آنکھیں کھل کر برسنے لگیں۔ ایسے موقعوں پر آنکھوں کا ڈبڈباجانا میرے نبی کی سنت ہے۔ انا للہ وانا الیہ
جن سے عقیدت ہو اُن کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے قدم خود بہ خود اُٹھ جاتے ہیں۔ جنازہ صرف مرحوم کے لیے دعا مغفرت ہی نہیں ہوتی بلکہ پیچھے رہ جانے والوں کی طرف سے خراج محبت بھی ہوتا ہے۔ دہلی دور نہیں تھا جہاں پہنچانہ جاسکے۔ ایک تو دہلی میں لاک ڈاؤن نافذ تھا۔ نہ بھی ہوتا، تو دو ملکوں کی باہمی کھینچا تانی میں محبتوں کو خراج کیسے دیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں تو پیار، پریم، پریت، الفت، چاہ کے دیپ صرف اپنے دل میں جلائے جاسکتے ہیں، اور میں جلائے بیٹھا رہا۔ مولانا وحید الدین خاں کی کتابیں، تقریریں منفرد اور جدید پیرائے میں ہیں۔ اُن کی خواہش تھی کہ عصر حاضر کے تناظر میں دینِ اسلام کی سچی اور حقیقی روح کا احیا کیا جائے ۔ اور اِس کے لیے سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ قرآن پاک کو پوری دنیا میں ہر خاص و عام تک پہنچایا جائے، اور ساتھ ساتھ قرآن مجید کی روشنی میں عصری اسلوب میں ایسا لٹریچر تیار کیا جائے، جس کو جدید ذہن قبول کرے۔ کیوں کہ آج کا نو جوان قصہ کہانیوں سے نہیں بلکہ حقائق و شواہد سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ یوٹیوب کا
دلدادہ، سوشل میڈیا کا فریفتہ اور سائنس کی کتابیں پڑھ کر علوم قدیم کا ناقد بنا ہوا ہے۔ لہذا لٹریچر کی بنیاد حقائق و دلائل پر ہونی چاہیے، جو اُس کے دماغ کو اپیل کرے۔
اس حوالے سے انھوں نے خود بہت کام کیا ہے۔ سو سے زائد کتابیں اُن کے قلم سے نکلی ہیں، اور ہر کتاب ایک شہ پارہ ہے۔ تفسیر تذکیر القرآن، مذہب اور جدید چیلنج، اسلام دورِ جدید کا خالق، فکّر اسلامی، رازِ حیات، غرض ایک طویل فہرست ہے۔ مولانا اپنی ملّی ناکامیوں کا ذمہ دار خود مسلمانوں کو قرار دیتے تھے۔ اُن کو اس بارے میں یقین تھا کہ کامیابی و ناکامی کی جڑ ہمارے اندر ہے۔ وجوہات و اسباب ہمیں اپنے اندر تلاش کرنا چاہیے۔ اگر ہم فتح کا پرچم لہراتے ہیں تو اٗس کے بھی کچھ اسباب ہوتے ہیں، اور اگر شکست سے گزرتے ہیں تو اس کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔ شکایت کرنا، اپنی پسماندگی، جہالت کا قصور وار غیروں کو ٹھہرانا، اپنی شکست و ناکامی کو اغیار کی سازش سمجھنا کسی طور پر قرینِ انصاف نہیں ہے۔ ہم اپنی جہالت اور درماندگی کے خود ذمہ دار ہیں۔ سازش کہہ کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔
مسلمانوں کی ظاہری ترقی سے پہلے اُن کی باطنی ترقی ضروری ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ خالق و مخلوق میں زندہ تعلق پیدا ہو جائے اور بندہ مومن میں اطاعتِ الہی کا جذبہ بیدار ہو۔ انکساری، بردباری اٗس کے کردار کا جزء لازم ہوں۔ کیوں کہ ذات کی نفی کا ثمر ملت کے اثبات کی صورت میں ملتا ہے۔ دین اسلام تو حید اور فکر آخرت میں سمایا ہوا ہے۔ ان دو پہلوؤں کو چھوڑ کر اسلام کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ توحید، قیامت، جنت و جہنّم اُن کا موضوعِ سخن رہا ہے۔ اُن کے قلم میں تنقید کی کاٹ بہت تھی۔
سلف صالحین ہوں یا عصر حاضر کی اسلامی تحریکیں اور تنظیمیں سب اٗن کے تجزیاتی اور تنقیدی اُسلوب سے گزری ہیں۔ اور یہ طرز تحریر یقیناً بہت سے حلقوں کے لیے گراں بار تھا۔ مگر مولانا کے خیال میں، ہمیں جو محاسن نظر آئیں اُن کی نشاندہی کرنی چاہیے اور جہاں کہیں نقص نظر آئے اٗس کو بھی عیاں کرنا چاہیے تا کہ آئندہ ہم اپنی غلطیوں کو دہرانے سے بچ جائیں۔ مولانا امن کے بہت بڑے مبلغ تھے۔ اٗن کو شکوہ تھا کہ مسلمان جنگ کی اہمیت جانتے ہیں، وہ امن کی اہمیت سے واقفیت نہیں ہم امن سے وہ کچھ حاصل کرسکتے ہیں جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔ اور جنگ و لڑائی میں وہ
کچھ گنو اسکتے ہیں، جو ہمارے حاشیہ خیال میں کبھی آیا ہی نہ ہو۔ غزوہ بدر و احد اپنی جگہ اہم ہیں۔ اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا ہے۔ لیکن صلح حدیبیہ فتح مبین کہلاتی ہے۔ اس لیے مولانا فرماتے تھے کہ امن کو شرائط پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن کو قائم کرنے کے لیے صلح حدیبیہ کی طرح غیر مشروط ہونا جب امن ہوگا تو کامیابی کے مواقع عام ہوں گے اور فتح کے دروازے کھلیں گے۔ اسلام امن کے ماحول میں آسانی سے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ تاریخ میں ایسا ہوتا تو نظر آتا ہے کہ مسلمان کبھی کوئی جنگ جیتے اور کبھی ہارے ہوں۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں کبھی مار کھائی ہو۔ اس لیے اسلام کو سمجھنے کے لیے پرامن ماحول اشد ضروری ہے۔ پھر مولانا غور وفکر (contemplation) کے قائل رہے، مراقبہ، سرور (meditation) اُن کی تعلیمات کا حصہ نہ تھے۔ کیوں کہ اِس تدبر و تفکر سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ سب سے بڑی دریافت اور سب سوالوں کا جواب خدا کی دریافت میں پوشیدہ ہے۔ گھاس کی پتی، پھولوں کی خوشبو، چاند کی چاندنی، سورج کی روشنی، ہواؤں کا چلنا، بارش کا برسنا، کائنات کا پھیلاؤ، غرض ہر چیز پر غور وفکر خدا کی وحدانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ دریافت اللہ اور مومن میں ایسا تعلق پیدا جیسا گرڈ اسٹیشن اور گھر میں جلنے والے بلب میں ہوتا ہے۔ مولانا کا کہنا یہ ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو آپ کے دوست ہیں دوسرے وہ جن میں آپ کا دوست بننے کا امکان دوسرے الفاظ میں، اِس دنیا میں محبتیں، دوستیاں، تعاون، خیر خواہی، کامرانی کا زینہ یہاں دشمنیاں، انتقام، حقارت، نفرت ایسے دلدل ہیں، جن میں اُتر کر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ لہذا مثبت فکر کے ساتھ اور دوسروں کے خیر خواہ بن کر رہنا چاہیے۔ ہر فرد آپ کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آپ کو محبت کرنی ہے نفرت نہیں۔ داعی پیکر محبت و صبر ہوتا ہے۔
مولانا صرف مذہبی عالم نہ تھے بلکہ وہ فلسفی و مفکر بھی تھے اُن کا خیال تھا کہ عام طور پر آدمی سماجی کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے۔ جس چیز کو معاشرے نے اچھا کہا اُس کو وہ ساری عمر چھان پھٹک کے بغیر اچھا سمجھتا ہے، اور جس کو برا سنا اُس کو وہ کسی کسوٹی پر پرکھے بنا بُرا خیال کرتا ہے۔ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو ڈی کنڈیشنڈ کر کے سوچیں۔ اور چیزوں کو ویسے دیکھیں جیسی وہ موجودہ دور شر کا دور نہیں بلکہ دعوت کا دور ہے۔ کیوں کہ زمانہ حاضر میں دعوت کے مواقع بے شمار
الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، کتابیں، رسالے بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کسی بھی مغربی ملک میں جا کر اپنی دعوت کا کام کر سکتے ہیں۔ لہٰذا غیر مسلم کو دعوت دیں، انھیں کافر کہنے کے بجائے مدعو سمجھیں۔
مولانا اپنے آخری ایام میں اپنی ساری عمر کے مطالعہ اور مشاہدے کا حاصل و دریافت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ ”اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرا بھر بھی کوئی منفی فکر نہ ہو۔ اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی کہ آدمی دنیا سے اس طرح چلے جائے کہ اُس کا ذہن پوری طرح مثبت فکر کا حامل ہو۔ اس دنیا میں سب سے بڑی نیکی مثبت سوچ ہے۔ اور سب سے بڑی برائی منفی فکر ہے۔ یہی میری زندگی کی آخری ”موت سے کس کو رستگاری ہے“۔ جو یہاں آیا ہے اُسے ایک نہ ایک دن جانا ہے۔ چلے گئے، ہم نے اللہ کے فیصلے کو قبول کر لیا۔ کیوں کہ وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اہل علم مولانا کی فکر، استدلال اور اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف کر سکتے ہیں، بعض سے اتفاق۔ اور کرنا بھی چاہیے تنوع واختلاف زندگی کا حسن ہے۔ لیکن یہ سب جزئی اور عام چیزیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دین اسلام کا جو حقیقی مطلوب ہے، مولانا اُسی کی دعوت دیتے تھے۔ اور وہ اُس کے سب سے بڑے داعی، مبلغ اور عارف تھے۔
میں مولانا کی کتابوں کا مطالعہ غالباً 25 سال سے کر رہا ہوں۔ مطالعہ کے دوران میری سوچ میں کافی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ سب کا ذکر یہاں ممکن نہیں ہے۔ لیکن کچھ باتوں کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں پہلے اکرام مسلم میں جیتا تھا، لیکن آج میں اکرام انسان میں جی رہا ہوں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ آج میرے دل میں کسی کے لیے کوئی نفرت نہیں ہے، نہ مسلمانوں کے لیے، اور نہ غیر مسلموں کے لیے۔ اس کے علاوہ معرفت الہیٰ، دعوت الیٰ اللہ، تدبر قرآن، وغیرہ ۔ یہ ساری چیزیں ہیں، جو مولانا کی کتابوں کے مطالعہ کے نتیجے میں مجھے حاصل ہوئی ہیں۔ (عبد الرؤف خطیب، چپلن، سی پی ایس مہاراشٹر)
بے مثال شخصیت فاروق مضطر، راجوری، جموں 21 اپریل کی شب مولانا وحید الدین خان صاحب داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے ہم سب سے رخصت ہو گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ مولانا کے امت مسلمہ پر بے پناہ احسانات ہیں جس کا اعتراف تمام علمی اور ملی حلقوں میں کھلے دل سے ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر تعزیتی تاثرات کا سلسلہ جاری ہے اور ہر ایک شخص نہ صرف سوگوار ہے بلکہ فکر مند ہے کہ مولانا جیسی عبقری، صالح اور متحرک شخصیت کے سانحہ ارتحال کے بعد جو عظیم خلا پیدا ہوا ہے وہ کیسے پر ہوگا۔ عام احساس یہی ہے کہ صدیوں بعد ہی ایسی مقتدر مخلص اور جامع العلوم اور جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیات ظہور پاتی ہیں۔ مولانا کی خدمات کی ابتدا تعمیر و اصلاح ملت سے ہوئی اور آخر میں دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ مشن، ادخال کلمہ یعنی قرآنی پیغام کو ہر قوم ، نسل ، خانوادہ اور فرد تک پہنچانے پر موقوف ہوگئی۔
مولانا نے پون صدی سے زیادہ اپنی شعوری زندگی دین اسلام کے اصل ماخذوں یعنی قرآن و سنت کے ازسر نو مطالعہ کی بنیاد پر اسلام کی اساسی تعلیمات کو دریافت کرنے میں لگادی اور ان اساسی تعلیمات کی بنیاد پر احیائے اسلام و ملت کا عظیم مشن الرسالہ مشن، القرآن مشن اور سینٹر فارپیس اینڈ اسپر بچوئلٹی انٹرنیشنل کے نام سے تن تنہا منظم کیا تا ہم جلد ہی اُن کے اخلاص کے جواب میں نصرت غیبی سے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگ دنیا بھر سے اس تحریک / مشن سے وابستہ ہوتے چلے گئے۔ اور آج دنیا کی 30 سے زیادہ زبانوں میں قرآن کے تراجم موجود ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں اس مشن کے وابستگان رضائے الہی کے حصول کے لیے سرگرم اور متحرک ہیں۔ مولانا کی تعلیمات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اندرون خانہ جو گروہی مقابلہ و مناظرہ کا ماحول تھا نئی نسل نے اس سے مکمل طور اپنے کو الگ کر لیا اور محض تعمیری اور مثبت رویوں کی بنیاد پر احیائے ملت کے مشن سے اپنی وابستگی کو گہرا کیا۔
مولانانے قرآن واسلام کو انسانیت کا کُنسرن بتایا انھوں نے بین المذاہب ڈائیلاگ کو رواج دیا اور ہر قسم کے تصادم اور تناؤ سے مسلم امت کو دور رہنے کی تعلیم و ترغیب دی۔ ملک کے اندر اور باہر ہر قسم کی نظری اور عملی انتہا پسندی کو پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے منافی بتایا۔ برصغیر کی جدید تاریخ میں وہ پہلے مذہبی عالم ہیں۔ جو مسلمانوں کے علاوہ ہم وطنوں میں بھی برابر احترام اور عزّت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
مولاناکی تصنیفات انگریزی، ہندی، عربی اور اُردو میں 200 سے زیادہ ہیں تا ہم جو کتابیں بہت مقبول ہیں ان کے نام اس طرح ہیں : مذہب اور جدید چیلنج، مارکسزم تاریخ جس کو رد کر چکی ہے، الاسلام، عقليات اسلام، ظہور اسلام، راز حیات، راہ عمل، صراط مستقیم، کتاب معرفت، مطالعہ قرآن، معرفت قرآن، حکمتِ اسلام، عظمتِ قرآن، مطالعہ حدیث، عظمتِ اسلام، مطالعہ سیرت، پیغمبر انقلاب، سیرتِ رسول، الربانیہ، حقیقت کی تلاش، خدا کی دریافت، فکر اسلامی وغیرہ۔ مولانانے اپنی ڈائریوں میں جو کچھ اپنے تجربات ومشاہدات یا تاثرات رقم کیے ہیں، وہ اعلیٰ پائے کا علمی ڈیٹا ہیں۔ اس میں ارباب علم و دانش کے لیے اپنے علمی ذوق کی تسکین کا وافر سامان موجود ہے، اگر وہ بے تکلف اور بے تعصب ہو کر اس کا مطالعہ کریں۔
مولانانے قرآن واسلام کے فروغ و تعارف کے لیے دنیا بھر کے درجنوں ملکوں کے سفر کیے اور سفرنامے قلم بند کیے اور وہاں کے تہذیبی، ثقافتی ماحول کا بنظر غائر مطالعہ کیا اور بتایا کہ زندہ قوموں کی کن امور پر خصوصی توجہ رہی ہے۔ اور دوسری اقوام کے بالمقابل مسلمانوں کی زبوں حالی یا پسماندگی کے کیا اسباب ہیں جن پر کام نہیں ہوسکا۔ اور اب کرنے کا کام کیا ہے۔ ان کی ایک نہایت وقیع تالیف تذکیر القرآن ہے، جو جدید محاورے کی زبان میں قرآن مقدس کی تفسیر ہے۔ اس میں انہوں نے دوسری تفاسیر قرآن کے بالمقابل علمی مباحث سے قطع نظر قرآنی پیغام کو کچھ اس طرح کھولنے کی کوشش کی ہے کہ ہر آیت اور ہر رکوع کے مطالعے کے بعد بندہ اپنے آپ کو خدا کی معیت میں محسوس کرے۔ بندہ خدا سے ہم کلامی کے تجربے سے گزرے اور اپنے آپ کو خدا کی پناہ میں محسوس کرنے لگے۔
انہوں نے ہند پاک ڈائری لکھ کر ایک طرف تقسیم وطن کے بحرانی منظر کو ہمارے روبرو کیا
دوسری طرف برصغیر کی قیادت کی ناعاقبت اندیشیوں کے حوالے سے بہت سے تاریخی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اور مسلم سماج کو حقیقت پسندانہ راہ عمل کو اپنانے کی صلاح دی ہے۔ الغرض انہوں نے جدید علم کلام، تجدید دین، حقیقت معرفت، اسلامی سماجیات، قرآن و سیرت، تعمیر واصلاح، دعوت واحیائے دین کو موضوع بنایا اور انتہائی مدلل اور مؤثر پیرائے میں عظیم الشان لٹریچر ہمیں دیا، جو مدتوں طالبانِ حق اور فلاح و نجات کے لیے فکرمند افراد کے لیے مفید اور راہ نما ثابت ہوگا۔ ایک صاحب طرز داعی مولانا ابو عمار زاہد الراشدی مولانا وحید الدین خاں کی وفات اہلِ دین کے لیے باعث صدمہ ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک صاحبِ طرز داعی تھے جن کی ساری زندگی اسلام کی دعوت کو عام کرنے اور اپنی فکر کے مطابق دعوت کے ناگزیر تقاضوں کو اجاگر کرنے میں گزری۔ وہ دعوتِ اسلام کے روایتی اسلوب کے بعض پہلوؤں سے اختلاف رکھتے تھے اور اس حوالہ سے کچھ تفردات کے حامل بھی تھے مگر مجموعی طور پر ان کی محنت، دعوتِ دین کے عصری تقاضوں کی نشاندہی نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کا ازالہ اور افہام وتفہیم کی عصری ضروریات کو سامنے لانے کے لیے ہوتی تھی، اور یہی ان کی وسیع تر پذیرائی کا باعث تھی۔ ایک سفر کے دوران مجھے ان سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا تو ان کے خلوص و سادگی نے بہت متاثر ان کی گفتگو اور تحریر دونوں عام فہم اور مخاطبین کی ذہنی سطح اور نفسیات کو سامنے رکھ کر ہوتی تھیں جو میرے نزدیک آج کے دور میں دعوتِ دین کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی کوششوں کو قبول فرمائیں اور عفو و فضل کے ساتھ انھیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں، آمین یا
اپنے عہد کی ایک منفرد آواز جاوید احمد غامدی مجھے بے حد صدمہ ہوا، مولا نا وحید الدین خان ایک بڑی ہی غیر معمولی شخصیت تھے۔ تو ان کے ساتھ یہ ہے کہ ہم ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ انہوں نے استاد امام امین احسن اصلاحی (وفات 1997) سے ابتدائی دور میں تعلیم پائی اور مجھے یہ شرف استاد امام کے آخری دور میں حاصل ہوا۔ مولا نا وحید الدین کی آواز ایک بڑی منفرد آواز تھی۔ ایسی منفرد کہ شاید نہ اس سے پہلے سنی گئی اور نہیں کہا جا سکتا کہ پھر کبھی سنی جائے گی۔ ان کا بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ دورِ حاضر میں دین کی جو سیاسی تعبیر کی گئی انہوں نے خالص علمی سطح پر اس کی غلطی واضح کی، ان کی کتاب ”تعبیر کی غلطی“ کو پڑھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ کیسا اعلیٰ درجہ کا محققانہ ذوق رکھتے تھے اور اگر وہ اس طرح کہ تحقیقی مباحث کو اپنا کام بناتے تو کیسی غیر معمولی چیز ان کے ہاتھ سے نکل سکتی تھی لیکن بتدریج انہوں نے تذکیر اور مسلمانوں کی عمومی اصلاح کو اپنا موضوع بنا لیا، چنانچہ اس لحاظ سے بھی بے مثال چیزیں ان کے قلم سے نکلی ہیں۔
میرا خیال ہے کہ جتنی چیزیں اُن کے قلم سے نکلیں موجودہ زمانہ میں بہت کم لوگ ہوں گے کہ جنہوں نے اتنا لکھا ہوگا اور وہ بھی ہر موضوع سے متعلق۔ تاہم اصل چیز یہی تھی کہ دین کی حقیقت واضح اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت لوگوں میں پیدا کی جائے۔ مسلمانوں نے اس وقت تک اپنے لیے جو سیاسی لائحہ عمل اختیار کر رکھا ہوا ہے اس کی غلطی اُن پر واضح کی جائے، مسلمانوں کے لیے کرنے کا اصل کام کیا ہے؟ اس کو اُن پر واضح کیا جائے۔ یہ اُن (مولانا) کے موضوعات تھے۔ میں بھی میں یا آپ یا کوئی بھی صاحب علم ان سے اختلاف کر سکتا ہے۔ لیکن وہ بڑی درد مندی کے ساتھ، بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی بات بیان کرتے تھے، کہیں تمثیلوں میں، تو کہیں زندگی کے عمومی معاملات میں رکھ کر اسے واضح کرتے تھے اور ساری زندگی یہی کام کرتے رہے۔ الرسالہ کو انہوں نے اس موضوع پر ایک کلاسیک بنا دیا، ہمیشہ اس کو اسی حیثیت سے پیش کیا جاتا رہے گا۔ اس لیے میں
نے یہ عرض کیا کہ مولانا اپنے عہد کی ایک منفرد آواز تھے جو نہ پہلے سنی گئی، نہ شاید اب سنی جائے گی۔ میں کوئی شک نہیں کہ اپنے اخلاص اور اپنی درد مندی اور اپنے پروردگار کی سچی معرفت کے ساتھ انہوں نے اپنی پوری زندگی بسر کی ہے۔
بعض موقعوں پر ان کی ڈائریوں کو اگر پڑھیں تو اس میں بہت سے علمی مباحث کے بارے میں بڑی نادر تنقیحات سامنے آتی ہیں۔ لوگوں کو اس حیثیت سے ان کا مطالعہ کرنا چاہیے، ان کو دیکھنا چاہیے، ان کے احوال کو دیکھنا چاہیے کہ ایک بے مثال شخصیت جو اپنی سیرت، اپنے کردار، اپنی درد مندی اور اپنے اخلاص کے لحاظ سے ہم سب کے لیے نمونہ تھی جو اب دنیا سے رخصت ہوگئی۔ بد قسمت قوم ہے کہ اپنی عظمتوں کے معاملے میں بھی اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر رائے قائم کرتی ہے۔ مولانا کی تحریروں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر نقد بھی ہوگا، اس سے اختلاف بھی ہوگا لیکن اس اعتراف کے ساتھ کہ آج ہمارے دور کی ایک عظمت رخصت ہوگئی ہے۔
میں اُن کے پورے کام میں سے دو چیزوں کو اُن کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھتا ہوں: اُن میں سے ایک دین کی اصل حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اُنھوں نے بتایا ہے کہ دین پروردگار کی حقیقی معرفت، اُس سے سچی محبت اور اُس کے امتثالِ امر کا نام ہے۔ اِس حقیقت کو اُنھوں نے ہر شخص پر واضح کرنے کی سعی کی اور اپنی پوری زندگی اس کی نذر کر دی۔ اسی طرح یہ بات بتانے کے لیے اُن کا قلم ایک گوہر بار قلم تھا کہ لوگ دین کی اصل کو دریافت کریں، اُس کے مقصود کو پانے کی جدوجہد کریں، اُن کے اندر اس حقیقت کو سمجھنے کا داعیہ پیدا ہو کہ اُن کا مقصود آخرت ہے، اُنھیں ایک دن اپنے پروردگار کے سامنے اٹھنا ہے، اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اِس موضوع پر اُنھوں نے صفحے کے صفحے لکھے ہیں۔ اللہ کی یاد کی طرف توجہ دلائی ہے اور آخرت کی منادی کی ہے۔ یہ اُن کے کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ ہے۔
دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے مسلمانوں کو اُن کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی رویوں کے بارے میں صحیح راہ دکھائی ہے۔ جب ایک شخص صحیح راستہ دکھاتا ہے تو بعض موقعوں پر کچھ سختی بھی آ جاتی ہے، لیکن بہ حیثیت مجموعی اُنھوں نے مسلمانوں کی درست سمت میں رہنمائی کی ہے۔ مسلمانوں کو بتایا ہے کہ تم اپنی تاریخ کے پس منظر میں اس وقت کس مقام پر کھڑے ہو، تمھارا اصلی مشن
کیا ہے، تمھیں اپنے سیاسی اور سماجی معاملات میں کیا رویہ اختیار کرنے چاہئیں، تمھارے لیے مثبت طرزِ عمل کیا ہے جسے تمھیں ہدف بنا کر کام کرنا ہے؟ اس معاملے میں جو بنیادی پیغام اُنھوں نے مسلمانوں کو دیا ہے، وہ یہ ہے کہ ردِ عمل کی نفسیات سے نکل کر مثبت سوچ کے ساتھ دنیا اور اُس کے معاملات کو دیکھو۔ تمھارے پاس جو ایک بہت بڑی متاع ہے، دین کی متاع، اُس کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرو۔
یہ جس کارنامے کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے، یہ بڑا غیر معمولی ہے۔ اس لحاظ سے کہ دین کے مختلف احکام میں، اُن کی شرح و وضاحت میں اگر کہیں کوئی غلطی ہو جائے ۔ اور ظاہر ہے کہ کسی صاحبِ علم کا کام غلطیوں سے پاک نہیں ہے ۔ ان کے ساتھ لوگ اتفاق بھی کریں گے ، اختلاف بھی کریں گے ۔ مگر اس سے کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ مثلاً رفع یدین کے بارے میں ایک شخص کی ایک رائے ہے، دوسرے شخص کی ایک دوسری رائے ہے۔ اسی طرح سجدہ کیسے کرنا ہے، تشہد میں کیسے بیٹھنا ہے، نماز کی ابتدا کیسے کرنی ہے؟ یا اسی طرح کی بعض دوسری چیزیں ہیں۔ اختلافات ہوتے ہیں، ہوتے رہے ہیں، ہوتے رہیں گے۔ لیکن دین بہ حیثیت مجموعی کیا ہے، اُس کا مقصد کیا ہے، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے، اُس کے احکام میں باہمی طور پر کیا نظم قائم ہوتا ہے۔ وہ بہت اچھا لکھنے والے تھے۔ اپنے بارے میں بالکل درست کہتے تھے کہ اُنھوں نے اردو زبان کو، خاص طور پر مذہبیات کے دائرے میں، ایک عصری اسلوب دیا ہے۔ وہ اپنی بات کو نہایت وضاحت سے بیان کرتے تھے، اُس کو تمثیلوں میں واضح کرتے تھے اور زندگی کے عمومی معاملات میں رکھ کر اُس کو دکھاتے تھے۔ ساری زندگی وہ یہی کام کرتے رہے۔
مسلمان بڑی بد قسمت قوم ہیں۔ یہ اپنی عظمتوں کے معاملے میں بھی اختلاف اور اتفاق کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بعض بہت بڑے لوگ ہیں جن سے ہم اختلاف کرتے ہیں اور بعض اوقات بڑا اصولی اختلاف کرتے ہیں، جیسے امام غزالی ہیں، شاہ ولی اللہ ہیں۔ لیکن کیا اُن کی عظمت کا انکار کر دیا جائے گا؟ ماضی کی شخصیات ہوں یا حال کی، ہمیں سب کے علم و فکر یا سیرت و کردار کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے، ادب اور شائستگی کے ساتھ اُن سے اختلاف کی روایت ڈالنی چاہیے۔ مولانا وحید الدین خاں تنہا کام کرتے تھے۔ کوئی جماعت، کوئی فرقہ، کوئی گروہ یا کوئی بڑا ادارہ
اُن کی پشت پر نہیں تھا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ــ "کان امة فی رجل" ــ ایک ایسا آدمی جس کے وجود میں ایک پوری امت جمع تھی۔ وہ آدمی آج اپنے پروردگار کے پاس واپس چلا گیا ہے، گویا، ہمارے دور کی ایک بڑی عظمت تھی، جواب ہم سے رخصت ہوگئی ہے۔
اس طرح دعوت کو انہوں نے ایک لحاظ سے اپنی فکر، اپنی تمام تحریروں میں مرکزی حیثیت دی انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ [ یہ تحریر غامدی صاحب کی ویڈیو پیغام پر مبنی ہے ] انسان کی تحریر ابد الآباد تک باقی رہتی ہے مولانا وحید الدین خان ( 2021-1925ء ) کی رحلت ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرحوم تقریباً ایک صدی تک پورے خلوص کے ساتھ تروج و فروغ اسلام کے لیے جہاد بالقلم میں مصروف عمل رہے ۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو روایتی انداز کے بجائے عصری مقتضیات کے مطابق پیش کیا۔ بصائر و عبر کا اظہار اور حقائقِ اسلامیہ کا انکشاف ان کی تحریروں کا خاصہ تھا۔ میں ان کے اہل خانہ اور محبین و مستفیدین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے اور ان کے علمی شذرات سے امت مستفید ہوتی رہے ۔ ( ڈاکٹر محمد طاہر القادری ، پاکستان )
اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مولانا کی علمی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عصر حاضر میں قرآن پاک کی جو خدمت مولانا وحید الدین خاں صاحب نے کی، وہ نگاہوں کے سامنے ہے۔ مولانا نے جدید اور قابل فہم اسلوب میں دین کی تشریح اللہ تعالیٰ ان کی علمی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور امت کے لیے چشمہ ہدایت آمین ( اویس احمد شانگلہ )
مولانا وحید الدین خاں ”ایک منفرد شخصیت“ شمشاد محمد خاں، ڈائریکٹر آئی پی سی آئی، UK یہ غالباً 1986ء کا واقعہ ہے کہ میرا ساؤتھ افریقہ جانا ہوا۔ قیام شیخ احمد دیدات کے مکان پر تھا۔ وہ ویرالم میں قیام پذیر تھے۔ یہ چھوٹا شہر ڈر بن کے نزدیک واقع ہے۔ جہاں ان کا دفتر ہے۔ ان کے یہاں قریباً ایک ہفتہ مقیم رہا۔ ان کی کتب بھی دیکھنے کو ملیں۔ اور وہیں میں نے انگلش کا الرساله دیکھا، بہت پسند آیا۔ شیخ دیدات سے اس بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ وہ الرساله سے بہت متاثر تھے۔ انگلینڈ واپس پہنچ کر میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کو فون کیا۔ فون پر ان کی آواز ایک جوان آدمی جیسی لگی۔ کافی طویل گفتگو رہی۔ ان کو انگلینڈ آنے کی دعوت بھی دی، جو محترم نے قبول کرلی۔ الرساله کا آرڈر بھی دیا اور درخواست کی کہ ہر ماہ اردو اور انگریزی کے شمارے روانہ کیے جائیں۔ اور پھر الحمد للہ مولانا صاحب کئی دفعہ انگلینڈ تشریف لائے، یہاں ان کی تقاریر کے کئی پروگرام بھی کروائے جو ماشاء اللہ بہت کامیاب رہے ۔ ان کے چاہنے والے یہاں پہلے سے موجود تھے۔ اب تعداد اور بھی بڑھنے لگی تھی۔ پھر 1999ء میں میرا اہلیہ کے ساتھ انڈیا جانا ہوا، مولانا کے یہاں ہی قیام تھا۔ بھائی ڈاکٹر ثانی اثنین بھی اپنی والدہ اور ہمشیرہ ڈاکٹر فریدہ خانم اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہیں مقیم تھے۔ ان کے بچے عدنان اور ماریہ اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ ان کی معصوم اور دلچسپ باتیں سن کر ہم سب بہت محظوظ ہوا کرتے۔ عدنان کا یہ جملہ ”مار یہ گڑ گئی“ (ماریہ گر گئی) یاد آتا ہے تو اب بھی زیر لب مسکراہٹ ابھر آتی ہے۔ مولانا صاحب سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی اور بہت کچھ سیکھا۔ میں نے جانا کہ مولانا صاحب کی سوچ بہت گہری تھی۔ ان کا ایک اپنا انداز فکر تھا۔ جو بلاشبہ لمبی تحقیق کے بعد رونما ہوتا ہے۔ وہ دین اسلام کے معاملہ میں بہت ہی سنجیدہ تھے اور مسلمانوں کے سچے خیر خواہ۔
اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً سے رابطہ رہا۔ اور ذہن میں جو سوالات ہوتے ان کا تسلی بخش جواب یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ میرے استاد کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔ مولانا صاحب 2000ء میں برمنگھم انگلینڈ تشریف لائے، ان کے پروگرام کا اہتمام ریکس سینٹر (Rex Centre) میں کیا گیا تھا۔ یہ بلڈنگ میں نے 1998 میں اپنی کمپنی ڈومیسٹکس (Domestiks) کے کاروبار کے لیے خریدی تھی۔ انھوں نے اس وقت یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ اس بلڈنگ کو اسلامک سنٹر بنا دے۔ ان کی دعائیں اللہ رب العزت قبول فرماتے ۔ آج اس بلڈنگ کا نام دی یونیٹی سینٹر (The Unity Centre) ہے، اس کی دوسری منزل پر مسجد ہے۔ پہلی منزل پر اسلامک ایکسی بیشن (Islamic Exhibition) اور گراؤنڈ منزل پر اسلامک سٹور اور آئی پی سی اسلامک ویژن (IPC-Islamic Vision) کی کتب کا سٹور ہے۔ یہاں سے گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) کی کتابیں اور اسلام سے متعلق مطبوعات پورے برطانیہ اور دیگر ممالک کو فراہم کی جاتی ہیں۔ میں نے جانا کہ مولانا صاحب بولتے کم اور سنتے زیادہ تھے۔ وہ ہر شخص سے سوالات کرتے، وہ دیکھتے کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ اور ہر شخص کی ایک منفرد داستان وہ گفتگو کے دوران ایسے کمیاب موتی تلاش کر لیتے جو دوسروں کے لیے سبق آموز ہوں اور جنھیں شیئر کیا جا سکے ۔
وہ ہر واقعہ سے ایک سبق آموز پہلو نکال لینے کی انوکھی صلاحیت رکھتے تھے، پھر وہ اس کو آخرت سے جوڑ دیتے جو ایمان میں اضافہ اور تقویت کا سبب بنتا۔ مولانا صاحب کی یہ انمول اور نایاب صلاحیت یقیناً خدا داد تھی ۔ وہ ہر لحاظ سے ایک گفٹڈ (gifted) شخصیت تھے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر ایمان میں اضافہ ہوتا اور ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہوتی تھی۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب تصور کرتا ہوں یہ سوچ کر کہ اس ناچیز کو مولانا صاحب کے ساتھ ایک خاص تعلق رہا۔ اور ان کے ساتھ وقت گزار کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ بہر حال یہ دنیا تو فانی ہے، ہر ایک کو جلد یا بدیر یہاں سے کوچ کر جانا ہے۔ IPCI سینٹر کے سب لوگ ان کو بہت یاد کرتے ہیں، ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آخرت میں، ہمیں جنت میں ان کے ساتھ مجالس میں شریک ہونے کا شرف فرمائے، آمین۔
ایک عارف باللہ کی بات حافظ سید عمیر احمد عمری مدنی، عمر آباد، تامل ناڈو ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے، چمن میں دیدہ ور پیدا مولانا وحید الدین خاں رحمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم شخصیت صدیوں میں کہیں کہیں پیدا ہوتی ہے۔ بجا طور پر انھیں ایک تاریخ ساز شخصیت کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی دین وملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی ۔ چاہتے تو بڑے عیش و آرام سے زندگی گزار سکتے تھے۔ مگر انھوں نے سادگی کو پسند کیا۔ فقیر بے نوا کی طرح زندگی گزار دی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ صوفی منش تھے۔ زندگی اس حدیث کے مطابق تھی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: مَنْ طَالَ عُمْرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 17698)۔ یعنی لوگوں میں بہتر آپ نے جواب دیا کہ جس کی عمر طویل ہو، اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔
جہاں آپ کو مشرقی علوم میں گہرائی تھی، وہیں مغربی علوم میں بھی بڑا کمال حاصل تھا۔ تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ آپ کا مطالعہ کتنا وسیع تھا۔ آپ نے الرسالہ کے ذریعے تنہا وہ خدمت انجام دی، جو ایک ادارے کے لیے بھی مشکل تھی۔ تقریباً چالیس سال سے آپ نے الرسالہ کے ذریعے خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچانے کی آخری حد تک کوشش کی۔ اور یہ رسالہ ہر ماہ وقت سے پہلے ہی منظر عام پر آ جایا کرتا تھا۔ اس کی اشاعت میں کوئی رکاوٹ مانع نہیں تھی۔ نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ ملک سے باہر بھی حق کا پیغام پہنچانے کی پوری کوشش کی۔ میں زندگی بھر سفر کرتے رہے۔ آپ کو کئی زبانوں میں عبور حاصل تھا۔ اردو آپ کی مادری زبان تھی۔ اس کے علاوہ فارسی، عربی، اور انگریزی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ تذکیر القرآن آپ کی ایک قابل قدر اور مقبول تفسیر ہے، یہ ہر خاص و عام کی پسندیدہ تفسیر ہے۔ مذہب اور جدید چیلنج اور کتاب معرفت اور ان جیسی سینکڑوں کتابیں آپ نے تصنیف کی ۔ الرسالہ کا ہر ورق زندگی کا بھر پور پیغام دیتا ہے۔ صفحہ کے اندر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔
۱۱ رمضان المبارک ۱۳۴۴ محترم مکرم جناب ڈاکٹر صاحب ، دام مجدکم السلام علیکم !
آنجناب کے گرامی نامہ نے دارالعلوم کے مناظرانہ و منا پیش کر سکتا ہوں ، تائیدِ الٰہی سے کام شروع کیا ہے ، محمد علی جمّال کا آں جناب کے گرامی مرتبت والد مکرم کی وفات پر تعزیت پیش کرتا ہوں ۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات بلند فرمائے اور آپ جیسے فاضل شخص کو میں کیا کہوں ، کیا لکھوں ۔ میری مولانا سے واقفیت اور ملاقات بہت پرانی تھی ، جب وہ جمعیت علماء کی بلڈنگ میں گلی قاسم جان میں اوپر کمرہ میں رہتے تھے، اس وقت میرا مولانا کے پاس بارہا جانا ہوتا رہا، بعد میں بھی بنگلہ والی مسجد بستی حضرت نظام الدین میں جب وہ اکثر آیا کرتے تھے اور مولانا عبید اللہ بلیاوی اور مولانامظہارالحسن کاندھلوی سے بطور خاص رابطہ رکھتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر مولانا سے نیاز حاصل ہوا۔ مولانا کی ادارت میں جو ہفت روزہ الجمعیۃ چھپتا تھا، اس کا تقریباً مکمل فائل میرے پاس ہے اور اگر چہ مولانا کے بعض نظریات سے صاف اختلاف تھا اور ہے، لیکن مولانا کی تالیفات اور الرسالہ اہتمام سے پڑھتا رہا، بہر حال مولانا کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، مستقبل میں اس کا پر ہونا آسان نہیں۔ اس نقصان کی تلافی متوقع نہیں۔ اور کیا عرض کروں۔ پرواز، آسمان میں، فضا میں اس کی نورالحسن راشد کاندھلوی مولویان، کاندھلہ، ضلع شاملی۔ ۲۴ / اپریل ۲۰۲۱ء
اسلامی، علمی و فکری روایات کا سنگ میل سید سعادت اللہ حسینی ، امیر جماعت اسلامی ہند مولانا وحید الدین خاں کی رحلت سے بہت صدمہ پہنچا۔ مولانا بلا شبہ ان مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے موجودہ زمانے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ملک میں مختلف مذہبی فرقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان کے درمیان مکالمہ و تبادلہ خیال کی فضا پیدا کرنے میں مولانا کا کردار نا قابل فراموش ہے۔ اسلام کو جدید اسلوب میں اور محکم سائنسی و منطقی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مولانا مرحوم کی کوششیں بھی ان شاء اللہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گی۔ مذہب اور جدید چیلنج، عظمت قرآن، اسلام دور جدید کا خالق، پیغمبر انقلاب وغیرہ جیسی معرکہ آرا تصانیف نے، مولانا کو برصغیر کی اسلامی علمی روایات کا ایک اہم سنگ میل بنا دیا ہے۔
مولانا اردو نثر کے ایک بالکل منفرد اور بڑے پر کشش اسلوب کے بانی ہیں۔ زبان میں بڑے اختصار کے ساتھ گہرے علمی مضامین کو بیان کرنے کا جو اسلوب مولانا نے ایجاد کیا وہ بلا شبہ ان کا غیر معمولی کمال تھا اور اس نے کئی نسلوں کے اسلوب تحریر پر اثر ڈالا ہے۔ مختلف علاقائی زبانوں میں پرکشش لٹریچر کی تیاری بھی ان کا عظیم کارنامہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی عمر عطا کی اور اس لمبی عمر کا پورا حصہ جس خوبی سے انہوں نے بڑے کاموں کے لیے استعمال کیا اور جتنا بڑا علمی ورثہ چھوڑ گئے ہیں، اس پہلو سے بھی وہ ہماری حالیہ تاریخ میں منفرد ہیں۔ دین کی تعبیر اور ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے رویوں اور طریقہ کار پر مولانا مرحوم کے مخصوص ان خیالات سے بہت سے اہل علم نے بجا طور پر اختلاف بھی کیا ہے۔ لیکن ان کی وجہ سے مولانا کے علمی کارناموں اور ان کی عظیم خدمات کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ وہ جدید علم کلام کے اساطین میں سے ایک ہیں۔ اور ان شاء اللہ ان کے علمی کاموں سے اسلام کے خادمین فیض یاب ہوتے رہیں گے اور عام انسانیت بھی ان کی تصانیف کے واسطے سے اسلام سے متعارف ہوتی رہے گی۔ مولانا سے ذاتی طور پر میں نے بھی بہت استفادہ کیا ہے۔ بچپن ہی سے ان کی کتابیں اور
ماہنامہ الرسالہ پڑھتا رہتا ہوں۔ طالب علمی کے زمانے میں ایس آئی او کے متعدد کیمپوں میں ان سے استفادہ ہوتا رہا۔ ان کے دولت کدے پر بہت سی یادگار ملاقاتیں رہیں۔ مولانا کی شفقت و محبت، فکری اختلاف کے باوجود خرد نوازی اور ہماری حقیر کاوشوں کی قدردانی اور فیض رسانی کے لیے ہر دم تیار رہنے کی خوبی سے میں ہمیشہ بے حد متاثر ہوا۔
ان کی رحلت سے اسلامی کاوشوں کے علمی محاذ پر جو بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پر ہم ان کے فرزندان ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، ڈاکٹر ثانی اثنین خان اور دیگر اقارب کے غم میں اور ان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔