Al-Risala · January 2021

Done is Undone

Al-Risala, January 2021, pp. 37–50

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی ڈن برباد ہو گیا۔ تاہم صوتی اعتبار سے Done is Undone کا دوسرا لفظی مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ جو ہوا وہ نہیں ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس چیز کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہو گیا، وہ بھی اب تک نا کردہ (undone) پڑا ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے۔ ان کے سب کام ابھی تک نا کردہ پڑے ہوئے ہیں۔ مثلاً بین الاقوامی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کا ترجمہ ـــ موجودہ زمانے میں عملاً یہ ہوا کہ بڑے بڑے قابل لوگ سیاسی اور ہنگامی کاموں میں پڑے رہے۔ اور نسبتاً چھوٹے اور کم تر درجہ کے لوگوں نے ترجمہ کا کام کیا۔ مثلاً حدیث کی کتاب مشکاۃ المصابیح کا ترجمہ الحديث (Al-Hadis) کے نام سے چار جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ اس ترجمہ میں غیر ضروری قسم کا دیباچہ اور تشریح شامل کر کے اس کو خواہ مخواہ ضخیم بنا دیا گیا ہے۔ نیز اس کی زبان نہایت poor ہے۔ کوئی اچھا انگریزی داں اس کو پڑھ کر مشکل ہی سے گہرا تاثر قبول کر سکتا ہے۔ کے اچھے انگریزی داں لوگ اس کام کو کرتے تو یہی کام کتنا زیادہ جاندار ہوتا۔ محمد اقبال اور محمد علی کی انگریزی زبان اچھی تھی۔ مگر محمد اقبال شاعری کرتے رہے، اور محمد علی نے اپنی ساری زندگی سیاسی ہنگاموں میں ضائع کر دی۔

حضرت آدم علیہ السلام نے کاشت کا کام کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بڑھئی کا کام حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے زرہ بناتے تھے (الانبیاء، 21:80)۔

علیہ السلام نے کپڑا سینے کا کام کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرانے کا کام کیا (القصص، 28-28: 27)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مدت تک چرواہی کا کام کیا ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2149)۔

حقیقت یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا عین اسلامی طریقہ ہے۔ تمام پیغمبروں نے ایسا ہی کیا ہاتھ سے کام کرکے اپنی روزی کمانا عزت کی چیز ہے، نہ کہ ذلت کی چیز جس کو کرتے ہوئے حدیث میں آیا ہے: مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَاماً قَطُّ، خَيْراً مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2072)۔ یعنی کسی نے کھانا نہیں کھایا، جو بہتر ہو اس انسان سے جو اپنے ہاتھ کے عمل سے کھاتا ہے۔ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کے عمل سے کھایا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے: اِنَّ اللهَ يُحِبُّ المُؤْمِنَ المُحْتَرِف (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 1072)۔ یعنی اللہ حرفت کے ذریعے روزی کمانے والے کو پسند کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کو حقیر سمجھنا دورِ ملوکیت اور مسلمانوں کے دورِ زوال کی اسلام کے ابتدائی دور میں اس کو بالکل بُرا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ قرآن میں زمین کے بارے میں ایک تو خَلَقَ الْأَرْضَ (41:9) کے الفاظ ہیں۔ نے زمین کو خلق (create) کیا۔ دوسری جگہ اس سلسلے میں یہ الفاظ ہیں: وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ یعنی اور زمین کو اس نے مخلوق کے لیے رکھ دیا۔ پہلی آیت سے مراد زمین کو وجود میں لانا دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے زمین کو اس کے صحیح ترین مقام پر رکھا۔ اس کو انام (ذی حیات اشیا) کے عین مطابق بنایا۔

یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ نزول قرآن کے وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات میں صرف زمین ہے، جو ذی حیات اشیا کے انتہائی مناسب حال بنائی

زمین کی جسامت (diameter) اگر موجودہ جسامت کا نصف ہو تو اسکی قوتِ کشش اتنی کم ہو جائے گی کہ انسان اور اس کے مکانات زمین پر ٹھہر نہ سکیں۔ زمین کی جسامت اگر موجودہ جسامت کی دگنی ہو جائے تو اس کی قوتِ کشش اتنا بڑھ جائے گی کہ زمین پر چلنا پھرنا مشکل اسی طرح سورج اور زمین کا فاصلہ اگر موجودہ فاصلہ کا دگنا ہو جائے تو زمین برف کی طرح ٹھنڈی ہو جائے۔ اور اگر سورج اور زمین کا فاصلہ آدھے کے بقدر کم ہو جائے تو زمین سورج کی گرمی سے جھلس اٹھے۔

یہی معاملہ دوسری چیزوں کا ہے۔ زمین پر پانی ہے جو کسی دوسرے کرہ پر موجود نہیں۔ پر آکسیجن ہے جو اس طرح موزوں حالت میں اور کہیں نہیں پائی جاتی، وغیرہ وغیرہ۔ ذی حیات اشیا کے لیے زمین کی اس استثنائی موزونیت کا علم صرف زمانہ جدید میں ہو سکا اس سے پہلے انسان اس بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ ایسی حالت میں قرآن میں ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس آیت کا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ یہ خدائی کلام ہے۔

آخری زمانے میں حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ابو داؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَتَوَفَّى (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4324)۔ حضرت مسیح دنیا میں 40 سال رہیں پھر ان کی وفات ہوگی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَمُوتُ (المنتظم في التاريخ، جلد 2 ، صفحہ (39) یعنی اور وہ دنیا میں 45 سال رہیں گے۔ کی وفات ہوگی۔

بظاہر دونوں روایتوں میں فرق ہے۔ مگر یہ محض لفظی فرق ہے، نہ کہ حقیقی فرق۔ یہ ایک انداز کلام ہے جو ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ شارحین حدیث نے اس کی توجیہہ یہ کی ہے کہ 40 سال والی روایت میں اوپر کا عدد حذف کر دیا گیا ہے۔ عربی زبان میں اور دوسری زبانوں میں یہ عام لسانی قاعدہ

ہے کہ کبھی کسر کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی اس کو حذف کر دیتے ہیں۔

اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں روایات میں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ ان کو روایت میں اختلاف سمجھتے ہیں، اور حدیث میں شبہ کرنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف اندازِ کلام کی بات ہے، اور اندازِ کلام کا یہ طریقہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔

انڈیا کے مشہور انگریزی صحافی مسٹر خشونت سنگھ (پیدائش 1915) نے لکھا ہے کہ میں ہندوستان سے پاکستان گیا۔ جب ہمارا ہوائی جہازلا ہور کی فضا میں پہنچا تو جہاز میں اناؤنسر نے اعلان کیا کہ پاکستان میں شراب ممنوع ہے۔ کوئی مسافر شراب کی بوتل کے ساتھ پاکستان میں داخل نہیں آپ میں سے جس شخص کے پاس شراب ہو وہ اس کو جہاز کے عملے کے پاس جمع کردے۔ مسٹر خشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ میرے پاس شراب کی ایک بوتل تھی۔ یہ بوتل میں نے حسب اعلان ہوائی جہاز کے عملے کے حوالے کر دیا۔ مگر اس کے بعد جب میں لاہور کے اندر داخل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ بلیک مارکیٹ میں شراب نہایت فراوانی کے ساتھ بک رہی ہے، اور میں بلیک سے جتنی چاہے شراب خرید سکتا ہوں۔ (20 مارچ 2014 کو مسٹر خشونت سنگھ کا انتقال ہو چکا ہے)۔ مولانا غیاث الدین رحمانی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جن مسلم ملکوں میں شراب بند کی گئی ہے، وہاں اس کا یہی انجام ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کا ذہن بنایا اس کے بعد شراب کی حرمت کا اعلان کیا (مسند احمد، حدیث نمبر 8620)۔ طرح موجودہ زمانے میں پہلے اس کے موافق ذہنی فضا بنانی پڑے گی۔ محض قانون کے زور پر لوگوں کو شراب نوشی سے روکا نہیں جاسکتا۔

انھوں نے کہا کہ مگر یہ طریقہ ہم کو اسلاف کے یہاں نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال تک قانون ہی کے زور پر شراب کو روکا جاتا رہا۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ پہلے ذہنی فضا بنائی جائے اس کے بعد شراب پر پابندی لگائی جائے۔

میں نے کہا پچھلے زمانے پر موجودہ زمانہ کو قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ پچھلا زمانہ وہ ہے، جب کہ اسلامی روایات کا تسلسل برابر جاری تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں اسلامی روایات کا تسلسل یکسر ٹوٹ گیا ہے۔ اب دوبارہ وہی ضرورت پیش آ گئی ہے، جو رسول اللہ کے زمانے میں اب ہمیں دوبارہ اسلامی روایات قائم کرنی پڑیں گی ، اس کے بعد ہی قانون کا نفاذ مفید ہوسکتا کیوں کہ قانون ہمیشہ روایات کے اوپر نافذ ہوتا ہے، اور موجودہ زمانے میں شراب بندی کے قانون کے لیے روایات کا زور موجود نہیں ہے۔

رشوت بالاتفاق حرام ہے۔ قتادہ (وفات 118ھ) نے کہا کہ صحابی رسول ابی بن کعب (وفات 30ھ) نے فرمایا کہ رشوت عقل مند کو بیوقوف بناتی ہے، اور حکیم کی آنکھ کو اندھا کر دیتی ہے (قَالَ قَتَادَةُ: قَالَ كَعْبٌ: الرِّشْوَةُ تُسَفِّهُ الْحَلِيمَ، وَتُعْمِي عَيْنَ الْحَكِيمِ) المغنی لابن قدامہ، جلد 10، صفحہ 69۔

رشوت ایک ایسا مال ہے، جو آدمی حق کے بغیر لیتا ہے، اور جب آدمی واقعی حق کے بغیر کوئی چیز لے تو عین اسی وقت وہ اپنے آپ کو نیچے گرا لیتا ہے۔ وہ اعلی اخلاق کی سطح پر رہ کر کام نہیں کر سکتا۔ اونچا کام کرنے والے کے اندر اونچا ذہن پرورش پاتا ہے، اور پست کام کرنے والے کے اندر پست ذہن پیدا ہوتا ہے۔ رشوت بہ ظاہر ایک مالی معاملہ ہے، مگر آدمی جب اس میں پڑ جاتا ہے تو اس کی عقل وبصیرت بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی ہے۔ اخلاقی گراوٹ کا فعل کرتے ہی وہ اپنے آپ کو ذہنی اور فکری حیثیت سے بھی گرا لیتا ہے۔

آدمی اپنے کپڑے صاف رکھنے کے لیے اس کو گندگی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی عقل وبصیرت کو صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو برے اخلاق سے بچائے۔ برے اخلاق میں ملوث ہونے کے بعد وہ اپنی عقل کو صحیح حالت میں باقی نہیں

حیدر آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ حیدر آباد میں ایک ہندو نے اسلام قبول کیا ہے۔ انھوں نے اس نومسلم سے پوچھا کہ تم نے اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام کیوں نومسلم نے چند باتیں بتائیں جن میں ایک یہ تھی۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلم محلہ میں وہاں ایک مسجد ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ جو مسلمان بھگوان کی عبادت کے لیے آتا ہے وہ وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ اس کو خدا تک پہنچنے کے لیے کسی درمیانی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس، مندروں میں جب میں جاتا تھا تو میں دیکھتا تھا کہ وہاں مندر کے مہنت کا ذریعہ اختیار کیے بغیر کوئی شخص پوجا نہیں کر سکتا۔

یہ بات بہ ظاہر سادہ سی ہے مگر نہایت اہم ہے۔ انسان فطری طور پر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دینا چاہتا ہے۔ مگر دوسرے مذاہب میں بگاڑ کی وجہ سے یہ حال ہو گیا ہے کہ آدمی جب مندر اور چرچ میں جاتا ہے تو وہاں وہ پاتا ہے کہ کلرجی (clergy) کے بغیر وہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا، اور نہ اس کے بغیر وہ خدا کی عبادت کر سکتا۔ اس طرح اس کو اپنے جذبہ پرستش کی پوری تسکین حاصل نہیں ہوتی۔ اسلام میں یہ صورت حال نہیں۔ اسلام میں ہر آدمی براہ راست خدا کو پکار سکتا ہے۔ وہ براہ راست خدا کی عبادت کر سکتا ہے۔

اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے، جس کا تعلق موجودہ زمانے سے ہے۔ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر آدمی اپنے آپ کو دوسرے کے برابر سمجھتا اس زمانی مزاج کی وجہ سے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آتی ہے کہ کوئی طبقہ ان سے اوپر ہو۔ جس مقام پر خود ہیں، وہیں وہ کلرجی کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات آج صرف اسلام میں پائی جاتی اس طرح اسلام انسانی فطرت کے مطابق بھی ہو جاتا ہے، اور وقت کے تقاضے کے مطابق بھی۔ اسلامک انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد، میں ایک میٹنگ تھی۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔

میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے ادارے کا تعارف کرایا۔ سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کے یہاں جو افراد ریسرچ کا کام کر رہے ہیں، ان کو آپ کیا سہولیات دیتے ہیں۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے جواب دیا کہ ہم اپنے آدمیوں کو وہی سہولتیں دیتے ہیں، جو یو جی سی کی طرف سے مقرر ہیں۔ مزید یہ کہ ہم ان کو اپنے کیمپس میں رہائش گاہ بھی فراہم

سوال کرنے والے نے کہا کہ یہ گویا یہاں کے افراد کے لیے مزید ایک attraction ہے۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں، مگر وہ ہمارے لیے distraction بن رہا ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ ایک مرتبہ رہائش گاہ پر قبضہ کر لیتے ہیں، وہ پھر اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان سے رہائش گاہ کو خالی کرانے کے لیے ہمیں کورٹ جانا پڑتا ہے۔ تغلق آباد کا یہ ادارہ خالص مسلم ادارہ ہے۔ اس میں کام کرنے والے بھی سب کے سب مسلم اس کے باوجود ذمے داران اور کارکنوں کے درمیان اس طرح کے جھگڑے پائے جاتے ہیں۔ اس قسم کے جھگڑے اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ہوں تو فوراً اس کو تعصب کا نام دے دیا ایسے لوگ مذکورہ مسئلے کے بارے میں کیا کہیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں تمام جھگڑے انٹرسٹ (interest) کے جھگڑے ہیں۔ بظاہر کوئی شخص ایک قسم کی زبان استعمال کر رہا ہے اور کوئی شخص دوسری قسم کی زبان۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کا کیس ایک ہی کیس ہے، اور وہ وہی ہے، جس کو انٹرسٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز حقیقت پسندی ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں حقیقت پسندانہ انداز سے رائے نہیں قائم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہر اقدام ناکامی کا شکار ہوتا ہے۔

ستمبر 1982 میں میں نے شیخ سلیمان القائد (لیبیا) کے ساتھ حج کے لیے سعودی عرب کا

سفر کیا تھا۔ اس دوران مدینہ کا سفر ہوا تو مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی، جس میں زیادہ تر ہندوستانی طلبہ اور کچھ عرب طلبہ شریک تھے۔

گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جو لوگ حکومت اسلامی قائم کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں، ان کی تحریک بالفرض کامیاب ہو جائے تب بھی وہ ناکام رہے گی۔ حکومت کو چلانے کے لیے وہ تقویٰ کافی نہیں ہے، جو مسجد کی امامت یا مدرسہ کی معلمی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ حکومت کا ادارہ چلانے کے لیے جس صفت کی ضرورت ہے، وہ ہے تقویٰ پلس دانش مندی کی صفت، اور یہ صفت آج کسی مسلم رہنما کے اندر موجود نہیں۔

اس پر ایک عرب نوجوان نے اعتراض کیا۔ انھوں نے اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کے اکابر کا نام لیا، اور کہا کیا آپ کا خیال ہے کہ ان کے اندر تقویٰ موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ تقویٰ ہے، مگر وہ عملی حکمت (practical wisdom) سے خالی ہے۔ وہ نوجوان اس کو سمجھ نہیں پائے، اور ناراض ہو گئے۔

مجھے فوری طور پر ندامت ہوئی ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے حکمت کے خلاف ایک بات مگر بار بار کے تجربے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میری زبان سے جو بات نکلی تھی وہ عین صحیح بات تھی۔ موجودہ زمانے میں ہمارے تقریبا تمام قائدین کا یہی حال ہو رہا ہے کہ ان پاس تقویٰ کا سرمایا تھا، مگر وہ پریکٹیکل وزڈم سے خالی تھے۔ اس کے باوجود بڑے بڑے میدانوں میں کود پڑے اور بالآخر سراسر نا کام رہے۔ (اس سفر کا مطالعہ کرنے کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب سفر نامہ غیر ملکی اسفار جلد اول صفحہ 50)۔

انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ جو شخص حکومت کو چیلنج کرے وہ فوراً عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ حقیقت ہے کہ یہ عوامی مقبولیت ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ معاملہ مسلم ورلڈ میں بھی پیش آیا۔ چنانچہ واقعہ بتا تا ہے کہ بہت سے مسلم دینی رہنما اس قسم کی تحریکوں

کے ذریعے عوام کے اندر مقبول ہوگئے ۔ مگر عوامی مقبولیت حاصل کرتے ہی وہ بدل گئے ۔ اب غور کیجیے کہ جو رہنما عوامی مقبولیت کے مقابلے میں با اصول بن کر قائم نہ رہ سکا، وہ اقتدار کے مقابلہ میں کیسے قائم رہے گا ۔

غالباً 1970 میں مجھے تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تاج محل کو دیکھنے سے پہلے تاج محل کے بارے میں بہت سے مضامین پڑھے تھے ۔ ان مضامین میں تاج محل مجھے بہت عظیم محسوس ہوتا تھا۔ مگر جب میں نے تاج محل کو دیکھا تو وہ اس سے بہت کم تھا جو میں نے اپنے ذہن میں سمجھ رکھا تھا۔ یہی حال تمام انسانی مصنوعات کا ہے۔ انسانی ساخت کی کسی چیز کے بارے میں اسے دیکھنے سے پہلے جو میری رائے تھی وہ اس کو دیکھنے کے بعد باقی نہ رہی۔ ہر انسانی چیز دیکھتے ہی اس سے کم نظر آئی، جو دیکھنے سے پہلے محسوس ہوتی تھی۔

مگر فطرت کے مناظر کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ کوئی فطری واقعہ اس سے بہت زیادہ عظیم ہے، جو دیکھنے سے پہلے میں سن کر یا پڑھ کر سمجھ رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کا ہر واقعہ انتہائی حد تک عظیم اور حسین ہے، انسانی الفاظ اس کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتے۔ یہاں ہر بولا ہوا لفظ اصل حقیقت سے بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت دیکھنے میں اس سے زیادہ نظر آتی ہے جتنا کہ وہ پڑھنے یا سننے میں محسوس ہو رہی تھی۔

بہت سی باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب کہ آدمی کا دل زندہ ہو اور اس کا شعور بیدار ہو۔ مسلمان موجودہ زمانے میں ایک ایسی قوم بن گئے ہیں، جو دل و دماغ کی زندگی سے محروم ہو۔ ہے کہ مسلمان بہت سی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور بدقسمتی سے جن باتوں کو وہ نہیں سمجھتے وہی وہ باتیں ہیں جو زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ مثلاً کبھی نہ کرنے کا نام کرنا ہوتا ہے۔ کبھی بولنا اس کا نام ہوتا ہے کہ آدمی چپ رہے، وغیرہ۔ یہ بلاشبہ زندگی کی سب سے زیادہ گہری حقیقت ہے۔

ایک ایسی چیز ہے، جس کے لیے بہت زیادہ گہری شخصیت درکار ہے۔

آدمی ایک ایسی مخلوق ہے جو لازماً مشغول رہنا چاہتا ہے۔ وہ عین فطرت کے تحت ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہے۔ اس لیے نہ کرنے پر وہی شخص راضی ہوسکتا ہے جس کے پاس نہ کرنے کے وقت بھی کچھ کرنے کے لیے ہو۔ وہی انسان چپ رہ سکتا ہے جو خاموشی کے وقت بھی اپنے پاس بولنے کا سامان رکھتا ہو۔

الرسالہ میں اس قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں تو موجودہ مسلمانوں کو وہ معمہ (mysterious) معلوم ہوتی ہیں۔ اگر یہ مسلمان اندر سے خالی (preoccupied) نہ ہوئے بلکہ ان کے اندر کا وجود خدا کی معرفت سے ایک زندہ وجود بن چکا ہوتا تو انھیں یہ باتیں معمہ نہ معلوم ہوتی۔ اس وقت وہ جان لیتے کہ آدمی جب چپ ہوتا ہے تو وہ اپنے خدا سے سرگوشیاں کرنے لگتا باہر کی دنیا میں جب بظاہر اس کے قدم رک جاتے ہیں تو وہ اپنے اندر ہی اندر مارچ کرنے لگتا خارجی تدبیروں سے جب وہ منقطع ہوجاتا ہے تو اس کا رشتہ قوت کے اس لازوال سرچشمے سے جڑ جاتا ہے جو کسی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے خارجی تدبیروں کا محتاج نہیں۔ قاسم رضوی (1902-1970) آزاد حیدر آباد کے علم بردار تھے۔ وہ بہت زور و شور کے ساتھ آزاد حیدر آباد کی تحریک چلا رہے تھے۔ کسی ہندو سیاست داں نے ان سے کہا کہ آپ حیدر آباد کو آزاد حیدر آباد کیسے بنائیں گے جب کہ آپ چاروں طرف انڈین یونین سے گھرے ہوئے ہیں۔ قاسم رضوی نے جواب دیا:

"ہم نہیں گھرے ہوئے ہیں، تم گھرے ہوئے ہو"

پچھلے ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے مسلمان اسی قسم کی لفظ بازیوں میں لگے ہوتے ہیں۔ کے بعد ایک ان کے درمیان ایسا لیڈر اٹھتا ہے جو خوب صورت الفاظ بول کر ان کے ذہن کو خراب کرتا رہتا میرے علم میں کوئی بھی لیڈر نہیں جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو حقیقت پسندی کا سبق دیا ہو۔

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس قسم کے جھوٹے الفاظ بولنے والے لیڈروں کو مسلمانوں میں ساتھ دینے والے بھی جوق در جوق مل جاتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ مسلمانوں کی جھوٹے فخر کی نفسیات ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مزاج، ایک لفظ میں، جھوٹے فخر کا مزاج ہے۔ مذکورہ قسم کی باتوں سے جھوٹے فخر کے مزاج کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمان جس کو ایسا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھتے ہیں اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ مقبولیت اقبال کو حاصل ہوئی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اقبال کی شاعری فخر و مباہات کی شاعری ہے۔ اقبال کی شاعری میں مسلمانوں کے جھوٹے فخر کو زبردست غذا ملتی ہے۔ اس لیے ہر چھوٹا بڑا آدمی اس کو گنگناتا ہے۔ اقبال کی یہ شاعرانہ بلند پروازی بھی کیسی عجیب ہے کہ جو قوم اپنے زوال یافتہ ذہنیت کے نتیجے میں مقتدی بننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکی تھی اس کو انھوں نے الفاظ کی خود ساختہ دنیا میں امامت کے مقام پر بٹھا دیا: لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا سموئل جانسن [1709-1784] Samuel Johnson کا قول ہے کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مشورہ کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کیا جائے۔ جو لوگ سب سے زیادہ مشورہ کے حاجت مند ہوں وہ سب سے کم اسے پسند کرتے ہیں:

Advice is seldom welcome. Those who need it most, like it least. آدمی جب خود سوچتا ہے تو وہ اپنے جذبات کے زیر اثر سوچتا ہے۔ جب کہ مشورہ دینے والا ان جذبات سے خالی ہونے کی وجہ سے کم از کم دوسرے شخص کے بارے میں غیر جذباتی انداز میں سوچتا اس لیے مشورہ دینے والے کی رائے اکثر صحیح ہونے کے باوجود طالب مشورہ کے ذوق کے خلاف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ آدمی کے اندر یا تو یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔

صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ مشورہ دینے والے کے مشورہ کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھ سکے۔ کے اندر دونوں میں سے کوئی بات نہ ہو اس کے لیے اس دنیا میں بربادی کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ میرے مزاج میں بعض عجیب باتیں ہیں۔ یہ باتیں بچپن سے پائی جاتی ہیں۔ میں ہر چیز کو خود جاننا چاہتا ہوں۔ میں اکثر یہ کہا کرتا ہوں کہ میں ''گلاس‘‘ کو صرف اس گلاس کہتا ہوں کہ میں نے خود دریافت کیا ہے کہ یہ گلاس ہے۔ میں کسی چیز کو صرف اس لیے نہیں مانتا کہ لوگ اس کو ایسا اور ایسا اس سلسلے میں میری زندگی کے عجیب واقعات ہیں۔

غالباً 1960 کی بات ہے۔ میں اپنے وطن (بڈھریا) میں تھا۔ اس وقت گھر میں کوئی نہیں میں کچھ دیر کے لیے وہاں آیا تھا، اور پھر مجھے ریلوے اسٹیشن (پھر یہا) سے ٹرین پکڑ کر اعظم گڑھ جانا تھا۔ اکیلا ہونے کی وجہ سے مجھے آزادی تھی کہ جو چاہوں کروں۔ میں نے دیکھا کہ ایک طرف ارنڈ کے کچھ بیج پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے سنا تھا کہ ارنڈ دست آور ہوتا ہے۔ مگر میں اپنے ذوق کے تحت اس پر راضی نہ تھا کہ صرف سن کر اسے مان لوں۔ چنانچہ میں نے ارنڈ کا چھلکا اتار کر اسے کھانا شروع کر دیا، اور اس طرح بہت سی ارنڈ کھا گیا۔ اس کے بعد میں بڈھریا سے روانہ ہوا کہ پھریہا کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر ٹرین پکڑلوں۔

پھریہا ریلوے اسٹیشن ہمارے گھر سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ایک کلومیٹر کا راستہ طے کیا تھا کہ پیٹ میں مروڑ شروع ہوئی۔ اس کے بعد مسلسل دست آنے شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ میں کمزور ہو کر گر پڑا، اور اس قابل نہ رہا کہ ریلوے اسٹیشن پہنچ سکوں۔ مگر حسن اتفاق سے اس وقت ہمارا ملازم سردھن اہیر میرے ساتھ موجود تھا۔ وہ مجھے کسی طرح پھر یہاں ریلوے اسٹیشن تک لے گیا، اور ٹرین پر سوار ہو کر ہم اعظم گڑھ پہنچے۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے میں نے اپنی زندگی میں بے شمار مصیبتیں اٹھائی ہیں۔ مگر انھیں مصیبتوں کا یہ نتیجہ ہے کہ میں خدا کے فضل سے اپنے آپ کو ایک ایسا انسان سمجھتا ہوں، جو خود اپنی دریافت کردہ دنیا پر کھڑا ہوا ہو۔

مولاناوحیدالدین خاں کی کتابیں رعایتی قیمت پر دستیاب ہیں آخری کا سفر آخرت کا سفر دعوت الی اللہ دین کی سیاسی تعبیر دین کیا ہے؟

ڈائری (حصہ اول)

1989-90 - ڈائری 91-92 - ڈائری 40 Hadees-e-Rasool حدیثِ رسول 20 Hajj ka Paigam حج کا پیغام 40 Hal Yahan Hai حل یہاں ہے 30 Haqeeqat Ki Talaash حقیقت کی تلاش 50 Haqeeqat-e-Hajj حقیقتِ حج 10 Haqeeqat-e-Tawhid حقیقتِ توحید ۔ 100 Hikmat-e-Islam حکمتِ اسلام 90 Hind-Pak Diary ہند۔ 10 Hindustan Aazadi Ke Baad ہندوستان آزادی کے بعد 70 Hindustani Musalman ہندوستانی مسلمان 30 Imani Taqat ایمان کی طاقت 60 Insaan ki Manzil انسان کی منزل 60 Islam aur Asre Hazir اسلام اور عصر حاضر 50 Islam Daur-e-Jadid Ka Khaliq اسلام دورِ جدید کا خالق 30 Islam Deen-e-Fitrat اسلام دینِ فطرت 10 Islam Ek Azeem Jad-o-Jahad اسلام ایک عظیم جدوجہد 10 Islam Ka Taaruf اسلام کا تعارف 30 Islam Kiya Hai? اسلام کیا ہے؟ 90 Islam: Ek Ta'aruf اسلام: ایک تعارف 30 Islami Dawat اسلامی دعوت 10 Islami Jihad اسلامی جہاد 60 Islami Taalimaat اسلامی تعلیمات 60 Islami Zindagi اسلامی زندگی 30 Ittehad-e-Millat اتحادِ ملت 230 Izhaar-e-Deen اظہارِ دین 80 Karwan-e-Millat کاروانِ ملت 30 Khaleej-e-Diary خلیج ڈائری 30 Khoda aur Insaan خدا اور انسان

10 Manzil Ki Taraf منزل کی طرف 10 Maqsad-e-Hayat مقصد حیات 60 Mazameen-e-Islam مضامینِ اسلام 70 Mewat Ka Safar میوات کا سفر 70 Mutala-e-Seerat مطالعہ سیرت 20 Mutala-e-Seerat - بک لیٹ 30 Nar-e-Jahannam نارِ جہنم 80 Nashri Taqriren نثری تقریریں 30 Iama aur Daure Jadid علماء اور دورِ جدید 10 Paighambar-e-Islam پیغمبرِ اسلام 80 Qalallah Qallar Rasool قال اللہ، قال الرسول 30 Qiyadat Nama قیادت نامہ 10 Qiyamat ka Alarm قیامت کا الارم 30 Qur'an Ka Matloob Insan قرآن کا مطلوب انسان 60 Rah-e-Amal راہِ عمل 30 Rahen Band Nahin راہیں بند نہیں 30 Rahnuma-e-Hayat (کتابچہ) راہنمائے حیات 70 Rahnuma-e-Hayat راہنمائے حیات 20 Roshan Mustaqbil روشن مستقبل 30 Sabaq Aamoz Waqiat سبق آموز واقعات 10 Sachcha Rasta سچا راستہ 50 Safarnama Spain wa Falasteen سفرنامہ اسپین و فلسطین 80 Safar-e-Hayat سفرِ حیات 30 Saum-e-Ramzan صومِ رمضان 70 Shatme Rasool Ka Masla شتمِ رسول کا مسئلہ 70 Sirat-e-Mustaqeem صراطِ مستقیم 30 Socialism: Ek Ghair Islami Nazaria سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ سوشلزم اور اسلام تاریخ دعوتِ حق طلاقِ اسلام میں تاریخ کا سبق منصوبہ بند عمل مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے اسلام پندرھویں صدی میں تعمیر کی طرف

Printed page