Al-Risala · August 2021

وحید الدین خان کی رحلت

Al-Risala, August 2021, pp. 61–76

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا وحید الدین خان کے انتقال کی خبر سن کر لمحہ بھر کے لیے سانس رک سی گئی۔ مذہبی ماحول کی زنجیروں اور جکڑ بندیوں سے ایک شخص خود کو کس طرح آزاد کر سکتا ہے؛ یہ سبق ہم خان کی زندگی سے سیکھ سکتے ہیں۔ خان فرقہ وارانہ آلودگیوں سے بلند ہوئے۔ مولانا امین احسن اصلاحی سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور پھر مولانا مودودی کی فکر کا بھر پور نقد لکھا۔ ان کا فکری ارتقاء جاری رہا اور بعد کے دور میں انہوں نے خود اپنے ہی بعض سابقہ نظریات کے خلاف لکھا۔ یہ انتقادی کاوش قابل تحسین ہے۔ چند علماء میں سے تھے جنہوں نے قرآن کو خود قرآن کے زاویہ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش خان کی وفات میرے لیے ایک ذاتی صدمہ ہے۔ کل سے میں اس صدمے سے نڈھال کسی نے سچ ہی کہا ہے؛ ہندوستان میں دیکھنے کو اب تاج محل ہی رہ گیا، مولانا تو ابدی سفر پر روانہ ہو گئے۔ (ڈاکٹر خضر یاسین، پاکستان)

مرحوم کی مذہب اور جدید چیلنج، منفرد تصنیف مفتی ناصر الاسلام فاروقی، مفتی اعظم جموں وکشمیر 22 اپریل کی صبح مجھے یہ خبر ملی کہ عالمی شہرت یافتہ عالم دین ومفکر اسلام مولانا وحید الدین خان رحلت انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر میرے ذہن میں گردش کرتی رہی اور ذہن میں مرحوم کی وہ تمام تحریریں گردش کرنے لگیں جو میری نظروں سے گزری ہیں۔ بالخصوص ان کی مشہور ومعروف تصنیف ”مذہب اور جدید چیلنج“ جس کا آج بھی متبادل تلاش کرنا مشکل ہے۔ مولانا ایک وسیع المطالعہ اور کثیر اللسان عالم تھے۔ بلکہ ایک مجتہد تھے، ان کے اجتہادات سے گو اختلاف کی گنجائش ہے، تاہم مجموعی طور پر ان کی خدمات ملک وملت کے تعلق سے بے پناہ اہم اور راہنمایانہ ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم ان کی تصنیفات کا مطالعہ کریں اور مفید پہلوؤں سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنی اور سماج کی تعمیر نو کریں۔ ان کی تصانیف، مثلاً ظہورِ اسلام، یکساں سول کوڈ، ”مارکسزم - تاریخ جس کو رد کر چکی ہے“ مولانا نے اس دور میں تحریر کی جس دور میں مارکسزم کا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہا تھا۔ اسی طرح جب شاہ بانو کا مشہور مقدمہ پورے ملک میں زیر بحث آیا تو مولانا نے یکساں سول کوڈ تحریر کر کے قانونی دانشوروں کو حیران کر دیا۔ اسی کتابچہ کے حوالے سے مولانا علی میاں اور مولانا ابواللیث اصلاحی امیر جماعت نے بھی اس کی اشاعت کے فوراً بعد مولانا کو اس عظیم مدلل کتابچہ کے لیے مبارک باد دی تھی اور بہت سراہا اختلاف رائے کس شائستگی کے ساتھ ہونا چاہیے یہ بھی مولانا موصوف کی تنقیدی تحریروں سے ہی سیکھا جا سکتا ہے۔ بہر حال یہ بات طے ہے کہ کوئی بھی علمی سماج ان کے علمی وفکری سرمایے کو نہ فراموش کر سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز۔

مجھے مولانا صاحب کی فکر سے تعارف میں بہت وقت لگا مگر جب ہوا تو زندگی مکمل بدل قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ اور ان کی بہت سی کتابوں نے ذہن پر گہرے اثرات (اسد ربانی، ڈپٹی ڈائریکٹر، پنجاب آرٹ)

وہ فکر آخرت میں آنسو بہانے والا نہ رہا!

عابد حسین رحمانی، فاضل دار العلوم دیوبند (سابق امام جامع مسجد تھنہ منڈی) مولانا وحید الدین خان کے ارتحال کی خبر سن کر بہت صدمہ ہوا۔ میں ذاتی طور پر لڑکپن سے مولانا کو برادر محمد فاروق مضطری کی وساطت سے جانتا تھا۔ مگر کمسنی اور روایتی طرزِ فکر کے باعث میں ان کی مجالس سے، جب دومرتبہ وہ راجوری تشریف لائے، بھر پور استفادہ نہ کرسکا۔ البتہ حالیہ آٹھ دس سالوں سے میں نے مولانا رحمتہ اللہ علیہ کی کتب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بلکہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر ان سالوں میں میں نے ان کی تصانیف نہ پڑھی ہوتیں تو رسمی اور روایتی دین کے خول سے کبھی باہر نہ آسکتا۔

انہوں نے دین کے حوالے سے سمجھایا کہ سب انسان آدم وحوا کی اولاد ہیں۔ سب انسانوں سے محبت کرنا، صبر اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کرنا، نفرت کو ذہن سے نکال دینا، اپنا نقصان برداشت کرنا مگر دوسرے کو نقصان نہ دینا، حسد و تعصب سے خود کو محفوظ رکھنا۔ دشمن کے لیے دعا کرنا، عالمی پس منظر میں اسلام کی پر امن تعلیم پر واضح طور پر لکھنا اور اسلام کے چہرے سے تشدد کا غبار قرآن وسنت کی روشنی میں ہٹانا، دعوت کو ہزار سالہ غفلت کے بعد اس دور کی چیز بنانا۔ ایسی بہت سی باتوں میں مولانا مرحوم کو انفرادی حیثیت حاصل ہے۔ سب سے بڑھ کر اپنی گفتگو میں فکر آخرت پر رو پڑنا، ان کا خاصہ تھا۔ اب لازماً ہم ان کی کتب، اسفار اور ڈائریوں کو پڑھ کر فکر آخرت اور معرفت کا اور زمانہ شناسی کا سبق لے لیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ایسے مخلص بندۂ خدا کا قائم کردہ دعوتی نظم جو بفضل تعالیٰ اب عالمی حیثیت حاصل کر چکا ہے، تا قیامت پھلتا پھولتا رہے گا اور مرکز اسلامی کے ذمہ دار اسی حوصلے اور دانشمندی سے جو اُن کو مولانا سے ورثے میں ملا ہے، قائم و دائم رکھیں گے۔ اللہ نصرت غیبی سے اس خلا کو پُر کرے گا، جو ہم قدم قدم پر ان کی کمی محسوس کرتے ہیں۔

مولانا وحید الدین خاں ابو یحییٰ، کراچی، پاکستان 21 اپریل 2021 کی شب مولانا وحید الدین خان کا انتقال ہو گیا۔ مولانا نے چھیانوے برس کی عمر پائی۔ وہ تقریباً پچھلے ستر برسوں سے تحریر و تقریر کے ذریعے سے لوگوں کی تربیت کر رہے پچھلی نصف صدی سے ان کا کام ایک باقاعدہ مشن کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہر طرح کے منفی حالات سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کیا جائے۔ یہ ان کا طریقہ کار ہی نہیں، ان کا بنیادی پیغام بھی تھا کہ ہر طرح کے منفی حالات میں مثبت مواقع ڈھونڈ کر اپنا کام کیا جائے۔ زندگی جو دوسروں سے کہتے رہے، عملاً خود بھی کرتے رہے۔

برصغیر کے روایتی ماحول میں جہاں پر مقبولیت کا راستہ یہی ہے کہ سیاست اور فرقہ واریت پر جذباتی گفتگو کی جائے یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے اپنی پہچان بنائی جائے، مولانا نے مثبت سوچ کے فروغ کو اپنا بنیادی مشن بنایا اور کتب و مضامین کے نسبتاً محدود راستے کو مستقل مزاجی سے اختیار کیا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ مولانا کے غیر معمولی علمی قد و قامت اور انتہائی متنوع کام کے باوجود ان کا مشن کامیاب نہیں ہوا۔ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے۔ مولانا وحید الدین خان کے انتقال کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ وہ یہ کہ سوشل میڈیا پر جہاں سماج کا باشعور طبقہ اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اس کی آمد کے بعد پہلی دفعہ اتنے بڑے پیمانے پر کسی شخصیت کے انتقال پر لوگوں نے تعزیت کی، اظہار عقیدت پیش کیا، ان کے کام کا اعتراف کیا اور ان اثرات کا ذکر کیا جو بالواسطہ یا بلا واسطہ مولانا کے کام سے ان پر پڑے۔ مولانا کی وفات پر ہونے والا یہ عجیب واقعہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ تعمیری کام جب مستقل مزاجی سے کیا جائے تو آخر کار وہ اپنے اثرات پیدا کر لیتا ہے۔ یہ اثرات اس معاشرے میں بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جہاں سیاست اور فرقہ واریت سب سے زیادہ اہم بن چکے ہوتے ہیں۔

مولانا کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے انھیں ایک صدی کی مہلت عمل دی۔ وہ متعدد زبانوں کے

ماہر اور انتہائی وسیع المطالعہ شخص تھے۔ علوم اسلامی کے ماخذوں تک ان کی براہ راست رسائی تھی۔ کسی بھی علم و فن کے ثانوی مصادر کے علاوہ بنیادی ماخذ بھی ان کے علم کی زد میں تھے۔ مطالعے کو وہ انتہائی گہرے غور و فکر کے ساتھ اپنے ذہن کا حصہ بناتے، اس کا تجزیہ و تحلیل کرتے اور اس سے نتائج اخذ کر کے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے ان نتائج کا اطلاق کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کے ساتھ ان کا قلم انتہائی تیز رفتار اور ان کا اسلوب تحریر اتنا ہی مؤثر بھی تھا۔ نے انتہائی متنوع موضوعات پر تقریبا پون صدی تک مسلسل لکھا۔ اس عرصہ میں انھوں نے دو سو کے قریب کتابیں تصنیف کیں اور پچاس سال تک ایک ایسار سالہ نکالا جس کی تمام تحریریں انہی کی لکھی ہوئی اپنی زندگی کی آخری ربع صدی میں انھیں اپنے کاموں کے ابلاغ کے لیے ایک بہت مؤثر ٹیم بھی مل گئی تھی اور ساتھ میں انٹرنیٹ کی ایجاد نے ان کے تمام مواد کو دنیا بھر کی دسترس میں پہنچا دیا تھا۔ وہ واحد مسلم رہنما اور عالم تھے جنھوں نے سات عشروں تک مسلسل لکھا اور جن کے افکار سے تین نسلیں ان کی زندگی ہی میں متعارف ہو گئیں۔ جن کا رسالہ اور کتابیں اردو، انگریزی، عربی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو کر ربع صدی سے انٹرنیٹ پر بلا معاوضہ اور با آسانی دستیاب ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے افکار کو پڑھنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ جنھوں نے سیکڑوں ملکی اور بین الاقوامی سفر کر کے ہر طرح کی کانفرنسوں، مجالس اور اجتماعات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ہر گروہ کے ساتھ مکالمہ اور گفتگو کی ۔ ان کی کتابوں اور خاص کر ترجمہ قرآن کا درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو کر دنیا بھر کے غیر مسلموں میں پھیل چکا ہے۔

مولانا نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی منادی، الحاد کے مقابلے میں اسلام کے استدلال، آخرت کی یاد دہانی، مثبت اندازِ فکر اور کردار سازی جیسے بنیادی کام اُس اعلیٰ سطح پر کیے جس کی دوسری نظیر اس دور میں ڈھونڈنا آسان نہیں۔ جس شخص کے کام اس درجہ میں پھیلے ہوئے ہوں، اس سے کوئی اختلاف کرے یا اتفاق، وہ بلاشبہ مسلمانوں کی تاریخ کے بڑے لوگوں میں سے ایک میں شامل کیے جانے کے قابل ہے۔ اور جس شخص کا کام اس سطح کا ہو، اس پر نہ ایک نشست میں بات ہو سکتی ہے اور نہ ایک مضمون اس کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ (بشکریہ ماہنامہ انذار، کراچی)

موت العالم موت العالم خواجہ عبد الرسول، سجادہ نشین خانقاہ جنید یہ مولانامواحید الدین خاں بھی چل دیے، وحید الدین خاں صاحب ایک بے نام صوفی تھے۔ ایسے صوفی جنہوں نے کبھی لفظ صوفی استعمال نہ کیا۔ لیکن انہوں نے جو تعلیمات اپنی گرانقدر کتب میں چھوڑی ہیں وہ در حقیقت اصل تصوف ہے۔ انہوں نے علمائے ظواہر کی سیاسی تعبیر دین سے ہٹ کر دین کا مخاطب فرداور فقہی موشکافیوں کے بجائے تزکیہ نفس کو قرار دیا۔ ان کا سارا وسیع علمی کام انسان کے اخلاقی وجود کو مخاطب کرتا ہے۔

آپ نے جدید اذہان کو دین کی حکمت سمجھانے کے لیے خالصتاً ادیبانہ اور سائنسی اسلوب اختیار مولانا کی تفسیر، تذکیر القرآن، بلاشبہ دور حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا دلیل مقاصد تصوف کی بلند پایہ تفسیر ہے۔ جس میں اگر چہ صوفیانہ قیل و قال، فنی اصطلاحات اور فقہی و کلامی موشکافیاں تو نہیں البتہ جو تصوف کا مقصود ہے یعنی انسانی تزکیہ اور تصفیہ قلب وہ سب موجود ہے۔ خاں اگر چہ علمائے ظواہر کے نزدیک نا پسندیدہ شخصیت تھے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر دین کو ترجیح کا مؤید ثابت کر کے انتہائی اہم خدمات سر انجام دی ہے۔ اختلاف علمی تو ارتقائے علمی کا موجب ہوا کرتا ہے وہ تو ہمیں بھی بعض جزئیات میں مولانا سے ہو سکتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی وہ ایک بلند پایہ ادیب، محقق اور مفسر تھے جن کے اثرات تاریخ حذف نہیں ہم ان کے لواحقین، متعلقین اور تلامذہ سے اظہار تعزیت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بلندیٔ درجات کے لیے دعا گو ہیں۔

میں اگر کسی اسلامی عالم سے متاثر ہوا ہوں تو وہ یہی ہستی تھی۔ اسلام کا سچا چہرہ دکھانے والے۔ رب العزت کی عطا کردہ انسانی ذہانت کا شاہکار۔ (عمران علی، کراچی)

ایک یادگار گفتگو جو قلب و ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ گئی مولانا غلام قادر باندے، مہتمم جامعہ ضیاء العلوم، پونچھ یہ غالباً 1970ء کی بات ہے جب میں مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند سے تازہ دم فارغ ہوا تھا اور دارالعلوم محمدیہ میل کھیٹر راجستھان میں تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا، دوپہر کی دھوپ کے وقت ایک الگ سایہ دار جگہ پر ہم چند نوجوان فضلاء اپنی معمول کی بات چیت میں مصروف تھے تو دیکھا ایک بارعب شخص جو عالمانہ وضع قطع کے مالک تھے، ہمارے درمیان بے تکلفی سے آبیٹھے اور انہوں نے شائستہ علمی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ہم نوجوان فضلاء سے کچھ سوالات کیے۔ جن میں دو سوالات بہت اہم تھے، پہلا سوال یہ تھا کہ اقلیت اور اکثریت کا دارومدار کس بات پر ہے؟ اور دوسرا سوال تھا کہ مسلم اور غیر مسلم لیڈر میں کیا فرق ہے؟

چوں کہ ہم نوجوان فضلاء سیاسیات اور سماجیات سے زیادہ آگاہ نہ تھے، اس لیے ہم سے جو بھی روایتی جوابات بن پڑے ہم نے دیے۔ ہمارے جوابات سے مطمئن نہ ہونے کے بعد مولانا موصوف نے اپنے سوالات کی خود سے وضاحت کی ۔ ان کی اس ملاقات نے ابھی تک میرے قلب و ذہن پر بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ پہلے سوال کا جواب انہوں نے بتایا کہ اقلیت و اکثریت کا دارومدار تعلیم پر ہے جو قوم تعلیم یافتہ ہے وہ کبھی بھی اقلیت میں نہیں ہو سکتی۔ دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غیر مسلم لیڈر منصوبہ بندی اور دانشمندی سے معاملات کو سلجھاتا ہے جب کہ مسلم لیڈر اشتعال اور جذبات کی رو میں بہہ کر قوم کے لیے مزید مسائل پیدا کر دیتا ہے۔ یہ یادگاری گفتگو کرنے والا کوئی اور شخص نہیں بلکہ مولانا وحید الدین خان صاحب تھے۔

عمر اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سماجی اور سیاسی معاملات کا شعور ہوا تو مولانا کی تشریح و تعبیر کو درست پایا اور قوم کے تئیں مولانا مرحوم کی سنجیدگی اور تڑپ کو انتہائی مخلص پایا۔ جواب اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے، اپنی ذات میں ایک انجمن

اپنے علمی، تحقیقی اور تصنیفی کمالات کے لیے مولانا کو تاریخ میں وہ نمایاں جگہ ملی ہے جہاں بہت کم لوگ ہی پہنچ پائے ہیں۔

مولانا سے بعض امور میں اختلاف رائے کی گنجائش کے باوجود یہ اعتراف ہم پر لازم ہے کہ بحیثیت مجموعی ان کی کاوشیں ، ان کی رہنمائی ہمارے لیے بہت درست اور بروقت تھی۔ چونکہ ملی سطح پر ہمارا شیرازہ بکھرا ہوا ہے ، اس لیے کسی بھی مخلص قائد کے لیے یہ آسان بات نہیں کہ قوم اس کی قیادت تلے جمع ہونے پر راضی ہو جائے اور اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کے امور میں یکجہتی دکھا سکے۔ مولانا کی ملی مسائل کے تئیں بہت سی تجاویز تقاضائے وقت ہیں اور ان کو اختیار کرنے میں کسی بھی پس و پیش سے ہمیں کام نہیں لینا چاہیے اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے دوسرے بنیادی معاملات و حقائق پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔

مولانا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ملت اجتماعی سطح پر فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد واتفاق کی فضا قائم کرے اور تعلیم و تحقیق کے میدان میں دنیا کی دیگر اقوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر عالمی شراکت داری میں اپنا حصہ شامل کرے اور بالخصوص برادران وطن کے ساتھ اسوہ حسنہ اور تعلیمات اسلامی کی روشنی میں بہتر اور خوشگوار تعلقات قائم کرے اور ہر قسم کی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو باہمی ڈائیلاگ کے ذریعے دور کرے۔ ایک عالم کی موت ایک عالم کی موت کے مترادف ہے۔ ان کی وفات ایک سانحہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے لوگ آتے اور جاتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا بہتر جانشین بنائے ۔ کے ان خیالات اور نظریات سے کئی لوگوں کو اختلاف بھی رہا اور لوگوں کو ہوتا بھی ہے۔ موت کہ ایک بڑا خسارہ اور صدمہ ہے۔ اللہ کرے کہ ان کا خلا بھر جائے ۔ (مولانا مفتی مکرم احمد ، امام مسجد فتح پوری، نئی دہلی)

پھل دار درخت کے نیچے، بیتے کچھ لمحات ڈاکٹر محی الدین غازی، جماعت اسلامی ہند میرے خوب صورت بچپن کی ایک حسین یاد یہ ہے کہ جامعۃ الفلاح کے چمن میں کالے توت کا ایک گھنا درخت ہوا کرتا تھا۔ میں اس کے نیچے جاتا، وہاں بہت سے توت کھانے کو ملتے۔ ٹہنیوں سے اور کچھ زمین پر گرے ہوئے۔

نوجوانی میں قدم رکھا تو پھل دار درختوں جیسی شخصیات سے ملاقات ہونے لگی۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر وہی احساس ہوتا جو بچپن میں کالے توت کے پیڑ کے نیچے توت چنتے ہوئے ہوتا تھا۔ مولانا وحید الدین خان میرے لیے پھلوں سے لدے ہوئے ایک درخت کی مانند تھے۔ نے ان کی صحبت میں جتنے لمحات گزارے ان کی شاخ فکر سے شیریں پھلوں کو چنتے ہوئے ہی مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ان کے یہاں خزاں کا موسم کبھی نہیں آتا اور کبھی یہ مایوسی بھی نہیں ہوتی کہ ابھی تو پھل آئے نہیں یا آئے تو ابھی پکے نہیں۔ جب بھی جائیں شیریں پھلوں سے لدی ہوئی شاخیں دل خوش کر دیتیں اور طبیعت کو سیر کر دیتیں۔

مولانا کی باتیں سننے میں بڑی عجیب و غریب لگتیں، لیکن عمل کرو تو بڑی شان دار اور عملی لگتیں۔ ایک بار کہنے لگے کہ بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو ماں باپ اپنی تعلیم، ریسرچ اور بہت سے دیگر مفید کام اس وجہ سے ملتوی کر دیتے ہیں کہ بچہ روتا ہے اور انھیں مصروف رکھتا ہے۔ اگر آپ بچے کو گھر میں تنہا چھوڑ جائیں، یا گھر میں رہتے ہوئے اپنے کام کرتے رہیں تو بچہ روتے روتے مر نہیں جائے گا، یا تو تھک کر سو جائے گا یا پھر کھیلنے میں مصروف ہو جائے گا۔ میں نے اپنی ذاتی زندگی میں اس اصول سے بہت

یہ مولانا کا انوکھا اور منفرد انداز تھا۔ وہ والدین کو مشورہ دیتے کہ بچے کے رونے کو وجہ بنا کر اپنی تعلیم و ترقی کے عظیم منصوبے موقوف نہ ہونے دیں۔ وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے کہ فرقہ پرستوں کی پیدا کی ہوئی شر پسندی میں الجھ کر اپنے نصب العین سے غافل نہ ہو جائیں۔ ان کے نزدیک بچہ رونے

سے مر نہیں جاتا ہے اور کوئی قوم دوسروں کی شرارتوں کو نظر انداز کرنے سے ذلیل و رسوا نہیں ہو جاتی واقعہ یہ ہے کہ ان کا مشورہ نہ والدین کو بھاتا اور نہ ہی ملت کو اپیل کر پاتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ مولانا کے مشوروں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والی جذباتی ملت نے جب بھی مولانا کے مشوروں پر عمل کیا کوئی نقصان نہیں اٹھایا۔

ایک دن میں نے مولانا کو بتایا کہ میں نے لفظِ ارباب پر ایک تحقیقی مضمون لکھا ہے، جو اردو میں مجلہ تحقیقات اسلامی اور عربی میں کویت کے المجتمع میں شائع ہوا ہے۔ میری پوری بات غور سے سنی اور پھر کہا کہ تم کو یہ اہم تحقیق انگریزی میں لکھنی چاہیے تھی۔ میں نے کہا مجھے انگریزی میں لکھنا نہیں آتا۔ کہنے لگے یہ تو تمھاری بہت بڑی کم زوری ہے، اسے فوراّ دور کرو۔ روزانہ ایک گھنٹے تک غور سے انگریزی اخبارات ورسائل کا مطالعہ کرو۔ یہ کم زوری اس طرح دور ہو سکتی تم اردو میں لکھو گے تو ایک محدود حلقہ پڑھے گا۔ وہی باتیں انگریزی میں لکھو گے تو بہت بڑے حلقے تک پہنچے گی۔ میں نے مشورہ بہت غور سے سنا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا۔ ابھی بھی عمل کرنے کا موقع ہے، لیکن کاہلی ابھی بھی راستہ روکے کھڑی ہے۔

ایک بار کی بات ہے، مولانا آزاد کے بارے میں کہنے لگے کہ میں یہ تو کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی تھی، مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کانگریس کے ہاتھوں بک گئے تھے۔ کہ پہلی بات غلط ہوئی تو مجھے گناہ نہیں ملے گا لیکن دوسری بات غلط ہوئی تو میں گناہ گار ہو جاؤں گا۔ پھر انھوں نے کہا کہ لوگ میرے بارے میں بھی یہی بات کیوں نہیں کہتے کہ میں نے فیصلہ کرنے میں غلطی کی، یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں بک گیا ہوں؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایس آئی او آف انڈیا نے ایک ملک گیر مہم منانے کا فیصلہ کیا۔ مہم کا عنوان تھا جاگو حساب کا وقت قریب آگیا۔ مہم کے پیغام کو ایک فولڈر کی صورت میں لوگوں تک پہنچانا فولڈر کے لیے مواد کی ضرورت تھی جسے تیار کرنے کی ذمے داری میرے سر آئی۔ حسن اتفاق کہ انہی دنوں مولانا کے یہاں جانے کا موقع نکل آیا۔ مجلس سے اٹھتے ہوئے خیال آیا اور میں نے مہم کا تذکرہ کیا اور مولانا سے درخواست کر ڈالی کہ فولڈر کی عبارت لکھ دیں۔ مولانا نے کچھ کہا نہیں، مسکراتے ہوئے رخصت کر دیا۔ دو دن بعد مولانا کا فون آیا، کہنے لگے میرے دوست کے بیٹے نے

مجھے ایک کام دیا اور کام دے کر خود بھول گیا۔ فولڈر کی عبارت تیار ہو گئی ہے۔ آ کر لے جاؤ، اگر آج آنا ہے تو ابھی فوراً آ جاؤ، مجھے ایک پروگرام کے لیے نکلنا ہے۔ میں فوراً آٹو میں بیٹھا اور روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچا تو مولانا گاڑی میں بیٹھ رہے تھے، میں نے کہا کیا مجھے ساتھ چلنے کی اجازت ملے گی۔ نے کہا: ہاں، اور میں ان کے ساتھ ہولیا، یہ جانے بغیر کہ کہاں جا رہے ہیں۔ ہماری منزل ستتیہ سائیں انٹرنیشنل سینٹر کی عمارت تھی۔ وہاں ملک بھر کے ملٹری اسکولوں کے پرنسپل حضرات کا روحانی تربیت پر ورکشاپ چل رہا تھا۔ مجھے تجسس تھا کہ مولانا اسلام کا تعارف کس طرح پیش کرتے ہیں، مولانا کی وہاں اسلام کے تعارف پر تقریر ہوئی، اور انھوں نے اسی طرح اسلام کو پیش کیا جس طرح غیر مسلموں کی مجلس میں عام طور سے پیش کیا جاتا ہے۔ بس خاص بات یہ تھی کہ تقریر کے دوران مولانا پر رقت طاری تھی اور سب کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ مولانا نے دعوتی فولڈر کے لیے جو عبارت مجھے دی، وہ نہایت اثر انگیز تھی۔ ہم نے اسے فولڈر کی شکل دی، ہندی اور انگریزی میں ترجمہ کرایا اور پورے ملک میں اس کے ذریعہ شان دار دعوتی مہم

ایک دن میں نے انھیں بتایا کہ میں جماعت اسلامی کا رکن بن گیا ہوں۔ مسکرانے لگے، کہنے لگے مجھے تمھارے رکن بننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن ایک نصیحت ضرور کروں گا۔ تمام تقاضے حسن و خوبی کے ساتھ انجام دینا، لیکن اپنی زندگی کا منصوبہ خود بنانا۔ اس کا انتظار مت کرنا کہ جماعت تمھیں تمھاری زندگی کا منصوبہ بنا کر دے گی ۔ جو لوگ اپنی زندگی کے منصوبے کے لیے جماعت پر انحصار کرتے ہیں وہ پوری زندگی بغیر منصوبے کے گزار دیتے ہیں۔ بعد میں میں نے بہت سے لوگوں کو ایسے منصوبے کا منتظر پایا۔

میں نے مولانا سے خوب بحثیں کی ہیں۔ سب سے پہلے ایس آئی او آف انڈیا کے کل ہند تربیتی کیمپ میں، اس کے بعد ان کے گھر پر، اس کے بعد ای میل سے اور آخر میں ان کے فیس بک پر۔ لیکن عالم بن کر نہیں بلکہ ایک نٹ کھٹ بچے کی طرح، جو اپنی شرارتوں سے غصہ بھی دلاتا اور دل بھی لجاتا۔ میں مولانا کے سامنے بچہ بنا رہتا اور وہ مجھے بڑا دیکھنا چاہتے۔ ایک ملاقات میں انھوں نے والد محترم سے کہا، آپ کا یہ بچہ بڑا آدمی بن سکتا ہے، لیکن یہ اپنے آپ سے نا واقف ہے، اسے چاہیے کہ

اپنے آپ کو دریافت کرے۔ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے زندگی میں ایسے چند بزرگ ملے جنھوں نے اپنے حسن نظر سے میرے اندر بڑا آدمی بننے کا امکان دیکھا اور میرے دل میں اس کا شوق پیدا کیا۔ اپنے سلسلے میں کبھی کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوا، لیکن ان بزرگوں کی خوبصورت توقعات اس کی زندگی کے لیے زادِ راہ ضرور بنی رہیں۔

جب میں نے روزگار کے لیے دبئی جانے کا پروگرام بنایا، تو اپنی اہلیہ کے ساتھ ان سے ملنے اتوار کے دن ان کا پروگرام ہوتا تھا۔ ہم کچھ تاخیر سے پہنچے۔ پروگرام کے بعد قریب جا کر ملاقات کی، اہلیہ کا تعارف کرایا۔ انھوں نے کہا سنا ہے تم دبئی جا رہے ہو، آخر اس قبرستان میں دفن ہونے کہاں جا رہے ہو۔ میں نے کہا، ان شاء اللہ، جلد واپس آ جاؤں گا، مایوسی سے مجھے دیکھا اور کہنے لگے قبرستان سے کبھی کوئی واپس آیا ہے۔

پھر پوچھا تم تاخیر سے کیوں پہنچے۔ میں نے بہانہ بنایا آٹو ملنے میں دیر ہو گئی تھی۔ کہنے لگے تم دبئی جا رہے ہو، وہاں یہ بہانہ کام نہیں آئے گا۔ وہاں تمھاری وقت کی پابندی کو دیکھ کر تمھاری کارکردگی ناپی جائے گی، خواہ عملاً کارکردگی کچھ نہ ہو۔ دبئی گیا تو مولانا کی بات کو حرف بہ حرف درست پایا۔ نے ہم دونوں کو ایک نصیحت کی کہ ہمیشہ ایک دوسرے کو اپنا آئیڈیل سمجھنا، تمھارے رشتے خوش گوار رہیں گے، میری بیوی اس مشورے پر ابھی تک سختی سے عمل پیرا ہے۔

دو سال میں دبئی سے واپس ہو جانے کا ارادہ تھا، مگر قبرستان کی خاردار سنہری جھاڑیاں بری طرح جکڑے ہوئے تھیں اور کسی طرح نکلنے نہیں دے رہی تھیں، آخر کار آٹھ سال بعد لوٹا۔ خدمت میں پہنچا۔ سو چا شاید مولانا مجھے بھول گئے ہوں گے۔ نام بتایا کہنے لگے تمھارا نام میرے دل پر پتھر کی طرح نقش ہے۔ میں نے کہا قبرستان سے لوٹ آیا ہوں ۔ مولانا نے حسب معمول پوچھا اپنی تازہ دریافت پیش کرو۔ اس مرتبہ میں پہلے سے سوچ کر آیا تھا جھٹ سے بتادی، پھر مولانا نے سورہ فاتحہ کے مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی دریافتیں بتائیں۔

دیر تک گفتگو رہی، مجلس میں برادرِ محترم ابوالاعلیٰ سید اور مولانا صباح الدین ملک صاحب بھی شامل مولانا نے بتایا کہ انھوں نے طے کر لیا ہے کہ اب وہ صرف انگریزی میں لکھیں گے۔ وہ زیادہ خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ان کو قارئین کی نئی دنیا ملی ہے۔ میں ڈر رہا تھا کہیں مولانا یہ نہ پوچھ

یوں کہ تم نے اپنی انگریزی اچھی کر لی؟ چلتے ہوئے مولانا کی صاحب زادی ڈاکٹر فریدہ خانم نے کہا مولانا کئی دنوں سے بیمار تھے۔ آج تم لوگوں سے مل کر تر و تازہ ہو گئے۔ میں نے ان کے ساتھ ملاقات کی خبر فیس بک پر ڈالی، بعض احباب نے سوال کیا کہ آپ نے ان کے فکری انحراف کی اصلاح کی

مجھے ان کی سادگی پر ہنسی آئی۔ انھیں کیا پتہ کہ میں تو شہتوت کے پیڑ کے نیچے شہتوت کھانے گیا مولانا وحید الدین خان اس دنیا کے تزئین کاروں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں اونچا مقام عطا فرمائے۔

مولانا وحید الدین خان مسلم دنیا اور دین اسلام کی مایہ ناز شخصیت اور ایک ممتاز اسلامی اسکالر تھے جنہوں نے برصغیر ہند و پاک کے دل و دماغ کو اپنی تحریروں سے فتح کیا۔ وہ ایک سلف سٹائل شخصیت تھے، ایک مفکر، اسپیکر، سب سے بڑھ کر ایک کامل معنی میں داعی الی اللہ تھے۔ جو لوگ ان کے کچھ نظریات اور ان کی مسلم پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں وہ لوگ بھی ان کی فہم و عقل، ان کی فکری مضبوطی، اور اسلامی علوم پر ان کی دسترس کا اعتراف کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے انھوں نے اپنے شاگردوں کی ایک ٹیم تیار کی ہے، جو ان کے مشن کے سفر کو جاری رکھ سکتے اللہ رب العزت ان کے نیک اعمال کو قبول فرمائے، اور انھیں جنت کی زندگی عطا فرمائے! ان کے شاگردوں کو، رضا کاروں کو مولانا کے کام کو جاری رکھنے کا شدید احساس، ہمت، حوصلہ اور تحریک پیدا فرمائے! آمین (شیخ اے سی آغا محمد، ڈائریکٹر جامعہ نظیمیہ، بیرو والا، سری لنکا) آہ بابا جی! سب کے مولانا وحید الدین خان صاحب، جب کہ میرے بابا جی اللہ کے مہمان بن رب کی مرضی کے آگے بھلا کس کی مجال۔ ہیرے نگینے عظیم الشان لوگ دنیا سے اٹھے جا رہے ہیں۔ ابھی خبر غم ملی ہے۔ بابا جی بھی رخصت ہوئے۔ آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ بہت بہت دکھ محسوس کر رہا ہوں۔ بابا جی میرے استاد محترم تھے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ (مظہر صدیقی، ملتان)

حسن نثار، پاکستان گزشتہ چند سالوں میں بہت سے مہربان قارئین سے یہ شکوہ سن چکا ہوں کہ کبھی کبھی خود احتسابی و خود ملامتی میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتا ہوں۔ دلچسپ بات یہ کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اسے بہت پسند کرتے ہیں۔ کیوں کہ برسوں باہر رہتے ہوئے ان کی تربیت کچھ اور انداز میں ہوچکی ہوتی ہے اور وہ خاصے حقیقت پسند واقع ہوتے ہیں جب کہ یہاں’’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘‘ والا مائنڈ سیٹ عروج پر ہے۔ اخلاقی انحطاط اپنے عروج پر ہے۔ لیکن ’’خود فریبی‘‘ اس سے بھی کہیں زیادہ عروج پر ہے، اور ہم ’’ملی نغموں‘‘ کے نرغے میں ہیں۔

میں نے کچھ فورمز پر اپنی اس نااہلی اور کمزوری کی وضاحت کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ’’اپنا‘‘ وہ ہے جو آپ کو آپ کی خامیوں، کجیوں اور کمزوریوں سے آگاہ کرے ۔ اچھا باپ ہو یا عمدہ اور ذمہ دار استاد، اپنی اولاد یا شاگردوں کی شان میں قصیدے نہیں کہتا بلکہ انہیں ان کی کمزوریوں کی طرف متوجہ کر کے ان پر قابو پانے کے مشورے دیتا ہے تا کہ وہ عملی زندگی کے امتحان میں بہتر طریقے سے پرفارم کرسکیں۔

بہر حال پچھلے دنوں مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم و مغفور کی ایک تحریر زیر نظر سے گزری جس کا موضوع بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ جو دوست مولانا کے بارے میں نہیں جانتے، ان کی معلومات کے لیے پہلے تو یہ عرض ہے کہ میں ان کا زبردست مداح تھا، ہوں اور رہوں گا۔ کیونکہ مولانا اسلام کے ان مفکرین میں سے تھے جو تھرڈ ڈائمینشن دیکھنے کی بصیرت رکھتے اور آرٹ آف تھنکنگ بلکہ ’’اوریجنل تھنکنگ‘‘ کی علامت تھے اور گھسی پٹی بات سے گریز کرتے تھے۔ کوئی ایسے شخص سے اتفاق کرے یا اختلاف، ان کا اصل حسن اور کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ قاری کو خود سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور یہی کسی خیال و تحریر کا اصل کمال ہوتا ہے کہ وہ آپ کی سوچ کو ٹریگر کر دے۔ الدین خان 1925 کو یوپی (انڈیا) کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے اور چند ہفتے قبل ہی اس دنیا

سے رخصت ہوئے ۔ ان کی تحریروں میں بین المذاہب مکالمہ اور امن کا ذکر زیادہ ہے۔ احتسابی کے حوالہ سے ان کی یہ تحریر پیش خدمت ہے۔ لکھتے ہیں :

” ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی وہ کتابت کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں ’ الرسالہ‘ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مجھ کو ’ الرسالہ ‘ بہت پسند ہے مگر آپ کی ایک بات مجھے کھٹکتی ہے، آپ اکثر مسلمانوں کی کمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے تو مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ آپ ایک کاتب ہیں۔ فرض کیجیے کہ آپ حرف ”ج“ اور ”ع“ کا دائرہ صحیح نہ بناتے اب اگر آپ کے استاد آپ کی اس کمی کو بتائیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ استاد صاحب میرے اندر احساس کمتری پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ”نہیں “۔ میں نے کہا اسی ذاتی مثال سے آپ ” الرسالہ “ کے ان مضامین کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسے مضامین کا مقصد مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا کرنا نہیں بلکہ احساس اصلاح پیدا کرنا ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ اپنی کمیوں کی اصلاح کے بغیر کوئی شخص یا گروہ اس دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ جو شخص تم کو نصیحت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو تمھاری تعریف کرے۔ یہ مثل سو فیصد درست ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی کے ساتھ خیر خواہی رکھتا ہو، وہ یہی کرے گا کہ وہ اس کی کمیوں کی نشاندہی کرے اور اس کی کوتاہیوں پر اس کی فہمائش کرے۔ سچے مصلح کا طریقہ ہے۔

قرآن میں گھاٹے ( خسر ) سے بچنے کے لیے جو لازمی صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک ضروری صفت ” تواصی بالحق “ اور ” تواصی بالصبر “ ہے یعنی آپس میں ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرتے رہنا۔ وہی گروہ اس دنیا میں نقصان اور بربادی سے بچ سکتا ہے جس کے افراد میں یہ روح زندہ ہو کہ جب وہ اپنے بھائی کو حق کے راستے سے ہٹتا ہوا پائے تو فوراً اس کو اور وہ جب بھی اس کو بے صبری کی طرف جاتا ہوا دیکھے تو اس کو صبر کی اہمیت سے آگاہ کرے ( سورہ العصر )۔

صحابہ کرام کے اندر نصیحت کرنے کا جذبہ بھی پوری طرح موجود تھا اور نصیحت سننے کا بھی۔ عمر فاروق نے کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ کیا۔ حضرت علی کو اس میں غلطی نظر آئی۔ انہوں نے اس پر

حضرت عمر اگرچہ خلیفہ اور حاکم تھے، آپ نے فوراً اسے مان لیا اور کہا۔ ”اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا“۔

امید ہے مولانا وحید الدین خان مرحوم جیسی شخصیت کی اس مختصر سی تحریر کے بعد، ہم کوتاہیوں کی نشاندہی کو ذرا اور انداز میں دیکھنا شروع کر دیں گے۔ خس و خاشاک سے اس نے کیے برق و شرر پیدا ( مولانا وحیدالدین خاں- 1925ء 2021ء )

Printed page