Al-Risala · August 2021

حیدر میواتی ندوی

Al-Risala, August 2021, pp. 76–83

By Maulana Wahiduddin Khan

”خدا نے اپنی قدرت سے کیے شمس و قمر پیدا“ جہاں آباد میں کتنے ہوئے لعل و گہر پیدا وحید الدین خاں صاحب یقیناً مرد حق ہیں تھا ہزاروں میں کوئی ہوتا ہے ایسا راہبر پیدا بہت سلجھی ہوئی وہ گفتگو فرمایا کرتے تھے دلوں میں اس کوسن کے ہوہی جاتا تھا اثر پیدا جہاں سے اہل دل اہل یقیں اٹھتے ہی جاتے ہیں کہ کم ہوتے ہیں سچے عاشق خیر البشر پیدا امین و پاسباں علم نبوت کا انہیں پایا ہوئے اس کی نظر سے بے شمار اہل نظر پیدا یقیں محکم عمل پیہم تھا وصف خاص اک اس کا خس و خاشاک سے اس نے کیے برق و شرر پیدا ہمارے گھر میں وہ اک بار مہماں بن کے آئے تھے کیے جس نے زمانہ میں الگ شام و سحر پیدا بنا مالی کے اب گلشن بھی ویرانہ سا لگتا ہے کیے تھے اس نے دل کی آہ سے گل ہائے تر پیدا تھکا ہارا مسافر سایہ رحمت میں جا ٹھہرا خدا سے آہ و زاری کر کیا عزم سفر پیدا ”ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“ بتاؤ سانحہ حیدر یہ کس کا پیش آیا ہے وحید عصر کے غم میں ہوئی ہے چشم تر پیدا

مز فہمیدہ خان، فیض آباد انسان دنیا میں بہت کچھ حاصل کرتا ہے، دولت، پیسہ، پراپرٹی اور ہر قسم کی مٹیریل چیزیں۔ میری زندگی کی سب سے بڑی دولت مولانا وحید الدین خاں صاحب، یعنی بڑے ابا ہیں۔ میری زندگی کو اندھیرے سے اجالے کی طرف لوٹایا ہے۔ میری زندگی انسانوں کے لیے وقف ہو کر رہ گئی تھی، مگر وہاں مجھے کچھ نہ ملا۔ میری روح ایک سوکھے پیڑ کی طرح ہو چکی تھی۔ پھر مولانا کی رائیٹنگس اور لکچرس نے میری روح کو سینچا اور اس میں ہریالی آئی۔ میری زندگی کا رخ انسانوں سے ہٹ کر خدا سے جڑ گیا۔ مولانا کے چھوٹے چھوٹے جملوں نے میرے دماغ کی پرتیں ہٹائی ہیں، جس کو میں پہلے نہیں سمجھ پائی تھی، مولانا نے میری ڈی کنڈیشننگ کی ہے۔

جب میں مولانا سے ملی تو میں بہت غمگین رہتی تھی۔ میرے والد کا جلد ہی انتقال ہو گیا تھا۔ اکثر روتی رہتی تھی۔ میری یہ حالت دیکھ کر مولانا نے کہا کہ آنسو بہت قیمتی چیز ہے، وہ صرف خدا کے اس دن میری سمجھ میں آیا کہ ہمارا قیمتی آنسو کسی برتر ہستی کے لیے ہی ہو سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے نہیں۔

ایک بار مولانا نے اپنی کلاس میں مجھ سے کہا تھا کہ آپ اسی طرح دنیا سے چلی جائیں گی، خدا کے لیے کچھ نہیں کریں گی۔ اس بات نے مجھے ہلا دیا کہ میں نے زندگی میں لوگوں کے لیے بہت کچھ کیا مگر ریٹرن میں مجھے ذہنی سکون تک نہ ملا۔ اور جو میرا خدا جو مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، جس نے میری ہر مشکل کو آسان کیا اور مصیبت سے بچایا، اپنے اس مالک کے لیے ہی میں نے کچھ پھر مولانا کے ذریعے مجھے خدا کے مشن میں کام کرنے کا موقع ملا۔ میری زندگی کا آدھا حصہ بے مقصد گزر گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا جس کا ذریعہ مولانا صاحب بنے۔ میری زندگی نماز، روزہ، حج کرنے کے بعد بھی خدا کے بغیر تھی۔ مگر مولانا صاحب کی کتابیں پڑھنے کے بعد زندگی میں خدا کا رنگ آنے لگا۔ میرے سوچنے سمجھنے کا طریقہ خدا سے شروع ہو کر خدا پر

ختم ہونے لگا۔ میں ہمیشہ یہی سمجھتی تھی کہ میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ مگر مولانا صاحب کے مشن سے یہ موقع ملا کہ میں بھی خدا کے لیے کچھ کر سکتی ہوں۔ اب مجھے زندگی جینے کا مقصد مل گیا ہے۔ جب تک میری زندگی ہے، ان شاء اللہ سی پی ایس مشن میری پرائیرٹی (priority) رہے گا۔ مولانا صاحب اب اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر ان کی رائٹنگس، ان کے لکچرس مجھے یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ میرے پاس ہیں، مجھے گائڈ کر رہے ہیں۔ مولانا صاحب نے خدا کے بندوں کو جنت کا راستہ دکھایا ہے جو ایک سچے خدا کے بندے کو کرنا چاہیے۔

مولانا 28-26 جون 2014 میں سی پی ایس ٹیم کے ساتھ میرے گھر آئے تھے۔ اس وقت کو میں اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت سمجھتی ہوں۔ اس دوران میں نے جنت کا تجربہ کیا کہ جنت میں کیسا ہر وقت خدا کی گلوری کا احساس ہونے لگا۔ مولانا کے ساتھ ایسا قیمتی وقت میری زندگی میں پھر نہیں آئے گا۔ مگر میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ آخرت میں مجھے اس کا تجربہ کرا دے۔ اپنی زندگی میں میں نے کتنے ہی اپنوں کی موت کو دیکھا مگر مولانا کے انتقال کی خبر میرے لیے ایسی تھی جو میں کبھی بھول نہیں سکتی۔ اس لمحہ میں نے محسوس کیا تھا کہ میری ہارٹ بیٹ تھوڑی دیر کے لیے رک گئی ہے اور میں نے بہت دیر کے بعد یہ ریلیز کیا کہ مولانا واقعی اب ہمارے ساتھ نہیں شاید غم اور تکلیف کا اتنا بڑا تجربہ مجھے پہلی بار ہوا تھا۔

مولانا صاحب کی اہمیت کو دنیا والے سمجھیں یا نہ سمجھیں، مگر مجھے پوری امید ہے کہ خدا نے اپنے فرشتوں کے ساتھ مولانا صاحب کا وارم ویلکم کیا ہوگا۔

مولانا وحید الدین خاں صاحب نے دورِ جدید میں، جب کہ الحاد کو فروغ حاصل ہو رہا ہے، اپنے قلم سے سائنسی دلائل کی روشنی میں اللہ کی معرفت اور اس کے تخلیقی منصوبے سے پوری انسانیت کو آگاہ کیا۔ شرک، شخصیت پرستی، فرقہ واریت جیسی بیماریوں کا پوری طاقت سے اس مرد مجاہد نے مخلوق میں جینے کے بجائے خالق میں جینے کا سلیقہ سکھایا۔ ہم نے ان کی تحریروں اور تقریروں کو پڑھ کر مذہب کے تعلق سے اپنے اندر یقین پیدا کیا ہے۔ (مسعود انصاری، ٹینٹا گڑھ، ویسٹ بنگال)

خدا اور آخرت کا داعی مولاناسید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو مولانا سے میری پہلی ملاقات دہلی میں سن 2007 میں نظام الدین 29-C پر ہوئی، ان دنوں میں اس تلاش میں تھا کہ عربی زبان میں قرآن اور سائنس کے موضوع پر کوئی کتاب مل جائے۔ میں نے مولانا کے شیلف پر نظر ڈالی تو وہاں کئی عربی کتابیں نظر آئیں، میں نے اپنی تلاش کے مطابق دو عربی کتابیں عاریتاً مولانا سے حاصل کرلیں ۔ اس ملاقات میں مولانا نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ جنت صرف حور و قصور کی جگہ ہے؟ یہ نعمتیں تو خدا کے یہاں قرآن کے الفاظ میں بطور نزل یعنی مہمان نوازی (hospitality) کے طور پر دی جائیں گی مگر جنت حقیقت میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر نہ صرف یہ کہ مادی نعمتوں کی تکمیل کا سامان ہوگا بلکہ وہاں روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی مکمل انتظام ہوگا۔ پھر مولانا نے اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ: ”جیسے کسی شخص نے اپنی ساری زندگی آلاء اللہ کی دریافت اور اس کی تحقیق و جستجو میں گزار دی ہو تو اس کو آلاء اللہ کی دریافت کے لیے جنت میں ایک لامناہی میدان دے دیا جائے گا اس کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ دنیا میں ایک شخص تھا جو نباتات کا عالم (Botanical Professor) تھا اور وہ اس حال میں وفات پا گیا کہ مزید پھولوں کی کیمسٹری، اس کی تخلیق کا راز اور اس کی خوشبو کی حقیقت کو جاننے کی خواہش رکھتا تھا تو آخرت میں اس کو بھر پور طور پر اس کا موقع دیا جائے گا اور مزید اس کے لیے ہر قسم کے اعلی انتظامات فراہم کیے جائیں گے۔ یہ صرف ایک مثال ہے جس کے ذریعہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جنت کیسا اعلیٰ ترین مقام ہوگا کہ وہاں ہر انسان کی خواہش کو اس کے اعلیٰ عقلی سطح پر فل فل کیا جائے گا“۔ جیسے ہی میں نے مولانا کی یہ بات سنی تو میں نے بروقت قرآن کی دو آیتیں بطور استدلال تلاوت کیں ۔ جن کا ترجمہ یوں ہے :

وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی۔ وہاں موجود ہے گی ہر وہ چیز جو من کو بھاتی ہواور نگاہوں کو لذت دینے والی ہو۔ یہ سن کر مولانا نے کہا کہ آپ نے بالکل صحیح ریفرنس دیا ہے اور پھر اسی وقت مولانا نے میرے سر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ آپ کے لیے ایک بوڑھے آدمی کی یہ نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انٹلیکچولس میں دعوتی کام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے، آپ اپنے وقت کو ضائع کیے بغیر خوب انگریزی لٹریچر کا مطالعہ کریں تا کہ ملا قوم میں دعوتی کام کرنے کے قابل بن سکیں۔ مجھے یہ بات سن کر بہت ہمت ملی کہ مجھ میں بھی انٹلیکچولس میں دعوتی کام کرنے کا کچھ پوٹینشل موجود ہے۔ اب تک کسی نے بھی میرے بارے میں ایسی بات نہیں کہی تھی۔ اسی وقت سے میرے ذہن میں ایک پروسس جاری ہو گیا کہ میں بھی مدعو کی نسبت سے دعوت کے لور وزن اور ہائیر وزن کو جاننے کی کوشش اسی تجسس نے مجھے مولانا تک پہنچایا۔

مولانا سے میری دوسری ملاقات 2009ء میں نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) میں ان کے آفس میں ہوئی۔ میں اس وقت دہلی میں منعقد ایک دعوتی کیمپ میں بحیثیت محاضر شریک تھا۔ زمانے میں اس قسم کے دعوتی کیمپ ہندوستان بھر میں منعقد ہوتے رہتے تھے جن میں میرے درس کا موضوع العقیدة في اللہ ہوا کرتا تھا یعنی اللہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہیے، اور پھر یہ کہ دعوت الی اللہ کا منہج کیا ہونا چاہیے۔ مگر میں خود ایک عرصے سے اس بات کو لے کر پریشان رہتا تھا کہ اللہ کی صحیح معرفت کیا ہے، ازدیاد ایمان اور خدا سے زندہ تعلق پیدا کرنے کا راستہ کیا ہے۔ اندر خدا کے زندہ شعور کی بہت زیادہ کمی محسوس کرتا تھا۔ میری فطرت کی گہرائیوں سے کچھ بنیادی سوالات اٹھتے تھے، جن کا جواب پانے کے لیے مجھے کسی کی تلاش تھی۔ چونکہ مادر علمی جامعہ دارالسلام عمر آباد نے اپنے ابناء کی یہ تربیت کی تھی کہ ہر مکتب فکر کے علماء سے استفادہ کے لیے آدمی کو اپنا ذہن کھلا لہٰذا اس سفر میں میرے اندر مولانا وحید الدین خاں صاحب سے بھی ملاقات کا عزم پیدا ہوا اور ارادہ ہوا کہ میں آپ کے سامنے اپنے ان فطری سوالات کو پیش کروں، شاید کوئی جواب مل جائے۔ ملاقات کے بعد میں نے آپ کے سامنے اپنی جستجو رکھی اور میں نے کہا کہ اس باب میں آپ میری رہنمائی فرمائیں اور ساتھ میں یہ بھی بتائیں کہ میں اس موضوع پر کس طرح تیاری کروں۔

عین اسی وقت جب میں مولانا کے سامنے اپنے سوالات رکھ رہا تھا مولانا کے ہاتھ میں سورج گرہن اور چاند گرہن کا ایک نقشہ موجود تھا، مولانا نے اس نقشے کو سامنے رکھ کر مجھے سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ مختلف حجم کے اجسام ہیں۔ جب یہ تین ڈفرنٹ سائز کے ماسس ایک ہی سیدھ میں آجاتے ہیں تو سورج گرہن اور چاند گرہن جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے مولانا زار و قطار رو رہے تھے اور با آواز بلند یہ کہہ رہے تھے کہ وہ خدا کتنی عظیم قدرت کا مالک ہوگا جو سورج ، چاند اور زمین کو ایک ہی سیدھ میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ اس قسم کا واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ لامحدود اسپیس میں مختلف سائز کے اجسام کا ایک سیدھ میں آ جانا انتہائی حیرت انگیز واقعہ اس قسم کے واقعے کا ظہور دراصل کائنات میں ایک برتر ہستی کی مداخلت کو بتا رہا ہے۔ لیے رسول اللہ نے اس واقعے کو ”آیۃ من آیات الله “ کہا (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 914) ۔ یعنی یہ واقعہ خدا کی عظمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

یہ میرا پہلا تجربہ تھا جب میں نے مولانا کو عظمت خداوندی کے احساس سے بہت زیادہ تھرل میں دیکھا اور میرے لیے یہ منظر بڑا ہی تعجب خیز تھا۔ کیونکہ میں ایک طویل عرصہ سے اللہ کے بارے میں درس دے رہا تھا مگر نہ تو کبھی میرے رونگٹے کھڑے ہوئے اور نہ ہی میری آنکھوں سے کبھی اشک

مولانا کی مجلسوں میں مسلسل شرکت کرنے کے بعد ہی مجھ پر یہ راز کھلا کہ یہ عظیم کائنات اور اس میں رونما ہونے والے واقعات در حقیقت خدا کی عظمت کا عملی اظہار ہیں، مگر ہمارا کیس یہ ہے کہ ہمیں اس کا شعوری ادراک نہیں ہے۔ اس لیے ان غیر معمولی واقعات میں ہمیں خدا کی عظمت کے غیر معمولی پہلو نظر نہیں آتے۔

اگر تخلیقات میں خالق کی عظمت کا ادراک کریں تو کیفیات نصیب ہوتی ہیں، ایمان بڑھتا ہے۔ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں نے اب تک صرف مسائل عقیدہ کو اپنا موضوع بنا رکھا تھا۔ تقریباً بیس سال سے مجھے مولانا کی ڈائریکٹ تربیت اور الیکٹرانک صحبت کا موقع ملا۔ میں نے جتنا زیادہ مولانا کو اللہ کا شعوری ذکر کرنے والا پایا ہے کسی اور کو نہیں پایا۔ آج بظاہر مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے مگر مولانا نے ہم کو جس زندہ ہستی سے جوڑا ہے

اور مسلسل طور پر جس سے جڑے رہنے کے لیے تخلیقی معرفت کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے، اس کے ذریعے کلمات اللہ کی دریافت کا لامحدود طریقہ مل گیا ہے۔

مولانا کے ساتھ ابتدا میں میرے جو ذاتی تجربے ہوئے ہیں اس سے یہی پتہ چلا کہ مولانا خدا اور آخرت کی طرف بلانے والے داعی ہیں۔ وہ کسی اور چیز کے داعی نہیں۔ اس دور کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت جو ہم کو حاصل ہوئی ہے، وہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس ایک عارف باللہ کی دریافتیں اس کی تصویر اس کی آواز آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں محفوظ ہیں۔ کتابوں کی شکل میں بھی ایک ایسا ذخیرہ محفوظ ہے جو ہماری تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔ مولانا نے مشن کو اور اپنی ٹیم کو اس زندہ ہستی کے حوالے کر دیا جو جُّو الحی القیوم" ہے۔ اب مولانا کے بعد ہم معرفت کے سفر کو اس احساس کے ساتھ آگے بڑھائیں کہ ایک دن ہم کو بھی مرنا ہے، خدا کے سامنے پیشی ہونے والی ہے اور دوسری طرف اللہ نے مولانا کے ذریعے جو مشن شروع کیا ہے اسے بغیر اختلاف کے ربانی بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔

اللہ مولانا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مولانا کی تعلیمات کا فروغ کریں۔ میری خواہش تھی کہ کم از کم ایک بار ان سے ملاقات ہوتی، جو اللہ کو منظور نہ تھی۔ (سلمان الیاس، اسلام آباد)

راز حیات“ کے متلاشی کی تلاش اختتام شد۔ وہ زندگی کا سب سے بڑا راز پا گئے۔ خالق حقیقی کی تلاش بس اب اک نیند کے پرے ہے۔ خالق کا اس کانٹوں بھری بستی سے پھول چنے کا عمل مولانا وحید الدین خان بھی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت سے گزر گئے۔ "Life, Death and Beyond" کے مصنف زندگی دیکھ رہے تھے، موت دیکھ لی، اب یقیناً وہ دیکھ رہے ہوں گے جس کا پر چار کرتے عمر بتا دی۔ (جواد احمد، کراچی)

جب میں نے مولانا سے پہلی بار ملاقات کی اظہر مبارک، برہرواد، جھارکھنڈ میں سن 2004 سے ماہنامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ 2007 سے ماہنامہ کے علاوہ مولانا کی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے مولانا کی آن لائن کلاسیز اٹینڈ کرنا شروع کیا۔ میرے اندر شدید خواہش ہوئی کہ مولانا سے براہ راست ملوں۔ آخر وہ دن بھی آیا، جب کہ میں نے مولانا سے ملاقات کی۔

میری زندگی کا وہ دن بڑا ہی عجیب ہے جب مولانا کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ میں مولانا سے ملاقات کے لیے دہلی پہنچا اور نظام الدین میں پانچ دنوں کا قیام کیا۔ 15 جون 2012 سے 19 جون 17 جون 2012 کو مولانا کا سنڈے لکچر تھا۔ لکچر سے پہلے میں مولانا سے پہلی براہ راست تعارفی ملاقات ہوئی۔ کیوں کہ اس سے پہلے میں نے مولانا سے ٹیلی فون پر کئی بار بات کی تھی۔ میں نے مولانا سے مختصر بات کی، جس میں مولانا نے میری ملاقات پٹنہ کے ابوالحکم دانیال صاحب سے آج مولانا کا ٹاپک تھا:

Printed page