Al-Risala · August 2021

Political activism or futile activism

Al-Risala, August 2021, pp. 83–97

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی بار اس طرح ڈائریکٹ طور پر مولانا کا لکچر سننا، زندگی کے ایک یادگار لمحے کی طرح مجھے یاد 18 جون کو نظام الدین میں میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ میں نے نظام الدین کی مسجد کلاں میں رات کو قیام کیا تھا۔ سوتے اتفاق کہ وہاں میرا موبائل چوری ہو گیا۔ سفر کے دوران یہ تجربہ میرے لیے سادہ معاملہ نہ تھا۔ میں مولانا کے پاس ان کے ساتھی مولانا ذکوان ندوی صاحب کے توسط سے پہونچا تھا۔ کسی وجہ سے مولانا نے 19 جون 2012 کو مجھے تلاش کی تو مولانا ذکوان ندوی کے ذریعے مولانا کو پتہ چلا کہ میرا موبائل چوری ہو گیا ہے۔ اس پر مولانا نے گڈورڈ شاپ پر میرے بارے میں یہ خبر بھجوائی کہ اگر وہ وہاں پر پہنچیں تو انہیں کہہ دیجیے گا کہ وہ آ کر مجھ سے ملاقات کریں۔ حسب حال میں جب میں 11 بجے دن کو گڈ ورڈ شاپ گیا تو خبر ملی کہ مولانا نے مجھے اپنی آفس میں

جب میں وہاں گیا تو دیکھا مولانا کا لیکچر نشست عمری حضرات کے ساتھ جاری ہے، جس میں مولانا اقبال، فرہاد اور دیگر علماء صاحبان موجود تھے۔ میں خاموشی کے ساتھ جا کر وہاں بیٹھ گیا۔ ہونے کے بعد مولانا نے مجھے یاد کیا، اور خود سے چل کر میرے پاس آئے، میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں اور چوری شدہ موبائل کے بارے میں پوچھا۔ اس وقت یہ نصیحت کی کہ مسجد میں غیر مامون ہو گئی ہیں، آئندہ غفلت نہ کریں۔ اس وقت مولانا نے حدیث میں مذکور ایک پیشین گوئی یاد دلائی، جو ان الفاظ میں ہے: مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِّنَ الْهُدَى (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی مسجدیں آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے خالی ہوں گی۔ اور پھر مولانا نے وہ کیا جو میرے لیے بہت ہی حیران کن تھا۔ یعنی چوری شدہ موبائل کی قیمت پوچھ کر اتنا پیسہ دیا۔

یہ واقعہ جب میں یاد کرتا ہوں تو مجھے عجیب خوشی طاری ہوتی ہے۔ یہ میرے لیے ایک خدائی مدد کا اس میں سو فیصد غلطی میری اپنی تھی۔ میں نے موبائل کو حفاظت سے نہیں رکھا تھا۔ شفیق انسان تھے۔ نہ معلوم، ان کے اس طرح کے شفقت کا معاملہ اور کتنے ہی لوگوں کے ساتھ رہا ہوگا۔ روانگی سے قبل میں نے مولانا کو اپنی ڈائری بڑھائی کہ وہ کچھ نصیحتیں لکھ دیں تو انہوں نے لکھا کہ۔ زندگی ہوشیاری کا امتحان ہے۔ -- زندگی غفلت کا کارخانہ نہیں۔

بعد میں، 2017 کو میں نے، مولانا کو ایک خط لکھا اور اس خط میں میں لکھا کہ مجھے مولانا کی تحریروں سے کیا فائدہ ہوا ہے۔ میرا یہ خط ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ فروری 2017 میں چھپ چکا مولانا کی تحریروں ہی کا نتیجہ تھا کہ دعوت الی اللہ میری زندگی میں شامل ہو گیا۔ میں اپنی حد تک دعوتی کام میں لگ گیا۔ اس کی کئی رودادیں بھی ماہنامہ الرسالہ میں چھپ چکی ہیں، مثلاً مئی 2018۔ مولانا کی صحبت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ آج میں یقین میں جیتا ہوں۔ جب کہ اس سے پہلے یہ حال تھا کہ میرے کو ریز (queries) ختم نہیں ہوتے تھے اور بظاہر میں یہ سمجھتا تھا کہ میری زندگی اسی طرح ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ میں جو پانا چاہتا تھا شاید اس کو میں خود پا نہیں سکتا تھا۔ آخر اللہ تعالی نے مولانا کے روپ میں مجھے وہ چیز دی ۔

میں نے پایا ہے کہ مولانا کے سارے افکار براہ راست یا بالواسطہ طور پر قرآن سے ہیں۔

کے افکار کا سب سے بڑا فائدہ مجھے یہ ہوا کہ میں قرآن سے بالکل جڑ گیا۔ مجھ پر قرآن کے معانی کھلتے گئے اور مجھے روحانی تسکین (spiritual solace) ملتا گیا۔

اس سلسلے میں میرا ایک احساس یہ ہے کہ یہ صرف اور صرف مولانا ہی ہیں، جن کے الفاظ آج کے ماڈرن انسان کے لیے قابلِ قبول ہیں، ورنہ آج، پوسٹ سائنٹفک ایج میں سارے کے سارے مسلم علماء کی تحریریں غیر متعلق ہو گئی ہیں۔ خود میں بھی مولانا سے پہلے اسلام کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا میں نے مختلف علما کی کتابیں پڑھیں ہیں، مگر وہ میری پیاس بجھانے کے لیے ناکافی تھے۔ سائنٹفک ایج نے پورے معاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب ٹریڈیشنل خطاب کا کوئی معنی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اب ضرورت تھی کہ اسلام کو از سر نو ماڈرن سائنٹفک اسلوب سے لکھا جائے اور یہ کام صرف اور صرف مولانا نے انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کا کام اتنا بڑا ہے کہ الفاظ کم پڑ جائیں گے اعتراف کے لیے! اللہ ہمیں اس مشن میں اپنا حصہ بھر پور طور پر ادا کرنے کی توفیق ادا فرمائے۔ A Leading Scholar and Thinker مولانا وحید الدین خاں صاحب (2021-2025) کے ساتھ ہی بیسویں صدی کے اکابر علما کی آخری کڑی بھی شاید اختتام کو پہنچی۔ ان کی تحریروں کی سب سے بنیادی خوبی سائنٹفک طرز فکر پر مبنی ان کے مدلل مباحث تھے۔ انھوں نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا۔ بچپن سے جن کو پڑھا اور متاثر ہوئے، ان میں مرحوم بھی تھے۔ ہمارے گھر متعدد رسالے اور اخبارات آتے تھے، لیکن سب سے متاثر کن ’’الرسالہ‘‘ میں مرحوم کا مختصر کالم نما فکر انگیز دہلی آنے کے بعد لال قلعہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے ملنے کی بھی خواہش اجتہاد ہمیشہ اختلاف کو بھی مدعو کرتا ہے، سوان کے ساتھ بھی رہا۔ البتہ ان کی علمی شان و شکوہ سے کسی کو انکار نہیں۔ بالخصوص ان کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ کا دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے ۔ دین و مذہب اور عہد جدید کے چیلنجز اور جدید سائنس ان کے محبوب موضوعات تھے اور ان کی تفہیم و تعبیر کا منہج انھیں پر مبنی تھا۔ (پروفیسر اخلاق آہن، جے این یو، دہلی)

نا قابل تلافی نقصان !

جعفر صادق باقوی، چینی مدیر، ماہنامہ سمانیلی سمودایم، تامل ناڈو، انڈیا مشہور اسلامی عالم اور مفکر مولانا وحید الدین خاں صاحب 96 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے ۔ آزادی سے پہلے کے انڈیا میں پیدا ہوئے، آزاد انڈیا میں پلے بڑھے، مولانا انڈیا کے قدیم مسلم علما کے سلسلے کی آخری کڑی مختلف اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں کے معاصر رہے۔ اور علمی شخصیات کے ساتھ ان کے تعلقات بھی رہے اور ان سے خوب اختلاف بھی کیا۔ گہرا علم، عمیق سوچ، کم گفتگو، سادہ زندگی مولانا کی پہچان تھی۔ اس صدی کے عظیم اسکالر تھے اور جنہوں نے اپنے نام’’وحید‘‘ کے مطابق تن تنہا ایک منفرد مشن کو قائم کیا۔ تنہا کھڑے ہوکر اپنے تحریروں اور تقریروں سے دین کی خدمت کی۔ اسلام کے اجتہادی و فکری میدان پر دیر پا اثر چھوڑا اور آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئے ۔ مولانا کے انتقال سے تین دن قبل ہی اپنی مسجد کی لائبریری میں اچانک میری نظر کتاب ’’تاریخ کا سبق‘‘ کے ملیالم ترجمے پر پڑی۔ میں نے وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ اس وقت میرے ذہن میں ماضی کے واقعات گھومنے لگے ۔ الصالحات، ویلور کے میرے اساتذہ کرام مفتی شبیر علی حضرت، مفتی صدقہ اللہ حضرت کو ماہنامہ الرسالہ میں ہی دکان سے خرید کر پہنچایا کرتا تھا۔ ہمارے اساتذہ سفر یا حضر میں اپنے خطاب کے لیے اس سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ میں چوں کہ اردو زبان سے زیادہ واقف نہیں تھا، اس لیے میرے اساتذہ الرسالہ کے مضامین پڑھ کر ان کا خلاصہ بتایا کرتے تھے۔ ابھی میں انہیں ماضی کی یادو کے جھروکوں ہی میں تھا کہ اچانک مولانا کے وفات کی خبر مجھ پر اچانک بجلی کی طرح آپڑی ۔ میں نے مولانا کا انٹرویو اپنے ماہنامہ سمانیلی سمودایم (Samanilai Samudhayam) میں شائع کیا اور اسی طرح مولانا کے جو مضامین ٹائمز آف انڈیا کے اسپیکنگ ٹری میں شائع ہوتے تھے ان کا یوسف راجہ اور کلوندیم احمد سے ترجمہ کروا کے اپنے میگزین میں شائع کرتا تھا۔ اس پر قارئین کی جانب بہت اچھے تاثرات موصول ہوتے تھے۔ بے شک مولانا کی وفات ایک عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ناممكن ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی خدمت کو شرف قبولیت بخشے، اور ان کو علیٰ علیین میں جگہ عطاء فرماۓ، آمین۔

میرے محسن، میرے معلم عمران احمد اصلاحی مولاناسے میری پہلی ملاقات فروری 1999 میں ہوئی۔ اس کے بعد میں مستقل طور پرمولانا اور ان کے مشن کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔ اللہ نے مجھے الرسالہ اور مولانا کی کتابوں کی کمپوزنگ کے ذریعہ الرسالہ مشن کی خدمت کا موقع دیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج جب مولانا ہمارے درمیان نہیں ہیں، مزید ذمہ داریوں کے ساتھ میں سی پی ایس مشن سے وابستہ ہوں۔ اس طرح یہ وابستگی 22 سال سے مستقل ابتدائی کچھ سالوں میں مولانا مجھے املا کراتے اور پھر میں اس کو ٹائپ کرنے کے بعد مولانا کو سناتا، مولانا کچھ حذف اضافہ اور تصحیح کے بعد کہتے کہ کمپیوٹر پر اس کو ٹھیک کرکے لائیے۔ سلسلہ تقریباً دو ڈھائی سال چلا۔ اس کے بعد ڈی ٹی پی کی ذمہ داریاں بڑھنے کے بعد املا کے لیے ایک اور صاحب مستقل طور پر مولانا کے رفیق کار بنے۔ لیکن میں بھی وقتاً فوقتاً مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔

اس طرح مولانا سے سیکھنے اور مشن کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ مولانا میرے مشفق، مربی اور میں نے جتنا مدرسہ سے سیکھا۔ اس سے کہیں زیادہ مولانا کی صحبت اور الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے کے بعد سیکھا۔ میرے الرسالہ سے وابستگی کو ابھی چند روز ہی ہوئے تھے، مولانا املا کرا رہے تھے۔ اسی دوران مولانا نے کہا کہ آپ کی اردو بہت کمزور ہے۔ مجھے جیسے شاک لگا ہو۔ اس لیے کہ مدرسہ سے پڑھنے کے بعد یہ ذہن بنتا ہے کہ مدرسہ والوں کی اردو بہت اچھی ہوتی ہے۔ بہر حال اس کے بعد میں نے اردو سیکھنے پر خاص توجہ دینی شروع کی، مولانا بھی اصلاح کرتے رہتے تھے، جس سے میری اردو کافی بہتر ہوئی۔

مولانا کی محبت ہی تھی کہ فیملی، گھر کے بارے دریافت کرتے رہتے۔ ضروری مشورے دیتے ۔ مولانا کے مشورے نہایت پریکٹیکل اور دور رس نتائج کے حامل ہوتے۔ فروری 2001 میں میری شادی کے موقع پر مولانا نے کامیاب ازدواجی زندگی کے دواہم فارمولے بتائے جن پر عمل کر کے

الحمد للہ ہم خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ دو فارمولے ہیں— ایک، یہ کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔ دوسرا، شادی نام ہے ایڈجسٹمنٹ کا۔

مولانا کی صحبت میں رہ کر ہم نے ان اہم اسلامی تعلیمات کو عملاً سیکھا جو ہمارے علماء میں آج تقریباً مفقود ہیں ۔ جیسے سادگی، صبر، شکر، اعراض اور تفکر و تدبر۔

مولانا کی پوری زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ مولانا سادہ، بغیر استری کیا ہوا کپڑا پہنتے ۔ مولانا آخر عمر سے کچھ پہلے تک فرش پر ہی سوتے تھے۔ سخت سے سخت گرمی میں بھی اپنے لیے پنکھا چلانا تک پسند نہیں کرتے تھے۔ اکثر لوگ مولانا پر تنقید کرتے ہوئے کہتے تھے کہ مولانا کوٹھی میں رہ کر اور AC میں سو کر قوم کے مسائل کو کیا سمجھیں گے۔ ان کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ مولانا پنکھے تک میں سونا پسند نہیں میں جب بھی گرمی میں مولانا کے پاس جاتا تو کہتے کہ دیکھئے آپ کو ضرورت ہو تو آپ پنکھا چلا سکتے ہیں، مجھے پنکھے کی ضرورت نہیں۔ مولانا کھانا بھی بہت سادہ کھانا پسند کرتے تھے۔ غذا مولانا کو پسند نہیں تھی۔

میوات کے ایک سفر میں مولانا کے ساتھ کھانے کے متعلق ایک واقعہ گزرا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی کھانوں کے پسند سے متعلق احادیث کی نہایت جامع تشریح ہوتی ہے۔ کے بعد تمام اشکالات رفع ہو جاتے ہیں۔

اس کی مزید تشریح مولانا کی تحریر ڈائری 1985 (زیر طبع) میں موجود اس تحریر سے ہوتی ہے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت ام ہانی کے گھر گئے۔ پوچھا کہ کچھ کھانے کے لیے انھوں نے کہا کہ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے (کِسَرْ يَابِسَةٌ وَخَلّ)۔ فرمایا: جس گھر میں سرکہ ہو اس کو سالن کے معاملے میں غریب نہیں کہا جا سکتا (فَمَا أَقْفَرَ بَيْتُ مَنْ اُدْمِ فِيهِ خَلّ) سنن الترمذي ، حدیث نمبر 1841 ۔ اس کے بعد آپ نے سرکہ اور روٹی نہایت شوق کے ساتھ کھایا۔ اسی طرح مختلف روایتوں میں مختلف کھانوں کے بارے میں آپ کی پسندیدگی کا ذکر ہے— مثلاً سرکہ، شہد، روغن زیتون، حلوہ، کدو، گوشت، لکڑی، لوکی، کھچڑی، دودھ، مکھن، کھجور، اس سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ آپ کے پسندیدہ کھانوں کی فہرست میں وہ تمام چیزیں شامل

ہیں، جو اس وقت کے مدینہ میں رائج تھیں۔ اگر اس سلسلہ کی مختلف روایتوں کو جمع کیا جائے تو رائج کھانوں میں سے کوئی بھی چیز نہیں بچے گی، جو آپ کے مرغوب کھانے کی فہرست میں شامل نہ پھر اگر آپ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا معاملہ ہی نہیں۔ آپ کے اس قسم کے تمام کلمات میزبانوں کی حوصلہ افزائی کے کلمات اس وقت مدینہ میں کھانے کے سامان کی کمی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جہاں آپ جاتے اس کے یہاں کوئی ایک سالن ہوتا تھا۔ میزبان شرمندگی کے ساتھ جو کھانا موجود ہو، لے آتا۔ کے تقاضے کے تحت فرماتے کہ یہ تو بہترین کھانا ہے، اور پھر شوق سے اس کو کھانے لگتے۔ کے تمام کلمات میزبان کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں، نہ کہ کھانے کے بارے میں اپنی پسندیدگی بتانے کے کلمات۔ “(ڈائری، 5 دسمبر 1985)

مولانا کے خلاف طعن وتشنیع کی چار سو سے بوچھاڑ ہوتی رہتی تھی لیکن مولانا اس کا نوٹس لیے بغیر اپنے مشن میں لگے رہتے۔ بہت ضروری ہوتا تو علمی جواب دیتے ورنہ خاموش رہتے۔ مولانا تدبر وتفکر پر بہت زیادہ زور دیتے ۔ خود مولانا کی پوری زندگی ’’التفکر والاعتبار‘‘ کا نمونہ تھی۔ مولانا ہر ایک واقعے سے نصیحت لیتے۔ جب بھی ہم مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتے، مولانا سوال کرتے کہ آپ کے پاس کوئی خبر ہے۔ اگر ہم کوئی واقعہ یا خبر بتاتے تو مولانا اس سے کوئی نہ کوئی نصیحت کا آئٹم پالیتے۔ مولانا کی پوری زندگی خدا رخی زندگی تھی، وہ ہر وقت اللہ کی یاد میں جیتے تھے۔ ان کی تحریریں تمام تر خدا رخی زندگی پر زور دیتی ہیں۔ اللہ کی معرفت مولانا کا گریٹ کنسرن (concern) تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ الحمد للہ سی پی ایس کا ہر ممبر بہت حد تک خدا میں جینے والا بن گیا ہے۔ مولانا نے قوم کو ماڈرن تعلیم کی طرف رہنمائی کی، اور حکمت کے ساتھ اپنے سماجی اور سیاسی مسائل کو حل کرنے پر زور دیا۔ مولانا نے مسلم قوم کے تمام تر مسائل کی وجہ ان کے ماڈرن تعلیم سے دوری کو کئی بار جب مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا تو مولانا نے دریافت کیا کہ آپ کے کتنے بچے ہیں، کیا وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں کہتا کہ جی پڑھ رہے ہیں تو فرماتے ان کو اچھے اسکول میں پڑھائیے، اور ان کے شعور کو ڈویلپ کیجیے۔ Does and don't کی زبان میں ان کو مت بتائیے۔ بلکہ زیادہ تر

معاملے میں ان کو خود فیصلہ لینے کا اختیار دیجیے۔ باشعور ہوں گے تو وہ خود بہتر فیصلے لے سکتے ہیں۔ مولانا نے تقریباً ہر ٹاپک پر قلم اٹھایا ہے اور اس کا حق ادا کیا ہے۔ مولانا کی تحریروں سے جو ذہن بنتا ہے وہ ایک بیدار اور حکمت سے پر ذہن بنتا ہے۔ آج اگر ہم یہ عہد کریں کہ مولانا کی کتابیں خود بھی پڑھیں گے اور کم سے کم 10 افراد تک مولانا کا لٹریچر پہنچائیں گے تو ان شاء اللہ جلد ہی ہم وہ وقت دیکھیں گے کہ دنیا میں ہر طرف امن، بھائی چارہ، برداشت اور اعتراف کا ماحول ہوگا۔ میرے معلم و مربی عبد الصمد ابن خلیل احمد، سی پی ایس، پونا بے شک علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جو علم نبوت سے وراثتِ علم پائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ میں حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب سے مسلسل پچاس سال سے منسلک و مربوط رہا ہوں، اور دن بدن حضرت کی محبت مولانا مرحوم وموصوف میرے لیے ایک رہبر کامل، مربی و معلم شفیق رہے۔ حضرت مولانا سے جو علمی و روحانی فیض حاصل کیا ہے وہ اتنا عظیم ہے کہ میرے پاس اس کو بیان کرنے کے لئے نہ الفاظ ہیں اور نہ صلاحیت علمی قدرت۔

مختصر عرض ہے کہ حضرت مولانا سے جو علم وجذبۂ میں نے سیکھا اس سے میرے دین ودنیا سنور ہم نے مولانا سے صبر واستقامت سیکھی، عفو درگزر کرنا سیکھا، بحث وماحثوں سے پر ہیز وگریز کرنا سیکھا، زمانہ سے آگاہ و باخبر رہنا سیکھا، غیر مسلموں کو مدد کو سمجھنا سیکھا، ورنہ تو غیر مسلموں کو ہم بھی دشمن تصور کرتے تھے۔ نیز محنت ومشقت کرنا، جد و جہد کرنا، مواقع کو استعمال کرنا سیکھا، گلے شکوے چھوڑ دیے، لینے والا بننے کے بجائے دینے والا بننا سیکھا، علم کو بڑھانا، پڑھنے لکھنے کو مشغلہ بنانا سیکھا۔ تھوڑا ہی صحیح، لیکن سب کچھ اہم وضروری علم ہم نے مولانا مرحوم ومغفور سے سیکھا، جو علم وجذبہ شاید ہم کسی اور سے نہ سیکھ پائے۔ یہ سب کچھ ہم نے حضرت مولانا سے سیکھا۔

مولانا وحید الدین خاں محمد حسن تہمامی، دار التذکیر، لاہور مولانا وحید الدین خاں سے میرا تعارف 1983 میں الرسالہ کے ذریعے ہوا۔ یہ رسالہ یوسف خاں مرحوم (جوا دارہ معارف اسلامی منصورہ میں لائبریرین تھے) نے استاد گرامی جاوید احمد غامدی کو پیش کیا تھا۔ پھر 1984 میں مولانا محترم ڈاکٹر اسرار احمد کی دعوت پر محاضرات قرآنی میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے تو ان کو سننے کا موقع بھی ملا۔ پھر آہستہ آہستہ مولانا محترم کی کتب پڑھنے کا موقع ملا تو مولانا مودودی کا فکری غلبہ دھندلانے لگا۔ 1988 میں ماہنامہ تذکیر کا ڈیکلریشن حاصل ہوا تو الرسالہ کا پاکستانی ایڈیشن شائع کیا۔ 1991 میں جناب نعیم بلوچ اور دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر مولانا محترم کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ مولانا ایک ہفتے کے لیے تشریف لائے۔ ان کی رہایش کا بندوبست گارڈن ٹاؤن، لاہور میں جناب کرامت شیخ کے ہاں کیا گیا۔ یہاں فجر کی نماز کے بعد مولانا محترم سے استاد گرامی جاوید احمد غامدی کی معیت میں خصوصی نشستیں ہوئیں۔ ان مجلسوں میں استاد نے مولانا کے تصورِ دین پر چند سوالات اٹھائے۔ ان مجالس کے دیگر شرکا میں ڈاکٹر منیر احمد، طالب محسن، رفیع مفتی اور نعیم بلوچ شامل ہیں۔

میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے وقت مولانا نے غامدی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ میری فکر پر پہلی مرتبہ آپ نے سنجیدہ علمی تنقید کی ہے۔ کے نقد کی روشنی میں اپنی فکر کا اب مجھے از سر نو مطالعہ کر کے جائزہ لینا پڑے گا۔ مگر افسوس کہ اب میں بوڑھا ہو ان الفاظ میں جو درد مندی تھی، وہ دین کے صرف ایک سچے طالب علم کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔ 1992 میں، میں نے ”دار التذکیر“ کے نام سے مولانا محترم کی کتب شائع کرنا شروع کر دیں۔ مولانا دنیا کے اُن مصنفین میں سے ہیں جن کی کتب بے پناہ مقبول تھیں، لیکن انھوں نے دعوتی مقاصد کے لیے اس کی اشاعت کی عام اجازت دے رکھی تھی۔ ہر شخص انہیں شائع کر سکتا ہے۔ وہ ان کی کوئی رائلٹی نہیں لیتے تھے۔

انڈیا میں مولانا کی نئی کتاب کی اشاعت اور الرسالہ کے تاخیر سے وصول ہونے کے حوالے سے کبھی کبھار مولانا سے فون پر رابطہ ہو جاتا۔ 1997 میں شتم رسول کا مسئلہ شائع کی تو ایک مخصوص مذہبی گروہ نے کتاب پر پابندی لگوادی۔

2006 میں کتاب میلے میں شرکت کے لیے دہلی جانا ہوا تو دس دنوں میں سات دن مولانا کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ میں صبح ناشتے کے بعد ہوٹل سے مولانا کے ہاں پہنچ جاتا اور رات عشاء کے بعد واپس لوٹتا۔ اُس وقت برادر محمد ذکوان ندوی مولانا کے معاون کے طور پر خدمات سر انجام دیتے مولانا کی سادگی، شفقت، محبت، اخلاص، اپنائیت اور تعلق باللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ دوسری مرتبہ 2008 میں اپنی اہلیہ کے ساتھ دہلی جانا ہوا تو دوبارہ مولانا کے ساتھ کچھ دن گزارنے کا اُن دنوں کے چند تاثرات اور یادداشتیں ان شاء اللہ آئندہ کبھی لکھوں گا۔ (7 مئی 2021ء) مولانا وحید الدین خاں بھی رخصت ہو گئے۔ اس سے بڑا سانحہ اس دور کا نہیں ہو سکتا۔ میں نیشنل تھنکنگ کی سب سے توانا آواز آج خاموش ہو گئی۔ ابتدائی مذہبی ادوار میں میرے اوپر جس شخصیت کا سب سے زیادہ اثر رہا، وہ مولانا ہی تھے۔ خاں صاحب نے عصری اسلوب میں 200 سے زائد اسلامی کتب تصنیف کی ہیں۔ جن میں سے راز حیات، کتاب زندگی، اظہار دین، الاسلام بتحدی، ترجمہ قرآن ہر مشکل وقت کا سہارا رہی۔ مولانا وحید الدین خان صاحب وفات پا گئے۔ علم کا چلتا پھرتا جیتا جاگتا اک جہان تھے۔ متشدد سوچ محدود اپروچ کے حامل لوگوں سے سے بچنے کے لیے ہم بہت سے اجتہادی فکر رکھنے والے انمول لوگوں سے مل نہیں پاتے ہیں، ان کی باتیں ہم نہیں کر پاتے، ان کے علم کے بہتے چشموں سے ہم اپنے حلقہ احباب کو سیراب نہیں کر پاتے ہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ چھوڑیں اندھوں کی نگری میں کیا شیشہ بیچنا۔ کس عذاب اور وحشت میں ہم جی رہے ہیں۔ خیر ان شاء اللہ کوشش ہوگی اس مہینے میں ان کا فیض عام کیا جائے۔ (اے ایچ کھوکھر)

مولانا وحید الدین خان کی بات مجیب الرحمن شامی، پاکستان مولانا وحید الدین خان ایک صدی کے لگ بھگ اس دنیا میں گزار کر بالاخر اپنے رب کے پاس چلے گئے کہ جس کی رضا کا حصول ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ ان کا نام پہلی بار اُس وقت سنا جب کالج میں سیکنڈ یا تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ اس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی تو جہ کا ان کی کئی کتابیں نظر سے گزر چکی تھیں۔ میں نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پاک پتن سے پاس کیا تو ایف اے میں داخلے کے لیے بور یوالہ جانا پڑا۔ وحید الدین خان کا نام انہی دنوں سامنے آیا، جب کہ مولانا مودودی کی فکر پر ان کی تنقیدی کتاب’’تعبیر کی غلطی‘‘ شائع ہوئی۔ اس کے بعد یہ کتاب نظر سے گزری، اور مولانا وحید الدین خان کی شخصیت نظروں میں سما کر رہ گئی۔ محترم غلام احمد پرویز سے لے کر مولانا غلام غوث ہزاروی، اور مولانا محمد عمر اچھروی تک مولانا مودودی کے خلاف جارحانہ تنقید میں پیش پیش تھے۔ ان کے خلاف آئے روز مضامین اور کتابیں شائع ہوتیں، اکثر تحریروں سے ذاتی مخاصمت کی بو آتی۔ اس ماحول میں وحید الدین خان کے سنجیدہ لہجے میں کی گئی علمی تنقید نے سب کو چونکا دیا۔ خان صاحب کم و بیش پندرہ سال جماعت اسلامی ہند میں شامل رہے تھے۔ اس کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ مولانا کی فکر سے اختلاف کرتے کرتے ان کا راستہ الگ ہو گیا، انہوں نے جو کچھ سوچا، اور جو کچھ لکھا، اُس سے جماعت اسلامی ہند کے زعماء اور مولانا مودودی کی خدمت میں بھیجا۔ تحریری تبادلہ خیال کی بہت کوشش کی، لیکن مولانا نے کسی’’مناظرے‘‘ میں الجھنے سے انکار کیا، اور انہیں اجازت دے دی کہ وہ اپنے افکار کو جامہ اشاعت پہنا دیں۔ مولانا وحید الدین خان نے بقول خود بڑے بوجھل دل کے ساتھ اپنی تحریر کتابی شکل میں پیش کردی۔

ان کے سنجیدہ اور مؤدبانہ لہجے نے ان کی شخصیت کا جو تاثر قائم کیا، آخر دم تک اس میں کمی نہیں مولانا وحید الدین اقامت دین کے فریضے اور حکومتِ الہیہ کے قیام کے ذریعے رضائے الہی کے

حصول کو ”سیاسی اسلام“ قرار دیتے اور اس سے شدید اختلاف کرتے رہے۔ تفصیل میں جانے کا یہ کام تحمل نہیں ہوسکتا، مولانا وحید الدین نے اپنی بات کو شائستگی اور عمدگی کے ساتھ پیش کیا اور پھر اپنے کام میں لگ گئے۔ وہ اسلام کو دعوت کا دین قرار دیتے اور دعوت ہی کے ذریعے تبدیلی لانے کے آرزومند رہے، اسی نکتے کی تشریح و تعبیر میں زندگی گزار دی۔ ان کے ہاں مبارزت نہیں، اخوت ہے۔ مخالفین سے کشتی نہیں لڑتے، انہیں حریف قرار نہیں دیتے، ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے اور اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلائل فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان میں انہیں غیر مسلم حلقوں میں بہت پذیرائی ملی، حکومت نے انہیں کئی اعزازات کا مستحق گردانا۔ بین الاقوامی ایوارڈ بھی پیش کئے گئے۔ ان کے ”الرسالہ“ نے دھوم مچائے رکھی وہ ہندی اور انگریزی میں بھی اسلام کی دعوت کو پھیلانے کا ذریعہ بنارہا۔ اجتماعی نفسیات ان کے اسلوب کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔ اسے مرعوبیت بھی قرار دیا گیا، لیکن مولانا نے اپنا راستہ نہیں بدلا، ثابت قدمی سے ان کا سفر آخری عمر تک جاری رہا۔ تین عشرے پہلے وہ پاکستان آئے تو لاہور میں ایک ہفتہ قیام کیا تھا۔ ان کے اعزاز میں کئی تقریبات منعقد ہوئیں، ان سے بات چیت کے کئی دور ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین وہ اچھے تعلقات پر بہت زور دیتے تھے۔ ان کی بہت سی باتوں سے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا تھا، لیکن اس بات کا وزن دونوں ممالک میں کم نہیں کیا جاسکتا کہ امن کا قیام دونوں کے مفاد میں ہے، بلکہ آکسیجن کی طرح ہے، لڑائیاں بہت لڑی جاچکیں، ان سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ مولانا مرحوم کا پختہ خیال تھا کہ مسلمان دعوت ہی کے ذریعے دنیا کا مقابلہ کر سکتے اور اسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ دشمن بن کر، دشمن سمجھ کر یا دشمن بنا کر اپنی جنت تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ (بشکریہ روزنامہ دنیا) ایک اور ”خدا پرست“ خدا سے جا ملا۔ ان شاء اللہ جنت میں ملاقات ہوگی۔ (اگر یہ گناہگار وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا)۔ محمد حذیفہ ندیم ملتان مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے عہد کے عظیم انسان تھے اور اور اسلام کے لیے مولانا صاحب کی خدمات بلا شبہ سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی۔ (عنصر عباس، چینوٹ)

میرے مینٹر، میرے گائیڈ ڈاکٹر سفینہ تبسم، سہارن پور، یوپی میں نے 2007 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنی پڑھائی مکمل کی۔ اس وقت میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں مولانا کی کوئی کتاب پڑھوں۔ کیونکہ میرے گھر میں الرسالہ اور دوسری کتابیں آتی میں نے 'گائیڈارائزر نام سے مولانا کی ایک کتاب پڑھی۔ ابھی وہ کتاب پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ مجھے لگا کہ مولانا نے مجھے میرے خدا سے انٹروڈیوس کرا دیا۔ میں اندھی تھی، جو اتنے سال سائنس کی اسٹوڈنٹ رہنے کے باوجود اللہ کی معرفت نہ حاصل کر سکی تھی۔ مولانا کی کتاب سے یہ معلوم ہوا کہ سائنس کے ذریعے میں خدائی حقیقتوں کو مزید بہتر طور پر پاسکتی ہوں۔ یہ دیکھ کر میں دنگ رہ گئی ۔ پھر میں نے الرسالہ کا مستقل مطالعہ شروع کر دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے اندر کی پرتیں ہٹا کر الرسالہ کی آئیڈیولوجی پینیٹریٹ کر دی گئی ہے ۔ سال 2010 سے میں نے ریگولر طور پر مولانا کی سنڈے کلاسوں میں جانا بھی شروع کر دیا۔ اس کے بعد مولانا نے میری سوچ پوری طرح ٹرانسفارم کر مولانا نے سب سے زیادہ مجھے سوچنا ( آرٹ آف تھنکنگ ) سکھایا، تدبر، تفکر اور توسم پر زور دیا، جس سے میں انجان تھی۔ نگيٹیوٹهنکنگ سے نکال کر پازیٹیوٹهنکنگ میں جینا سکھایا، ’’ کریٹیوٹهنکنگ ہے‘‘ یہ بتایا ۔ مائنڈ بیسڈ اسپرچولٹی کو میں مولانا ہی سے جانا۔ آج میں یہ سوچتی ہوں کہ مولانا نہ ہوتے تو میں اندھیروں میں زندگی کاٹ رہی ہوتی۔ مجھے یہ مشن نہ ملا ہوتا تو میں ” ٹکاثر کلچر میں جی رہی ہوتی ، اللہ سے کنکٹ نہیں ہو پاتا، اپنے خالق سے حبّ شدید ڈیولپ نہیں کر پاتی، اور یہ میرے لیے سب سے بڑا نقصان ہوتا ۔ کیونکہ زندگی ایک بار ملتی ہے اور اگر گز زندگی میں انسان کو معرفت نہ ملی تو دوسرا موقع اس کو ملنے والا نہیں۔

میں نے مولانا کو ہمیشہ دو چیزوں کو کنسَرن بناتے دیکھا ہے اپنے لیے معرفت اور دوسرے کے لیے دعوت ۔ یہی کلچر میں چاہتی ہوں کہ میرے اندر بھی پوری طرح سے آجاۓ۔ اللہ میری مدد کرے ( آمین ) ۔

مولانا سے یادگار ملاقات مولانا فیاض الدین عمری، گلبرگہ، کرناٹک 28 مارچ 2008 جمعہ کا دن تھا۔ استفادہ کی غرض سے میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب سے فون پر ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ مولانا نے C29 آنے کی اجازت دے دی۔ نے مجھ سے ہماری دعوتی ٹیم کی ساری سرگرمیوں کو بغور سنا۔ اور اس مجلس میں مجھ سے کہا کہ آپ داعی میں نے حیرت سے استفسار کیا کہ وہ کیسے؟ میں تو دس سال سے مکمل دعوتی سرگرمیوں میں کیسے آپ یہ کہتے ہیں کہ میں داعی الی اللہ نہیں ہوں۔

مولانا نے میری اسکروٹنی کی خاطر مجھ سے پوچھا کہ سچ سچ بتائیے کہ آپ کو ہندوؤں سے نفرت ہے یا نہیں؟ میں نے کہا کہ بالکل بھی نہیں۔ مولانا نے پھر پوچھا کہ ٹھیک ہے آپ کو ہندوؤں سے نفرت نہیں ہے مگر کٹّر واد ہندوؤں سے ضرور نفرت ہوگی؟ میں نے جواب دیا کہ ان سے بھی مجھے نفرت مولانا نے پھر مجھ سے پوچھا کہ بتائیے آپ یہود سے نفرت کرتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں بالکل میں یہود سے نفرت کرتا ہوں۔ مولانا نے پوچھا کہ آپ ان سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس لیے کہ وہ ہماری خواتین اور بچوں کو قتل کرتے ہیں! مولانا نے کہا کہ کیا یہود ہمارے مدعوونہیں ہیں ! رسول اللہ ان کی طرف بھی مبعوث ہیں یا نہیں ! میں نے کہا کہ ہاں ان کی طرف بھی رسول اللہ مبعوث ہیں۔ مولانا نے کہا کہ پھر ان سے نفرت کیسی؟ یاد رکھیے کہ آپ ہر گز ہر گز جنت میں کسی انسان کی نفرت کے ساتھ داخل نہیں ہو سکتے، جنت میں داخلہ کی شرط نفرت سے خالی ذہن ہے۔ حدیث میں اہل جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2840) ۔ ان کے دل چڑیوں کے دل کی مانند ہوں گے۔

آپ ابھی اور اسی وقت اپنے دل سے نفرت ختم کیجیے، ورنہ آپ کا جنت میں داخلے کا معاملہ مشکل میں پڑ جائے گا۔ میں نے اسی وقت 28 مارچ 2008 کو مولانا سے وعدہ کیا کہ میں آج کے

بعد کسی بھی انسان سے شکایتوں کے باوجود نفرت کو روا نہیں رکھوں گا۔ 21 اپریل 2021 کو مولانا کا نئی دہلی کے اپولو ہسپتال میں انتقال ہوگیا، مولانا نے انتقال سے کچھ دن قبل اپنے ٹیم ممبرز کو یہ وصیت کی کہ:

”اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی یہاں اس طرح زندگی گزارے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرا بھی نگیٹیوٹھاٹ نہ ہو۔ وہ دنیا سے اس طرح چلا جائے کہ اس کا مائنڈ پوری طرح پازیٹیو مائنڈ ہو۔ اس دنیا کی یہی میری آخری دریافت ہے۔ “ (الرسالہ جون- جولائی 2021) مولانا وحید الدین خان کی رحلت، مذہبی فکر میں توازن، متانت اور روشن فکری کے ایک عہد کا وہ نئے زمانے کے مسائل و سوالات کے تناظر میں مذہبی فکر پر نظر ڈالتے تھے اور مذہب کو نئے زمانے میں بیگانہ تصور نہیں کرتے تھے۔ وہ جدید ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو گمراہ کن قرار دینے کی بجائے انھیں سمجھنے اور اسلام کی روشنی میں جواب تلاش کرتے وہ سادہ، منطقی ومدلل زبان میں نئی نسل کی خاص طور پر رہنمائی کرتے تھے اور ان کے دل میں باوقار انداز میں اور خدائی اصولوں کے مطابق جینے کی امنگ پیدا کرتے تھے۔ وحید الدین خان ایک ان تھک عالم تھے اور غیر معمولی متجسس ذہن کے مالک تھے۔ ڈائریاں ان کے شب روز کا احوال بتاتی ہیں کہ کیسے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے، عام سے واقعات کی مدد سے گہری مذہبی بصیرت اخذ کرتے اور عام کرتے تھے، ”راز حیات“ تو ہر نوجوان کو ( ناصر عباس نیر، سابق ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ، پاکستان ) پوری انسانیت کے لیے رو رو کر دعائیں مانگنے والے ہونٹ آج خاموش ہو گئے۔ ( عامر قریشی، کوہاٹ، پاکستان )

Printed page