مولانا اور حب الہی
Al-Risala, August 2021, pp. 100–105
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا وحید الدین خان ہمیشہ قرآن کی آیت وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (2:165) پر بہت سوچا کرتے تھے، یعنی اور جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں خدا سے حب شدید کا ذکر کیا گیا ہے۔ مگر تاریخ میں حب شدید کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ حب شدید خدا سے اسی وقت ممکن ہے جب کہ ہر دوسری چیز کی محبت دل میں ذرہ برابر نہ ہو۔ میں نے پہلی بار مولانا کی زندگی سے یہ جانا کہ خدا سے شدید محبت کیا ہوتی ہے۔ ہمیشہ اپنے آپ کو ہر اس چیز سے دور رکھتے تھے جس سے ان کو محبت ہو جانے کا اندیشہ ہو۔ لگژوریس لائف، مہنگے کپڑے اور پر لذت کھانا، حتی کہ اپنی اولاد سے بھی بے جا پدرانہ محبت سے دوری بنائے رکھنا تا کہ کہیں ان سے محبت خدا کی محبت پر غالب نہ آجاۓ ۔
ایک بار میں نظام الدین ویسٹ میں مولانا کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ مولانا درس دے رہے تھے اور اس مجلس میں زیادہ تر علماء تھے۔ درس کے بعد سوال و جواب کی نشست رہی ۔
مولانا کے پوتے عدنان خان مولانا کے کمرے میں اپنے کسی کام سے آئے اور کچھ دیر بعد چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد مولانا نے پوچھا کہ کون صاحب تھے۔ مولانا کو بتایا گیا کہ آنے والے آپ کے پوتے عدنان تھے۔ مولانا یہ سن کر تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایک بوڑھے انسان کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہوتی ہے؟ حاضرین خاموش تھے۔ خود مولانا نے جواب دیا کہ ایک بوڑھے انسان کو سب سے زیادہ محبت اپنے پوتے سے ہوتی ہے۔ مولانا نے سلسلہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ عدنان میرے پوتے ہیں پھر بھی میں نے کبھی ان کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا۔ جب بھی وہ میرے سامنے آتے ہیں تو میں اپنی نظریں پھیر لیتا میں ایسا اس لیے کرتا ہوں تاکہ اس کی محبت خدا کی محبت پر غالب نہ آجائے۔ پھر مولانا نے روتے ہوئے کہا کہ میں خدا سے حب شدید کے لیے کوئی بھی قیمت دے سکتا ہوں، لیکن خدا سے حب شدید میں کسی طرح کی کمی کو برداشت نہیں کر سکتا، اور خدا مجھے کیسے معاف کر سکتا ہے اگر میرے دل میں اس کے لیے حب شدید نہ ہو۔ اور میں اس حب شدت میں کسی کو شریک کر لوں! اس واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مولانا کے دل میں کس قدر خدا سے حب شدید تھا۔ یہی وہ حب شدید ہے جو خدا کو بندے سے مطلوب ہے جس کو مذکورہ آیت (2:165) میں بیان کیا گیا ہے۔
خدا مولانا کو غریق رحمت کرے اور ہم سب کو مولانا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاحیات خدا کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق دے اور انسانوں کا خیر خواہ بن کر خدا کے پیغام کو ہر گھر تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
بے شک مولانا سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے ۔ معرفت الہی، سفر آخرت کی تیاری، عالم انسانیت سے محبت، امن عالم اور دعوت دین مبین جیسے موضوعات پر انہوں نے جس درد دل سے اپنا پر تاثیر قلم اٹھایا اور جس دلکش فطری اسلوب میں اپنا مشن صفحہ قرطاس پر منتقل کیا، اب شاید ہی اس جیسی سحر انگیز تحریر سے ہم بہرہ مند ہو (پروفیسر بخت ایاز خان، کے پی کے)
ذیل کا تاثر مولانا وحید الدین خان صاحب کے انتقال سے کچھ دنوں پہلے ایک نوجوان نے لکھ کر دیا تھا مولانا، میں نے آپ کی اکثر کتابوں کو پڑھا ہے۔ بہت کچھ سیکھا ہے اور بھی سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ نے پورے دل کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو ادا کیا ہے۔ اللہ کی مدد سے آپ نے الحاد(atheism) کے خلاف نہایت اہم کام کیا ہے۔ سائنسی دور میں آپ نے زمانے کو بڑا گہرا علم دیا ہے جس سے پورا عالم فیض یاب ہو رہا ہے۔ بہت آسان کر دیا ہے آپ نے الحاد کو جواب دینا، سائنس کی روشنی میں بھی اور عقل کی روشنی میں بھی۔ میں آپ سے مل نہیں سکتا اس لیے خیال آیا کہ خط کے ذریعے اپنے دل کی بات آپ تک پہنچادوں۔ میں نے اکثر لوگوں کو ایک غلطی کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ جب وہ کسی کو پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو اس سے متاثر ہو کر صرف اس کے استدلال کی، اس کے انداز بیان کی تعریف کرتے ہیں، پھر اس کو بھول جاتے ہیں، اس سے جڑتے نہیں۔ میں نے آپ کی کتابوں کو پڑھتے وقت اس سے بندھنے کی کوشش کی ہے۔ نیک انسان اللہ کی نعمت ہیں، آپ بھی اللہ کی نعمت ہیں۔ آپ بڑھاپے کو پہنچ گئے ہیں۔ اللہ کے پیغام کی دعوت آپ اپنے لرزتے ہونٹوں سے ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ سب محنت آپ کیوں کر رہے ہیں۔ یہ اس لیے کہ اللہ نے آپ کو اپنے علم و حکمت سے نوازا ہے، آپ اللہ کی تعریف کرنا چاہتے ہیں، آپ انسانوں کو اللہ تک پہنچانا چاہتے ہیں، آپ اللہ کی پہچان کرانا چاہتے ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی تعریف، شکر، معرفت حاصل کرنے اور انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں خرچ کر دی۔ میں سارے انسانوں کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں آپ کی والدہ کی لیے دعا کرتا ہوں کہ بڑی سنجیدگی سے انھوں نے آپ کی پرورش کی۔ آپ کے استاذوں کے لیے بھی اور ان سب لوگوں کے لیے بھی جنھوں نے آپ کا ہاتھ بٹایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے والد، والدہ، آپ کی ٹیم کا بڑی خوشی کے ساتھ استقبال کریں گے اور اپنے پڑوس میں بسائیں گے۔ (عبد الصمد خان، امروبہ)
تقریباً 2014 کے نصف ثانی سے مجھے مولانا وحید الدین خاں صاحب (2021-1925)
کی بطور معاون خدمت کرنے کا موقع ملا۔ مولانا کے آخری ایام میں آٹھ سے دس گھنٹے بھی میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔ مولانا سے میری سب سے پہلی ملاقات سی پی ایس علما ٹیم کے ذریعے غالباً 2012 میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں مولانا نے میرے بارے میں کہا تھا کہ یہ آدمی فرقان کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے:
This man doesn't know the art of differentiation. اس وقت سے میں برابر اس صلاحیت کے لیے دعا کرتا ہوں۔ مولانا سے بڑی بات جو مجھے سیکھنے کو ملی، وہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ ہر ایک سے لرننگ کے لیے تیار رہتے تھے۔ کی زندگی کا فارمولا تھا، جس پر وہ مکمل طور پر عمل کرتے تھے— سمپل لونگ، ہائی تھنکنگ۔ اگر کوئی مولانا کے پاس آتا تھا تو وہ ان سے پوچھتے تھے کہ’’کوئی آئٹم بتائیے‘‘۔ یعنی لرننگ کی کوئی میں نے کئی مرتبہ مضمون لکھتے وقت مولانا کی رائے کے خلاف اپنی رائے دی، وہ ان کو معقول لگی تو اپنی رائے کو ترک کر دیا، اور میری رائے کو اختیار کیا۔ یہ معاملہ صرف میرا نہیں ہے، ہر ایک کے ساتھ مولانا کا یہی طریقہ تھا۔ وہ ہر وقت اپنے خلاف تنقید کو معتدل انداز میں سنتے تھے۔ کسی کی تنقید سے وہ غصہ نہیں ہوتے تھے۔ اگر معقول تنقید ہوتی تو علمی رسپانس دیتے، ورنہ خاموش ہوجاتے، اور اس کے لیے دعا کرتے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ خدا میں جینے والے انسان تھے۔ خدا کی معرفت، گویا، ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ میرا مشاہدہ یہ تھا کہ وہ ہر ناخوشگوار واقعے میں ایک خوشگوار پہلو تلاش کر کے شکر میں جیتے تھے۔
ایک مرتبہ میں عمری ٹیم کے ساتھ مولانا کے پاس گیا۔ اس وقت وہ ایک چھوٹی سی پتی(leaf) اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے، جو درخت سے ٹوٹ کر گر گئی تھی۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر کہا: آئیے، یہ پتی
میں نے اس کے ذریعے ساری کائنات اور اس کے خالق کو ڈسکور کیا ہے۔ اس کو آپ سادہ طور پر ایک پتی مت سمجھیے۔ ایک پتی بنانے کے لیے یہ پوری کائنات بطور فیکٹری کام کر رہی ہے۔ سورج، گریویٹی، وغیرہ کا انتظام۔ تب جا کر یہ پتی تیار ہوتی ہے۔ اس میں اپنے مقصد کے اعتبار سے کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کا ڈیزائن پرفیکٹ ہے۔ یہ انسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پیدا کی گئی ہے، اس کو آسمان و زمین سے فوڈ حاصل ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ پتی ایک منصوبہ ساز خالق کا تعارف کرواتی ہے۔ میں آج صبح سے اس پتی کو ہاتھ میں لے کر غور و فکر کر رہا ہوں، اور معرفت کا فوڈ حاصل کر رہا ہوں۔
مولانا وحید الدین خاں صاحب کے پاس جو کچھ میں نے سیکھا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ان الفاظ کو استعمال نہیں کرتے تھے، جو اعلیٰ ذوق (اخلاق) کے خلاف ہو۔ ڈکٹیشن کے درمیان اگر میں کوئی ایسا لفظ بولتا جو مناسب ہو تو وہ اس کو رد کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک جملہ آیا جس میں غالباً ”ولد الزنا“ کا لفظ بھی لکھا جا سکتا تھا۔ میری زبان سے یہی لفظ نکلا، انھوں نے کہا، جملے کے اعتبار سے یہ لفظ ٹھیک ہے، مگر یہ اعلیٰ ذوق کے خلاف ہے۔ ایسا واقعہ کئی مرتبہ پیش آیا۔ اسی طرح اپنی تحریروں میں وہ ایک بات کا خاص خیال رکھتے تھے، یعنی وضوح (clarity)۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ کے ساتھ دیکھنے کا مزاج میں نے ان سے سیکھا ہے۔ میں مولانا کو ہر دن مختلف آیات اور احادیث کی تفسیر اور شروحات سنایا کرتا تھا، مگر مولانا اس کو سن کر سوچتے تھے، اگر بات واضح ہو تو لیتے تھے، ورنہ نہیں۔ دلائل کی بنیاد پر وہ باتوں کو لیا کرتے تھے، شخصیات کی بنیاد پر نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وہ چیزوں کو دلائل کی بنیاد پر لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرتے تھے، کہنے والے کی بنیاد پر نہیں۔
وہ ہر ایک سے خیر خواہی کا معاملہ کرتے تھے۔ کوئی مولانا پر تنقید کر رہا ہو، تب بھی وہ آفنڈ (offened) نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ اگر کوئی ان کے پاس رہنمائی کے لیے آتا تو جی جان لگا کر اس کی مثلاً ایک واقعہ یہ ہے کہ سی پی ایس سے وابستہ علماء کی ٹیم (جس کو مولانا عمری ٹیم کہا کرتے تھے) مولانا کے پاس استفادہ کی غرض سے آیا کرتی تھی ۔ اس ٹیم میں ایک صاحب کا نام عنایت اللہ عمری (بنگور) ہے۔ نام کی نسبت سے مولانا نے عنایت اللہ عمری صاحب کو مخاطب کرتے
ہوئے ایک مرتبہ کہا تھا کہ علامہ عنایت اللہ مشرقی مرحوم آکسفورڈ یونیورسٹی سے تحصیلِ علم کے بعد ہندوستان آ گئے۔ آکسفورڈ میں ان کے استاد مشہور سائنس داں سر جیمز جینز بھی تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد انھیں کسی غرض سے آکسفورڈ (برطانیہ) جانا ہوا۔ وہاں وہ اپنے استاد سر جیمز جینز سے ملاقات کے لیے گئے۔ سر جیمز جینز نے ان سے پوچھا کہ گھر پر کیا کرتے ہو، انھوں نے جو جواب دیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ دن کو کچھ کام کر لیتے ہیں، اور شام کو فیملی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ اس میں ان کی اسکالرلی مصروفیات کا کچھ خاص ذکر نہ تھا۔ اس پر سر جیمز جینز نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: