Inayatullah, live the life of a scholar.
Al-Risala, August 2021, pp. 105–111
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عالم کی زندگی گزارو۔ مولانا نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے ! آپ ایک عالم (scholar) کی حیثیت سے یہاں استفادہ کرنے آتے ہیں۔ تو آپ کو گھر جا کر بھی ایک عالم کی زندگی گزارنی چاہیے۔
اسی طرح ایک خاتون کا واقعہ ہے۔ وہ گھر بلوطور پر کافی پریشان تھی۔ وہ مولانا کے پاس آئی۔ نے اپنے تعارف میں یہ کہا کہ آپ کے فلاں سی پی ایس ممبر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی (نئی دہلی) میں میرے کلاس میٹ تھے۔ مولانا نے اس سے گفتگو کی، اور کچھ مشورہ دیا۔ اس کے بعد وہ چلی گئی۔ میں مولانا کو اس کے تعلق سے کچھ اہم رہنمائی یاد آئی تو اس خاتون کو فون کرنا چاہا، مگر خاتون نے فون نمبر نہیں دیا تھا، تو اس کے کلاس میٹ کو فون کر کے پوچھا۔ کلاس میٹ نے بتایا کہ یہ بہت پہلے کی بات ہے، مجھے یاد نہیں ہے، میں معلوم کر کے بتاتا ہوں۔ مولانا نے تاکید کی کہ آپ معلوم کر کے ضرور بتائیے۔ مذکورہ کلاس میٹ نے خاتون کا نمبر معلوم کیا، پھر مولانا نے اس سے بات کر کے اس کی مزید رہنمائی کی۔ مولانا کے پاس آنے والے ہر فرد کے ساتھ مولانا کا یہی معاملہ میں نے دیکھا ہے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ مولانا دیگر اکابر ملت کی طرح صرف ”تبرک“ کے لیے ملنا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے، اگر کچھ سیکھنا ہے یا خدا کی معرفت حاصل کرنی ہے تو مولانا ان سے ملنا بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس میں کسی کا کوئی امتیاز نہیں تھا۔
تنقید کے معاملے میں بھی مولانا کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کسی پر ذاتی اعتبار سے کوئی منفی بات نہیں کہتے تھے، اس کو وہ ”تعییب“ کہا کرتے تھے۔ اس کے برعکس، وہ اس کے علمی یا عملی غلطی کو واضح کرتے
تھے، جس کو تنقید کہتے ہیں۔ مولانا کے الفاظ میں، تنقید دراصل علمی تجزیہ (scientific analysis) کا دوسرا نام ہے۔ تنقید حقیقتًا وہی ہے جو علمی تجزیہ کے اسلوب میں کی جائے۔ جو تنقید علمی تجزیہ سے خالی ہو، وہ بلاشبہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی تنقید علمی اعتبار سے بے بنیاد ہے، اور شرعی اعتبار سے بلاشبہ ایسی تنقید ایک سنگین گناہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ‘‘ (الرسالہ، مارچ 2016)۔ وہی چیز ہے، جس کو قرآن وحدیث میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہا گیا ہے۔
دینی معاملے میں ایک قابل ذکر بات جو مولانا کے پاس دیکھنے کو ملی وہ اجتہاد کا معاملہ تھا۔ موجودہ زمانے میں جو تبدیلی آئی، اور اس بنا پر جس جرات کے ساتھ اجتہادی عمل کی ضرورت تھی، اس میں دوسرے علماء ناکام رہے۔ اس کا ریزن شاید ان کا خود ساختہ مقدس ماحول تھا، جس سے باہر نکل کر وہ سوچنا نہیں چاہتے تھے۔ مگر مولانا نے خود ساختہ تقدس کے اس ماحول سے اوپر اٹھ کر سوچا، اور انتہائی پریکٹیکل اجتہادی حل پیش کیا۔ اس کو مولانا کی کتاب، فکر اسلامی، اجتہادی مسائل، اظہار دین وغیرہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مولانا کا یہ اجتہادی عمل، میرے مطالعے کے مطابق، کوئی نیا عمل نہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب اسلام عرب سے باہر نکلا تو مسلمانوں کو نئے حالات پیش آئے۔ اس وقت صحابہ کرام نے حالات کی تبدیلی کو سمجھا اور اجتہاد کا عمل اختیار کیا تھا۔ اصحاب رسول حضرت عمر اور عبد اللہ بن مسعود وغیرہ۔ پھر ان کے بعد کے فقہائے اسلام نے منظم طور پر اس کام کا آگے بڑھایا۔ مثلاً امام ابو حنیفہ اور امام مالک، وغیرہ۔ اس کی تفصیل ابن القیم کی معروف کتاب اعلام الموقعین میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کا یہ اجتہادی عمل کوئی آخری عمل نہیں تھا، جس کے بعد کوئی دوسرا اجتہاد نہ کرسکے، بلکہ وہ اجتہادی پر اس کے لیے نقش اول کی حیثیت رکھتا تھا۔ نے تبدیلی حالات کو سمجھ کر جو کام کیا، وہ بھی اسی اجتہادی پر اس کا حصہ ہے۔
عام طور پر لوگ مولانا کو عقلیت پسند سمجھتے ہیں۔ مگر ایک عالم کی حیثیت سے میرا ذاتی تجربہ اس کے برعکس ہے، وہ قرآن وسنت کو پورے طور پر مانتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ عمری ٹیم مولانا کے پاس استفادہ کے لیے آئی ہوئی تھی۔ اس مرتبہ مولانا نے فیصلہ کن انداز میں ان سے کہہ دیا کہ اب آپ لوگ یہاں مت آئے گا۔ ٹیم کے ایک ممبر فیاض الدین عمری صاحب نے مولانا کو ایک حدیث سنائی جس میں ہے کہ تعلیم کے لیے آنے والوں کو نہ روکو، ان کو سکھاؤ (سَیَأْتِیکُمْ أَقْوَامٌ یَطْلُبُونَ الْعِلْمَ،
فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَقُولُوا لَهُمْ مَرْحَبًا مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاقْنُوهُمْ) سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 247۔ یہ حدیث سن کر مولانا نے فوراً اپنا ارادہ بدل دیا۔ اسی طرح ایک مرتبہ کا ذکر ہے۔ میں نے کوئی بات کہی جس میں حضرت ابوبکر صدیق کے لیے حضرت عمر کے مقابلے میں کمتری کا پہلو نکلتا تھا۔ انھوں نے فوراً میری بات رد کر دی، اور روتے ہوئے سختی سے کہا کہ آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ جو رسول اللہ کا ثانی اثنین ہو، اس کے بارے میں ایسا کہیں ۔ میں ہر دن مولانا کے پاس دن کو ساڑھے دس بجے آتا تھا۔ جب میں پہنچتا تھا تو مولانا سب سے پہلے یہ کہتے تھے کہ فلاں آیت کی تفسیر نکالیے، یا فلاح حدیث کی شرح سنائیے۔ یعنی کسی آیت یا حدیث پر کچھ لکھوانے سے پہلے تفاسیر اور شرحیں ضرور دیکھتے تھے۔
کچھ لوگ اس بات کی تشہیر کرتے ہیں کہ مولانا نے مہدی یا مسیح ہونے دعویٰ کیا تھا۔ نزدیک یہ انتہائی لغو قسم کی الزام تراشی ہے۔ دعویٰ کرنا تو دور کی بات ہے، میں نے مولانا کی زبان سے کئی مرتبہ یہ سنا ہے کہ ایسا دعویٰ کوئی پاگل انسان ہی کر سکتا ہے، کوئی سمجھ دار انسان ایسا نہیں کر سکتا۔ اس قسم کے دعویٰ کو وہ بالکل لغو خیال کرتے تھے، اور میں خود ان کے پاس تقریباً چھ سال تک رہ چکا میں نے کبھی کوئی ایسا دعویٰ ان کے منہ سے نہیں سنا۔ خدا کی معرفت میں جینا اور تمام انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ کچھ اور نہیں چاہتے تھے۔ مولانا کی معاونت کا موقع مجھے اس وقت ملا جب وہ جسمانی طور سے کمزور ہو گئے تھے۔ سے محبت اور دین کے تعلق سے ان کی محنت قابل رشک تھی۔ رات ہو یا دن ہر وقت اسی تعلق سے تدبر و تفکر کرنا ان کا طریقہ تھا۔ غلطی خواہ کسی کی ہو، وہ پہلے معافی مانگ لیتے تھے۔ ایک مرتبہ مجھ سے بھی معافی مانگی تھی حالانکہ معاملہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اپنے معاون کا بھی مولانا بہت خیال رکھتے تھے۔ سے ان کی زندگی کا فارمولا تھا، اپنی ذات میں آئیڈیل رہنا، لیکن دوسروں کے معاملے میں پرگیمیٹک یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اصول کا پابند رکھنا، لیکن دوسروں کے معاملے میں یہ دیکھنا کہ عملاً وہ کیا کر سکتے ہیں۔
اللہ ہم سب کو یہ توفیق دے کہ ہم لوگ مولانا کے مشن کو آگے بڑھائیں، آمین۔
مولانا وحید الدین خاں ڈاکٹر ذاکر فاز، سینئر کے اے ایس افسر، راجوری وحید الدین خاں (1921-1925) عالم اسلام کے معروف مفکر، مصنف، مقر، مفکر، عالم دین، داعی اور ماہ نامہ الرسالہ کے مدیر تھے۔ خدا کے وجود کو منطقی انداز میں ثابت کرنے کے قائل تھے۔ ان کی بیشتر کتابوں میں مذہب کا مقدمہ عقلی بنیادوں پر بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مضامین پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے مغربی سائنس دانوں اور فلسفیوں کی کتابیں باریک بینی سے پرکھی انھیں اچھی طرح علم تھا کہ اکیسویں صدی کا ذہن پرانی اور دھیانوسی باتوں سے مطمئن نہیں ہوگا، اسی لیے لکھتے وقت انھوں نے جدید سائنسی معلومات کی مدد سے خدا کے وجود کے حق میں دلائل پیش کیے ۔ اسی وجہ سے مولانا کی شخصیت کا یہ پہلو منفرد ہے اور کوئی عالم دین اس انداز میں دین اور دنیا کی تعبیر پیش نہیں کرسکا۔
خاں صاحب، پانچ زبانیں جانتے تھے۔ ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی کرتے تھے۔ طبقہ میں امن پسند مانے جاتے رہے ہیں۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انھیں دور کرنا ان کی تحریر کا مقصد رہا ہے۔ منطق پر انھیں عبور حاصل تھا۔ ان کی کتاب ” مذہب اور سائنس“ کا پہلا باب طریق استدلال کا مسئلہ اس ضمن میں ایک لاجواب تحریر ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی چیز کو کیسے مختلف طریقوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے اور بعض اوقات ہم ایسی چیزوں کا وجود بھی ثابت کر سکتے ہیں جن کے بارے میں براہ راست ثبوت موجود نہیں ہوتا۔
وہ ایک بزرگ رہنما کی طرح انسانوں کو جینے کا ڈھنگ سکھاتے نظر آتے ہیں۔ کتابیں راز حیات، کتاب زندگی، اسباق تاریخ وغیرہ نہایت ہی اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کا انداز تحریر بے حد دلچسپ ہے۔ دنیا جہان کے واقعات مولانا نے ان میں جمع کر دیے ہیں۔ صاحب لکھتے ہیں:
” الرسالہ (ماہ نامہ الرسالہ 1967ء) کے اجراء کے بعد سے جو کام میں کر رہا ہوں ، اس کا ایک
خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہا ہوں کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔ مولانا موصوف کی علمی اور دینی خدمات کا دائرہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ خاصی تعداد میں ایسی مستند کتابیں تحریر فرما چکے ہیں جن کا حوالہ سند کے طور پر دیا جاتا ہے۔ فکری اور دعوتی موضوعات پر مختلف زبانوں میں مولانا صاحب کی تصنیفات موجود ہیں۔ ان میں چند اہم اور مشہور کتابیں یہ ہیں تعبیر کی غلطی، مذہب اور جدید چیلنج، الاسلام، مذہب اور سائنس، پیغمبر انقلاب، احیاءِ اسلام، عقلیات اسلام، قرآن کا مطلوب انسان، دین کی سیاسی تعبیر، سوشلزم اور اسلام، ظہورِ اسلام، اسلامی زندگی، اسلام اور عصر حاضر، تفسیر تذکیر القرآن، عظمتِ قرآن، حقیقتِ حج، اللہ اکبر، زلزلہ قیامت، خاتون اسلام، رازِ حیات، تجدیدِ دین، اسلام دورِ جدید کا خالق، دین کامل، راہِ عمل، ہندوستانی مسلمان، کتابِ زندگی، ختمِ رسول کا مسئلہ، دعوتِ اسلام، دعوتِ حق، سفرنامہ اسپین و فلسطین، فکرِ اسلام، مطالعہ سیرت، مطالعہ قرآن، دین و شریعت، مسائل اجتہاد، مطالعہ حدیث، کشمیر میں امن، عورت : معمارِ انسانیت، امنِ عالم، دعوت الی اللہ، حکمتِ اسلام، کتابِ معرفت، اسلام اور خدمتِ خلق، اظہارِ دین، وغیرہ۔ مولانا کی کچھ تحریریں اور نظریات ایسے ہیں جن کی وجہ سے اہل علم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ بہت سی باتوں میں جمہور علماءِ اسلام سے الگ رائے رکھتے ہیں۔ جیسے اسوۂ کاملہ، جہاد، دجال، مہدی، فضیلتِ انبیاء کا مفہوم، ظلم کو برداشت کرنا اور جوابی کارروائی سے گریز کی تلقین، تقلیدِ شخصی، وغیرہ۔ مولانا کی زندگی کا ایک پہلو سیاسی مدبر کا بھی تھا۔ تقسیم ہند کے وہ خلاف تھے۔ جناح کے نظریات کے بھی ناقد تھے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی غربت کا ذمہ دار خود انہی کو سمجھتے مولانا نے ’تعبیر کی غلطی‘ میں مولانا مودودی کے سیاسی اسلام کے مقدمے کو بہت مدلل اور علمی انداز میں رد کیا ہے۔ جاوید احمد غامدی جیسے علماءِ کرام نے مولانا کے اس کارنامے کی تحسین کی ہے اور اسے اسلامی روایت میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ اس طرح فقہی مباحث میں انھوں نے جس خوبصورتی سے عصری و زمانی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا ہے یہ انہی کا شعوری مرتبہ، حوصلہ و جگر تھا۔ ہندوستان میں یکبارگی تین طلاقوں کے مسئلہ پر لوک سبھا سے لے کر قانونی و عوامی کٹہروں تک جو بھی مباحثے ہوئے، مولانا نے کمال فراست اور خوبصورتی سے روایت سے پورے استدلال
کے ساتھ نہ صرف راہِ اعتدال دکھائی بلکہ حقوقِ نسواں کی پاسداری بھی کی۔
مولانا صاحب کی زندگی کا اصل مشن اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کی اشاعت رہا۔ اللہ کا مطلب ہے اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد اب یہ ذمہ داری امتِ محمدی پر عائد ہوتی ہے۔ مولانا وحید الدین خاں خود لکھتے ہیں: ’’مسلمانوں کا مشن دعوتِ الی اللہ ہے۔ یہی عمل اس کی دنیا و آخرت کی فلاح کا ضامن ہے۔ عمل کو انجام دینے سے وہ اس کا مستحق قرار پاتا ہے کہ خدا کے یہاں امتِ محمدی کی حیثیت سے اٹھایا جائے اور یہی وہ عمل ہے جو دنیا میں اس کی حفاظت و کامیابی کو یقینی بناتا ہے۔ اس کام کو چھوڑنے کے بعد مسلمان اللہ کی نظر میں اسی طرح بے حقیقت ہو جائیں گے جس طرح یہود اپنی داعیانہ حیثیت کو چھوڑنے کے بعد اللہ کی نظر میں بے حقیقت ہو گئے۔ ‘‘ (ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 1997، ص 53) ملکی اور غیر ملکی سطح پر اسلامی دعوت کو عام کرنے کے لیے اور دعوتِ الی اللہ کے کام کو منظم طور پر کرنے کے لیے مولانا نے 1976ء میں نئی دہلی میں اسلامی مرکز قائم کیا۔ اور اسلامی مرکز کے ترجمان کے طور پر انھوں نے اکتوبر 1976ء میں ماہ نامہ الرسالہ جاری کیا۔ مولانا محترم نے غیر مسلموں کے تعلیم یافتہ طبقہ تک اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کو پہنچانے کے لیے ایک عظیم الشان دعوتی ادارہ سی پی ایس انٹرنیشنل نئی دہلی میں جنوری 2010ء میں قائم کیا۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، اس کا مقصد امن اور روحانیت کو فروغ دینا ہے۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ اس کا اصل نشانہ فکری انقلاب لانا اور انسان کو حقیقی انسان بنانا ہے۔
فکری اور دعوتی خدمات کے اعتراف میں مولانا کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ عام طور پر ان کو ایمبیسڈر آف پیس کہا جاتا ہے۔ ڈیمورگس بین الاقوامی ایوارڈ، سابق سوویت یونین کے صدر گورباچیف کے ہاتھوں دیا گیا۔ پدم بھوشن، قومی یکجہتی اعزاز، کمیونل ہارمنی اعزاز، قومی اتحاد اعزاز، ارونا آصف علی ( بھائی چاری ایوارڈ )۔ اس کے علاوہ بھی وہ کئی انٹرنیشنل ایوارڈز سے سرفراز ہو چکے تھے۔ رواں برس 2021ء میں حکومت ہند کی جانب سے امن و آشتی کا پیغام اور روحانیت کو فروغ دینے کے لیے پدم وبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کو عام کرنے کے لیے مولانا نے تقریر و تحریر کے علاوہ ہند وبیرون ہند کے متعدد اسفار کیے، جس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے پاکستان، لیبیا، لندن، سعودی عرب، مالدیپ، باربیڈوز، امریکہ، عرب امارات، ملایشیا، مراکو، بہام کو، رومانیہ، سوئزرلینڈ، افغانستان، یمن، اردن، سینیگال، روم، مالٹا، قاہرہ، کولمبو، اٹلی، اسپین، فلسطین، فرانس، عمان، بنگلہ دیش، سیول، قبرص، اسرائیل، پولینڈ، قطر اور ترکی وغیرہ کا سفر کیا۔ اور ان اسفار کے انھوں نے سفر نامے تحریر کیے جو ماہنامہ الرسالہ کے صفحات میں شائع ہوئے۔
مولانا اپنے نظریات کی بنیاد پر کئی بار تنازعات کا بھی شکار رہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کو علمی دلائل کے ساتھ قائل کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پوری زندگی خاموشی کے ساتھ اپنے قلم کے سفر کو جاری رکھا اور دین اسلام کے سچے داعی بنے رہے۔ وہ ایک اعتدال پسند، متوازن اور تعمیرانہ رخ اختیار کرتے تھے۔ اپنی سادگی اور بیباکی کی وجہ سے مولانا ہر طبقہ میں مقبول رہے ہیں۔ اپنے بارے میں لکھتے ہیں:
”میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ شاید فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری تفگیری زندگی کا ایک حصہ ہے جو الرساله يا كتب میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا نسبتاً غیر منظم ڈائریوں کے صفحات پر ہے“۔ (ماہ نامه الرساله)
وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کی وفات پر ٹوئٹر پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا: ”انھیں علم الہیات اور روحانیت کے معاملات پر بصیرت سے بھر پور علم کے لیے یاد کیا جائے مولانا سماج کی خدمت اور معاشرے کو با اختیار بنانے کے قائل تھے۔ ان کے کنبہ اور انگنت خیر خواہوں سے تعزیت“۔