Al-Risala · August 2021

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

Al-Risala, August 2021, pp. 111–147

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا موصوف اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے اور پھر وہ

اس مہم میں لگ گئے۔ مولانا موصوف کے مطالعہ کا خاص موضوع اسلام اور دورِ جدید ہے۔ مرحوم نے اپنی پوری زندگی زندگی اسلام کی ترویج واشاعت، تبلیغ وتفہیم اور اس کی وضاحت میں صرف کردی۔ وہ پائے کے عالمِ دین، مفکر، ادیب، انشا پرداز تھے اور مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ میں ان کا کام اور مقام سرسید، سید علی طنطاوی اور ڈاکٹر طہ حسین جیسے بڑے مفکروں سے کم نہیں تھا۔ عالمِ اسلام کے معروف مفکر، صحافی، ادیب، داعی اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا وحید الدّین خاں اب اس دنیا سے چل بسے۔ ان کی آخری دریافت قابلِ ملاحظہ ہے:’’اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔ یہی میری آخری دریافت ہے۔ ڈاکٹر محمد عقیل صاحب نے 15 سال قبل مولانا وحید الدّین خاں صاحب کا مجھ سے تعارف کرایا تھا، فجزاک اللہ خیراً۔ اس کے بعد میں اپنی طرف سے کوشش کرکے جہاں تک ہوسکا مستفید ہوتا رہا ہوں۔ مولانا وحید الدّین خاں صاحب دین کے خدمت کا ایک باب تھا جو اختتام کو پہنچا۔ مگر اُن کا کلام اور ان کی تصنیفات وہ روشنی ہے جو انہوں نے مختلف ذرائع سے موجودہ معاشرے کے لیے اور مستقبل کے نوجوانوں کے لیے اپنی وراثت میں چھوڑی یہ ہمیشہ رہنمائے ہدایت رہے گی، اور معاشرہ مستفید ہوتا رہے گا اور اُن کے مشن کو جاری رکھے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ تعالی ان کے کارِ خیر کو جاری اور ساری رکھیں اور معاشرہ مستفید ہوتا رہے۔ آمین (عبد الرشید خان)

انہوں نے قرآن کو حقیقی طور پر پڑھنا سکھایا۔ اب اللہ تعالیٰ ہمیں اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (سادنہ زیب، اسلام آباد)

امن اور مولانا وحید الدین خان اداریہ، روزنامہ سالار بنگلور، 23 اپریل، 2021 امن ایک نہایت مطلوب چیز ہے اور تشدد ایک قابل نفرت چیز۔ ساری دنیا امن سے محبت کرتی ہے اور تشدد کو برا جانتی ہے۔ کوئی مفکر اگر اسے اپنا مشن بنالے اور اس کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردے تو یقینی طور پر اسے جدید دور کی سب سے عظیم شخصیت قرار دیا جائے گا۔ اپنے ہم عصروں سے زبردست علمی اختلافات کے باوجود ہر حال میں اسلام کے امن و امان کے مشن کو عام کرنے میں ہندوستان کی عہد ساز شخصیت مولانا وحید الدین خان کا نام سر فہرست ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس میدان میں وہ اکیلے شہسوار تھے، جو ہندوستان جیسے ملک میں عدم تشدد کو کامیابی کے حصول کا واحد طریقہ سمجھتے تھے۔ وہ دعوتی اسلوب میں اپنی بات لکھنے اور کہنے کا وہی سلیقہ رکھتے تھے۔ اپنے قلم کے ذریعے نئی نسل کے سامنے اسلام کا تعارف جس خوبصورت انداز سے کرایا اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام کے قریب کرنے کا جو مثبت رویہ اختیار کیا، اس نے اپنی شناخت قائم کی اور ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا، ان کی فکر کے کسی گوشے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وہ دور حاضر کے عظیم ترین دانشوروں میں شمار ہوتے تھے، ان کی مختصر تحریریں قاری کو بہر طور متاثر کرتی تھیں۔ انھوں نے بہت منظم طریقہ پر اپنے دعوتی مشن کو مسلسل جاری رکھا، مخالف اور تیز ہواؤں کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ اپنے مشن کے چراغ کو جلائے رکھنے کا ہنر کوئی مولانا وحید الدین خاں سے سیکھے، وہ ہمیشہ سے مثبت سوچ کے حامی اور مبلغ رہے، ان سے بہت سے معاملات میں اختلاف رکھنے والے لوگ بھی ان کے علمی کمالات کے قائل رہے ہیں۔ ان کی امن سے متعلق خدمات کو بین الاقوامی سطح پر پہچان ملی تھی، انھیں جنوری 2021 میں پدم وبھوشن اور اس سے پہلے پدم بھوشن کے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا وحید الدین خان کوڈیمور گس پیس انٹرنیشنل ایوارڈ، راجیو گاندھی قومی سدبھاونا ایوارڈ اور قومی شہری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ ٹاؤن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی کی 2009 کی 1500 انتہائی با اثر مسلمان کی ایک حالیہ کتاب میں بھی ان

کا نام" دنیا میں اسلام کے روحانی سفیر" کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ وہ نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں میں بلکہ غیر مسلموں میں بھی مقبول رہے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان صاحب اس دنیا سے چہارشنبہ کی شب رخصت ہو گئے، جو ملت اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے۔ مولانا مرحوم اپنی سادگی، منکسر المزاجی اور ملنساری کی بدولت ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبول تھے۔ مولانا کو تقریر و تحریر دونوں میں ملکہ حاصل سادگی آپ کا خاص وصف تھا۔ سر پر عمامہ، ڈھیلے ڈھالے سفید رنگ کے لباس میں ملبوس رہنے والے مولانا وحیدالدین خان ایک بلند پایہ عالم دین، مقبول مفکر اور نامور صاحب قلم ہیں، انہوں نے اپنی دینی اور علمی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ قحط الرجال کے اس دور میں صاحب علم و کمال جیسی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور عالم دین، بہترین مصنف، دانشور، اور روحانی قائد ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی پرکشش شخصیت کے مالک تھے، اس سے بڑھ کر اخلاق کلہم عیال اللہ کے پاس دار تھے ان کی وفات یقیناً موت العالم موت العالم ہے۔ انہوں نے پوری زندگی احقاق حق و ابطال باطل کے لیے وقف کر دی تھی، مولانا مرحوم نے اپنے انفرادی انداز سے ملک و قوم کی جو ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ وہ بہت معقول انداز میں اپنا مدعا پیش کر کے قاری کو اسیر بنا لیتے تھے، علم جدید کا چیلنج جیسی شاہ کار تصنیف خان صاحب کے فکر و فن اور معروضیت کو سمجھنے کے لیے وافی شافی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحیدالدین خاں کا انتقال دراصل ایک عہد کے خاتمہ کے ساتھ ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے۔ پر واجب ہے کہ وہ مولانا مرحوم کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائے۔

جب جب مولانا وحیدالدین خان کے قرآن کے اردو و انگلش تراجم و دیگر کتب سے استفادہ کرتے رہیں گے انہیں دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔ ( واصف، لاہور)

مولانا سے ملاقات تو نہیں ہوئی تھی، لیکن وہ ہمارے دلوں میں خون کی طرح بستے رہیں گے ۔ تصانیف سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ ( مولانا فضل ربی، پاکستان)

علمی روایت کا بڑا آدمی اوریا مقبول جان، پاکستان بھارت کے شہر اعظم گڑھ میں یکم جنوری 1925ء کو پیدا ہونے والا آفتابِ علم ”مولانا وحید الدین خان‘‘، 21 اپریل 2021ء کو دلی میں ڈوب گیا اور میں باوجود، ارادہ، وسائل اور نیتِ شوق، بوریا نشین علماء جیسے ملبوس زیب تن کیے اور علم کی چمک سے روشن آنکھوں والے شخص کی براہِ راست ایک جھلک دیکھنے سے بھی محروم رہا۔ آج سے تقریباً چالیس سال قبل جب مولانا وحید الدین خان کی کتاب ”رازِ حیات‘‘ میرے ہاتھ آئی تو اس کا سحر ایسا تھا جیسے کوئی گھٹا ایک سمت سے چڑھے اور پھر پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لے، اور اس کے اندر کھڑے ہوئے ایک فرحتِ پایا کا احساس آپ کو سرمستی کے عالم میں لے جائے۔ میں سوچتا تھا کہ کتاب کا یہ حال ہے تو صاحبِ کتاب کی صحبت کا عالم کیا ہوگا۔ میں اس سے پہلے ایک انتہائی حسین تجربے سے گزر چکا تھا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد جب میں اچھرہ میں ان کی محفل میں پہلی دفعہ شریک ہوا تو مجھے یوں لگا جیسے میں یک دم ان کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں۔ سے نظریں اٹھانے کو جی نہیں چاہتا تھا اور گفتگو کا سحر ایسا، جس کے ٹوٹنے کا خوف ہی مجھے مزید ان کی جانب متوجہ کرتا چلا جا رہا تھا۔ مولانا وحید الدین خان کی ویڈیو گفتگو جب میں نے سننا شروع کی تو مجھے اپنی مجبوریوں کا احساس شدید ہوتا چلا گیا۔ میں چاہتا تھا، یہ شخص اس ٹیلی ویژن سیٹ سے باہر نکل آئے، میرے سامنے کرسی پر آ کر بیٹھ جائے اور میں زمین پر بیٹھ کر مبہوت ہو کر اس کی گفتگو سنوں، اس سے سوال کروں، میرے ساتھ مشتاقانِ علم کا ایک ہجوم ہو جو اسی طرح اسے سن رہا ہو، سوال کر رہا ہو۔ سوچتا ہوں کہ میں اگر اس کے شہر میں موجود ہوتا تو میری حالت اس طالبِ علم کی سی ہوتی جو یوں تو حسن بصری کے مدر سے کا خوشہ چیں ہوتا، لیکن چھپ کر وقت نکالت اور معتزلہ کے امام واصل بن عطاء کی باتیں سننے چلا جاتا۔ علی گڑھ میں ڈگری کے حصول کے لیے داخل ہوتا، لیکن شام میں مولانا محمود الحسن کے دیوبند میں گزارتا اور علم کی پیاس بجھاتا۔

مولانا وحید الدین خان سے اتنی بندشوں کے باوجود بھی جو علم مجھے ملا ہے وہ اتنا بڑا سرمایہ ہے کہ

میں اس کا مکمل احاطہ تک نہیں کر پاتا۔ بے شمار دفعہ ایسا ہوا کہ جدید دور کے وہ سوالات جو سائنس اور الحاد نے اسلام کے متعلق اٹھائے ہیں، ذہن سے ٹکرائے تو ایک ہی نام سامنے آتا، اور جستجو اس تک مولانا وحید الدین ۔ کیا خوب عنوان ہے ان کی ایک کتاب کا ’’اسلام دور جدید کا خالق‘‘۔ کاش ہم اسلام کے دور جدید کو دریافت کر سکتے۔ [بشکریہ روزنامہ 92] کہاں ڈھونڈے گا زمانہ اب ایسا ساقی جو رندوں کو مئے حق کا پرستار کرتا تھا کتنے ہی علم کے متلاشی اس کے در پر صدا لگاتے تھے، وہ مراد کو انجام کرتا تھا وہ شخص اس دور خود غرضی میں بھی انساں کو انساں کا حق شناس کرتا تھا وہ دیتا تھا انساں کو اخلاق کا شعور پھر فکر علم کو اخلاق پر استوار کرتا تھا وہ پیامبر تھا اس رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ انساں کو خدا کا مرید کرتا تھا وحشت و دہشت کی بے مراد وادی میں جگنو بنتا تھا، شعورِ علم بیدار کرتا تھا وہ الحاد کی مبہوت زدہ وادیوں میں توحید و آگہی کی بستیاں آباد کرتا تھا وہ دیتا تھا مسلم کو دینِ حق کا شعور مشکِ قرآں سے عقیدوں کو سیراب کرتا تھا زِیَّد اب ڈھونڈ کوئی چراغِ زیبائی لے کر وہ نہ ملے، جو امن و علم کی بات کرتا تھا (زیّد ابن ریاض، پاکستان)

مولانا وحید الدین خاں امجد اسلام امجد، پاکستان یہ بات تو ہم سب نے بہت دفعہ پڑھی اور سنی ہے کہ ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت کی تمثیل بن جاتی ہے۔ لیکن عملی طور پر اس احساس کی شدت کبھی کبھار ہی اس تاثر کو وہ رنگ دے پاتی ہے کہ آپ کو لفظ اور معانی ایک دوسرے کی ایسی بھرپور گواہی دیتے نظر آئیں، جن سے اس دعوے کی مکمل تائید ہوتی، ہو ورنہ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ مرحوم کی پہلی برسی سے پہلے پہلے بیشتر لوگ جانے والوں کے نام تک بھول جاتے ہیں۔ البتہ جہاں تک حال ہی میں سفر آخرت اختیار کرنے والے مولانا وحید الدین خان صاحب کا تعلق تو میرے خیال میں ہر اہل نظر اس بات کی کھل کر تائید کرے گا کہ مولانا اس وقت اسلامی دنیا بالخصوص برصغیر کے مسلمان علما میں سب سے معتبر اور توانا شخصیت اس عہد کے ایک اور جید اور بڑے عالم جاوید احمد غامدی کا اُن کے بارے میں ایک بیان آج ہی فیس بک پر نظر سے گزرا، جس میں انھوں نے مولانا مرحوم کے علمی مقام اور مذہبی خدمات پر جس محبت اور فراخدلی سے پر توصیف روشنی ڈالی وہ سننے کے قابل تھی۔

بلاشبہ مولانا مودودی کے بعد اپنی تصانیف کی تعداد، موضوعات اور معیار کے حوالے سے کوئی دوسرا عالم دین ہمیں اُس رُتبے پر نظر نہیں آتا جس پر مولانا وحید الدین فائز تھے۔ جدید دور میں اسلام اور قرآن کی تفسیر اور تفہیم اور اس کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں کا جس مہارت، خوبی، وضاحت سے مولانا نے جواب دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

یوٹیوب کی معرفت اُن کے بہت سے وعظ، لیکچر اور گفتگوئیں سننے کا موقع ملا ہے۔ غامدی صاحب کے احساس دلانے پر خیال آیا ہے کہ واقعی رب کریم نے اُن کو ایک ایسی منفرد، میٹھی، پر اثر اور دل کو موہ لینے والی آواز عطا کی تھی کہ اُن کی آواز اپنے مطالب و معانی سے ہٹ کر بھی اپنے اندر ایک عجیب کشش رکھتی تھی کہ بہت کم مردانہ آوازیں اور وہ بھی تحت اللفظ میں اتنی خوب صورت ہوتی ہیں کہ بقول شاعر وہ کہیں اور سُنا کرے کوئی۔ ابھی ابھی میں نے اپنی یادداشت تازہ

کرنے اور مولانا کی کچھ تصانیف کے بارے میں معلومات مرتب کرنے کی خاطر اُن کی کچھ ریکار ڈنگز کو پھر سے سننے کی کوشش کر رہا تھا، یقین کیجیے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آدمی اُن کی علمیت کی داد دے یا اندازِ بیان کی یادل میں اُترتی ہوئی اس آواز کی، جس کے ہر طرف دانش ہی دانش دامن کش ہو رہی

ممکن ہے اس کی وجہ بھارت میں رہتے ہوئے عوام وخواص اور پیرو جوان کے ہر طبقے سے بیک وقت رابطے کی ضرورت ہو لیکن مذہب، اخلاق، انسانی اقدار اور بعض پیچیدہ مسائل پر گفتگو کے دوران وہ عام بول چال میں انگریزی کے الفاظ ایسی کثرت لیکن ایسی خوبصورتی اور مہارت سے استعمال کرتے ہیں جو بظاہر اُن کے مولویانہ تشخص اور حلیے سے بالکل میل نہیں کھاتے۔ مگر ان کے منہ سے اس قدر اچھے لگتے ہیں کہ ابلاغ پر اُن کی گرفت اور مہارت کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کس طرح Art of thinking پر بات کرتے ہوئے وہ قرآن مجید، اسلامی تعلیمات، حیاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات کے ساتھ برٹرینڈ رسل، گاندھی جی، سچن ٹنڈولکر اور بی جے پی کے فلسفی رہنما کی مثالوں کو ایک دوسرے سے اس طرح آمیز کرتے چلے جاتے ہیں کہ مذاہب اور نظریات کا فرق اور زمان ومکان کے الجھے ہوئے مسائل دو اور دو چار کی طرح سمجھ میں آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ میں انھوں نے ”الرسالہ“ میں ہر طرح کے مسائل سے متعلق جن عالمانہ مباحث اور مضامین کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا صرف اُن کے انتخاب پر مشتمل دو سو کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ سلمان رشدی کا معاملہ ہو یا بابری مسجد کا، صلح حدیبیہ کا پس منظر ہو یا سورۃ المدثر کی تفسیر، مخلوق کے علم کی محدودیت کی بات ہو یا خالق کائنات کی قدرت کی لامودویت، عام آدمی کے ٹوٹے پھوٹے سوال ہوں یا کسی ماہر فن کے ٹھوس استدلال ہر جگہ اور ہر موقعے پر مولانا کا میٹھا، دھیما اور عالمانہ ہوتے ہوئے عوامی لہجہ سیدھا آپ کے دل میں اُترتا چلا جاتا ہے۔

حکومت ہند نے انھیں پدما وبھوشن کا اعزاز بھی دیا لیکن اُن کا اصل اعزاز دین سے متعلق فکر کو واضح کرنا ہے، سلیقے اور مہارت سے اپنی بات کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔ جس کے لیے بلاشبہ وہ ہمیشہ علمائے حق کی صف اول میں شمار کیے جائیں گے۔ [ مضمون نگار اردو دنیا کے مشہور شاعر اور ڈرامہ نگار ہیں، بشکریہ روزنامہ ایکسپرس]

مولانا وحید الدین خاں: آفتاب علم وعرفاں افضال ریحان، پاکستان آفتاب علم وعرفاں، حضرت مولانا وحید الدین خاں ایک بھر پور زندگی گزارنے کے بعد دہلی سے اُس ملک عدم تشریف لے گئے ہیں جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں لوٹ سکتا۔ 2021ء، 8 رمضان المبارک بروز بدھ انڈین ٹائم کے مطابق رات پونے دس بجے کو رونا کے باعث حضرت مولانا اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ مولانا سے بڑی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ دو چار ہفتے امن وسلامتی کے روحانی مرکز میں مولانا کے ساتھ گزارے جائیں کئی مرتبہ پروگرام بنا پھر رہ گیا۔

2006 میں سیفما ڈیلی گیشن کے ساتھ دہلی اور حیدر آباد دکن جانے کا موقع ملا تو دیگر سرگرمیوں کو ترک کر کے کر مولانا سے ملاقات کی تیاری کی۔ کیونکہ نا چیز کی ہند یاترا کا اصل مدعا ہی مولانا سے ملاقات تھی، اور اُنہیں اس سلسلے میں آگاہ کر رکھا تھا۔ جس وقت میں مولانا کی رہائش گاہ پر پہنچا، وہ آرام کے لیے بالائی منزل پر تشریف لے جا چکے تھے۔ اطلاع ہونے پر وہیں بلا لیا، مولانا سے یہ ملاقات زندگی کا بہترین اثاثہ ہے ۔ یہ انمول لمحات کبھی بھول نہیں سکتا ۔ اُن سے ملاقات کے دوران جو باتیں ہوئیں وہ اگر چہ روایتی مولویانہ اسلوب و موقف سے ہٹ کر تھیں مگر راز حیات ہی نہیں حاصل زندگی کہی جاسکتی ہیں۔ میرے لیے حضرت مولانا، سرسیدثانی کی حیثیت رکھتے تھے۔ 2004 میں درویش کی پہلی کتاب اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب حریف یا حلیف؟ شائع ہوئی ۔ اس کا دیباچہ لکھوانے کے لیے مسودہ حضرت مولانا کے پاس دہلی بھیجا تھا، فون پر بات ہوئی تو بولے میں نے تمام مسودہ حرف بہ حرف پڑھا ہے، اس پر دیباچے کی کتنی گنجائش ہے؟ کی، مولانا ڈھیر ساری گنجائش ہے۔ آپ وضاحت سے لکھیے تب مولانا نے جو کچھ لکھا، وہ ان کی یادگار تحریروں میں سے ایک ہے (دیکھیے الرسالہ دسمبر 2004 بعنوان: دیباچہ، صفحہ 27-16)۔ تحریروں پر بات کی جائے تو وہ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، ان کی خالص الہیات کو ایک جانب رکھ

دیا جائے پھر بھی شعور کو جلا بخشنے والے افکار منفرد ہیں، جیسے کوئی مولانا نہیں ماہر نفسیات بول رہا ہو۔ بلاشبہ بہت سے لوگ ان سے اس بنا پر محبت کرتے ہوں گے کہ انہوں نے قرآنی تفسیر، احادیث اور بالخصوص سیرت پر بھر پور کام کیا لیکن ساتھ ہی ایسے افراد کی بھی کمی نہیں، جوان کی اس ساری کاوش کو غصے سے دیکھتے ہوں گے کہ انہوں نے سوچوں کے نئے درچے کیوں واکیے؟ اس طرح فقہی مباحث میں انہوں نے جس خوبصورتی سے عصری و زمانی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا ہے یہ انہی کا شعوری مرتبہ، حوصلہ و جگر تھا۔ ہندوستان میں یکبارگی تین طلاقوں کے مسئلہ پر لوک سبھا سے لے کر قانونی و عوامی کٹہروں تک جو بھی مباحثے ہوئے، مولانا نے کمال فراست اور خوبصورتی سے روایت کو پورے استدلال کے ساتھ نہ صرف راہ اعتدال دکھائی بلکہ حقوق نسواں کی پاسداری بھی کی۔ مذہبیت کو قائم و دائم رکھتے ہوئے آپ کیسے لبرل، سیکولر اور سوسائٹی کے لیے کار آمد انسان بن اس رمز کو جس خوبصورتی سے مولانا صاحب نے کھولا ہے فی زمانہ شاید ہی کوئی دوسرا اس نوع کا کارنامہ سر انجام دے سکے۔ مولانا نے زندگی بھر منافرت و اجنبیت کی دیواریں توڑیں اور محبت و اپنائیت کے پل تعمیر کئے۔ انہوں نے ہندو مسلم کے درمیان کھودی گئی گہری کھائی کو پٹنے کی کاوش فرمائی۔ مغرب اور عالم اسلام میں موجود فکری دونی کو مٹانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں وہ زندگی بھر مدر ٹریسا، رسل اور ٹیگور کی مانند محبتیں بانٹتے رہے۔ درویش نے ایک مرتبہ آرٹیکل لکھا تھا دورِ حاضر کی پانچ بڑی شخصیات، مولانا ان میں سے ایک تھے۔ مسلمانوں میں ان کا کام اور مقام سرسید، سید علی طنطاوی اور ڈاکٹر طاہر حسین جیسے بڑے مفکروں سے کم نہیں تھا۔ آج وہ گئے ہیں اور یقیناً انہوں نے جانا ہی تھا تو وہ قلبی طمانیت سے گئے ہیں اور اس قول کی مطابقت میں گئے ہیں کہ میرے سامنے کسی کی برائی نہ کرو تا کہ میں دنیا سے جاؤں تو میرا دل کسی سے کھٹا نہ ہو۔ ان کی آخری دریافت قابل ملاحظہ ہے— اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔ یہی میری آخری دریافت میں مولانا کی انسان نواز فکر و سوچ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ [بشکریہ: روزنامہ جنگ]

عجیب شخص تھا حیران کر گیا سب کو ڈاکٹر محمد وقار عالم ، سی پی ایس (نیو یارک)، امریکہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں جب کہ سائنس اور تمدن اپنے عروج پر ہے، روایتی مدرسے کا ایک طالب علم صدیوں پیچھے جا کر خدا کو تلاش کرتا ہے اور موجودہ صدی کے طالب علم کے سامنے خدا کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ اس طالب علم کا نام مولانا وحید الدین خان آج خدا کا متلاشی صدیوں پیچھے جا کر اگر خدا کو پا بھی لے، تو اسے اپنے دور میں فٹ نہیں کر پاتا۔ دو یا تین جوڑے کپڑے، ایک عمامہ اور ایک جوتا پہن کر دنیا بھر کا سفر کیا۔ فرش پر سونے والا اور سادہ کھانا کھانے والا خلیج کے ایک شاہ کا مہمان ہونے پر شاہی بستر، کھانا اور آسائشیں برداشت نہ کرسکا اور ان نعمتوں کو چھوڑ کر گھر واپس چلا گیا۔ یہ رویہ ایک عام انسان کا نہیں ہو سکتا، یہ وہی انسان کرے گا جسے اپنا خدا مل چکا ہو۔ نیو یارک میں میرے گھر میں قیام کے دوران سختی سے ہدایت کی تھی کہ جو عام دنوں میں پکتا ہے وہی پکے گا۔ یہ فقیر اور اللہ کا دوست اپنے پیچھے علم کا ایک ایسا خزانہ چھوڑ گیا جو ہر متلاشی دین اور خدا کی پیاس بجھا تا رہے گا۔

قدیم علم اور جدید فکر کو ایک ایسے سنگم پہ لاکھڑا کیا کہ آج کے طالب علم کو ہر سوال کا جواب مل مولانا محترم بیسوی صدی سے اکیسویں صدی میں جدید علم سے مسلح ہو کر داخل ہوئے تھے، جس کی گواہ اُن کی کتابیں ہیں۔ آپ نے جدید علوم کو کھنگال ڈالا اور بجائے منفی خیالات کے آپ نے اپنے کھلے ذہن سے اسے دین کے قریب پایا اور دنیا کو سمجھایا کہ سائنس خدا کو تلاش کرنے اور اسے پانے میں مدد دیتی ہے۔ درست سوچ اور سچ کو سچ سمجھ کر اس پر ڈٹ جانے والے اس شخص نے زمانے سے سمجھوتے کے بجائے اسے درست سمت میں چلنے کا طریقہ اور حوصلہ دیا، چاہے وہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا معاملہ ہو یا بابری مسجد کا مسئلہ، مولانا نہ صرف اصولی موقف پر کھڑے رہے بلکہ عوام کے لیے انتہائی مدلل انداز میں اپنے موقف کو تحریری شکل میں پیش بھی کیا ، مولانا محترم کے بہت سے عظیم کاموں میں ایک بڑا کام یہ ہے کہ انہوں نے غیر مسلم

معاشرے میں رہنے والے دعوتی اذہان کو ایک مدلل اور درست سمت فراہم کی۔

مولانا کا ایک منفرد انداز تھا کہ وہ عام واقعات سے سبق حاصل کرتے اور دوسروں تک اس طرح پہنچاتے کہ بڑے سے بڑے مسئلے کا حل آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔ آپ ایک صفحی رائٹر تھے جو ہر مسئلے کو ایک صفحے پر آسانی سے بیان کرتے اور اسی میں اس کا حل بھی موجود ہوتا تھا۔ ماہنامہ الرسالہ اس کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ آپ تقویٰ پرہیز گاری اور سادگی کا مجموعہ تھے۔ دینی علم کی دنیا میں آپ کی تحریریں نہ صرف جامع مدلل اور مکمل ہوتی تھیں، بلکہ اردو ادب میں بھی اپنا ایک مقام رکھتی ہیں۔ نے خدا، انسان اور آخرت کے موضوع پر اتنا کچھ تحریر کیا ہے کہ آنے والی کئی صدیوں تک لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں گے، مولانا محترم نے انتہائی آسان زبان اور تذکیری انداز میں قرآن کی تفسیر لکھی جسے پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ قرآن ہم سے ہی مخاطب ہے۔ ان گنت کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں کی تعداد میں مضامین جو ماہنامہ الرسالہ کی زینت بنے، وہ آنے والے برسوں میں اُس وقت کی تحریریں گے اور لوگ ان سے مستفید ہوں گے۔

جدید علوم اور مذہبی انتشار کے سنگم پر کھڑی اس دنیا کو مولانا نے اپنی تحریروں سے ایک درست آپ کی کتابیں اسلام اور عصر حاضر، عقلیات اسلام، مذہب اور جدید چیلنج، مذہب اور سائنس، اظہارِ دین اور کتاب معرفت اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

بے شمار بین الاقوامی ایوارڈ ز اور دنیاوی پذیرائی کے باوجود مولانا محترم عاجزی اور سادگی کا آپ کی ایک عجیب خوبی یہ تھی کہ روزانہ پیش آنے والے سبق آموز واقعہ کو ڈائری میں لکھتے چاہے اپنے گھر میں ہوں یا سفر میں۔ ایک مرتبہ آپ نے مجھ سے پوچھا:’’وقار صاحب آپ کبھی مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھتے‘‘۔ میں نے کہا کہ’’مولانا، مجھے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے اسی لیے میں آپ کے ساتھ شامل ہوا ہوں‘‘۔ تو آپ مسکرا دیے۔ آپ کی تمام زندگی خدارخی زندگی صدی کے اس عظیم مفکر، رہنما، داعی اور مجدد کی کمی محسوس ہوگی لیکن آپ اپنی تحریروں کی شکل میں ہمیشہ ہمارے درمیان زندہ رہیں گے۔

مولانا اور میرا ساتھ صرف دس سالوں پر محیط ہے لیکن اس سفر کے دوران وہ چند لوگ جن کی تربیت بچپن سے ہی مولانا کی تحریروں نے کی ان میں ایک قابل ذکر نام شبانہ انصاری کا ہے جنہوں

نے میرے کہنے پر مولانا کی تحریروں کو اپنی خوبصورت آواز میں ریکارڈ کیا جو آج مغرب میں اردو سمجھنے والے افراد کے لیے ایک بیش بہا خزانہ ہے۔

اگر زندگی نے ساتھ دیا تو ان شاء اللہ مولانا کی تحریروں کو آنے والی نسلوں کے لیے صوتی کتب اور ڈیجیٹل کتب کی شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس وقت تک کی تمام کاوشیں یوٹیوب پر CPS USA کے چینل پر مولانا کی تقریروں اور Amazon پر eBook کی صورت میں موجود جن میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

نئی دہلی: مشہور اسلامی اسکالر اور عالم اسلام کی معروف شخصیت اور الرسالہ کے مدیر مولانا وحید الدین خاں کا 21 اپریل کو دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ کی عمر تقریباً 96 سال تھی۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ مولانا وحید الدین خاں کافی عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔ کچھ دنوں قبل انھیں دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی پیدائش یکم جنوری 1925 کو اعظم گڑھ کے دور افتادہ گاؤں بڈھیریا میں ہوئی تھی۔ عربی، انگریزی، اردو اور دیگر زبانوں پر انھیں عبور انھوں نے اسلام پر کتابیں لکھنے کے علاوہ تفسیر بھی لکھی اور درجنوں اصلاحی کتابیں تصنیف کیں۔ مولانا کے انتقال سے عالم اسلام اور دنیا ایک بہترین اسکالر سے محروم ہو گئی ہے۔ مولانا نے 'الرسالہ' نکال کر منفی سوچ سے مثبت سوچ کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ان کی حیثیت ایک مصلح کی تھی۔ وہ ہمیشہ مثبت رخ پر چلنے کا مشورہ وہ کچھ عرصے تک جمعیۃ علمائے ہند کے ہفت روزہ اخبار الجمعیۃ سے بھی بہ حیثیت ایڈیٹر وابستہ رہے۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، دہلی، 22 اپریل 2021، ماہنامہ اردو دنیا، جون 2021، صفحہ 86)

دل میں نفرت نہ ہو امجد احمد، سی پی ایس (رائچور)، کرناٹک ایک حدیث رسول ہے، جس کے راوی صحابی رسول انس بن مالک ہیں۔ اس کا مفہوم اس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بیٹے میری ایک عظیم سنت ہے۔ اس سنت سے پیار کرے گا وہ مجھ سے پیار کرے گا جو مجھ سے پیار کرے گا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ حضرت انس نے عرض کیا خدا کے رسول وہ کیا ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا، میرے بیٹے سن، کسی سے نفرت نہ کرنا، کسی سے بغض نہ رکھنا، کسی کا کھوٹ دل میں نہ رکھنا۔ یہ میری وہ عظیم سنت ہے جو اس سے پیار کرے گا وہ مجھ سے پیار کرے گا اور جو مجھ سے پیار کرے گا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2678)۔ میری ذاتی رائے ہے کہ اس حدیث رسول کا مصداق میں نے مولانا کو پایا ہے۔ مولانا کے لٹریچر کا مطالعہ اور شخصی ملاقاتوں نے میرے یقین کو اور مولانا کے قول اور فعل میں کوئی تضاد میں نے نہیں پایا۔

مولانا کے ساتھ مسلسل ربط نے میرے ذہنی شاکلے کو بدل دیا۔ آج میں ایک بدلا ہوا انسان بقول مولانا دعوت ایکٹوزم (dawah activism) ہمارے لیے ماسٹر اسٹروک (master stroke) اور شاہ کلید ہے اور اس کام کو کرنے کی لازمی شرط جو ہم کو ادا کرنی ہے، وہ یہی ہے کہ ہمارے اندر سارے انسانوں سے محبت اور خیر خواہی ہو کسی سے ذرہ برابر بھی دل میں نفرت نہ ہو ۔ مولانا سے سب سے بڑی بات جو میں نے سیکھی وہ یہی ہے اور یہی میری زندگی کا حاصل و نچوڑ ہے۔

مولانا کے مسلسل مطالعہ سے میں یقین کے درجہ میں اس بات کو سمجھ گیا ہوں کہ اس دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز نفرت سے خالی ہونا، اور دعوت ایکٹوزم کو اختیار کرنا ہے۔ مولانا کا یہ مشن عموماً سارے مسلمانوں اور خصوصی سی پی ایس کے ساتھیوں کے لیے گویا ایک ریمائنڈر کال (reminder call) ہے۔

میں نے مولانامحیدالدین خاں سے کیا سیکھا مظہر جمیل رشیدی، ممبئی میرا مولانامحیدالدین خاں سے غائبانہ تعارف ان کی کتاب"مذہب اور جدید چیلنج" کے ذریعہ ہوا تھا (بعد میں دو مرتبہ مجھے مولانا سے براہ راست ملاقات کا موقع بھی ملا)۔ شعوری طور پر وجودِ خدا کو ماننے میں مجھے تردد تھا۔ اس لیے نہیں کہ خدا کے انکار کے لیے میرے پاس کوئی اہم دلیل تھی۔ اس کی بنیادی وجہ مذہبی لوگوں کا رویہ اور کردار تھا۔ مذہب اور جدید چیلنج کو پڑھنے کے بعد شعوری طور پر میں خدا کا اس کے بعد میں نے مولانا کی مزید کتابیں پڑھیں۔

"کاروان ملت" پڑھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان اور اسلام میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ کاروان ملت میں مولانا نے بتایا کہ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کی خدا سے بغاوت کرنے کی دواہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک خدا کی ملحدانہ تعبیر اور دوسری مذہبی افراد کا کردار۔ مذہب اور جدید چیلنج پہلی وجہ کا علمی تجزیہ ہے۔ اور "کاروان ملت" دوسری وجہ کا تحقیقی اس کے علاوہ میں نے مولانا سے جانا کہ مسلمان داعی ہیں اور غیر مسلم مدعو۔ یہی وہ معیار ہے جس پر مسلمانوں کی دنیاوی اور اخروی کامیابیوں کا انحصار ہے۔

مگر مسلمانوں نے اپنی اس ذمہ داری کو عملاً فراموش کردیا۔ اور اپنے مسائل کی تلافی کے لیے انھوں نے مختلف قسم کے لائحہ عمل تیار کئے ۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھئے تو ہر لائحہ عمل نے مسلم مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کو مزید نئے مسائل میں مبتلا کردیا۔ اور اس کی بنیادی وجہ تشخیص کی مولانا نے اپنی کتاب "راز حیات" میں ایک مضمون بعنوان " بڑا کام" کے تحت ولیم بلیک (William Blake) کے درج ذیل اقتباس کو نقل کیا ہے:

Great things are done when men and mountains meet. This is not done by jostling in the street. عظیم کام اس وقت ہوتے ہیں جب انسان اور پہاڑ ملتے ہیں۔ کوئی عظیم کام سڑک پر دھکم دھکا کرنے سے نہیں ہوتا۔

مسلمانوں نے مختلف طریقوں سے اس ’’دکھم دھکا‘‘ پر پوری طاقت لگا کر عمل کیا ہے۔ انھوں نے کبھی اپنے آپ کو وہ انسان نہیں بنایا جو پہاڑوں کو فتح کرنے کے لیے درکار ہے۔ اپنا جھنڈا لہرانے کے لیے محنت، مستقل مزاجی اور ہمت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اقوام عالم کے دلوں میں اسلامی جھنڈا لہرانے کے لیے داعی الی اللہ والی صفات محبت، صبر، اور قربانی کی ضرورت جسمانی قربانی نہیں بلکہ جذبات، انتقام، منفی احساسات، دوسروں کی ہدایت کے لیے مادی حقوق کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔ (ظہورِ اسلام ص 297)

مولانا نے اپنا پورا مشن ہی اسی ذمہ داری کا احساس دلانا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس کو دوسرے لفظوں میں احیاء اسلام کا مشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ باقی مولانا کا تمام کنٹریبیوشن اسی احیاءِ اسلام کے ارد گرد گھومتا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں سے متعلق جو باتیں محسوس کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان ابھی شاعرانہ دور میں جی رہے ہیں۔ ان کی تحریروں اور تقریروں میں حقیقت پسندی سے زیادہ شاعرانہ رنگ غالب ہے۔ شاعری کا دوسرا صحیح نام غیر حقیقت پسندی ہے۔ اس کو مولانا غیر سائنٹفک مزاج کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ (ڈائری 21 جون 1990) میں نے مولانا کی تقریباً تمام کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر دوسرے مصنفین کے برعکس ان کی کتابوں میں شاعری کی کوئی قابلِ ذکر مقدار موجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ شاعری سرے سے ہے ہی نہیں۔ مسلمانوں کو مولانا نے یہ بتانے کی کامیاب کوشش کی کہ وہ شاعری کے بجائے حقیقت پسندی میں جینا سیکھیں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ ان کو ان خوش قسمت لوگوں میں شامل کر لے جن کو خدا کے پڑوس میں رہنے کا شرف حاصل ہونے والا ہے۔

مولانا صاحب نے اپنا کام پوری دیانتداری سے پورا کر کے دکھا دیا۔ اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ ان کے عظیم مشن کو رہتی دنیا تک جاری رکھیں۔ (خالد سعید، کراچی)

اس صدی کا عظیم مفکر محمد نظام الدین قاسمی، نا خدا مسجد زکریا سٹریٹ، کلکتہ وحید الدین خان صاحب بلا مبالغہ اس دور کے بڑے داعی الی اللہ اور اللہ کے ولی تھے۔ آپ نے خدا کے پیغام کو دنیا کی زبان میں پیش کیا ہے، آپ نے انڈیا سے لے کر یورپ وامریکہ تک نان مسلم اسٹیج سے اسلام کی ترجمانی اس انداز سے کی ہے کہ دنیا نے بھی اسلام کی حقانیت کا اعتراف کیا۔ آپ کی دعوت کا طریقہ انتہائی انوکھا تھا۔ نہایت پرسکون انداز میں اہل دنیا کے سامنے خدا کا پیغام ایسے اسلوب میں پیش کرتے تھے جس کو مخاطب آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔ آپ کی تحریر میں جو چاشنی اور مٹھاس ہے اس کا احساس وہی کر سکتا ہے جس نے آپ کی تحریروں کو پڑھا ہے، خصوصاً خدا کی معرفت اور آخرت کا تذکرہ جب آپ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے جاہ و جلال اور قبر و حشر کو دیکھ رہے ہیں۔ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ زندہ ہوتے ہوئے بھی موت کی کلفتوں کا حسی طور پر اندازہ کر رہے ہیں۔ آپ کے دعوتی عمل سے جہاں سیکڑوں انسانوں نے خدا کی وحدانیت کا اقرار کر کے مذہب اسلام کو اپنایا وہیں لوگوں کو دنیا جینے کا طریقہ بھی آیا ہے۔ ایک انسان جو خود اپنی زندگی سے بیزار ہو چکا ہو اگروہ آپ کی کتاب رازِ حیات کو پڑھے تو اس کو اپنی زندگی سے تمام شکایتیں دور کر کے آگے کا راستہ طے کرنا آ جائے گا۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کے کچھ ایسے افکار تھے جس سے علماء کا ایک طبقہ نالاں رہا ہے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسی رائے ہرگز نہیں ہے جس کی بنیاد پر انہیں مطعون کیا جائے، بلکہ علم و تحقیق کے جس مقام پر وہ فائز تھے ایسے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے قائم کریں۔ دراصل ہم علماء کا معاملہ یہ ہے کہ ہم بہت جلد اس سے بدظن ہوجاتے ہیں جس کی رائے ہماری رائے یا ہمارے اکابر یا مسلک کے خلاف ہو۔ کسی کو بذات خود پڑھے، سنے اور اس سے ملے بغیر محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی سے بدظن ہو جانا وہ بیماری ہے جو موجودہ علماء کے اندر بہت زیادہ ہے۔ اس کا اخروی نقصان تو مرنے کے بعد معلوم ہوگا لیکن دنیا میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے۔

ہے کہ آپ علمی اور فکری اعتبار سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ خود میرا بھی ایک دور گزرا ہے کہ محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر مولانا کا بہت بڑا قد تھا، لیکن جب کلکتہ آیا اور چچا محترم حضرت مولا نا شفیق قاسمی صاحب امام و خطیب ناخدا مسجد ، کلکتہ کی خدمت میں رہنے لگا جو مولانا مرحوم کے بڑے مداح اور عقیدت مندوں میں سے ہی نہیں بلکہ ان کے دعوتی مشن کے ایک فرد بھی ہیں۔ قریب سے مولانا کی تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملا۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ شخص موجودہ وقت میں اللہ کا سچا ولی ہے۔ اور پھر درجنوں کتابیں آپ کی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ بڑی تمنا تھی آپ سے ملاقات کی، لیکن شاید خدا کو منظور نہیں تھا۔ مولانا نے ایک لمبی عمر پائی اور حدیثِ رسول کے مصداق ہوئے ــــ خیر الرجال من طال عمرہ و حسن عملہ (لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جس نے لمبی عمر پائی اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوں) مسند احمد، حدیث نمبر 1768۔ آپ کی زندگی مذکورہ حدیث کے عین مطابق تھی۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول کر کے آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین ثم آمین (روزنامہ سہارا ایکسپریس، پٹنہ، 23 اپریل 2021)

مولانا سے میں نے آرٹ آف لائف سیکھا ہے، دنیا کے اعتبار سے بھی اور دین کے اعتبار سے مثلاً میں نے مولانا سے یہ سیکھا ہے کہ کیسے منفی تجربات کو مثبت پہلو سے دیکھا جائے۔ اکتوبر 2018 کی بات ہے۔ صبح ساڑھے دس بجے کا ٹائم تھا۔ میں اور ساجد انور صاحب ممبئی سے مولانا سے ملاقات کرنے کے لیے ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم لوگ مولانا سے بات چیت کر رہے تھے کہ ایک کشمیری صاحب اسی وقت مولانا کے پاس پہنچے، اور ہماری بات چیت میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا حال بہت برا ہے۔ ان کے بھائیوں نے ان کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے، اور انھیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مولانا صاحب نے ان کی پوری بات خاموشی کے ساتھ سنا۔ جب ان کی بات مکمل ہوگئی تو مولانا نے کہا کہ دیکھیے مصیبت اس لیے نہیں آتی ہے کہ بندہ یہ کہے کہ ’’ہائے مصیبت‘‘، بلکہ مصیبت اس لیے آتی ہے کہ بندہ دعا کرے۔ کر میں حیران رہ گیا۔ ایسا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ (ڈاکٹر جنید شیخ، سی پی ایس ممبئی)

لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے مولانا انیس ملک ندوی، سورت گجرات خدا کی ذات بہت ہی شفیق اور مہربان ہے وہ ہر دور میں انسانوں کے لیے ہدایت کا سامان مہیا پہلے انبیاء کو مبعوث کرتا تھا اب وہ سلسلہ ختم ہو گیا اب جس سے چاہتا ہے اپنے دین کی تجدید کا کام لیتا ہے، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا وحیدالدین انہی میں سے ایک ہیں۔ وحیدالدین ایک کمزور بدن انسان لیکن پہاڑ سے بھی زیادہ طاقتور اور اٹل جب معاملہ اصول اور دین حق کی دعوت کا ہو۔

بلاشبہ مولانا وحیدالدین خان اس امت میں اپنے عظیم الشان کام کے سبب اپنا ایک نمایاں مقام ان کا علمی کام صرف معلوماتی اضافے کا نام نہیں بلکہ دنیا کو پیش آمدہ بیشتر مسائل کے تدارک کا ذریعہ ہے۔ امت مسلمہ کے اس دور زوال میں جو گرد حقیقی اسلام پر لپٹ چکی تھی اس کی صفائی کا ذریعہ بلاشبہ مولانا خان کی ذات کو اللہ تعالیٰ نے بنایا۔ آج اس دور میں اگر کوئی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ دین اسلام کا حقیقی مزاج یا اس کی اصل روح کو سمجھے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرے ۔ مولانا کی کتابیں اسلام کا حقیقی تعارف پیش کرتی ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان صاحب کی کتابوں کا مطالعہ طالب علم کو بہت ساری دوسری کتابوں کے مطالعے سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ مولانا کا علمی استدلال ان کو امت میں وہ مقام دلاتا ہے جس پر امت کے چند ہی نام سامنے آتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں کمال مولانا کا نہیں بلکہ اس عظیم و برتر خدا کا ہے جو اپنا خاص فضل اپنے خاص بندوں پر کرتا ہے وہ ہدایت کو پہنچانے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیتا۔

احمد امین مصری کی کسی کتاب میں میں نے ایک عبارت پڑھی تھی جس کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ جب کبھی بھی اس قوم میں کوئی مصلح یا کوئی جید عالم نمودار ہواتو اس پر کفر اور الحاد کے فتوے داغے گئے حتیٰ کہ اس کی جان کے درپے لوگ ہو گئے مگر جب وہ اس دار فانی سے کوچ کر گیا تو اس کی موت کے سبب لوگوں کا حسد ٹھنڈا پڑ گیا اور دھیرے دھیرے اس کا اعتراف بڑھتا چلا گیا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ

موجودہ امت مسلمہ ایک مردہ (زوال یافتہ) قوم ہے۔ زندہ لوگوں کی قدر ان کی نگاہوں میں نہیں جچتی۔ مولانا کا اگر ایک لفظ میں تعارف بیان کیا جائے تو میری رائے میں ’’خیر خواہ‘‘ سے بہتر کوئی اور لفظ نہیں ہوسکتا۔ اور خیر خواہی بھی کسی محدود معنوں میں نہیں بلکہ پوری انسانیت کا احاطہ جس میں پایا جاتا ہو، عام طور پر مسلم علماء کا مقام ان کی ملی اور قومی خدمات ہی متعین کرتی ہے، اور ان کا نام بھی انہی لوگوں میں متعارف مانا جاتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے یہاں امت کا درد، قوم کی فلاح جیسے الفاظ ہی پائے جاتے انسانیت کا درد، اسے درپیش مسائل کا حل، یہ وہ موضوع ہیں جنہیں مسلم علماء یا تو جانتے نہیں یا ضد سے مانتے نہیں۔ جب کہ مولانا کے نزدیک پورے اسلام کا خلاصہ ہی دوا جزائیں بیان کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک ہے خدا کو اپنا اصل کنسرن بنانا اور دوسرا ہے تمام انسانوں کی مکمل خیر خواہی۔ مولانا وحید الدین صاحب سے وابستگی کی میری ایک لمبی داستان ہے۔ مختصراً یہاں پر اتنا بیان کرنا چاہتا ہوں کہ طالب علمی کے زمانے میں پوری طرح معاشی تنگی اور دیگر مسائل سے دوچار تھا۔ خلفشار میں مبتلا تھا اسی زمانے میں ہمارے ایک ساتھی نے مجھے ’’رازِ حیات‘‘ نامی کتاب کو پڑھنے کے لیے مشورہ دیا۔ یہ کتاب ایک شاہکار کتاب ہے۔ بظاہر اس میں دینی مسائل آپ کو نظر نہیں آئیں گے لیکن درحقیقت دیکھا جائے تو یہ کتاب دنیوی ہو کر بھی دینی مزاج پیدا کرنے میں بے حد مؤثر ہے۔ اپنے اندر سے منفی نفسیات کو مٹانا، حقوق طلبی کے بجائے حقوق شناسی کا مزاج پیدا کرنا، ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر آگے بڑھنا، زندگی کو مقصد اعلیٰ کے لیے استعمال کرنا، حقیقت پسندی کا مزاج اپنے اندر ڈیویلپ کرنا، شکوہ شکایت کرنے کے بجائے اپنے اندر نافعیت پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اس کتاب نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ زندگی کو ایک الگ زاویے سے بہر حال یہ تو مولانا کی صرف ایک کتاب کا اثر تھا جو دھیرے دھیرے مولانا کے رسالے جب بھی ملتے فورا پڑھ ڈلتا۔ مجھے اب بھی یاد ہے غالباً عالیہ ثالثہ کا سال تھا گرمیوں کی چھٹی ہونے والی تھی۔ طلبہ اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے میں نے گرمی کی چھٹی وہیں پر گزارنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ کون سی کتابیں پڑھنی ہے اس کی لسٹ بنانا باقی تھا۔ میں نے اپنے ایک ساتھی، جو کہ سلیمانیہ ہاسٹل کی لائبریری کے ذمہ دار تھے۔ ان سے مولانا صاحب کی کتابوں کی بابت معلوم کیا انہوں نے بتایا کہ مولانا کے رسالے اب نہیں آ رہے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ مولانا وحید الدین خان کی مولانا علی میاں

ندوی پر تنقید تھی۔ میرے ساتھی نے مجھ سے کہا کہ مولانا وحیدالدین خان کے پرانے رسالے ابھی تک لائبریری میں موجود ہیں، اگر تمہیں چاہیے ہو تو میں تمہیں پہنچا دوں۔ میں نے کہا کہ جتنے بھی ہیں وہ تمام کے تمام مجھے دے دو۔

اللہ کا یہ فضل رہا کہ ان چھٹیوں میں میں نے مولانا کو خوب پڑھا۔ جو بھی رسالے اس وقت موجود تھے وہ تمام رسالے میں نے پورے غور و اطمینان سے مکمل پڑھے۔ یہیں سے میں مولانا کی فکر کو سمجھا اور مولانا کے مشن سے قریب ہوتا چلا گیا۔ جو اشکالات تھے جو لوگوں کی سنی سنائی باتیں تھیں، جو غلط فہمیاں تھیں، وہ خود بخود مولانا کی کتابیں پڑھنے سے ختم ہوتی گئیں ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ مدرسے سے میری فراغت ہوئی اور آج بھی میں مولانا کو پڑھ رہا ہوں اور ان سے آج بھی سیکھ رہا ہوں۔ مولانا میرے لیے خدا کی ایک عظیم بلیسنگ تھے۔ آج مولانا وحیدالدین خاں موجود نہیں، لیکن مولانا کی تحریریں، ان کا لٹریچر ہمارے پاس موجود ہے۔ جو یقیناً پوری انسانیت کے لیے ایک قیمتی انسان اس سے اپنے خالق کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ ابو یحییٰ صاحب نے بجا طور پر لکھا ہے کہ مولانا وحیدالدین خاں صاحب کا علم صرف علم نہیں ہے، بلکہ وہ فیضانِ الہیٰ ہے جسے اللہ نے مولانا کے قلم سے جاری فرمایا۔ مولانا کا سب سے بڑا جو کارنامہ ہے، وہ ہے بندہ کو اپنے رب سے شعور کی سطح پر متعارف کرانا۔ بلاشبہ اس میدان میں آپ کسی دوسری علمی شخصیت کو ان کا مقابل نہیں پا سکتے۔ علماء اور ان کے زیر اثر عوام کا مولانا کے بارے میں یہ سوچنا ہے کہ وہ مسلمانوں میں بزدلی اور پست ہمتی کو فروغ دیتے ہیں اور جرات و حوصلہ کی بیخ کنی کرتے ہیں ۔ جب کہ معاملہ بالکل اس کے یہ درست ہے کہ مولانا اپنی قوم کو صبر اور صلح کی تلقین کرتے ہیں۔ ہندوستان کے پیش نظر مسلمانوں کو سیاسی محاذ آرائی سے دور رہ کر تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہیں، اور یہی چیز مسلم قوم کے لیے سچی خیر خواہی بھی ہے۔ لیکن افسوس مسلمان اسے بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں۔ کہ یہی عین بہادری ہے، ورنہ کون ہے جو قوم کے غلط اقدام کی مذمت کرے۔ کون ہے جو خود گالیاں کھا کر بھی قوم کو روشن مستقبل کی طرف راہ دکھائے۔ کتنی سچی بات خود اللہ نے پیغمبر شعیب کے زبان سے ان کے مخاطبین کے لیے فرمائی ہے، اور وہ اس مقام پر پوری طرح صادق آتی ہے: تم لوگ خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے (الاعراف، 7:79)۔

ہمایوں مجاہد تارڑ، پاکستان علم و تحقیق کے میدان کا کھلاڑی اپنے خلوص اور جوش جنوں میں غلط ٹرک پر پایا جائے، تب بھی اس کے لیے سندِ قبولیت ہے؛ احترام ہی احترام ہے۔ حق پر ہونے کا آخری فیصلہ اُس بادشاہ کی بارگاہ میں ہونا ہے جس کے حضور مولانا وحید الدین خان اب پیش ہو چکے، اور جس کے ہاں فتویٰ بازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

ظاہر اً دیکھا جائے تو مولانا مرحوم علم، تحقیق، انسپریشن اور حسن تحریر کا مینارہ نور ہیں۔ تعلیمات اور فکر کے بعض پہلوؤں سے ہمیں شدید اختلاف ہو سکتا ہے، مثلاً علامہ اقبال کے فکر و فلسفہ پر آپ کی تنقید وغیرہ۔ تاہم، ایک ایسا شخص جو اپنے ہاں ایک پورا نظام فکر رکھتا ہو، اپنی سوچ کے حق میں اپنے تئیں علمی و فکری دلائل رکھتا ہو، غیر متشدّد ہو، دھیمے لہجے میں کلام کرے، تو اُس کی ہر بات لائق سماعت و احترام ٹھہرے گی۔

مولانا مرحوم جیسی لیجنڈری انسپائرنگ شخصیت کے حق میں ایک دم سے منفی گوئی والی تلواریں بے نیام کر لینا خود اپنا قدم کم کر لینا ہے۔ اختلافی اُمور برطرف، جو لوگ مولانا مرحوم کو زیادہ نہیں جانتے، اُن کے لیے نصیحت ہے کہ آپ مولانا کی کتاب ’رازِ حیات‘ اُٹھا کر کسی بھی ایک صفحہ کی ریڈنگ کر ڈالیں۔ شرطیہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یو ووونٹ بی ایبل ٹو ڈراپ دِس بک! ایک سے ڈیڑھ صفحہ طوالت والے 251 مضامین کی حامل یہ اُن کی مقبول ترین کتب میں سے ایسی ہی آپ نے درجن بھر کتابیں لکھی ہیں جو انسان کی نئے سرے سے ٹیوننگ کرتی ہیں، ایک سُست الوجود بندے کو اٹھا کھڑا کرتی، زاویہ نگاہ بدل ڈالتی، گُھپ اندھیرے میں روشن چراغ کا کام دیتی مثبت فکری، خلوص، علمیت و رجائیت، اور روشنی سے لدی ایک ندیا ہے آپ کی ہرایسی کتاب۔ انسپریشن (ہیومن ڈویلپمنٹ) اور نفسیاتی اصلاح کے موضوع پر آپ کا کام ایسا ہے کہ اس ایک زندگی کے لیے مولانا مرحوم کی دو عدد کتابیں ہی کافی و شافی ہو جائیں۔

دھیمے لب و لہجے والا یہ نکتہ داں اُستاد رخصت ہوا۔ اللہ ہمیں اُن کی تحریر سے مستفید ہونے کی آپ اپنے نوجوان اور جوان بچوں کو انسپیر یشن ریہیومن ڈویلپمنٹ کے موضوع پر خان صاحب مرحوم کی دو تین عدد کتابیں تو ضرور ہی دلا دیں۔ جہلم بک کارنر نے پبلش کر رکھی ہیں۔ بھی زیادہ نہیں ہے۔ انمول سرمایہ ہے یہ۔ باقی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اہلِ علم کو نپٹا لینے دیں۔ کیا خیال ہے؟ (بشکریہ ماہنامہ انداز، کراچی)

مولاناحسیدالدین خان ایک نابغہ روزگار شخصیت تھی۔ مولاناحسیدالدین خان وہ شخصیت تھی جس نے میری سوچ کے ٹھہرے پانی میں ہلچل پیدا کی۔ وہ پہلی شخصیت تھی جو میرے سوچنے کے انداز پر اثر انداز ہوئی۔ مولانا کے افکار و نظریات سے شناسائی سے پہلے ہی میں اگر چہ جستجو کے سفر پر نکل پڑا تھا مگر اس سفر میں فکر کی بنیادیں تبدیل نہیں ہوئی تھیں ۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ میں ایک بندگی سے نکل کر دوسری میں جا رہا تھا۔ مولانا سے تعارف کے بعد میں ان گھٹن زدہ گلی کوچوں سے نکل کر پر فضا وسیع و عریض میدان میں آ گیا۔ جہاں میں ہر چیز کو تعصب کے بغیر دیکھنے کا اہل ہو گیا تھا۔ حتی کہ مولانا کی باتوں کو بھی اسی نظر سے دیکھا۔ یہ تبدیلی بہت بڑی تبدیلی تھی اس سے فکر و تدبر کے دریچے وا ہوئے ۔ (چودھری احسان اللہ، پاکستان) مولانا خدا سے حب شدید اور خوف شدید رکھنے والی عاجز شخصیت تھی اور اس دنیا میں یہ خصوصیات لوگوں کے اندر پیدا کرنے کے لیے جو محنت کی، وہ رہتی دنیا تک ان کے لیے صدقہ جاریہ کے طور پر قائم رہے گی، ان شاء اللہ۔ جو تھوڑا بہت پڑھا وہ ان کو پڑھا اور اس سے خوب حوصلہ ملا اور جو تھوڑا بہت نیک عمل کیا وہ خدا کے اس عظیم بندے کی تذکیر القرآن اور الرسالہ کو پڑھ کر اے اللہ ہم تیرے انتہائی شکر گزار ہیں کہ تو نے اپنے اس عظیم بندے سے ہمیں متعارف اس نے تیرے تخلیق کے مقصد کو ہم پر آشکار کیا، اس کا صلہ ان کو خوب دینا، بے شک تو بہت خوب صلہ دینا والا ہے۔ (عبد القدیر، پاکستان)

رازِ حیات والے باباجی عارف انیس، پاکستان مولانا وحید الدین خان بھی رخصت ہوئے! انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ذہین آنکھوں اور متجسس سراپے والی دھیمی اور باوقار شخصیت کے مالک وحید الدین خان کو دیکھ کر ارطغرل والے’’ابن عربی‘‘ کا خیال آتا تھا۔ وہ ان دس پہلے لوگوں کی فہرست میں شامل تھے جن سے زندگی بھر بہت کچھ سیکھا۔ جن سے ملنے کی حسرت تھی، مگر ہندوستان نہ جاسکنے کی وجہ سے پوری نہ ہوسکی۔ میں اگر ہندوستان جاتا تو ترتیب کے اعتبار سے انہیں دیکھنا، تاج محل دیکھنے سے پہلے بنتا تھا۔ وہ امن، آشتی، برداشت، انسانیت، علم اور عظمت کا تاج محل تھے۔ میرے چند ایک جوغیبی استاد اور مرشد تھے وہ ان میں پہلے نمبر پر تھے۔ جم ران، نپولین ہل، وین ڈاییر، سٹیون کووے، جیک کین فیلڈ، برائن ٹریسی، دیپک چوپڑا، ان سب دیونزاد لوگوں کو پڑھنے اور ملنے سے پہلے انہیں پڑھا اور انہیں ان سب سے اوپر ہی پایا۔ پرسنل ڈیویلپمنٹ یا خود کاری پر ان کا لکھا حرف آخر ہے۔ پندرہ برس کی عمر میں ان کی کتاب’’رازِ حیات‘‘ پڑھی جس کا میرے اوپر بہت گہرا اثر ہوا۔ میرے خیال میں پورے عالم اسلام میں اپنی ذات کی تعمیر اور نشوونما پر ان سے بہتر کسی نے نہیں لکھا۔ مگر کمال یہ تھا کہ صرف باتیں ہی نہیں کیں، پوری زندگی انہی اصولوں پر مرتب گزار دی۔ جماعت اسلامی ہند سے سفر کا آغاز کیا مگر پھر بہت آگے نکل گئے وہ اپنی مثال آپ تھے وہ دنیا میں شاید واحد شخص تھے جن سے دلائی لامہ کو بھی جھک کر ملنا پڑا ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ ’’رازِ حیات‘‘ تک پہنچنے کے بعد اسے انسانوں کے درمیان تقسیم کر کے گئے۔

ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ بات انھیں پسند نہیں آئی۔ ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اس پر تنقید کرنے لگیں۔ خاتون کے ساتھی نے اُن کے کان میں چپکے سے کہا: میڈم آپ اس وقت روس میں ہیں امریکہ میں نہیں ہیں۔ آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق

رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اُس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تو مجرم قرار پائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا ہے انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے جس کو اُس نے خود نہیں بنایا یہ مکمل طور پر خدا کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔ ‘‘ یہ تھے مولانا وحید الدین خان۔ وہ ہر شعر، مذاق، اخباری واقعے سے اپنے مطلب کی بات ، کوئی نصیحت نکال لیتے تھے۔

خان صاحب ، تاحیات اسلام کے داعی اور مارکیٹر تھے۔ سب سے کمال کی بات ان کی وہ نگاہ مرد مومن تھی جس نے تقریباً گزشتہ پچاس برس میں پولیٹیکل اسلام کے حوالے سے سب سے درست وہ اسلام سے تعلق رکھنے والی شاید واحد دیو قامت شخصیت تھے جو مذہب کو طاقت کے حصول کے لیے ناجائز سمجھتے تھے، سائنسی طرزِ فکر کے پرچارک تھے اور خواتین کے حقوق کے شدید قائل تھے ان کا خیال تھا کہ اسلامی معاشرے، سیاسی اسلام کی شکست کی وجہ سے ردِ عمل کی نفسیات کا شکار ہیں اور مغرب کو ایک حریف کے بجائے حلیف خیال کیا جانا چاہیے۔ نوے کی دہائی میں جب ہمارے بچپن میں ہمیں مست گل اور حرکت المجاہدین کا چورن بیچا جا رہا تھا، وہ 1960 سے ہی واضِح تھے کہ پولیٹیکل اسلام اور اسلام کے نام پر طاقت کا حصول اسلام اور مسلمانوں دونوں کے کٹرا کے نکال دے گا۔ ان کی، اس ضمن میں تقریباً ساری پیشین گوئیاں پوری ہوئیں۔ پاکستان میں گزشتہ پچاس برس میں شدت پسندی کی بڑھوتری کے حوالے سے ان کا لکھا، حرف آخر ہے۔

”جب یہاں ہر تاریکی آخر کار روشنی بننے والی ہے تو وقتی حالات سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ آدمی اگر یہاں کسی مشکل میں پھنس جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ صبر اور حکمت کے ساتھ اس سے نکلنے کی جدوجہد کرے، اگر بالفرض اس کے پاس جدوجہد کرنے کی طاقت نہ ہو تب بھی اس کو چاہیے کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے آنے والے کل کا انتظار کرے۔ اس دنیا میں جس طرح محنت ایک عمل ہے، اسی طرح انتظار بھی ایک عمل ہے۔ جو شخص عمل کا ثبوت نہ دے سکے، اس کو چاہیے کہ وہ انتظار کا ثبوت اگر اس نے سچا انتظار کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ انتظار کے ذریعہ بھی اسی چیز کو پالے جس کو دوسرے لوگ محنت کے راستے سے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ قدرت کا نظام خود اپنے آخری

فیصلہ کو ظہور میں لانے کے لیے سرگرم ہے، بشرطیکہ آدمی مقررہ وقت تک اس کا انتظار کر سکے۔ بے شک اپنے بابا جی سچا انتظار کرنے والوں میں سے تھے۔ اعظم گڑھ میں پیدا ہونے والے وحید الدین خان نے 96 سالہ زندگی میں 200 سے زائد کتا بیں تصنیف کیں، الرسالہ نے بلا شبہ لاکھوں قندیلیں روشن کیں۔ گورباچوف ایوارڈ، مدرٹریسا ایوارڈ، ہندوستان کا پدما بھوشن ایوارڈ اور سینکڑوں مزید ایوارڈ ملے۔ وہ اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی میں لکھنے اور بولنے میں مہارت رکھتے ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی دیتے ہیں، خان صاحب نے اپنی پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے کے لیے وقف کر دی تھی اور اپنے آپ کو" تفکیر ی حیوان" (the thinking animal) کہتے تھے۔ یہ نوبل انعام کی بد نصیبی ہے کہ وہ انہیں نہیں ملا۔ وہ اس حال میں اٹھے کہ ہمارے پاس ان جیسا کوئی نہیں رہا۔

ان کی روانگی کا سوچتا ہوں تو آنکھیں نم ہوتی ہیں مگر پھر رشک بھی آتا ہے کہ ڈیوٹی پوری کر گئے بابا جی۔ اور پھر سورہ الفجر کی یہ آیات کانوں میں گونجتی ہیں: یَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِی إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي، وَادْخُلِي جَنَّتِی (89: 27-30)۔ یعنی، اے اطمینان والی روح، تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش۔ پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا۔ اور میری جنت میں چلی جا۔

سب کو دنیا سے ایسے ہی جانا ہے لیکن خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے رب کے اصولوں پر زندگی بسر کرے اور رب العالمین کا ساتھی بنے۔ مولانا نے رب کا راستہ چنا اور رمضان کے مہینے میں سفر عاقبت پر گامزن ہوئے، ہمیشہ دعا گو۔ (نبیلہ خان، اسلام آباد) بے شک مولانا نے حق ادا کیا دین اور قرآن کے لیے بہت کام کیا۔ انھوں نے قرآن کو دی ہے۔ بے شک مولانا اپنے کام کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے، نسلیں انھیں پڑھیں گی، ان شاء اللہ (ڈاکٹر تنویر، اسلام آباد)

مولانا وحید الدین خان: حیات اور افکار عزیز علی داد، پاکستان اسکول کے زمانے میں ہم ہر شام مکتب دینیہ جاتے تھے۔ وہاں ہمیں دین ودنیا کو سمجھنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس عبادت گاہ میں ایک بڑی لائبریری موجود تھی جس میں ہم ہر روز بیٹھ کر کچھ نہ کچھ پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس زمانے میں ہمارے لیے اردو پڑھنا تو کجا، بولنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ زبان کے معاملے میں اس نالائقی کے دور میں ایک دن مولانا وحیدالدین خان کی سرپرستی میں چھپنے والا رسالہ’’الرسالہ‘‘ ہمارے ہاتھ لگا۔

اس دور میں جب ایک عام قاری کی معیاری کتب تک رسائی تقریباً ناممکن سمجھی جاتی تھی، یہ رسالہ متجسس اذہان کے لیے گویا کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اس رسالے کی اہم بات یہ تھی کہ یہ ہلکی پھلکی زبان میں مذہبی معاملات پر مکالماتی انداز میں روشنی ڈالتا تھا۔ مولانا سے تعارف ہوا تو ان کی مزید کتب سے استفادہ کرنے کی کوشش شروع کی۔ اور یوں ان کی کتاب رازِ حیات بھی اسی دور میں اس وقت چونکہ ہم نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا، سو ہم رازِ حیات کے فلسفے کو بھی جوانی کے جوش سے دیکھ رہے تھے۔ اسی وجہ سے مولانا کی رازِ حیات کو ہم زیادہ گہرائی میں سمجھ نہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رازِ حیات کے مباحث سے دوبارہ واسطہ پڑا۔ اور تب ہی پتہ چلا کہ زندگی ایک راز ہے اور اس کو بامعنی گزارنا ایک فن ہے جو ہم بالکل بھی نہیں جانتے تھے۔ کالج کا دور کراچی میں گزارنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ الرسالہ باقاعدگی سے مل جاتا تھا۔ کراچی کے ریگل چوک اور پی آئی بی کالونی کی ریڑھیوں اور فٹ پاتھوں پر ہم نے علم کے خزانوں کو یہیں سے مولانا وحید الدین خان اور دوسرے نامور مصنفین کی کتابیں نہایت ہی سستی قیمت پر مل جاتی تھیں۔ یوں ہمارا زیادہ تر وقت ان کو سمجھنے کی کوشش میں گزر جاتا۔ مولانا صاحب کی تحریریں ہم جیسے طفل مکتب کے لیے ایک زود ہضم خوراک کی مانند ثابت ہوئیں۔ انھوں نے روایتی علماء کے فتوئی ساز رویے سے انحراف کیا۔ مسلمانوں کے پاس کوئی علمی

صنعت تو ہے ہی نہیں۔ ان کے پاس سب سے بڑی صنعت فتویٰ سازی کی ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں اسلام میں داخل کرنے سے زیادہ اسلام سے خارج کرنے کا رجحان غالب ہے۔ کی وجہ سے آج غیر مسلم لوگ مسلمانوں کو اتنی بڑی تعداد میں غیر مسلم نہیں بنا سکے جتنا مسلمانوں نے مسلمانوں کو غیر مسلم بنایا ہے۔ مسلمانوں کو کافر بنانے کا سب سے زیادہ کام اسلام کے اسی قلعے میں ہوا جسے خداداد مملکت پاکستان کہا جاتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب مولانا وحید الدین نے فتووں کی دکان کھولنے کی بجائے اپنے زمانے کے رویوں، سوالات اور افکار کی روشنی میں اسلام کی تشریح کی۔ مقصد کی خاطر انھوں نے ایک ادارے کی بھی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا نام مرکز برائے امن و روحانیت (The Centre for Peace and Spirituality) رکھا۔ اس ادارے کا مقصد امن کی ثقافت کو ذہنی روحانیت کے ذریعے پروان چڑھانا تھا۔

مولانا دنیا کے جس حصے کا بھی سفر کرتے، وہاں سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر آتے تھے اور اس سبق کو ڈائریوں اور سفر ناموں کی صورت میں شائع کرتے اور اسے عوام الناس تک پہنچانے کی سعی کرتے۔ ویسے تو جو جیسا ہوتا ہے اسے چیزیں بھی ویسی ہی نظر آتی ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے لوگ ملک سے باہر چلے جائیں تو انہیں سوائے عریانی، فحاشی، بے حیائی اور شراب نوشی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ مولانا وحید الدین کی اردو اور انگریزی میں کتابیں زیادہ تر عصر حاضر کے معاملات سے تعلق مثال کے طور پر اسلام اور عصر حاضر، مذہب اور جدید چیلنج، مارکسزم : تاریخ جس کو رد کر چکی ہے، مذہب اور سائنس، سوشلزم اور اسلام، اظہارِ دین، خدا کی دریافت وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انگریزی میں ان کی کتابیں، مثلاً:

The Prophet of Peace: Teachings of the Prophet Muhammad Indian Muslims: The Need for a Positive Outlook Islam: Creator of the Modern Age عصر حاضر کے مسائل پر ہی بحث کرتی ہیں۔

مولانا وحید الدین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ مسلمان اس جدید دور میں اپنے عصری، علمی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کو سمجھنے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر اپنانے کے اہل بن جائیں، اور اندھی تقلید کے منحوس چکر میں پڑ کر اپنی زندگیاں نہ گزاریں۔ کیونکہ اندھی تقلید ہی کی وجہ سے مسلمان اپنے خول میں

بند ہوگئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کوئی چیزوں کی تفہیم نہیں ہوتی ہے۔ اور جب ذہن فہم سے ہی خالی ہو تو انسان آسانی سے رائے زنی ، فتوئی گردی اور نفرت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا اگر کسی نئے خیال یا چیز سے واسطہ پڑ بھی جائے تو وہ اسے دین کے لیے خطرہ اور بدعت قرار دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔ جدیدیت اور روشن خیالی کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ مسترد کا یہ رجحان بزدل معاشرہ کرتا ہے۔ مسلمانوں میں یہ خوف جدیدیت کا پیدا کردہ ہے۔ باہر کی دنیا سے مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں، تو اپنے خول میں پناہ لیتے ہیں۔ یوں خول سے باہر کی ہر چیز ہمیں خوفناک لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر نئی چیز سے ڈر لگتا ہے۔

مولانا وحید نے اپنے تئیں کوشش کی کہ لوگوں کو جدید زمانے میں مذہب کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا سکیں۔ ان کی عاجزی کی انتہادیکھیے کہ وہ کہا کرتے ”جو اپنے آپ کو بے علم جانے وہی علم والا ہے“۔ وہ ساری زندگی فتوے کی دکانوں، نفرت اور دکھاوے کی دنیا سے بہت دور مگر افسوس کہ ہم نے ان جیسی شخصیت کو بھی نہیں بخشا اور انہیں اسلام دشمن شخصیت قرار دے دیا۔ آج ہمارے معاشرے میں جذبات کا غلبہ اور سمجھداری کی کمی دیکھ کر اس چیز کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم صرف جذبات کے معاملے میں ہی جوان ہیں لیکن عقلی و شعوری سطح پر اب بھی عہد طفلی میں گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ناامیدی بھری فضا میں مولانا وحیدالدین خاں کی وفات کے بعد مکالمہ اور فکر کی راہ اور بھی محدود ہوگئی ہے۔ جب کہ دوسری طرف سطحی جذباتیت کا ایک طوفان امڈ آیا ہوا ہے جس کی آگ بڑی تیزی سے معاشرے سے عقلی فکر و عمل کو بھسم کر رہی ہے۔ مولانا وحید الدین خان کی جس خوبی نے مجھے ہمیشہ ہی ان کی کتابوں سے جوڑے رکھا وہ ان کی، زندگی سے محبت تھی۔ وہ ہمیں مذہب کے ایسے پہلوؤں سے روشناس کراتے تھے جو زندگی سے محبت کرنے اور نہ صرف با معنی بلکہ بھر پور طریقے سے زندگی گزارنے میں بھی مدد دیتی تھیں۔ زندگی دوست رویہ ان کی کتابوں کے ٹائٹلز سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ راز حیات، راہیں بند نہیں، تعمیر حیات، حقیقت کی تلاش اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔

آج کے مذہبی علماء تو ہمیں اس دنیا اور زندگی سے اتنا ڈراتے ہیں کہ ہمیں مرنا ہی خوبصورت عمل لگتا ہے۔ اور اسی خواہش مرگ نے ہماری زندگیوں سے سارے خوبصورت رنگ اور مسرتیں

چھین لی ہیں۔ اس قریب المرگ ذہنیت سے نجات زندگی سے دوبارہ تعلق پیدا کر کے حاصل کی لیکن ہماری زندگی فی الحال موت اور ہیبت کے سوداگروں کے ہاتھ گروی رکھی ہوئی اس لیے ہم زندگی جی نہیں رہے بلکہ گزار رہے ہیں۔ یا درکھیے جیل میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے قیدی زندگی جیتے نہیں گزارتے ہیں۔

ہماری زندگیاں بھی ان سوداگروں کے وجہ سے ایک ذہنی قید خانے میں مقید ہوگئی ہیں۔ ظاہر ہے اس قید خانے سے باہر نکلنے کی سزا موت ہی ہوگی۔ یا خدا جائیں تو کہاں جائیں۔ کال کوٹھری میں گھٹن مار دیتی ہے اور باہر نکلنے کی کوشش کریں تو مذہب کے نام نہاد محافظ مار اور بدقسمتی سے مولانا وحید الدین کی وفات کے ساتھ زندگی سے محبت کے بیانیے کا ایک چراغ بجھ گیا ہے اور ہم مزید اندھیروں کے سوداگروں کے زیر اثر آگئے ہیں جوحیات، علم اور محنت نہیں بلکہ موت، جہالت اور نفرت بانٹتے ہیں۔ موت، تاریکی اور عقل کے دشمن کے لگائے ہوئے پہروں میں زندگی، عقل اور روشنی کی بات کرنا ایک ربانی عمل ہے جسے مولانا وحید الدین نے بخوبی (بشکریہ ہم سب، پاکستان)

مجھے مولانا کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو تعبیر کی غلطی“ کے ابتدا میں درج ہیں۔ پڑھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ رقم طراز ہیں ”اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر اتنی سخت ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے شائع ہونے کے بعد میں کسی ایسی جگہ جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے، اور پھر اسی حال میں مر جاؤں“۔

اختلاف کا یہ طریقہ کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔

جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی!

( دانیال طاہر، کراچی )

مولانا وحید الدین خان ، ایک عہد ساز شخصیت لونگین یوسف زئی ، پاکستان مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری 1925ء کو ہندوستان میں ریاست اتر پردیش کے ایک علمی خطہ اعظم گڑھ میں ہوئی۔ والد فرید الدین خاں اپنے علاقے کے ایک بہت بڑے زمین دار تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے قابلِ عزت و احترام تھے، جب کہ والدہ زیب النسا گھریلو امور سنبھالنے والی ایک ذمہ دار خاتون تھیں۔

مولانا کے والد کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ اس لیے ان کی مکمل پرورش والدہ نے اپنی نگرانی میں کی۔ مولانا کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے جدید علوم کے حصول پر توجہ دی اور سب سے پہلے انگریزی زبان سیکھی۔ اُس کے بعد مغربی علوم کا مطالعہ شروع کیا۔ حتیٰ کہ ان علوم پر کافی دسترس حاصل کر لی۔ اسلامی اور مغربی علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا صاحب اس نتیجہ پر پہنچے کہ آج کل کے دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔

مولانا کو پانچ زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان میں اُردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی شامل مولانا صاحب ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی کرتے تھے۔ ٹی وی چینلوں پر آپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔

مولانا وحید الدین خاں دراصل بے پناہ صلاحیتوں اور خصوصیات کا نام ہے، جن کی زندگی کے بے شمار باب ہیں اور ہر باب اپنے آپ میں مستقل اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم مولانا کی زندگی کا اصل مشن اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا تھا۔ مولانا نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔ عام طور پر دانشور طبقے میں امن پسند مانے جاتے تھے۔ برابری کے اپنے فلسفے اور مستقل پیغام کی وجہ سے اپنے ناقدین میں بھی مقبول رہے۔

مولانا صاحب کا مقصد اسلام اور دیگر مذاہب میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیرمسلموں کی غلط فہمیاں دور کرنا، صبر کی تعلیم کو عام کرنا اور دعوت دین تھا۔ سال 2000ء میں بھارتی حکومت کی جانب سے مولانا کو ان کی علمی خدمات کے باعث ملک کا تیسرا بڑا شہری اعزاز ’’پدم بھوشن‘‘ دیا گیا جب کہ جنوری 2021ء میں مولانا صاحب کو ہندوستان کے دوسرے اعلیٰ شہری اعزاز ’’پدم وبھوشن‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی مولانا صاحب کئی قومی و بین الاقوامی ایوارڈز سے سرفراز ہو چکے تھے۔

مولانا وحیدالدین ایک صوفی مزاج طبیعت کے مالک، ایک روایتی شخص کی مانند تھے لیکن ان کے خیالات جدید تھے۔ انتہا پسندی اور مقدس صحیفوں کی قدامت پسند ترجمانی کے خلاف تھے۔ اپنے مذہبی اور روحانی خیالات کا مکمل اظہار کرنے کے لیے مولانا صاحب نے 1970ء میں دہلی میں اسلامک سینٹر قائم کیا۔ اس کے بعد سال 1976ء میں مولانا صاحب نے ماہانہ رسالہ ’’الرسالہ‘‘ کی اشاعت کا آغاز کیا۔ ’’الرسالہ‘‘ مولانا صاحب کے اپنے مضامین پر مشتمل تھا جو کہ اپنی اشاعت کے بعد اُردو زبان کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو گیا۔ مولانا صاحب کے مضامین کا مقصد لوگوں کو اسلام کا پرامن چہرہ سمجھانے، مسلمانوں میں اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہی، مثبت سوچ اور مثبت عمل کو فروغ دینے پر مشتمل تھا۔

مولانا وحیدالدین نے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق تقریباً 200 کتابیں لکھی ہیں۔ نظریاتی اور سیاسی خیالات سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کی علمی فضیلت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے مولانا صاحب کی لکھی ہوئی ایک کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ پانچ عرب ممالک قطر، مصر، لیبیا، سوڈان اور تیونس کی جامعات میں تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ دیگر اہم تصانیف میں سے نئے عہد کے دروازہ پر، تعبیر کی غلطی، الاسلام، مذہب اور سائنس، پیغمبرِ انقلاب، عقلیات اسلام، قرآن کا مطلوب انسان، سوشلزم اور اسلام، اسلام اور عصر حاضر، تذکیر القرآن، حقیقتِ حج، اللہ اکبر، زلزلہ، قیامت، خاتون اسلام، رازِ حیات، اسلام دورِ جدید کا خالق، سفرنامہ اسپین و فلسطین، فکرِ اسلامی، مطالعہ سیرت، مطالعہ قرآن، مسائل اجتہاد، مطالعہ حدیث اور اظہارِ دین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی کئی اسلامی کتابیں ہیں۔

مولانا وحید الدین خاں 96 برس کی عمر میں اس دارفانی سے رحلت کر گئے ۔ مولانا صاحب نے پس ماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں ۔ ان کے انتقال پر مسلم امت یقیناً ایک عظیم مذہبی (nasirusafzai@gmail.com) اسکارلر سے محروم ہوگئی ہے ۔ تاریخِ وفات منظوم مولانا وحید الدین خاں مولاناتحمید خضر ندنوی، بہار عالم اسلام کے شیخ کبیر ایک مورخ، اک مجدد، شاہ فن عصر نو کے تھے خطیب انقلاب امن کا پیغام بر، ظلمت شکن دنیا سے گئے دار السلام تھے وحید الدین امت کے حکیم تیری تصنیفات ہیں، شمع حرم آٹھ روزہ یومِ بدھ، ماہِ صیام نور کی بارش ہو بر قبرِ وحید اے خضر لکھ تاریخِ موتِ وحید ماہنامہ الرسالہ کے مدیر شیخ عرفاں، شیخ دیں، شیخ زمن علم و حکمت کا نرالہ آفتاب ہادیِ ہندوستان، بدعت شکن زندگی کا ہوگیا قصہ تمام پاک طینت، نیک دل، طبع حلیم تیری توضیحات ہیں، مُثبت حَکَم چودہ سو بیالیس میں مرگِ امام ایں دعائے قلب مضطر، یا مُعید یا الله، یا غَفّار، یا حَمید

دعوتی مزاج کے شارح اسرار مدنی، اسلام آباد آفتاب علم وعرفان، عصر حاضر کے سب سے بڑے نبض شناس اور اسلام کے دعوتی مزاج کے شارح مولانا وحید الدین خاں ہندوستان میں انتقال فرما گئے! انا للہ وانا الیہ رجعون ! افغان وار اور نائن الیون کے بعد برصغیر کے مسلمانوں پر شدت پسندی اور انتہا پسندی کے پروپیگنڈے کے خلاف انتہائی مؤثر کام کیا۔ اور اسلام کے مزاج کی زبردست تشریح کی، خاں صاحب مرحوم سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ اور سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے معاصر تھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر کے پولیٹیکل اسلام پر مبنی فکر کو خیر باد کہا، اور تعبیر کی غلطی کتاب لکھ ڈالی! اس میں انہوں نے سید مودودی مرحوم کے ساتھ اپنے خط وکتابت کے کئی حوالے دیے ہیں! مولانا کے بعض تفردات کے وجہ سے ان کو علمی حلقوں میں زبردست تنقید کا سامنا رہا، مگر مجال ہے کہ انہوں نے بھی مناظرانہ روش اختیار کی۔

علم، دعوت واخلاق کا نمونہ تھے۔ دس بارہ ملکوں کے سفر سے اندازہ ہوا کہ اگر کہیں ائیر پورٹ، جامع مسجد یا کسی عبادت گاہ میں مسلمانوں کی نمائندگی موجود ہے تو اس میں ان کی تفسیر کو پایا۔ (عربی، انگلش، ہندی، پشتو، سندھی، تھائی) میں ان کی اردو تفسیر کا ترجمہ ہو چکا ہے ۔ 1976 سے وہ الرسالہ کے نام سے ماہنامہ میگزین نکالتے رہے۔ اس رسالے کے مکمل مضامین وہ خود لکھتے تھے۔ طرز تحریر انتہائی شستہ، شگفتہ اور متاثر کن تھا! مولانا نے نہ جلسے کیے، نہ گلا پھاڑ کر خطاب کیا، نہ جتھہ بنایا مگر دنیا بھر میں اسلام کے پیغام کو مؤثر انداز میں پیش کیا !

ہزاروں نوجوان ان سے متاثر ہوئے، ہزاروں لوگ ان کی وجہ سے اسلام سے قریب ہوئے، جب کہ کئی ہزار لوگوں نے الحاد کو خیر باد کہا۔ اتنے بڑے داعی کی زندگی کس قدر سادگی سے گزرتی رہی اس کا اندازہ قریبی دوست لگا سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے آمین، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہم لوگوں کو ان کے علمی ورثے سے زیادہ سے فائدے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

ارے کہاں مرتے ہیں علم والے محمد ابراہیم امین، پاکستان نیک لوگوں کی موت بھی ایک زندگی ہوتی ہے، ان کا مرنا بھی علم کا ایک نیا باب کھول جاتا ہے، ان کا مادی وجود تو زمین کے اندر مٹی میں مل جاتا ہے، لیکن ان کی تعلیمات روحوں میں اتر جاتی ہے، ان کا مادی وجود زمین کے اندر چلا جاتا ہے، ان کا کردار باہر کے لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے، وہ مادی وجود کے ساتھ اپنے گھروں میں جیتے تھے، قبر میں جا کے لوگوں کے دل و دماغ میں جینے ایسے انسان موت سے پہلے کے دور حیات میں اسی طرح جیتے ہیں، جیسے وہ موت کے بعد کے دور حیات میں ہوں، اور پھر وہ موت کے بعد کے دور حیات میں اس طرح اٹھیں گے کہ ان کے چہرے روشن اور چمکدار ہوں گے، ان کے چہروں پر سکون ہوگا، جو ان کے رب کی طرف سے انہیں عطا کیا جائے گا۔ یقیناً یہی کامیاب لوگ ہیں، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

زیر نظر مضمون میں ایسے ایک انسان کا بیان ہے۔ ایک عالم دین، مفکر و مدبر، مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتابوں کا مصنف، لاکھوں لوگوں کو زندگی کی ایک نئی امید دینے والا یہ شخص موجودہ دھرتی پر خدا کا ایک ایسا انعام تھا کہ جس کے بارے میں لکھنے کے لیے میرے پاس شاید کہ الفاظ نہیں یا پھر میں لکھ نہیں پا رہا ہوں۔ میری آنکھوں سے آنسوؤں کا بہنا، میرے دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا مجھے اس شخص سے محبت کا احساس دلاتا ہے، یہ ایک سچ ہے کہ قیامت تک اس شخص کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ وہ شخص ہے جسے میں نے سب سے زیادہ پڑھا سمجھا اور اسی کی سوچ کو اپنی سوچ بنا لیا اگر مولانا کو ماہر نفسیات کہا جائے تو یہ بالکل درست بات ہوگی۔ منفی پہلو میں مثبت پہلو کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سکھانے والا، زندگی سے مایوس لوگوں کو زندگی سے پیار کرانے والا، خدا کو رسمی عقیدہ کے طور پر ماننے کے بجائے دریافت کی سطح پر لوگوں کے شعور میں ڈالنے والا عظیم انسان اپنے عظیم رب کے پاس پہنچ گیا ہے، مولانا کو اللہ نے بڑے مقام و شرف سے نوازا،

ان کی تمام جہود و کاوشوں کو تا صبح قیامت یاد رکھا جائے گا۔ مولانا کا جانا امت مسلمہ کے لیے ایک نقصان عظیم ہے۔

رب کریم مولانا کی مغفرت کلی فرمائے، ان پر اپنی رضوان کی برکھا نازل فرما کر جنت الفردوس میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا پڑوسی بنائے۔ تشکیک سے ایمان تک کا سفر حبیب اللہ حقانی، پشاور، پاکستان مصر کے مشہور نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر مصطفیٰ محمود نے ’’رحلتي من الشك الى الإيمان‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے۔ اس رسالے میں انہوں نے تخلیق انسان، عدل، عذاب، جسد، روح، توازن وغیرہ پر جدید علوم کے مطابق عمیق انداز میں بحث کی ہے۔ اُس میں وہ مولانا وحید الدین خان کا قول نقل کر کے لکھتے ہیں:

يقول لنا المفكر الهندي وحيد الدين خان: إذا كان الظما إلى الماء يدل على وجود الماء فكذلك الظمأ إلى العدل لابد أنه يدل على وجود العدل ... ولأنه لا عدل في الدنيا ... فهو دليل على وجود الآخرة مستقر العدل الحقيقي (صفحه (35) یعنی جب پیاس پانی کے وجود پر دلالت کرتی ہے تو اسی طرح انصاف کی پیاس (مطالبہ) بھی انصاف پر دلالت کرتی ہے۔ جب کہ دنیا میں انصاف نہیں ہے تو یہ واضح دلیل ہے کہ’’ آخرت‘‘ جو حقیقی انصاف کا ٹھکانہ ہے، موجود اور ثابت ہے۔

جدید دور کے اہم اور اس صدی کے قداور شخصیت کو اللہ تعالی مغفرت نصیب فرمائے اور مساعی جلیلہ و خدمات جمیلہ کو قبول فرمائے۔

محمد سجاد نواز، ساہیوال، پاکستان ’’زندگی میرے لیے اُس دن کا انتظار ہے جب رب العالمین براہِ راست طور پر انسان پر ظاہر ہو گا اور میں خوشی اور حیرت کے آنسوؤں کے ساتھ اُس کا استقبال کروں گا۔ مولانا وحید الدین خان صاحب بظاہر ایک سادہ نظر آنے والے واقعہ کا تعلق بھی اللہ اور آخرت سے جوڑ کر دکھا دیا کرتے تھے۔ اپنی تحریروں میں اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ بات اس طرح کی جائے کہ جدید ذہن کو اپیل کرے اور اُس سے سبق بھی حاصل ہو۔ اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو مولانا کی شہرہ آفاق کتاب ’’رازِ حیات‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مولانا کی کُتب نے زندگی کے حوالے سے کئی لوگوں کے سوچنے کا زاویہ تبدیل کیا۔

بعض اہل علم نے مولانا کی پیش کردہ تعبیر دین سے اختلاف بھی کیا لیکن جس بات کے کم وبیش سب ہی معترف رہے وہ اُن کا الحاد کے تناظر میں کیا گیا علمی کام ہے۔ کئی صاحب علم کی زبان سے سنا کہ وہ ایک زمانے میں الحاد و تشکیک کا شکار ہوئے اور پھر مولانا وحید الدین خان کو پڑھ کر واپس اسلام کی طرف لوٹے ۔ مولانا کی ذاتی زندگی کے حوالے سے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ ’’مولانا وحید الدین خان صاحب اپنی روزمرہ زندگی میں بھی خدا کو ایسے یاد کرتے تھے جیسے اسباب کے پردے اُن کی آنکھوں سے چھٹ گئے ہوں۔ چائے ٹھنڈی ہو گئی تو اللہ پاک نے آج ٹھنڈی چائے پلا دی، چائے گر گئی تو اللہ پاک نے پہلے والی چائے گرا کر نئی والی پلا دی۔

Printed page