جہاز لیٹ ہو گیا تو اللہ پاک نے جہاز لیٹ کر دیا،
Al-Risala, August 2021, pp. 147–148
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی نے پکڑ کر جہاز پہ سوار کرا دیا تو اللہ پاک نے آگے ایک بندہ بھیجا ہوا تھا جس نے پکڑ کر جہاز پہ بٹھا دیا، راستہ بھول گئے تو اللہ پاک نے ان سڑکوں کا دو چار بار چکر لگوا دیا،
کسی نے رستہ بتا دیا تو اللہ پاک نے رستہ بتانے والا کھڑا کیا ہوا تھا۔ اہلِ نظر بالعموم مجذوب کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ جو فنا فی اللہ کی کیفیت سے ایسے گزریں کہ انہیں خدا کے سوا کچھ دکھائی نہ دے یہاں تک کہ ہوش باقی نہ رہے۔ اس میں استثناء البتہ ایک شخص کو حاصل رہا وہ مولانا وحید الدین خان صاحب ہیں جو باہوش مجذوب تھے۔
’’ آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے‘‘ قاسم رونوچھا، کوئٹہ، پاکستان مثبت سوچ، اصول اعراض، خدارخی زندگی، دعوہ ورک، وقفہ امن، تعمیر شخصیت، آرٹ آف تھنکنگ، بے فائدہ لڑائی، علانیہ واپسی، پیرانوئیا کی نفسیات اور اس قسم کی بے شمار اصطلاحیں وضع کرنے والی آواز اگرچہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی ہے۔ لیکن بلاشبہ مولانا صاحب اپنے ہی الفاظ میں وہ امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کی چند سیڑھیاں دے گیا ہے۔
مولانا قدیم جدید علوم پر گہری بصیرت رکھنے والے اعلیٰ پائے کے مجتہد اور بہت بڑے نفسیات دان تھے۔ مسلم نفسیات کا جس طرح انھوں نے گہرا تجزیہ اور حل پیش کیا معلوم تاریخ میں ایسا کام پہلے نہیں ہوا۔
میں نے مولانا صاحب کو 2006 سے پڑھنا شروع کیا، اور تب سے آج تک اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جب بھی انھیں پڑھا علم وبصیرت اور سوچ کی نئی راہیں کھلیں۔ مولانا کے عصری اور سائنٹفک اسلوب سے کوئی آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ قدیم جدید علوم پر ان کی گہری نظر تھی ان کا انداز تحریر یہ ہے کہ وہ ایک مختصر عنوان قائم کرتے ہیں۔ اپنے قاری کو اعلیٰ سطح کی معلومات اور آخر میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ بے شمار موضوعات پر ان کی سینکڑوں کتابیں مجھے ان کی کتابوں میں سفرنامے اور ڈائریاں بہت پسند ہیں۔ اللہ انھیں غریق رحمت کرے اور ان کے مشن کو قائم ودائم رکھے۔