Al-Risala · August 2021

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

Al-Risala, August 2021, pp. 149–169

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد عارف ندوی (استاذ جامعہ الہدایہ، جے پور، راجستھان)

انسانی تاریخ میں ہر زمانے میں جینیس افراد پیدا ہوتے رہے اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر ہر زمانہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہے۔ مثلاً حضرات انبیاء علیہم السلام۔ اس کے بعد اصحابِ رسول کا گروہ ہے، جس کو ایک مستشرق نے ہیروز کی نرسری کہا ہے۔ اس کے بعد بھی امت مسلمہ میں ایسے جلیل القدر ذہین، رجال کار، ارباب حل وعقد، کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، اور تا صبح قیامت ان شاء اللہ یہ زریں سلسلہ جاری رہے گا۔ انہیں ذہین، مجتہد ارباب حل وعقد میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی عظیم شخصیت کا شمار ہے۔ مولانا علیہ الرحمہ نے اعظم گڑھ کے زرخیز خطے میں اپنی آنکھیں کھولیں، اور بعد میں چل کرو وہ کارنامہ انجام دیا جسے دنیا کی آنکھوں چشم فلک نے قدردانی کی اور ۲۰۲۱ء ( رمضان المبارک ۱۴۴۲ء کے عشرہ اولیٰ) میں یہ شمع علم ومعرفت کے میدان میں اپنی فکری وعلمی تابانیوں کو بکھیر کر زندگی کی آخری سانس لی۔ ثبت افکار کی شمع جلا کر کے جریدہ عالم پر اپنا روشن نام ثبت کر دیا، مولانا جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اپنے اعلیٰ افکار و مثبت کردار واُمّت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرنے والے دروس واسباق کے ایسے لازوال و دائمی نفع بخش آثار و خدمات کے موتی دے گئے جو تا ابد درخشاں رہیں مثلاً مولانا نے اسلام کی حقانیت کے اثبات کے لیے سائنسی اندازِ فکر کو اپنایا اور سائنندانوں کی تحقیقات کی روشنی میں کلمۂ اسلام و دین اسلام کی حقانیت اجاگر کی۔

قرآن عظیم کی منفرد خدمت انجام دی کہ جس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی، 30 سے زیادہ زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کروا کر دنیا میں پیغام خداوندی کو عام فرمایا۔ یہ ایسا کارنامہ ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ نہ جانے اس کی برکت سے رب ذوالجلال کی کتاب مقدس کے ذریعہ کتنے لوگوں کو اسلام کے سمجھنے کی توفیق ارزانی ہوئی اور ہزارہا ہزار لوگوں کے شکوک وشبہات وغلط فہمیوں کا ازالہ ہوا اور ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کے قبول کرنے کی توفیق و سعادت حاصل ہوئی۔

مولانا کے قلم گوہر بار سے سیکڑوں علمی دینی ادبی تحقیقی کتابیں اور مضامین تصنیف ہوئے ہیں سے مولانا کی شخصیت کو پہچانا جا سکتا ہے، آپ کی تحریروں اور مثبت افکار سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوتی مولانا کی مشہور کتابیں ’’علم جدید کا چیلنج‘‘ یا ’’اظہار دین‘‘ نامی کتابوں سے مولانا کی فکر کو بہ خوبی پہچانا جا سکتا ہے، ایسے مضامین جن سے مثبت سوچ، اور تخریب میں تعمیر، فساد میں صلاح، شر میں خیر، کی جلوہ گری ہوتی ہے۔ مولانا کا کمال یہ ہے کہ انھوں شر میں خیر، تخریب میں تعمیر، مکر میں ایجابی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی۔

مولانا مرحوم کی سو سے زائد تصنیفات وتألیفات علمی مضامین ومقالات ہیں اور مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر نشر ہو چکے ہیں اور علماء وسائنسداں و حق کے متلاشیوں سے دادِ تحسین حاصل کر چکے ہیں اور انھیں صراط مستقیم پر چلنا نصیب ہوا ہے۔

مولانا مرحوم میں بہت سے محاسن وخوبیاں تھیں، انسانوں کے ہر ہر طبقے میں مولانا کو شرف قبولیت حاصل ہوا، بعض حضرات نے ان کے چند افکار و تخیلات کی بابت تنقید و تنقیص کا پہلو اختیار کیا ہے، یقینا انسان کے کاموں میں وہ کمال نہیں ہوسکتا جو رب ذوالجلال پھر انبیاء کرام علیہم السلام کا خاصہ ہے، انسان غلطیوں سے پاک نہیں ہوسکتا، بقول امام مالک بن انس كُلُّ أَحَدٍ يُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِهِ وَيُرَدُّ إِلَّا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (المقاصد الحسنہ، اثر نمبر (815)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہر ایک قول کو لیا بھی جاسکتا ہے، اور چھوڑا بھی جاسکता ہے۔ اسی کے پیش نظر یقیناً مولانا کی بہت سی رایوں سے اختلاف کرنے کی گنجائش ہے، اور بہت سے ارباب تحقیق نے اس کا خیر کو انجام بھی دیا ہے۔

امت مسلمہ کا دانشور طبقہ بہ خوبی واقف ہے کہ مولانا نے مذہب اسلام کی سر بلندی و حقانیت کے اثبات کا جو کام انجام دیا ہے، وہ بسا اوقات ایک انجمن بلکہ پوری اکیڈمی کا کام تھا، جسے مولانا نے تن تنہا انجام دیا، اور ملک ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش چیلنج میں مثبت راہ نمائی فرمائی۔ یکساں سول کوڈ، مدارس اسلامیہ کے نصاب و نظام و طریق تعلیم کی افادیت پر یا پیغمبر اسلام کے تشخص وعظمت پر یا قرآن مجید کے ذریعہ اظہار دین پر مولانا کے قلم سے فکری، تحقیقی علمی، ایجابی باتیں نکلی ہیں، جنہیں پڑھ کر بہت سے نان مسلموں نے اسلام کے تئیں اپنی بے خبری کا اعتراف

کیا، اور یہ کہا کہ اگر یہی اسلام ہے تو ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہی مولانا مرحوم کی مغفرت و درجات کی بلندی کے لیے کافی ہے ان شاء اللہ۔

میں نے خود دیکھا کہ ایسے مقامات پر مولانا کے نام سے ان کی کتابیں ورسائل وفکری مضامین تقسیم کرنے کی عام اجازت ملی جہاں کسی ٹوپی وداڑھی والے کا گزر مشکل تھا۔ مثلاً جے پورلٹریچر زمانے کے اسلوب میں اسلام کی حقانیت پیش کرنے وتہذیب اسلامی کے صحیح خدوخال اجاگر کرنے واظہار دین کا یہ گراں مایۂ کارنامہ تاابد یاد رکھا جائے گا، نئی نسل کو مثبت فکر وایجابی اسلوب میں سوچنے سمجھنے ودوسروں تک اسے پیش کرنے کا عظیم کارنامہ مولانا مرحوم کا ایک عمدہ تحفہ وحسین گلدستہ ہے جس کی خوشبو سے سارا عالم معطر ہوتا رہے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہج دعوت وتبلیغ کی جلوہ سامانی وتابانی ہمیشہ زندہ وجاوید رہے گی۔ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کوئی موقع نہیں چھوڑا، جہاں آپ نے دعوت پیش نہ کی ہو، آپ کبھی عکاظ کے میلے میں، کبھی ذو المجاز و ذو المجنہ کے کافروں ومخالفوں کی جہمٹ میں، کبھی کسی گھاٹی میں مشرکین کے ازدحام میں اسلام کا کلمہ پہنچایا اور ہر جگہ مخالفتوں وذشنام طرازیوں وخردہ گیریوں وحجاں فشانیوں کے باوجود کامرانی وکامیابی کی دولت سے ہمکنار ہوئے۔ یہی معاملہ مولانا کا تھا۔ ہے کہ اسلامی دعوت کی تڑپ میں لیل ونہار کی گردشیں گزارنے والے دعوت وتبلیغ کے اس داعی، محی السنة کا نام ہمیشہ جگمگا تار ہے ۔ اے مرد مجاہد ! تیری رفعتوں کو دوام، تیری عظمتوں کو سلام، اور تیری مثبت وایجابی فکروں کو عروج حاصل ہو، اور مخلوقِ خدا کو اس سے تشنہ کامی کو دور کرنے وتاریکی کو مٹانے کی توفيق وسعادة حاصل ہو۔

بہت اداس ہوں ۔ مولانا سے بہت متاثر ہوں ۔ ایسی صالح اور پاک زندگی گزاری ہے انہوں نے کہ جس پر رشک کیا جاسکتا ہے۔ جب بھی زندگی سے مایوس ہوتا ہوں مولانا کی کوئی کتاب پڑھتا ہوں اور تازہ دم ہو جاتا ہوں ۔ (شہر زاد علی، اٹک، پاکستان)

جناب ڈاکٹر ثانی اثنین صاحب حفظکم اللہ تعالیٰ ورعاہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان صاحب ایک عبقری انسان تھے۔ زندگی بھر میں ان کے الرسالہ اور ان کی دیگر کتب کا قاری تھا۔ ان کی وفات پر بڑا صدمہ ہوا، اور رمضان المبارک کی مبارک طاق رات میں اپنی جامع مسجد کوئینس کر اس ڈڈلی میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی، جس میں بہت سے نمازی شریک تھے۔ اللہ کریم مولانا کو اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے، اور ان کے متعلقین کو صبر جمیل بخشے، آمین! میں جامعہ دارالسلام عمر آباد کا فارغ ہوں، اور زائد از بیس سال سے برطانیہ میں میرا وطن حیدر آباد دکن ہے۔ مولانا جب بھی یہاں تشریف لائے ڈاکٹر شمشاد خان صاحب کے توسط سے ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام صاحب اور محترمہ فریدہ خانم صاحبہ کی خدمات میں سلام عرض ہے۔ آپ کا مخلص ڈاکٹر عبدالرب ثاقب، برمنگھم، انگلینڈ 200 سے زائد کتابوں اور رسائل کے مصنف ڈڈلی ( پ ر ) ڈاکٹر عبدالرب ثاقب ناظم نشر و اشاعت مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ نے معروف سکالر عالمی شہرت یافتہ مفکر مولانا وحید الدین خان کی یاد میں منعقد ایک تعزیتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا وحید الدین خان 96 سال کی عمر میں دہلی میں دار فانی سے رحلت کر گئے انا للہ وانا الیہ راجعون! وہ ماہانہ ’’الرسالہ‘‘ کے مدیر تھے، اور تقریباً پچاس سال سے تن تنہا نکالتے رہے ۔ ان کی تحریروں میں ایک خاص دلچسپی اور کشش تھی، جو قارئین کو اپنا بنا لیتی تھی۔ میگزین انڈیا میں تقریباً ہر علمی ذوق رکھنے والے افراد کے یہاں موجود رہتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک

ڈائجسٹ کی تھی جس کو ہر مذہب و ہر مسلک کے لوگ شوق سے پڑھتے تھے اور ساتھ ہی انگریزی داں طبقہ کے لیے انگریزی ماہانہ بھی جاری کیا۔

مولا نا نے دینی تعلیم کے بعد اپنی ذاتی کوشش سے انگریزی تعلیم حاصل کی جس کا عملی ثبوت ان کی تفسیر قرآن اردو کے ساتھ انگریزی میں قرآن کا ترجمہ اور تفسیر ہے۔ مولانا کے ایک مداح نے ایک ہزار صفحات پر ایک کتاب اوراق حیات تیار کی ہے، جس سے مولانا کی زندگی پر روشنی پڑتی مولانا ایک عبقری شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے اپنے الرسالہ کا مقصد دعوت الی اللہ قرار دیا اور اس نقطہ نظر سے انہوں نے دو سو سے زیادہ کتابیں اور رسائل تصنیف کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اردو عربی ہندی اور انگریزی میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ مولانا بہت ہی سیدھی سادی زندگی بسر کرتے تھے تکلفات اور تصنعات سے بالکل بری تھے۔ جب جامعہ دارالسلام عمر آباد چند دن کے لیے تشریف لائے تا کہ جامعہ کے طلباء ان سے براہ راست استفادہ کریں تو اس وقت نائب ناظم جامعہ مولانا ظفر الحق شا کر عمری نے ان کی میزبانی کے لیے کھانوں کی تفصیل معلوم کرنا چاہی تو انہوں نے فرمایا کہ جو کھانا طلباء کے لیے جامعہ میں پکتا ہے وہی کھانا میں بھی کھاؤں گا۔ ناظم جامعہ نے سکھ کا سانس لیا، ورنہ عموماً جامعہ کے طلباء بھی بعض اوقات جب وہ کچھ پڑھ لکھ کر مکی، مدنی، ریاضی، ازہری یا ڈاکٹر انجنئیر بن جاتے ہیں تو اپنی سابقہ زندگی کو بھول جاتے ہیں اور نئی نئی ڈشز کی فرمائش کرتے ہیں۔ جب کہ مولانا اتنی بڑی انٹرنیشنل شخصیت ہونے کے باوجود کس طرح ان کی طبیعت میں انکساری اور تواضع تھا۔

مولانا ایک مجتہد تھے جو حق بات ہوتی اس کا برملا اظہار کر دیتے تھے۔ ابھی ایک عرصہ پہلے حکومت ہند نے مسلمانوں کے طلاق کا مسئلہ اٹھایا تو انہوں نے حنفی مکتب فکر کے خلاف اہل حدیثوں کے مطابق فتوی دیا کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کو ایک قرار دینا چاہیے۔ جب کہ اس حق کا اقرار انڈیا میں مسلم پرسنل لا بورڈ نے نہیں کیا۔ اس اعتبار سے مولانا اپنے مسلک کے خلاف اہل حدیثوں کے فتوی کا اعلان کر کے تقلید شخصی کا برملا انکار کیا۔ اس میں شک نہیں کہ مولانا کے قلم نے جمہور علماء کے خلاف بہت سے مسائل میں اختلاف کیا ہے۔ مگر انہوں نے عام علماء کی طرح بھی مکھی پر مکھی نہیں ماری ہے اور ہم اہل حدیث کسی بھی امام کی جامد تقلید کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے کہ ہر امام سے

غلطی ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم ہر امام کا احترام کرتے ہیں، لیکن کسی بھی امام کی سوفیصد تقلید نہیں کرتے، نہ ائمہ اربعہ کی، نہ امام بخاری و مسلم کی، نہ امام ابن تیمیہ کی اور نہ ہی امام البانی کی۔ اس طرح ہم مولانا وحید الدین خان کی تقلید کی بھی دعوت نہیں دیتے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ حدیث کے مطابق حکمت کی بات ایک مسلمان کا گم گشتہ خزانہ ہے وہ جہاں سے بھی ملے اسے لے لینا چاہیے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2687)۔ سوفیصد اتباع صرف اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو، آپ کے علاوہ کسی کی بھی جائز نہیں ہے۔

مولانا وحید الدین خان ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار اور ان گنت خوبیوں سے نوازا تھا۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، بلکہ وہ موحد تھے اور اللہ کا وعدہ ہے کہ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو معاف کر دوں گا (سورہ النساء وہ نہ قبر پرستی کے قائل تھے نہ ہی تعزیہ پرستی کے اور نہ ہی بزرگ پرستی کے قائل ان کی کمی دنیا میں محسوس کی جائے گی، اور ان کو سدا یاد رکھا جائے گا۔ برطانیہ میں مقیم مولانا عبد الہادی العمری، مولانا احمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، ڈاکٹر صہیب حسن، مولانا عبد الحق مدنی، محمد فاروق نسیم، مولانا کنور شکیل محمد سلمان اظہر، مولانا عبد الباسط عمری، مولانا محمد ابراہیم میر پوری، حافظ حبیب الرحمن جہلمی، ڈاکٹر شمشاد احمد ڈائریکٹر آئی پی سی آئی برمنگھم، حافظ عبد الاعلیٰ درانی، برادر خالد خان، برادر ثاقب بانی الہجرہ، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر حضرات نے اس پروگرام میں شرکت کی۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا تبلیغ والوں کے ساتھ سالانہ چلہ کے لیے نکلا ہوا تھا کہ رات بھائی نے یہ جانکاہ خبر سنائی۔ عصر حاضر میں دعوت دین کا ایک بہت بڑا ستون گرا ہے۔ مولانا سے محبت کا تقاضا یہ ہے ان کی دعوت اور پیام امن کو عام کیا جائے۔ (ذکا ء اللہ ، اسلام آباد)

مولانا وحید الدین خان : کچھ یادیں اور باتیں ظہیر احمد، ایڈیٹر تحریر وتصویر (پاکستان)

1925ء کو اعظم گڑھ اتر پردیش میں پیدا ہونے والے ممتاز اسکالر مولانا وحید الدین خان 21 اپریل 2021 کو دہلی میں انتقال کر گئے۔ انہیں 12 اپریل کو کرونا کی تشخیص کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا 96 برس کی عمر پانے والے مولانا وحید الدین خان کو اسلام کے حوالے سے مختلف اپروچ اور طرز فکر کا بانی سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے تقریبا 200 کتابیں لکھیں۔ مولانا وحید الدین خان کو معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کے لیے طویل کوششوں پر بھارت کا دوسرا اعلی ترین شہری اعزاز بھی "پدم وبھوشن" دیا گیا تاہم ان کے ناقدین بابری مسجد کے انہدام اور کچھ دیگر حوالوں سے، ان کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں مگر ان کی علمی فضیلت کو تسلیم کرنے سے انہیں بھی انکار نہیں تھا۔ مولانا وحید الدین خان کی علمی فضیلت کا اعتراف کرنے والوں میں مسلمان ناقدین کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی صدر رام ناتھ نے بھی تعزیتی پیغامات میں مولانا وحید الدین خان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر تعلیم اپنے آبائی علاقے کے ایک روایتی مدرسے سے حاصل کی تھی۔ تاہم ان کے انتقال کے بعد پاکستان کے ممتاز اسکالر جاوید احمد غامدی نے جب ٹی وی پر مولانا کے حوالے سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نہ صرف مولانا وحید الدین خان کے استاد رہے تھے بلکہ بعد کے زمانے میں ان کے شاگرد رہنے کا اعزاز جاوید احمد غامدی کو بھی حاصل ہوا۔ تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں وہ جماعت اسلامی انڈیا میں شامل ہو گئے اور 1963ء تک اس کے رکن رہے۔

مولانا وحید الدین اس عرصے میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ لیکن نظریاتی اختلاف کے سبب، جو اسلام میں سیاست کے حوالے سے تشریح کی بابت ابھرے، وہ جماعت اسلامی سے دور ہو گئے۔ غالباً یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد اور کچھ دیگر اہم شخصیات کے

اختلافات طویل بحث ومباحثوں کے بعد راستوں یا اپروچ کے جدا ہونے کی آبیاری کر رہے تھے۔ مولانا وحید الدین نے 1963ء میں جماعت اسلامی سے جدا ہو کر ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کے نام سے کتاب جاوید احمد غامدی نے اسے معرکہ آرا تصنیف قرار دیا ہے۔

محقق عرفان احمد کے مطابق پہلے انہوں نے جماعت اسلامی انڈیا کے ارکان کو بات چیت کے ذریعہ اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا، تو ارکان نے مولانا وحید الدین سے اسے تحریری صورت میں پیش کرنے کو کہا۔ مولانا وحید الدین نے مولانا مودودی کو بھی پاکستان میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا جس میں ان کے نظریے پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

محقق عرفان احمد لکھتے ہیں، مولانا مودودی ने مولانا وحید الدین की تنقید का जवाब नहीं دیا بلکہ جواب میں یہ لکھا: ’’آپ کا مطالعہ آپ کو ایک سمت میں لے گیا ہے، اس کے برعکس، میرا مطالعہ مجھے دوسری جانب لے گیا ہے، اگر آپ اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ میں نے دین کو مکمل طور پر غلط سمجھا ہے، تو پھر آپ صحیح سمجھتے ہیں اور اس کی مثبت تشہیر کریں، لیکن آپ میری ترجمانی میں غلطیاں ظاہر کرنا ضروری समझते हैं то मुझे کوئی اعتراض ਨਹੀਂ، آپ अपनी كتاب شایع कर सकते हैं‘‘۔ جب مولانا وحید الدین ने مولانا مودودی को अपनी تنقید پر زور ڈالا تو انھوں ने لکھا: ’’آپ کا مکالمہ کرنے का انداز یہ ظاہر करता है کہ جو نکتہ نظر को قبول نہیں करता वह जाहिल اور غیر دانشمند ہے۔ مولانا وحید الدین ने اعتراف किया कि हो सकता है ان का अंदाज سخت हो، लेकिन ان का واحد مقصد’’حق की तलाश‘‘ था। مولانا وحید الدین 200 کتابوں के مصنف के अलावा اعلیٰ درجے के مفسر قرآن भी تھےـ مولانا وحید الدین سے نظریاتی اور سیاسی خیالات से اختلاف رکھنے والے بھی ان کی علمی فضیلت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ کلکتہ کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر محمد ریاض اگرچہ ان سے اختلاف رکھنے والوں میں تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک عالم تھے، بلاشبہ ایک عظیم عالم۔ سینئر صحافی محمد وجیہ الدین کہتے ہیں कि مسلمانوں ने مولانا کے فارمولے को مسترد کر دیا، کیونکہ بعض लोग उसे ’’ہتھیار ڈالنے‘‘ کی مانند دیکھتے تھے۔ وجیہ الدین لکھتے ہیں: ان سے ملنا ایسا تھا جیسے ایک صوفی سے، ڈھيلا ڈھالا کرتا پاجامہ، ان کے موٹے شیشے से جھانکتی نظریں، ان کی پگڑی

اور لمبی سفید داڑھی ۔ وہ ایک روایتی شخص کی مانند تھے لیکن ان کے خیالات جدید تھے۔ وہ انتہا پسندی اور مقدس صحیفوں کی قدامت پسند ترجمانی کے خلاف تھے۔

1976ء میں انہوں نے ماہنامہ ’’الرسالہ‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ جریدہ مکمل طور پر ان کے مضامین پر مشتمل ہوتا تھا اور اردو زبان کی دنیا میں تیزی سے مقبول ہو گیا۔

وجیہہ الدین لکھتے ہیں: مولانا وحید الدین کی موت سے انڈیا اور دنیا، سمجھداری کی بات کرنے والی ایک مضبوط آواز اور امن کا پیغام دینے والے ایک مبلغ سے محروم ہو گئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے لکھا ہے: مولانا وحید الدین خان کی رحلت سے بہت صدمہ پہنچا۔ بلاشبہ ان مفکرین میں سے تھے جنہوں نے ہمارے زمانے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ مختلف مذہبی فرقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان کے درمیان مکالمہ و تبادلہ خیال کی فضا پیدا کرنے میں مولانا کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اسلام کو جدید اسلوب میں اور محکم سائنسی ومنطقی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مولانا کی کوششیں بھی، ان شاء اللہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گی۔ حسینی صاحب نے مولانا وحید الدین کی بعض مشہور کتابوں کا حوالہ دے کر لکھا ہے، مولانا اردو نثر کے ایک بالکل منفرد اور اور بڑے پرکشش اسلوب کے بانی ہیں۔ انتہائی سادہ زبان میں اور بڑے اختصار کے ساتھ گہرے علمی مضامین کو بیان کرنے کا جو اسلوب مولانا نے ایجاد کیا، وہ بلاشبہ ان کا غیر معمولی کمال تھا اور اس نے کئی نسلوں کے اسلوب تحریر پر اثر ڈالا ہے۔ حسینی صاحب نے مولانا کی تحریروں اور ’’الرسالہ‘‘ کے مطالعے کے علاوہ ان کے گھر پر ان سے بہت سی یادگار ملاقاتوں میں ان کی شفقت و محبت اور قدردانی سے متاثر ہونے کا ذکر بھی کیا ہے۔ (اس رپورٹ کی تیاری میں بی بی سی کے نئی دہلی میں نامہ نگار نیاز فاروقی کی رپورٹ 23 اپریل سے مدد لی گئی)۔ پاکستان میں بھی مولانا وحید الدین خاں کے سانحہ ارتحال کی خبر بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ سنی ممتاز صحافی اور سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے نہ صرف مولانا وحید الدین کی شخصیت کے حوالے سے جو کالم سپرد قلم کیا، اُس میں انھوں نے اپنے مطالعے کے حوالے سے نہایت عمدہ طریقے پر تاریخ کو سمیٹا ہے۔ شامی صاحب کا کالم بیک وقت روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اور روزنامہ ’’دنیا‘‘ میں چھپا۔ جب کہ ’’دنیا‘‘ ٹی وی چینل پر انھوں نے اپنے پروگرام میں جاوید احمد غامدی سے جو گفتگو نشر کی وہ بھی

بہت قابل تعریف تھی۔ مولانا وحید الدین کے حوالے سے گفتگو کے لیے غامدی صاحب سے بہتر شخص ہوہی نہیں سکتا تھا۔ ”دنیا‘‘ میں خورشید احمد ندیم نے بھی مولانا وحید الدین کے رخصت ہو جانے پر کالم لکھا ہے جب کہ دیگر اخبارات میں بھی ان کی شخصیت پر مضامین اور کالم شائع ہوئے ہیں۔ شامی صاحب سے 23 اپریل کو ٹی وی پر گفتگو میں جاوید احمد غامدی صاحب نے کہا کہ ایک بڑی غیر معمولی شخصیت رخصت ہوگئی ، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ شمع ہدایت کی مانند اور اپنے عہد کی منفرد آواز تھے۔ انسانیت کی حقیقت کیا ہے، مذہب کی حقیقت کیا ہے اور خدا کی سچی معرفت کس طرح حاصل ہوتی ہے؟ یہ ان کا خاص موضوع رہا۔ ان کی ایک ایک تحریر اور ایک ایک لفظ گواہی دیتا ہے کہ وہ دنیا میں جیے تو آخرت کے لیے جیے۔ ان کی یہ خوبصورت فکری تعبیر تھی کہ ہماری زندگی کے ہر معاملے کا رخ آخرت ہونا چاہیے۔ ان کا پیغام آخری وقت تک یہی رہا کہ اپنے ذہن کو مثبت رکھو اور انسانوں کے بارے میں اس طرح سوچو، جس طرح تم اپنے بارے میں سوچتے ہو۔ الرساله سے ”تحریر و تصویر‘‘ کا رابطہ کب اور کیسے ہوا یہ 1991ء کا زمانہ تھا۔ ”تحریر و تصویر‘‘ نے اشاعت کا آغاز اخباری سائز پر کیا تھا۔ ”تحریر و تصویر‘‘، فضلی سنز، اردو بازار، کراچی کی پریس میں طارق رحمن کی زیر نگرانی چھپتا تھا، جہاں کی بہت سی خاص باتوں میں ایک خاص بات یہ تھی کہ فضلی سنز ہی نے مولانا وحید الدین خان کی کتابوں کی اشاعت و فروخت کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی اور یہیں سے مولانا وحید الدین کے ”الرسالہ‘‘ کی باقاعدگی سے اشاعت اور تقسیم کا اہتمام ہوتا تھا۔ ”تحریر و تصویر‘‘ نے تسلسل سے ”الرسالہ‘‘ کا بلا معاوضہ اشتہار چھاپا اور طارق رحمن بہ اہتمام مجھے ”الرسالہ‘‘ اعزازی دیا کرتے تھے۔ اکثر حیدر آباد (پاکستان) واپسی پر ”الرسالہ‘‘ کا انہماک سے مطالعہ شروع کرتا اور سفر کے اختتام سے قبل ہی پورا کر لیتا۔ میرے پاس تاحال 1990ء سے 1996ء تک کے 70 سے زائد شمارے محفوظ ہیں۔

”الرسالہ‘‘ فروری 1991ء میں شائع ہونے والی مولانا وحید الدین کی تحریر کے ایک حصے کو میں نے ”تحریر و تصویر‘‘ میں اپنے کالم کا موضوع بنایا اور ”جسارت“ میں 1981ء اور 1982ء کے دوران اپنے بیتے حالات کے پس منظر میں اسے ”مولانا وحید الدین کا کلمہ حق‘‘ کے عنوان سے جولائی 1991ء کے شمارے میں شائع کیا۔ میری خوش بختی کہ ایک بار مولانا دہلی جاتے ہوئے کراچی ایئر

پورٹ پر کچھ دیر ٹھہرے تو طارق رحمن نے انھیں مجھ سے اور''تحریر وتصویر‘‘ سے متعارف کرایا، جس کا ذکر انھوں نے غالباً ’’الرسالہ‘‘ میں کیا۔ طارق رحمن نے 2007 میں دہلی جا کر مولانا سے ملاقات کی تصویر بھی ان کے انتقال پر ملال کی خبر کے ساتھ بھیجی ہے۔ ’’تحریر وتصویر‘‘ جولائی 1991ء کے شمارے سے میرے کالم کا ابتدائی حصہ از سر نو کمپوزنگ میں ملاحظہ ہو:

ممتاز عالم دین، مفسر قرآن اور’’الرسالہ‘‘ دہلی کے مدیر مولانا وحید الدین خان نے’’الرسالہ‘‘ فروری 1991 کے شمارے میں اپنے دورہ روس کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے: سوویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک’’مخالف‘‘ کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ واقعہ نہیں، یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے، جو اس کو سارے عالم پر غالب کیے ہوئے ہے۔ وہ یہی فراخ دلی اور برداشت ہے۔ جمہوریت جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے۔ وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اس صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔ زمانے کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملہ میں بالکل برعکس ہے۔ ان کے یہاں صرف اپنے موافق کے لیے جگہ ہے، جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے لگتے ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے’’اکابر‘‘ پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نہ ہو، اس کے بعد وہ شخص اس ادارہ کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے، کجا کہ اس کو اپنے ادارہ کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے بلائیں۔ موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہے کہ یہ ادارے سطحی انسانوں کی سرائے بن کر رہ گئے ہیں۔ کم از کم پچھلے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلاف رائے کا ماحول ہو۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں پھر وہاں اعلیٰ درجے کے انسان کیوں پیدا ہو سکتے ہیں۔

مولانا وحید الدین خاں مولانا محمد شمشاد ندوی ، جے پور مولانا وحید الدین خاں کئی روز علیل رہنے کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی رحلت کی خبر عام ہوتے ہوتے تعزیتی بیانات آنے شروع ہوئے۔ مولانا اپنے مضامین، تصنیفات اور اپنے مخصوص نظریات کی وجہ سے ہر طبقہ میں متعارف تھے اور برادران وطن میں بھی مقبول تھے۔ ان کا ’الرسالہ‘ وقت پر پابندی کے ساتھ شائع ہوتا اور اس کے قارئین بے صبری سے اس رسالہ کا انتظار کرتے۔ ان کی تصنیفات میں ’علم جدید کا چیلنج‘، ’خاتونِ اسلام‘ اور ’پیغمبر اسلام‘ وغیرہ اپنے موضوعات پر منفرد اور جامع کتب ہیں جو کئی زبانوں میں شائع ہو کر مشہور و متداول ہو چکی ہیں۔ اسی طرح ’الرسالہ‘ کے بہت سے مضامین و مقالات نہایت قیمتی ہیں۔ مولانا موصوف اپنی آخری عمر تک اپنے مشن کے لیے وفادار اور یکسو رہے اور ہر کام کو وقت اور پابندی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ مولانا کے منفرد و اچھوتے انداز نے ان کی تحریروں کو پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے ملی نظریات سے اختلاف کے باوجود ان کے کچھ مضامین اور منتخب کتابوں کا مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔ مولانا وحید الدین خاں یکم جنوری 1925ء کو بڈھریا، ضلع اعظم گڑھ (اتر پردیش) کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مدرسۃ الاصلاح میں تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوئے اور یہاں سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد تحریری میدان میں قدم رکھا۔ آپ کی ایک کتاب ’علم جدید کا چیلنج‘ بہت مشہور ہوئی۔ جمعیۃ علماء ہند کے ترجمان ’الجمعیۃ‘ دہلی میں مدیر رہتے ہوئے قیمتی مضامین لکھے۔ دھیرے دھیرے پورے ہندوستان میں متعارف ہو گئے اور آپ کے مضامین شوق و دلچسپی سے پڑھے جانے لگے۔ 1976ء میں ماہنامہ ’الرسالہ‘ جاری کیا جس کو وہ پابندی کے ساتھ شائع کرتے رہے۔ یہ رسالہ بہت شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ مولانا کی تقریباً دو سو کتابیں ہیں جو اردو، عربی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں شائع ہوئیں۔ مولانا کا ترجمہ قرآن کئی زبانوں میں شائع ہو کر بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ ان کی کتابیں برائے استفادہ بلا قیمت دی گئیں۔ جے پور لٹریچر فیسٹیول میں بھی ان کی

کتابوں کا اسٹال لگایا جاتا ہے۔ ان کی ایک کتاب ’الاسلام متحدہ عرب کی یونیورسٹی میں شامل 12 مئی 1989ء میں حکومتِ پاکستان نے ان کی کتاب ’پیغمبرِ انقلاب‘ (انگریزی) پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔ حکومتِ ہند کی جانب سے ان کو کئی اعزازات پدم بھوشن ایوارڈ، قومی یکجہتی ایوارڈ، ’قومی اتحاد ایوارڈ، اور قومی شہری اعزاز، دیے گئے۔ اسی طرح ’ڈیمورگس بین الاقوامی اعزاز، اردو اکیڈمی اعزاز، دہلی اعزاز (دہلی حکومت) سے بھی نوازے گئے۔

مولانا وحید الدین خان کا ترجمہ قرآن اور ان کی کتابیں ان حلقوں میں پہنچ جاتی ہیں جہاں ہمارے علماء ومصنفین کی کتابوں کی رسائی نہیں ہوپاتی۔ سخت گیر ہندو تنظیموں وجماعتوں کے اسٹیج پر مولانا مخاطب ہوتے تھے۔ مولانا کا نظریہ تھا کہ ہم نرمی اختیار کر کے ہندوستان میں دعوتی کاموں کے لیے سرگرم ہوجائیں اور برادرانِ وطن میں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق جوشکوك وشبہات اور غلط فہمیاں ہیں ان کا ازالہ کریں۔ اگر ہندوستان میں ہندواور مسلم میں دوریاں بڑھیں گی اور آپسی غلط فہمیاں بڑھیں گی تو ہم دعوتی کام آسانی سے نہیں کرسکیں گے اور مسلمانوں کے لیے حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ مولانا ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد میں حائل رکاوٹیں ختم ملی مسائل کو صبر وتحمل کے ساتھ حل کرنا چاہتے تھے وہ امن واتحاد کے ایسے داعی اور مبلغ تھے جو برادرانِ وطن سے خوشگوار و بہتر تعلقات کے لیے ہر سمجھوتہ کو بہتر سمجھتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے نظریات وخيالات کے خلاف مضامین اور کتابیں لکھی گئیں اور مراسلے وتبصرے شائع کیے گئے۔ بہت سے لوگوں نے ہندوستان کی تاریخ، ماحول اور حالات میں ان کی اعلانیہ تائید کی۔ مولانا وحید الدین خان کی رحلت اہل علم اور اہل خرد کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ بات تو ہے کہ مسلمان، غیر مسلم، غیر مذہبی سب غم کا اظہار کر رہے ہیں۔ علمائے اسلام کو اس بات پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے جیسا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (عمیر سالار، پاکستان) تاریخ کو پڑھنے کا نقطۂ نظر یعنی تاریخ کا مطالعہ برائے اپنی اصلاح ان سے سیکھا ہے، اور بھی بہت کچھ ان سے سیکھا ہے۔

مولانا وحید الدین خاں سے ایک غیر رسمی ملاقات سہیل ارشد، انڈیا عظیم اسلامی مفکر مولانا وحید الدین خاں سے ملاقات کی میری دیرینہ خواہش جولائی 2016ء میں پوری ہوئی۔ میں نے ان کے نظام الدین دلی کے مکان میں ان سے ملاقات کی۔ وہ بالکنی میں میرے ساتھ بیٹھے۔ میرا ارادہ ان سے انٹرویو لینے یا ان سے علمی گفتگو کرنے کا نہیں تھا۔ بلکہ صاف گوئی کا تقاضا یہ ہے کہ میں ان سے علمی گفتگو کا خود متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ میرا ارادہ صرف ان جیسی عہد ساز شخصیت سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے کا تھا۔

میں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کا رسالہ الرسالہ پڑھا تھا اور دوسرے لاکھوں مسلمانوں کی طرح ان کے عصری اسلوب سے بہت متاثر تھا۔ لہذا قیام دہلی کے دوران میں نے ان سے ملاقات کی۔ انھوں نے دوران گفتگو اپنی ذاتی زندگی سے متعلق تھوڑی بہت گفتگو کی اور مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی مسائل سے متعلق کبھی اپنی آراء ظاہر کیں۔ انھوں نے بچوں کی پرورش سے متعلق اپنا طرز فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے بچوں کو بھی بے جالاڈ پیار سے نہیں بگاڑا اور ان کی کبھی ناز برداری نہیں کی۔ ہمیشہ انھیں یہ احساس دلایا کہ انھیں اپنی زندگی اور کیریئر کو بنانے کے لیے خود ہی محنت کرنی ہوگی۔

اکثر مشہور عوامی شخصیات کے بچے اپنے والدین کی مدد اور اثر ورسوخ پر منحصر رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنی شہرت اور اثر ورسوخ کی بنا پر ان کا کیریئر بنادیں یا ان کے مسائل حل کردیں۔ اس وجہ سے ان کے بچے نفسیاتی طور پر کمزور اور اپنے ہر مسئلے کے حل کے لیے اپنے والدین پر منحصر مولانا وحید الدین خاں نے اپنے بچوں کو شروع ہی سے حالات سے خود ہی لڑنے اور اپنی زندگی اور کیریئر کی تعمیر خود ہی کرنے کی نفسیاتی ترغیب دی۔ انھوں نے کہا کہ جب میرا بیٹا بالکل چھوٹا تھا تو کبھی کبھی رات کو بغیر کھائے سو جاتا تھا۔ میری بیوی اس کو جگانے کی کوشش کرتی تھی تاکہ اسے کھلا سکے تو میں ان سے کہتا تھا کہ اسے چھوڑ دو، سونے دو، وہ نہیں کھائے گا تو مر نہیں جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں اکثر دنیا کے مختلف ملکوں کا سفر کرتا ہوں۔ غیر ممالک سے لوٹتے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے وہاں سے تحفے لے کر آتے ہیں۔ میں نے کبھی غیر ممالک سے اپنے بچوں کو کچھ لا کر نہیں دیا۔ اس طرزِ عمل کا فائدہ یہ ہوا کہ آج میرے بیٹے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں اور انھوں نے اپنا کیریئر خود بنایا ہے۔

چونکہ مولانا وحید الدین خاں نے اپنا علمی سفر اردو صحافت سے شروع کیا تھا۔ اس لیے انھوں نے اردو صحافت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ وہ اردو صحافت کے معیار سے نالاں تھے۔ نے کہا کہ اردو اخبارات مسلمانوں کا جذباتی استحصال کرتے ہیں اور ان کی سماجی اور سیاسی ترقی میں کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کرتے۔ اس طرح اردو صحافت زرد صحافت کے زمرے میں آتی ہے۔ انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ پوری اردو صحافت ہی زرد صحافت ہے۔ ان کی اس رائے سے ہو سکتا ہے کہ کافی لوگوں کو نا گواری ہو مگر ان کی یہ رائے ان کے ذاتی مشاہدے پر مبنی تھی۔ دورانِ گفتگو اسلامی مدارس کا بھی ذکر آیا۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی میں مدارس کے کردار سے خوش اور مطمئن نہیں تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مدارس ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی میں قابلِ ذکر کردار ادا کر سکتے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ انھوں نے الرسالہ کے ایک شمارے میں مدارس سے متعلق اپنی تنقیدی رائے کا اظہار کیا تھا۔ (بہ شکریہ اخبار مشرق، کولکاتا، 6 جون 2021، صفحہ 6) مولانا کی وفات کی خبر سن کر ایک شعر یاد آ گیا جو مولانا کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے: جس کے لیے جئے تھے اُسی سے ہیں جا ملے لاریب ہر وفا کا صلہ پاچکے ہیں ہم! مولانا وحید الدین ایک ایسے عالم تھے جنھوں نے پوری زندگی امن اور محبت کا پیغام دیا، اور مسلمانوں کے لیے ایک مصلح قوم اور مجدد کا کام کیا (سعید شاہد، کراچی) مولانا نے ساری زندگی امت کے لوگوں کو بڑی بڑی غلطیوں اور فتنوں سے خبردار کرایا اور ہمیشہ حقیقت پسندی کا درس دیا۔ (اسفندیار، اسلام آباد)

میرے علمی استاد اور رہبر فاروق عادل، پاکستان مشہور عالم دین، مذہبی اسکالر، خطے میں امن کے داعی، برصغیر کے عہد ساز مصنف اور دو سو سے زائد کتابوں کے خالق مولانا وحید الدین خان (2021-1925) اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ مولانا وحید الدین میرے علمی استاد اور رہبر رہے ہیں، آپ سے عشق کی انتہا تھی، سچ پوچھیے تو جب بھی زندگی سے دل اکتا جاتا تو مولانا صاحب کی کتابیں بہترین معالج ثابت ہوتیں، آپ پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر میرے احساسات کی ترجمانی کے لیے مولانا پر 2019 کی ایک پرانی تحریر پیش خدمت ہے۔ وہ کتابیں آپ کی امانت ٹھہریں)

یوں تو پچھلے دس سالوں سے میرے گھر میں کتابوں کا آنا ایک معمول بن چکا ہے۔ بسا اوقات کتابوں کی کثرت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ گھر میں ادھر اُدھر بکھری پڑی نظر آتی تھیں جس سے ایسا معلوم ہوتا کہ یہ رہائشی گھر نہیں بلکہ لائبریری ہے۔ یہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی تھی۔ رات کے پہلے پہر میں کتاب ہاتھ میں تھامے با آواز بلند پڑھ کر سنا رہا تھا، اور امی بلا کسی نقل وحرکت کے خاموشی سے سن رہی تھیں۔ میں تقریباً ہر کتاب سے باری باری پیرا گراف پڑھ کر سنا رہا تھا۔ بالآخر جب میں نے کتاب کو بند کر کے پرے رکھ دیا تب امی نہایت ہی شائستگی سے مجھے یہ تاکید کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ میں یہ انمول کتابیں کہیں پر دینے کے بجائے یہیں گھر ہی میں رکھ دوں۔ امی کی یہ بات سن کر میں کافی حیرت زدہ رہ گیا۔ کیوں کہ آج تک امی نے مجھے کوئی بھی چیز دینے سے منع نہیں کیا تھا اور مگر یہ میں پہلی مرتبہ سن رہا تھا۔ اسی لیے میں نے بلا توقف یہ بات امی کو بول ہی دیا کہ تعجب ہے آپ آج منع فرما رہے ہیں وہ بھی کتب دینے سے۔ میری بات سن کر جواب میں امی نے مسکراتے ہوئے کہا ہاں یہ کتب یہیں رہنے دو اگر ہو سکے تو انہیں کہیں شفٹ مت کرنا کیوں کہ ان میں کافی زیادہ حکمت اور سبق آموز کلمات درج ہیں۔ امی کے اصرار پر کتابوں کے حوالے سے میں نے اُس گھڑی کوئی حتمی فیصلہ تو نہیں کیا البتہ کتابیں کچھ دن اور گھر میں رکھنے کی ضرور ٹھان لی۔

دراصل یہ کتابیں نامور مذہبی اسکالر اور عصر حاضر کے معروف حقیقت نگار مولانا وحید الدین خان کی تھیں، جنہوں نے اپنے جدید اور روشن خیال طرز اسلوب سے دین اسلام اور زندگی کے ان گنت موضوعات پر 200 سے زائد کتب تحریر کیے ہیں۔ علاوہ ازیں علم و فکر کی ترویج و آبیاری کے لیے سن 1976 یعنی 43 سالوں سے ماہنامہ میگزین الرسالہ کا اجراء بھی کر رہے ہیں۔ آپ کی عمر تقریباً 94 سال ہے اور اس وقت انڈیا کی راجدھانی دہلی میں مقیم ہیں۔ راقم الحروف نے چند سال قبل مولانا صاحب کے کتب و تخلیقات کا مطالعہ شروع کیا، جس کے بعد سے مولانا صاحب کے فکر و افکار، انداز بیاں اور طرز تحریر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ دوران مطالعہ میں نے مولانا صاحب کو نہ صرف بطور ایک مذہبی اسکالر پایا بلکہ ایک مورخ، ایک تحقیق نگار، ایک موٹیویشنل قلم کار، پرسنالٹی ڈیویلپمنٹ، مثبت کردار ساز اور روشن خیال رائٹر کے روپ میں بھی مولانا صاحب مجھ پر آشکار ہوئے۔

مولانا صاحب کی اس بصیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ محسوس کیا کہ مولانا صاحب کے کتب اگر بنستان پبلک لائبریری میں موجود ہوں تو اس سے نہ صرف مطالعے کے شوقین نوجوان بلکہ گورنمنٹ ہائی اسکول بنستان میں زیر تعلیم نو آموز طلباء بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مستفید رہ سکتے اس سوچ اور نظریے کے تحت میں نے مولانا صاحب کی اشاعتی ٹیم سے بذریعہ خطوط رابطہ کر کے بنستان پبلک لائبریری کے لیے کتب عطیہ کرنے کی درخواست کی۔ چند دن گزرنے کے بعد خط کا جواب موصول ہوا جس میں کتابیں عطیہ کرنے کی رضامندی ظاہر کی گئی تھی اور ساتھ ہی میرا پوسٹل ایڈریس بھی طلب کیا گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد ڈاک خانے سے مجھے کال موصول ہوئی کہ آپ کے نام پارسل آیا ہے جب میں وصولی کے لیے پہنچا تو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی کہ مولانا صاحب کی کتابوں کا ایک بڑا اور وزنی پارسل موجود تھا، جس میں مولانا صاحب کی کل 34 کتابیں شامل تھیں، جن کی کل قیمت مجموعی طور پر 14700 روپے تھی۔

کتابیں موصول ہونے کے بعد میں نے تحریری طور پر مولانا صاحب کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کے ساتھ کتابیں گھر میں رکھ دیں کہ موقع ملتے ہی انہیں بنستان پبلک لائبریری کے حوالے کر دوں گا۔ دوسری جانب جب میں نے اپنی والدہ محترمہ کو ان کتابوں کے بارے میں بتایا تو وہ بے حد خوش ہوئیں کیونکہ یہ کتابیں فکشن و ادب سے ہٹ کر حکمت و دانائی اور سبق آموزی پر مشتمل تھیں ۔

امی کے اس شوق و تجسس کو دیکھتے ہوئے میں یہ کتابیں پڑھ کر امی کو سناتا تھا اور امی سن کر یہ فرماتے بغیر نہ رہتیں کہ یہ انمول کتابیں کہیں پر دینے کے بجائے یہیں گھر ہی میں رکھ دوں۔ امی کہ یہ بات سن کر میں کسی نتیجے پر تو نہیں پہنچتا البتہ دل ہی دل میں یہ فیصلہ ضرور کرتا کہ کتابوں کی ترسیل کچھ دن اور ٹال یہ تسلسل جاری ہی تھا کہ کچھ دن بعد میری اماں اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ اماں کے گزرنے کے بعد جہاں دیگر ان گنت مسئلے سراٹھائے کھڑے تھے، وہیں ایک مسئلہ ان کتابوں کا بھی تھا جو کچھ دن پہلے میری اور اماں کی صحبت میں رہی تھیں۔ ایک طرف ان کو گھر میں رکھنے کی اماں کی خواہش بے چین کرتی تو دوسری جانب انہیں لائبریری میں جمع کرانے کا وعدہ ان دو راستوں سے ایک کا انتخاب کرنا کٹھن فیصلہ تھا۔ اس لیے کافی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مولانا صاحب کی ٹیم کو صورت حال سے مطلع کیا جائے۔ بعد ازاں جو فیصلہ ان کی طرف سے آئے گا وہی حتمی اور قابل قبول مانا جائے گا۔

چنانچہ مولانا صاحب کی ٹیم سے میں رابطہ کیا، اور اپنی صورت حال ان کے سامنے بیان کی۔ بات سننے کے بعد ٹیم نے اماں کے بلند درجات کے لیے بے شمار دعائیں دی اور یہ فیصلہ صادر کیا کہ کتابیں اماں ہی کے خواہش کی مناسبت سے گھر میں رکھی جائیں۔ مشاورت آنے کے بعد بوجھ کافی ہلکا ہوا وعدہ خلافی بھی نہ ہوئی اور اماں کی خواہش بھی پوری ہوگئی۔ ایک اور کام جو پہنچ راہ ادھورا رہ گیا تھا وہ بھی اب پہلے کی طرح جاری وساری ہے۔ یعنی اماں کو یہی کتابیں پڑھ کر سنانا اس مناسبت سے اب تک کم سے کم تین چار کتابیں اماں کو پڑھ کر سنا چکا ہوں اور بقیہ کتابیں بھی پڑھ کر اماں کے گوش گزار کرنے کا مقروض ہوں اور ساتھ ہی یہ عہد کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند کرے، اور ان کا پھیلایا ہوا علم ان کے لیے صدقہ جاریہ بنے، آمین۔ عظیم مبلغ اسلام، عالم، مصلح اور مصنف مولانا وحید الدین خاں کے سانحہ ارتحال پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ اشاعت و تبلیغ دین کے لیے مولانا کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انھوں نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت ہے۔

اعظم گڑھ سے نظام الدین ویسٹ براستہ پٹھان کوٹ عبداللہ طارق سہیل اسلام کے بے مثال مفسر اور شارح مولانا وحید الدین خان ساڑھے 96 سال کی عمر میں بزم دنیا سے رخصت ہوئے۔ اعظم گڑھ سے شروع ہونے والا سفر براستہ پٹھان کوٹ دہلی کی کالونی نظام الدین ویسٹ میں ختم ہوا۔ ان کی زندگی اور فکر الہی تین مقامات کے گرد محور گردش رہی، جغرافی نہیں، روحانی اور عقلی طور پر۔ مولانا کا الرساله مشن دنیا کے ہر ملک میں ہے اور ان کا ماہانہ جریدہ الرساله اردو اور انگریزی زبانوں میں دنیا کے ہر گوشے میں پڑھا جاتا ہے۔ حلقے کے لوگ اپنے طور پر اس کے تراجم دیگر زبانوں میں بھی کرتے ہیں۔ ہندوستان سے نکلنے والا اور کوئی بھی رسالہ یا ضمیمہ اتنا بڑا دائرہ اشاعت نہیں رکھتا۔ مولانا نے دین کا گہرا مطالعہ کیا۔ انھوں نے قرآن کا مطالعہ معتقدین کی قیود سے آزاد ہو کر کیا اور دین کی حقیقی تعبیر کے لیے بہت برس جانکا ہی کی۔ اسی سفر کے دوران انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی کہ ان کے خیال میں جماعت ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کی مرتکب ہوئی تھی۔ وہ اسلامی لحاظ سے ٹھیک نہیں تھی۔ اس ناطے چھپنے والی ان کی کتاب نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ دن بدن مولانا کے حامیوں کی تعداد بڑھی اور خود جماعت کے اندر بھی نظر ثانی کی سوچ پیدا ہوئی لیکن سیاست کے ارتقائی سفر میں واپسی کی راہ نہیں تھی۔ مولانا کی حیرت انگیز کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ ہے۔ ایسے وقت میں جب جدید اسلامی تحریکوں کا طوطی پورے عالم اسلام میں بول رہا تھا اور مراکش سے لے کر جکارتہ تک نئے طالب علم مولانا مودودی، سید قطب اور بدیع الزمان نورسی کی فکر کے اسیر ہورہے تھے، وحید الدین خان نے اپنے گہرے مطالعہ اور اچھوتی تحریروں سے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ اخوان المسلمون نے مصر میں جو راستہ اختیار کیا، اس سے انھیں یہ موقع نہیں مل پایا کہ وہ نیا راستہ تلاش کر سکے۔ بھارت کی جماعت اسلامی مانے نہ مانے لیکن وہ مولانا مودودی اور

مولانا وحید الدین کے بتائے گئے رستوں پر بیک وقت چل رہی ہے۔

مولانا وحید الدین خان نے امریکہ سے لے کر جاپان تک پورے کرہ ارض میں غیر مسلموں کی سوچ کو بھی متاثر کیا۔ خود بھارت میں ہندو دانشوروں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے بارے میں اپنا طرز عمل بدلنے پر مجبور ہوئی۔ بھارتی میڈیا بھی ان سے متاثر ہے۔ تجربات نے بتایا ہے کہ جہاں جہاں ان کی حکمت عملی پر عمل کیا گیا، وہاں وہاں ہندو مسلم فسادات میں کمی آئی۔ عشرہ بھر پہلے کی بات ہے، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی جہادی فلسفے کے سحر کا امریکہ نے آنکھیں بدلیں اور اس کے سرکاری غیر سرکاری راز، دستاویزات اور کتابوں کی شکل میں پے در پے سامنے آنے لگے تو جہاد افغانستان سے لے کر جہاد کشمیر تک سب کی حقیقت کھل پچھتاوے سے زیادہ یہ احساس تکلیف دہ رہا کہ کس طرح ہمیں بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ انہی دنوں مولانا وحید الدین مرحوم کے بعض اینٹی جہاد (بقول ہمارے) مضامین پر اپنے کالم میں سخت تنقید کی اور ایسی تنقید کہ اس میں بے ادبی بھی شامل ہوگئی ۔ بہت بار ارادہ کیا کہ ان سے معافی مانگ لوں لیکن تیز رفتار واقعات کے دھارے نے ٹھہر کر سوچنے کا موقع ہی نہ دیا۔ موقع ہے، تو ان کی روح سے معافی کا خواستگار ہوں۔ وہ لامحالہ صحیح تھے اور ہم تو محض بے وقوف بنائے گئے تھے ۔ ہم اسے جو سودا bargain سمجھے، یہ وہ نہیں تھا، یہ تو کوئی اور ہی سودا stuff نکلا۔ مولانا وحید الدین نہیں رہے، جاوید غامدی پاکستان چھوڑ گئے۔ پردیس میں ہیں اور عمر بھی اپنے تقاضے لاگو کرتی ہے۔ پہلے جیسا کام شاید اب نہیں کر سکتے۔ ان کی فکر کے ایک وارث صاحب علم بہت قیمتی کالم لکھتے ہیں۔ وقتی موضوعات پر بھی ان کی تحریریں مستقل قدر رکھتی ہیں، لیکن ان کے حلقے کو زیادہ ضرورت ’’الرسالہ‘‘ کی دعوت اور ریسرچ کو آگے بڑھانے کی ہے۔ خدا مولانا وحید الدین کے درجات بلند فرمائے۔ (ڈیلی اردو، پاکستان)

مولانا وحید الدین خان انتقال فرما گئے!

Printed page