Al-Risala · August 2021

ایم ایم ادیب ، پاکستان

Al-Risala, August 2021, pp. 169–182

By Maulana Wahiduddin Khan

دو چار یا دس برس کی نہیں یہ برسوں پرانی بات ہے ، سن اور سال بھی مجھے یاد نہیں ، بس دن یاد ہے کہ اتوار تھا اور میں ایک بہت ہی قریبی دوست کے یہاں بیٹھا گھنٹوں مایوسی کی باتیں کرتا اس مونس وغم خوار نے بھی مجھ رنجور کے سارے شکوے، نالے اور فریادیں بھر پور حوصلے اور صبر کے ساتھ سنیں۔ چار پانچ گھنٹوں کی نوحہ گری کے بعد جب میں اٹھا تو اس نے ایک موٹے سے خا کی لفافے میں بند ایک کتاب میرے حوالے کرتے ہوئے کہا گھر جا کر کھولنا۔ میں کتاب بغل میں دبائے گھر کی اور روانہ ہوا تو عجیب سا احساس بھی دل و دماغ میں گردش کر رہا تھا کہ آخر کون سی کتاب میرے دوست نے آج مجھے دی ہے کہ جسے اپنے یہاں کھولنے کا یارا بھی نہ دیا۔ خیالات کا ایک ہجوم تھا جو میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، شاید کوئی عمدہ ناول، یا پھر کہانیوں یا شاعری کا مجموعہ، تاریخ کی کوئی کتاب یا نفسیات پر دھما کہ خیز مواد پر مشتمل کوئی انمول کتاب کیونکہ یہی میری اور اس کی دلچسپی کے موضوعات تھے۔

میں نے چلنے کی رفتار تیز کی اور بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا گھر پہنچا، بنا تاخیر لفافہ چاک کیا تو اس میں ایک کتاب تھی’’ راز حیات‘‘ از مولانا وحید الدین خان۔ یہ کیا کتاب ہوئی میں نے بے دلی کے ساتھ حسب عادت دیباچہ پڑھنا شروع کیا۔

’’الفرڈ ایڈلر موجودہ زمانے کا مشہور نفسیاتی عالم ہے۔ اس کا مخصوص موضوع شخصی نفسیات (Individual Psychology) تھا۔ اس کے بارے میں ایک مبصر نے لکھا ہے :

After spending a lifetime studying people and their hidden reserves of power, the great psychologist, Alferd Adler declared that one of the wonder-filled characterstics of human beings is "their power to turn a minus into a plus". پوری عمر انسان کا اور انسان کی چھپی ہوئی محفوظ قوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد، عظیم نفسیات

دان الفریڈ ایڈلر نے اعلان کیا کہ انسانی شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک حیرتناک خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک ’’نہیں‘‘ کو ایک ’’ہے‘‘ میں تبدیل کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک انتہائی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اقتباس ایک نفسیات کے عالم کی زبان سے اسی کا اعتراف ہے۔ اس کی صلاحیت کی آخری حد یہ ہے کہ انسان تاریکی میں بھی روشنی کا پہلو دیکھ لیتا ہے۔ وہ ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکتا ہے۔ جب اس کی بازی کھوئی گئی ہو اس وقت وہ دوبارہ اپنے لیے نیا میدان تلاش کر لیتا ہے جس میں جدوجہد کر کے ازسرنو اپنی منزل پر پہنچ جائے‘‘۔ میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ایک دینی اسکالر کا ایسا ویژن ہو سکتا ہے کہ وہ زندگی کو ایک نفسیات دان کی آنکھ سے دیکھنے کا بھی حوصلہ رکھتا ہو اور وہ بھی الفریڈ ایڈلر۔ یہ مولانا وحیدالدین کی کتاب تھی جس نے میرے دل میں دینی اسکالرز کے لیے شرح صدر پیدا کیا، پھر میں نے مولانا وحیدالدین خان کو ہی نہیں، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، مولانا مودودی، مولانا اصلاحی، حسن البنا، سید قطب شہید، ڈاکٹر اسرار احمد، علی میاں ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد اور متعدد دینی اسکالرز کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے اسلامک سکالرز ڈاکٹر محمود غازی، مولانا تقی عثمانی، مصباح الدین شکیل، ڈاکٹر خالد علوی، پیر محمد کرم شاہ، نعیم صدیقی اور کسی حد تک جاوید غامدی کی کتب کا مطالعہ تاہم اس اظہاریے یا کالم میں مولانا وحیدالدین خان کا ذکر مطلوب ہے جو 21 اپریل 2021 کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔

مسلم امت کے بہت سارے اسلامی دینی اسکالرز ان کی بہت ساری باتوں سے اختلاف رکھتے ہیں، بہت سارے مسائل ہیں جن کے بارے میں علمائے امت کے تحفظات ہیں۔ مگر یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ انہوں نے تین نسلوں کو اسلامی عقائد ونظریات سے بجاطور پر متاثر کیا۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں نے ان کی تعلیمات سے استفادہ کیا۔ مولانا سائنٹفک سوچ رکھنے والے اسلامک دانشور تھے۔ وہ جتنے زودنویس تھے شاید ہی بیسویں یا اکیسویں صدی کا کوئی اسلامک دانشور ہو جس نے اتنا لکھا ہو۔ ان کی تحریر میں جدت ہی نہیں فکرونظر کی جولانی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے ان کے چھوٹے چھوٹے جملے اپنے اندر معنی کا ایک سمندر لیے ہوتے ہیں۔ ان کے ماہانہ جریدے

”رسالہ“ کے ہر ٹائٹل پر چند الفاظ پر مشتمل ایک جملہ ہوتا ہے، جو اصلاح احوال کی کنجی کی حیثیت رکھتا۔ ان کے انہی جملوں کو یکجا کر دیا جائے تو اقوالِ زریں کی ایک دبیز جلد مرتب ہو جائے گی۔ کے شمارے پر یہ جملہ درج ہے ”اختلافات کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک کی پیروی اور سب کا احترام“۔ اسی طرح اپریل کے شمارے کی زینت جو جملہ ہے وہ یہ ہے ”پہلا موقع ملے تو اس کو ضرور استعمال کیجیے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ دوسرا موقع اس کو ملے گا یا نہیں۔ مولانا وحید الدین کا وصف یہ تھا کہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس کی سائنسی بنیادوں تک وہ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے اسلامی مسئلے کی سائنٹفک بنیادیں تلاش کرتے اور دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے ۔ ان کی رائے سے اختلاف کی جراءت کوئی عام نوعیت کا اسکالر نہیں کر سکتا تھا کہ وہ جدید سائنسی نظریات کو اچھی طرح سمجھتے اور ان کی مبادیات کی پرکھ کر کے اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔

مولانا کے جہان فانی سے رخصت ہو جانے سے عالم اسلام کا ایک ایسا قلعہ مسمار ہو گیا جہاں سے بے دینی اور الحاد کی یلغار کو پورے جوش و جذبے سے روکا جاتا تھا۔ ان کے ہفتہ وار لکچرز کا سلسلہ تمام ہوا، مگر انہوں نے اسلامی موضوعات پر اتنا وقیع کام کیا جسے یک جا کرنے کے لیے ان کے جتنی انڈیا میں ان کی فکر کی وارث ان کی ہونہار بیٹی اور بہت سارے اور لوگ ہیں تو پاکستان میں بھی طارق بدر، سیف اللہ اور بہت سارے اور لوگ ہیں جو اُن کے فکر و نظر کی اشاعت کا کام سالہا سال سے سر انجام دے رہے ہیں۔ اللہ ان سب کو لمبی زندگیوں سے نوازے کہ ایک بڑے کام کے لیے بڑی عمر کی ضرورت ہے۔ آمین (ڈیلی اوصاف، پاکستان)

جو لوگ جاننا چاہتے ہیں، کہ بغیر کسی پارٹی، جماعت، گروپ، احتجاج یا اجتماع کے کام کس طرح ممکن ہے۔ وہ مولانا وحید الدین صاحب کی زندگی کو دیکھ لیں۔ خاموش سا انسان، صرف قلم و بیان اور محدود وسائل میں آج دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ فلسفہ عدم تشدد کا آج ہر شخص قائل ہے۔ (حفیظ الرحمن، لاہور)

مولانا وحید الدین نواز خالد عاربی، پاکستان دس سال قبل پاک پٹن میں تعیناتی کے دوران وہاں مقیم ایک اسکالر، پروفیسر محمد یعقوب بھٹی صاحب سے مسجد میں اتفاقاً ملاقات ہوئی۔ پروفیسر صاحب کی عالمانہ گفتگو سے متاثر ہو کر میں انہیں اپنے ساتھ دفتر لے آیا۔ اُن سے مختلف دینی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اگلے دن وہ دوبارہ تشریف لائے اور مجھے ماہنامہ ’’تذکیر‘‘ کا ایک شمارہ پڑھنے کو عنایت کیا۔ چالیس صفحات پر مشتمل شمارہ میں 23 مختلف موضوعات پر بات کی گئی تھی۔ اختصار کے باوجود ہر موضوع سے انصاف کیا گیا تھا۔ جوں جوں مطالعہ کرتا گیا، پڑھنے کی خواہش بڑھتی گئی۔ میں نے اس کا اظہار، اگلی ملاقات پر، پروفیسر صاحب سے کیا تو وہ مجھے اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں، چند پرانے رسائل اور کچھ کتابیں مطالعہ کے لیے عنایت کر گئے۔ دو ماہ کے مطالعہ کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اسلامی تعلیمات اور ہماری معاشرتی سوچ اور زندگی کو کتنا جدا جدا کر کے دیکھا جاتا ہے۔ میری تو جیسے کایا ہی پلٹ گئی اور سوچ کا زاویہ یکسر بدل گیا۔ معاملہ فہمی آسان ہو گئی۔ میں جو بات بات پر جھگڑ پڑتا تھا یا غصہ میں آجاتا تھا، اب صلح پسندی اور نرم گفتاری کی طرف مائل ہو گیا۔ پہلے دوسرے کو شکست دینے کو فتح سمجھتا تھا، اب دوسرے کی شکست کو اپنی شکست سمجھنے لگا۔ تاہم ایک دُکھ بھی تھا کہ اتنی مثبت تبدیلی کا سامان بہت تاخیر سے ہوا۔

متذکرہ کتابیں اور رسالے مولانا وحید الدین کی تصانیف و تالیف تھیں۔ مولانا وحید الدین 1925ء میں ضلع اعظم گڑھ، بھارت میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 2021 کو کورونا کا شکار ہو کر رحلت فرما گئے۔ اپنی چھیا نوے برس کی مطالعاتی، تحقیقی، تالیفی وتصنیفی مشقت سے لبریز زندگی میں جو کار ہائے نمایاں انہوں نے سرانجام دیے، تاریخِ اسلام میں ایک مثال رہے گی۔ آپ نے ’’الرسالہ‘‘ کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح تھی۔ اقدامات کے علاوہ اس تحریک کے تحت اُردو اور انگریزی میں الگ الگ ماہوار رسالوں کا اجرا

کیا، جن کے مستقل قارئین کی تعداد کسی بھی مذہبی رسالے کے قارئین سے کہیں زیادہ ہے۔ کل 253 کتب تصنیف کیں، جن میں سے 92 انگریزی میں، 142 اُردو میں اور 19 ہندی زبان میں شائع ہوئیں ۔ علاوہ ازیں پوری دنیا میں بین المذہبی اجتماعات میں اسلام کی بھر پور نمائندگی کی۔ سال جماعت اسلامی سے وابستہ رہے۔ تاہم بانی جماعت کے ساتھ کچھ فکری پہلوؤں کی تعبیر میں اختلاف پر 1962ء میں علیحدگی اختیار کر لی۔ آپ کے علمی اور فکری مقام سے ہر مذہب کے پیروکار آپ کی دو جلدوں پر مشتمل تفسیر تذکیر القرآن‘ قرآن فہمی کی تڑپ رکھنے والوں کے لیے بہت بڑا خزینہ ہے۔

مولانا وحید الدین کے نزدیک مسلمانوں کے دگرگوں حالات کی وجہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر مبارزتی رویہ ہے۔ وہ ہر مشکل صورت حال کو چیلنج کے طور پر لینے کی بجائے مسئلہ کے طور پر لیتے اس لیے مناسب حل کی طرف رخ نہیں کر پاتے۔ آپ نے صلح حدیبیہ کو مسلمانوں کے لیے آگے بڑھنے کی تقلیدی بنیاد قرار دیا ہے۔ جہاں نبی اکرم نے مبارزت کا راستہ چھوڑ کر حکمت عملی کے تحت اپنے ذرائع اور اپنے رفقاء کی زندگیوں کو آگ میں جھونکنے سے بچا لیا اور اپنی خاطر جمع کر کے فتح مکہ تک رسائی حاصل کی۔ رسول پاک اگر صحابہ کرام کی جذباتیت کا احترام کر جاتے تو شاید حالات مختلف ہوتے، مگر آپ نے اُمت مسلمہ کے لیے صبر و برداشت سے منزل تک پہنچنے کا درس چھوڑا ۔ مولانا وحید الدین فرماتے ہیں کہ جاپان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر تاریخ انسانی میں سب سے بڑا ظلم ہوا، جنگِ عظیم دوئم کے دوران، 1945ء میں، امریکہ نے جاپان پر دوا یٹم بم گرائے اور جاپان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے اثرات ہیروشیما اور ناگاساکی کے باسیوں پر آج بھی دکھائی دیتے ہیں، مگر جاپان نے اس تباہی کو ایک ”مسئلہ“ کے طور پر لینے کی بجائے، چیلنج کے طور پر لیا اور اپنے تعلیمی اداروں کی اصلاح کر کے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی وہ تمام منازل طے کیں جو تکنیکی اور مقابلہ جاتی دنیا میں با عزت وجود کے لیے لازم تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جاپان سرمائے کے لحاظ سے دنیا کی تیسری بڑی طاقت ہے اور جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر اگر جاپان کی جگہ کوئی اور مسلمان ملک ہوتا تو اس کے باسی امریکہ کی طرف منہ کر کے غُلیلوں سے پتھر پھینک رہے ہوتے۔ مولانا وحید الدین کے بقول چونکہ جاپان نے صلح حدیبیہ کی روح سے

استفادہ کیا ہے، لہٰذا آج دشمن کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہے، جو اُس سے معاشی میدان میں رعایتیں مانگ رہا ہے۔

مولانا وحید الدین فرماتے ہیں کہ اسلام کا پہلا سبق اِقراء یعنی حصول تعلیم کے گرد گھومتا ہے۔ قرآن پاک میں اسی لیے جا بجا تعلیم اور فکر کی دعوت دی گئی ہے، مگر صد افسوس کہ آج مسلمان تعلیم کے مقام میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جس وقت ”اقراء“ کی وحی نازل ہوئی، اُس وقت عرب کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی حالات ناگفتہ بہ تھے۔ لوٹ مار، غارت گری اور ہر معاملے میں مبارزت کا دور دورہ تھا، لیکن رَبُّ العِزَّت نے ”اِقراء“ کا حکم دے کر باور کرایا کہ تعلیم سے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے جنگ بدر میں فتح کی صورت میں جو دشمن جنگی قیدی بنائے گئے، اُنہیں رسول پاک نے مسئلہ کے طور پر نہیں لیا، بلکہ موقع کے طور پر لیا اور ہر قیدی کو اپنی آزادی کے عوض دس دس مسلمانوں کو تعلیم دینے پر مامور کیا (مسند احمد، حدیث نمبر (2216)۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ اُن دشمنوں نے صحابہ کرام کو دین نہیں سکھانا تھا، بلکہ زبان دانی اور کسب ہنر کی تعلیم دینی تھی۔ مولانا وحید الدین کو اس بات کا بڑا قلق تھا کہ اجتہاد جو دین کی روح تھا، عنقا ہو گیا ہے۔ تمام مسلمان رہنماؤں نے انتہائی نادانی کے تحت مسلمانوں کے جذبات کو تخریب کی طرف موڑ دیا ہے۔ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں مگر قرآن سے بے خبر ہیں۔ جلسوں کا آغاز تو قرآن سے کرتے ہیں مگر وہ صرف رسمی تبرک کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اس سے رہنمائی لینے کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کے چرچا کے باوجود قرآن پاک کا فائدہ لوگوں کو حاصل مولانا وحید الدین خاں کا وصال امن کے سفیر کا وصال ہے۔ لاہور (نمائندہ خصوصی): وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے معروف اسلامی اسکالر، مصنف، قرآن مجید کے مترجم مولانا وحید الدین خان کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عثمان بزدار نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ مولانا وحید الدین خان مرحوم کی دینی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔

دبستان شبلی کی ایک اہم شخصیت گل رحمان ہمدرد، باچا خاں یونیورسٹی، کے پی کے، پاکستان ابھی ابھی یہ افسوس ناک خبر ملی کہ ہندوستان کے نامور دینی اسکالر مولانا وحید الدین خاں انتقال کر گئے ہیں۔ وحید الدین خاں یکم جنوری، 1925ء کو اعظم گڑھ، اتر پردیش بھارت میں پیدا ہوئے۔

مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ میں علم کی تحصیل کی جہاں پر وہ مولانا امین احسن اصلاحی سے براہ راست فیضیاب ہوئے۔ بعد میں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور ایک عرصہ تک اس جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر رہے۔ 1960 کے لگ بھگ ان پر یہ انکشاف ہوا کہ مولانا مودودی کی فکر میں خوفناک خلا موجود ہے جو اسلام کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ چنانچہ انہوں نے "تعبیر کی غلطی" کے نام سے وہ مشہور کتاب لکھی جس میں فکر مودودی کی بنیادی غلطی انتہائی محکم دلائل سے واضح کی۔ اہل علم کے نزدیک یہی کتاب ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی دیگر کتابیں حقیقت میں اسی کتاب کی شرح ہیں۔ آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی رہیں۔ مولانا وحید الدین خاں تشدد کے بجائے امن کے داعی تھے۔ مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا، مسلمانوں میں مدعو قوم (غیر مسلموں) کی ایذا و تکلیف پر یک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا، ان کا مشن رہا۔ بیسویں صدی کے جذباتی اور جہادی ماحول میں ان کی فکر کو خاص پذیرائی نہ مل سکی تھی۔ لیکن جوں ہی اکیسویں صدی نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور مسلمان اپنی انتہا پسندانہ طرز عمل کی وجہ سے دنیا بھر میں مشکلات کا شکار ہوئے تو دھیرے دھیرے مسلمانوں کے اہل دانش وحید الدین خان کے منہج اور فکر کے قائل ہوتے چلے گئے۔ اس کے بعد وہ بلا مبالغہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ عام طالب علموں کے ساتھ ساتھ غامدی، خضر یاسین اور راشد شاز جیسے اعلیٰ پائے کے دینی اسکالرز کی فکر پر بھی ان کی فکر نے اثرات ڈالے۔

خان کی فکر اپنے باطن میں تصوف کے عناصر رکھتی تھی۔ اس لیے میرے لیے ہمیشہ ان کی فکر میں کچھ عرصہ قبل ایک اسکالر دوست نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحیدالدین خان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ وحیدالدین خان کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ وہ مزاجاً تصوف کا آدمی تھا۔ اس طرح کے گہرے غوروفکر کا آدمی اگر تصوف میں ہوتا تو علی ابن عثمان ہجویری، خواجہ نظام الدین اولیاء اور خواجہ معین الدین اجمیری کے برابر کا مقام پاتا۔ دعوت کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ عرفانِ نفس و باطن کی تحریک ہے۔ طریق کار بھی صوفیوں کا ہی ہے یعنی امن، محبت اور دعوت ومکالمہ۔

ابوالکلام آزاد کے بعد وحیدالدین خان ہندوستانی مسلمانوں کے حقیقی فکری مسیحاتھے۔ پر انہوں نے مسلمانوں کی درست رہنمائی کی اور جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کی تلقین کی۔ جلال الدین رومی کے اس فلسفہ پر کامل یقین رکھتے تھے کہ دلیل کی تلوار لوہے کی تلوار سے زیادہ کارگر مسلمانوں کو اب بھی ان کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ ان کی وفات مسلمانانِ عالم کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی میں مولانا کی کتاب اللہ اکبر پڑھ رہا ہوں رمضان میں..... مجھے اب پتہ چلا کہ اللہ سے محبت اور عقیدت کیسے ہوتی ہے۔ (نجم الدین، اسلام آباد)

بلا شبہ مولانا صاحب اپنے حصے کا کام پوری دیانت داری اور محنت سے سر انجام دیتے ان کی فکر آخرت کے لیے تھی اور معرفت خدا کے لیے تھی۔ یہ مسلسل مشق ہے جو جاری رہنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ وہ سفر ہے جو قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ (چودھری سلمان، پاکستان)

رازِ حیات کے مصنف ساجد بھٹو، سندھ کل رات بہت دکھ ہوا اور آنسو آگئے جب معلوم ہوا کہ اکیسویں صدی کے ایک عظیم اسکالر، کروڑوں لوگوں کی زندگی بدلنے والی مشہور زمانہ کتاب’’رازِ حیات‘‘ سمیت دوسو سے زائد کتب کے مصنف، کروڑوں لوگوں کے آئیڈیل انسان، مذہب کا صحیح معنوں میں پرچار کرنے والے اور انسانیت کا درد رکھنے والے جید عالم مولانا وحید الدین صاحب دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ میں مولانا صاحب کی مثبت اور فراخ سوچ سے متاثر تھا جو اپنی کتب میں مغرب کی مثالیں دے کر ساتھ قرآن و حدیث کا حوالہ دے کر بات واضح کرتے تھے۔ ان میں کوئی مذہبی تعصب نہیں تھا ۔ سال پہلے مجھے مولانا صاحب کے آفس کا واٹس ایپ نمبر ملا تو میں نے کہا یا تو میری بات کروا دیں یا میرا ایک وائس میسج مولانا تک پہنچا دیں تو میں نے وائس میسج میں بتایا کہ میرے مذہبی نظریات ایسے ہیں وغیرہ تو میرے لیے دعا کریں اور ایک وائس میسج لازمی کریں۔

خیر میری خوش قسمتی کہ مجھے ایک ماہ کے اندر ہی اس حافظ صاحب کا میسج ملا کہ یہ مولانا صاحب کا وائس میسج جو صرف آپ کے لیے ہے۔ وہ وائس میسج میں نے مختلف گروپس میں بھی شیئر کیا تھا جس میں اپنی مخصوص آواز سے دنیا و آخرت کے لیے دعائیں تھیں کہ بیٹا آپ کا میسج ملا تھا اور شکریہ بھی اور علم میں اضافہ کی دعا بھی دی۔

تب مجھے ایسے لگا جیسے کوئی قیمتی خزانہ مل گیا ہو لیکن مولانا صاحب کی وفات کا سنا تو بہت شدید مجھے کم و بیش دو سال جب تک میرا موبائل ٹھیک رہا ان کا رسالہ ملتا رہا اور مولانا صاحب کی ویڈیوز بھی مسلسل آتی رہیں۔ عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جن کا مشن انسانیت کی بھلائی کے سوا کچھ بھی جن کی وجہ سے دنیا روشن ہوتی ہے۔

سچ ہے کہ آج یا کل ہم سب کو اس دنیا سے رخصت ہو کر جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کے درجات بلند کرے آمین۔

بزم ہستی کو سوگوار کر گئے ڈاکٹر سید طفیل ہاشمی، اسلام آباد، پاکستان مولانا سے پہلا تعارف 1973 میں ہوا، جب ایم اے علوم اسلامیہ کے دوران ان کی تالیف علم جدید کا چیلنج پڑھی، جو بعد میں مختلف نام اور تدوین جدید سے شائع ہوتی رہی۔ اس کے بعد شاید جماعت اسلامی کے کسی دوست نے یہ دیکھ کر کہا کہ میں نے مولانا مودودی کو بالاستیعاب پڑھ رکھا ہے، ان کی دوسری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ سے متعارف کرایا۔

میں نے محسوس کیا کہ ایک بڑے اسکالر کے اندر امام شاطبی کی طرح ایک بے لچک مولوی بھی چھپا بیٹھا ہے۔ تاہم میں نے مولانا مودودی اور خان صاحب کے اختلاف کو ہمیشہ دو مختلف ممالک کے حالات اور سماج کے تناظر میں اسلام کی قابل عمل تعبیر سمجھا۔ یہ حق و باطل کا اختلاف نہیں تھا، بلکہ ابن قیم کی تعبیر کے مطابق تغیر الاحکام بتغیر الزمان کا نمونہ تھا۔ مولانا کی ’’کتاب معرفت‘‘ اس وقت بھی میرے سائیڈ ٹیبل پر موجود ہے اور تازہ تالیف ’’خدا کی دریافت‘‘ ٹیبلٹ کے ڈراپ باکس میں۔ برصغیر کی روایتی فکر سے مولانا نے علمی اور عقلی دلائل کی بنیاد پر کئی مسائل میں اختلاف کیا لیکن میرے خیال میں روایتی فکر کا تعلق فکری ارتقا کے تاریخی مراحل سے ہے جب کہ مولانا اسلام کے آفاقی پیغام کو اس کے وسیع تناظر میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ تک پہنچانے اور ان کے لیے قابل فہم بنانے کے ان کی فکر کا بنیادی نکتہ ’’دعوت الی اللہ‘‘ تھا۔ ان کے خیال میں ساری انسانیت رسول اکرم کی امت دعوت ہے اور مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دعوت دین کے لیے وقف کر دیں۔ طالبان علم کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی بڑے صاحب علم کے تفردات کی وجہ سے اس کے افکار، تخلیقیت اور مناہج سے خود کو محروم رکھیں۔ عالم اسلام ایک بڑے داعی سے محروم ہو گیا۔ سب کو دنیا سے ایسے ہی جانا ہے لیکن خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے رب کے اصولوں پر زندگی بسر کرے اور رب العالمین کا ساتھی بنے۔ (سعید الرحمن، فیصل آباد)

مولانا وحید الدین خاں: تین ملاقاتیں اور کچھ باتیں آصف تنویر تیمی مولانا وحیدالدین بین الاقوامی شہرت کے حامل عالم دین تھے۔ مولانا پر لکھنا یا ان کو سمجھنا بہت آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کی علمی اور دعوتی سرگرمیاں پورے سوسال پر پھیلی ہوئی ہیں۔ سمجھے کہ چند صفحات یا چند سطروں میں لکھ کر ان کا حق ادا کر دے گا تو میرے خیال میں یہ خام خیالی خود مولانا کی زندگی میں ان سے تعلق اور عقیدت رکھنے والے شاہ عمران حسن نے اوراق حیات کے نام سے جو کتاب لکھی وہ نو سو تراسی (۹۸۳) صفحات پر مشتمل ہے۔

شاہ عمران آغاز کلام میں لکھتے ہیں: مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری ۱۹۲۵ کو ہندوستان کے ایک علمی شہر اعظم گڑھ میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی ۔ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے علوم جدیدہ کی طرف توجہ دی ۔ اولاً ذاتی مطالعہ کے ذریعہ انھوں نے انگریزی زبان سیکھی ۔ اس کے بعد سائنسی علوم کا مطالعہ شروع کیا ۔ حتیٰ کہ ان میں پوری دست گاہ حاصل کرلی۔ اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ پھر وہ اس مہم میں لگ گئے ۔ یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ مولانا موصوف کے مطالعہ کا خاص موضوع اسلام اور دورِ جدید ہے۔ (اوراقِ حیات، صفحہ 15)

مولانا موصوف خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں: میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں۔ میری بیشتر زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ تاہم تاریخی اعتبار سے میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو ۱۹۴۷ء سے پہلے کے ہندوستان کوسن شعور میں دیکھنے کا موقع ملا۔ جب میں نے مولانا حسین احمد مدنی ، پنڈت جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بوس جیسے قومی رہنماؤں کی تقریریں اس وقت سنیں، جب کہ ہندوستان کی آزادی ابھی بہت دور دکھائی دے رہی تھی، جس نے ۱۹۳۶ء کے پہلے الیکشن کو براہ راست دیکھا، جس نے

1947ء سے پہلے بابری مسجد (ایودھیا) میں داخل ہو کر وہاں نماز پڑھی۔ براہِ راست اور بالواسطہ مشاہدہ کی یہ مدت تقریباً ۱۰۰ سال کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس طویل مدت میں، میں نے جو کچھ دیکھا اور پڑھا اور جانا وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ ‘‘ (اوراق حیات، ص ۳۵) مولانا زمین دار اور پڑھے لکھے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ والد کا نام فرید الدین خان تھا۔ ان کا انتقال اس وقت ہوا جب مولانا موصوف کی عمر پانچ (5) سال کے قریب تھی۔ والد کے انتقال کے بعد جب مولانا کے گھر کے حالات بدل گئے۔ ان کے جد امجد حسن خان ریاست سوات (جواب پاکستان کا حصہ ہے) سے ہجرت کر کے اعظم گڑھ آئے تھے۔ مولانا کے خاندان میں علماء تو نہیں مگر ادباء ضرور تھے، بالخصوص اقبال احمد خان سہیل، جو مولانا کے چچا زاد بھائی اور ممتاز شاعر، وکیل اور سیاست دان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ مولانا نے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں اس وقت کے ماہرین علم و فن سے کسب فیض کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا اختر احسن اصلاحی کا نام قابل ذکر ہے۔ آپ نے عربی میں مہارت کے لیے مولانا حمید الدین فراہی اور اردو میں کمال کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد کی کتابیں پڑھیں۔ مگر ان دونوں کے سیاسی سوچ سے آپ کبھی مطمئن نہ ہوئے۔

اس میں دورائے نہیں کہ ملک و بیرون ملک میں آپ کو شہرت آپ کے قلم و منفرد اسلوب کی وجہ سے ملی۔ مختلف اداروں سے منسلک ہو کر کام کرنے کی کوشش کی مگر بہت دنوں تک آپ کا مزاج ساتھ نہ دیا جس کی وجہ سے اپنی راہ خود متعین کی اور خود ادارہ بن گئے۔ نئی دہلی کے نظام الدین ویسٹ کالونی کو مستقل رہائش گاہ بنایا۔ ملت اسلامیہ کی بھی خدمات یہیں نظام الدین سے انجام دینی شروع کیں۔ لوگوں کی دینی وفکری رہنمائی، تالیف و ترجمہ، اردو اور انگریزی زبان میں الرسالہ کی نشر و اشاعت اور ملک و بیرون ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی مولانا کی زندگی کے چند نمایاں پہلو تھے۔

مولانا وحید الدین خان نے تقریباً ایک صدی تک کسی نہ کسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی ان کے کچھ خاص دینی و سیاسی افکار و نظریات کی وجہ سے علماء نے ان کی گرفت بھی کی۔ ان کو مورد الزامات بھی ٹھہرایا۔ مگر وہ کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنی راہ چلتے رہے۔ انھوں نے اپنے افکار و

خیالات کا مخاطب ہمیشہ پڑھے لکھے برادرانِ وطن کو سمجھا جن کی بڑی تعداد ان کے دروس اور محاضرات میں شامل ہوتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ہم اکثریت سے لڑ جھگڑ کر انھیں اپنے دین کی طرف نہیں لاسکتے، ان کو دین سے جوڑنے اور ان کے دل کو اسلام کے لیے نرم کرنے کا واحد ذریعہ انسانی اخوت و بھائی چارہ اور مثبت فکر و خیال ہے۔ اور اسی اصول پر وہ پوری زندگی ڈٹے رہے اور غیر مسلموں کی ایک بڑی جماعت کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کیا۔

میں نے سب سے پہلے مولانا کو ان کی کتابوں اور تحریروں کی وجہ سے جانا۔ جامعہ امام ابن تیمیہ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو بلاکسی تعصب اور تنگ نظری کے ہر ذی علم سے استفادے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ میری طالب علمی کے زمانے میں طلبہ کی لائبریری میں بہت سارے مشاہیر اہل علم کی اردو کتابیں لائی گئیں ۔ جن میں درجنوں کتابیں مولانا مرحوم کی بھی مطالعے کا شوق تھا۔ چنانچہ میں نے اسی زمانے میں مولانا کی موجودہ تمام کتابوں کا مطالعہ حالانکہ میرے بعض مخلص اساتذہ نے چھوٹی کلاس میں ان کی بعض کتابوں کے پڑھنے سے روکا بھی، مگر زبان و بیان کی سلاست کی وجہ سے بلاکسی کے سنے پڑھتا گیا۔ اور جہاں ضروری سمجھا اگرچہ کتابیں اپنی نہ تھیں مگر نشانات ضرور لگائے کہ میں مولانا کی اس بات سے اتفاق نہیں رکھتا۔ میری مطالعہ کردہ کتابیں ان باتوں کی گواہ ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے متعدد بار براہ راست مولانا سے ملنے ملانے کا موقع دیا۔

مولانا صاحب سے میری ملاقات تین دفعہ ہوئی۔ پہلی دفعہ جامعہ امام ابن تیمیہ میں جب وہ بہار کا دورہ کرتے کرتے شام میں جامعہ پہنچے ۔ جامعہ میں بعد نماز مغرب ان کا خطاب ہوا۔ صاف ستھرے انداز میں انھوں نے منہج سلف پر گفتگو کی۔ اپنے کو بھی پاسبان سلف میں شمار کیا۔ الاسلام ابن تیمیہ کی علمی وعملی زندگی کی بڑی ستائش کی ۔ طلبہ، اساتذہ اور دیگر حاضرین نے ان کے خطاب سے بھر پور استفادہ کیا۔ میری دوسری اور تیسری ملاقات ان سے ان کی رہائش گاہ نظام الدین ویسٹ، دہلی میں ایک عرب مہمان شیخ بدر العیدان کے ہمراہ ہوئی۔ شیخ بدر کی شدید خواہش تھی کہ وہ مولانا صاحب سے ملیں۔ مرکزی جمعیت کے ذمہ داران نے شیخ بدر کو میرے ساتھ لگا دیا کہ میں انھیں مولانا سے ملا دوں۔ نظام الدین تو میں جانتا تھا مگر نظام الدین میں مولانا کا گھر کہاں ہے

اس سے میں بالکل واقف نہ تھا۔ خیر تلاش بسیار کے بعد ہم دونوں مولانا کے گھر پہنچ گئے۔ اندر آنے کی اجازت بھی ملی۔

مولانا صاحب اپنے گھر کی پہلی منزل پر لائبریری میں تشریف فرماتھے۔ کشادہ گھر، چاروں طرف سے الماریوں میں کتابیں تھیں۔ شیخ بدر نے مولانا موصوف سے مختلف علمی، عالمی اور سیاسی سوالات کیے، مولانا نے سب کا جواب دیا۔ ساتھ ہی مولانا نے اپنی عربی وار دو کتابوں کا تعارف بھی مہمان سے کرایا۔ یہ غالباً ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ اس وقت ان کی عمر اسی کے پار تھی۔ پھر بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے میں کسی قسم کی ان کو کوئی پریشانی نہ تھی۔ اللہ نے مولانا کو لمبی عمر کے ساتھ صحت وتندرستی سے بھی نوازا تھا۔ نے چائے وغیرہ سے ہم لوگوں کی ضیافت کی۔ شاید ظہر یا عصر کا وقت بھی ان ہی کے گھر میں اسی لائبریری میں ہم لوگوں نے باجماعت نماز ادا کی۔ مردوں کے ساتھ ان کے گھر کی خواتین نے بھی ہم لوگوں کے پیچھے نماز باجماعت ادا کی۔ اور اس طرح چند ساعات ملنے ملانے کے بعد ہم دونوں رخصت ہو گئے۔ جب سیڑھی سے اترے تو دیکھا کہ ٹیلی ویژن والے نیچے مولانا کا انٹرویو لینے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ دوسری ملاقات بھی چند دنوں کے بعد شیخ بدر ہی کے ساتھ ان کے گھر نظام الدین میں ہوئی ۔ اس دفعہ ہم نے ان کے مکتبہ گڈ ورڈ سے چھ کتابیں بھی خریدیں۔

تینوں ملاقات میں میں نے یہ اندازہ لگایا کہ آپ ایک درویش صفت انسان ہیں۔ آپ کی زندگی کا خلاصہ دعوت وتبلیغ اور تالیف و تصنیف ہے۔ تمام تر دنیاوی مال وجاہ اور سیاسی اثرورسوخ کے باوجود آپ نہایت سادگی پسند ہیں۔ آپ کے پاس چند جوڑے کرتے پاجامے تھے۔ جو وہیں لائبریری کے ایک کونے میں پڑے رہتے تھے۔ کپڑے تو صاف ہوتے تھے مگر کبھی ان کپڑوں پر استری نہیں پڑتی آج ہمارے علما ء میں یہ سادگی مفقود ہے۔ سارا زور ظاہری خوبصورتی پر ہوتا ہے۔ علمی یا عملی خوبصورتی ہو یا نہ ہو۔ ہم مولانا سے فکری ونظری اختلاف کے باوجود ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا انکار نہیں کر سکتے۔ آپ کی اردو، ہندی، انگریزی اور عربی تصنیفات کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ میں درجنوں کتابیں ہیں جنھیں کچھ احتیاط کے ساتھ مطالعہ کر سکتے ہیں۔

Printed page