Al-Risala · August 2021

https://thefreelancer.co.in/?p=9676

Al-Risala, August 2021, pp. 183–193

By Maulana Wahiduddin Khan

وحید الدین خان کا احسان فاروق عادل، پاکستان مولانا وحید الدین خان کو ہماری نسل نے تب جانا جب ان کا زمانہ ابھی نہیں آیا تھا۔ الدین خان سے میرا تعارف ان کے ماہنامہ "الرسالہ" کے ذریعے ہوا۔ ہلکے رنگوں کے سر ورق اور پینتیس چالیس صفحات کا یہ پرچہ کوئی الگ ہی چیز تھی۔ ایک ایک، پونے پونے یا آدھے آدھے صفحے کی تحریریں ہوتیں، کچھ ایسی بے ساختگی سے شروع ہوتیں جیسے ہم سانس لیتے ہیں، یا بہت سی میٹھی اور ذرا سی نمکین شکنجین کا ایک فرحت بخش گھونٹ جو روح میں تازگی پیدا کر دے اور انسان سوچے کہ وہ اپنے رب کی کس کس نعمت کا شکر ادا کر پائے گا؟ یہ پرچہ بھی اللہ کی ایک ایسی ہی نعمت تھا۔ ہماری نسل کئی اعتبار سے خوش قسمت رہی ہے۔ اس خوش قسمتی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم لوگوں نے اقبال جیسے دیو قامت فلسفی، ابو الکلام جیسے مشکل پسند مصنف اور ابو الاعلیٰ جیسے سنجیدہ اور مشنری بزرگوں کے سامنے آنکھیں کھولی ہیں۔ ان بزرگوں کی کئی خوبیاں تھیں تو ایک مشکل بھی تھی۔ مشکل کیا تھی، اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں، جنھوں نے اپنے کلاس میں اس قسم کے ایک شعر کا مطلب نہ بتانے کی وجہ سے مار کھائی ہو:

مگس کو باغ میں نہ جانئے دیجیؤ ناحق خون پروانے کا ہوگا وہ نسل جس نے ایسے پیچیدہ اشعار کی وجہ سے استاد کی چھڑی سے اپنے ہاتھ لال کروا رکھے ہوں گے، انھیں یہ رسالہ کیوں نعمت نہ لگتا۔ اس رسالے کی ہر تحریر ایک ہی مصنف یعنی وحید الدین خان کی تحریریں کیا ہوتیں، کہانیوں کی مانند آسانی سے سمجھ میں آجانے والی باتیں ہوتیں ۔ کہانیاں پڑھتے اور سوچتے کہ بارالہ! اس شخص کی قوت مشاہدہ کتنی تیز ہے جس کوچے سے بھی گزر جاتا ہے، سبق آموز واقعات سمیٹ کر زنبیل میں ڈال لیتا ہے اور کچھ ایسے اسلوب میں بیان کرتا ہے، جی چاہتا ہے کہ بات ختم ہی نہ ہو، ہزار داستان بن جائے۔ سچ جانے تو وحید الدین خاں بھی ہمارے عہد کے ’’شہر زاد‘‘ تھے جنھوں نے آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ہمارے بلند قامت بزرگوں کی

موجودگی میں لکھنے کی الگ راہ نکالی اور دیکھتے ہی دیکھتے، اپنے عہد پر چھا گئے۔ مولانا وحید الدین خان نے دعوت و اندازِ موضوع میں چاشنی بھر کر اسے ایک نئی شکل اور ایک نیا اسلوب دے دیا جس کی جتنی تفہیم معمولی پڑھے لکھے لوگوں یا ابتدائی جماعتوں کے بچوں کے لیے آسان تھی، اتنی ہی بھاری بھرکم اور جناتی لٹریچر پڑھنے والوں کے لیے بھی خوش گوار تھی۔ تحریروں کے مصنف نے اپنی ان کہانیوں سے اخلاق کا درس دیا، دین کی حکمت بتائی اور مذہبی منافرت کے گھٹن والے ماحول میں کشادگی سے سانس لینے کی آسانی فراہم کی۔

ان کی تحریروں سے ہی معلوم ہوا کہ اس بزرگ کا شمار کبھی مولانا مودودی کے ساتھیوں اور جماعت اسلامی کے راہ نماؤں میں ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ کب ہوا ہوگا، اس کی تو ہمیں خبر نہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ ہماری نسل کے اس دنیا میں آنے سے پہلے پیش آچکا ہو۔ ان کی تحریروں میں ایک سبق یہ بھی ملتا تھا کہ انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوجائے، وہ کمزوری جس سے وہ کنڈیشنڈ ہو چکا ہو، اس سے نجات کے لیے بڑا ریاض چاہیے۔

کمزوری کے تذکرے کا بھی اپنا ایک پس منظر ہے جسے سمجھے بغیر اس عہد کے مسلمانوں کی نفسیات کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس کے بارے میں ان کے ناقدین کا خیال تھا کہ وہ عیسائیت کے اُس تصور کے اسیر ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی اس کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وحید الدین خان کے بارے میں یہ تاثر بہت پختہ ہے لیکن اصل بات کچھ اور ہے۔

ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ جو ہم ہر وقت بطل حریت بن کر ساری دنیا کو ایک ہی وقت میں دشمن بنا کر اپنے اور غیر سب کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں، یہ کچھ ایسا ضروری بھی نہیں۔ وہ کچھ مثالیں پیش کیا کرتے اور بتاتے کہ ہمارے لوگوں نے اپنے اس طرز عمل کی وجہ سے ساتھ کے گھر میں بسنے والے کسی ہندو، کسی عیسائی یا احمدی، قادیانی وغیرہ سے دعا سلام کے رشتے ہی توڑ ڈالے ہیں۔ اگر دین کا مزاج یہی ہوتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی ایسا ہی ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ صرف تیرہ برس کی قلیل مدت میں پورے عرب میں انقلاب آجاتا؟

یہ پندو نصیحت کرتے کرتے وہ ایک بار شہر زاد بن جاتے اور ہمارے آپ کے جانے

پہنچانے گلی کوچوں سے چن کر کوئی ایسی حقیقی مثال پیش دیتے جسے سن کر لگتا کہ ارے، ایسا تو ہم نے بھی دیکھ رکھا ہے لیکن یہ جو ہم نے دیکھ رکھا ہوتا تھا، اس کی اہمیت تبھی سمجھ میں آتی جب وہ خان صاحب کے اشہب قلم سے نکل کر ہمارے سامنے آتی۔ یہ ان کی ایسی ہی دل نشیں حکایات کی دین ہے کہ تین چار دہائیوں تک جنگ و جدل کی تباہ کاریوں کے ہاتھوں خوار و زبوں ہو کر ہم آج اپنی دکھی دنیا میں محبت کے رنگ بھرنے اور کچھ نئے میثاق کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ کاش یہ نصیحت ہماری سمجھ میں کچھ پہلے آجاتی۔

حضرت داتا صاحب، شیخ سعدی شیرازی اور مرشدوں کے مرشد مولانا روم، یہ سب ہمارے ایسے بزرگ ہیں جن کے ملفوظات اور ان کی حکایات آج بھی ہمارے رگ و پے میں خون کی طرح دوڑتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں، ایسی کمال کی باتیں تاریخ کی امانت ہیں، ہمارا عہد ان سے خالی ہے لیکن خان صاحب کو پڑھ کر محرومی کا یہ احساس دور ہو جاتا ہے۔ (ہم سب، پاکستان) مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتابوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا، مجھے دور حاضر میں جدید دانشوروں کے سامنے اسلام کو پیش کرنے کا حوصلہ ملا، ان کی ”رازِ حیات“ نے میری زندگی میں رحمتیں بکھیر دیں۔ ان کی ”مذہب اور جدید دور کا چیلنج“ نے میرے سامنے علم الکلام جدید کا ایک دروازہ کھول دیا۔ جب میں نے ”مذہب اور جدید دور کا چیلنج“ کا مطالعہ کیا تو مجھے علم کا دریا بہتا ہوا نظر آیا۔ عصرِ حاضر کے اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خان صاحب ہم میں نہیں رہے۔ (حمیر اعوان، پاکستان)

مولانا اس کا ادراک رکھتے تھے کہ وہ مکمل طور پر سیلف میڈ اور یونیک (unique) شخصیت اور بے شک جتنی باریک بینی سے بھی کوئی اس دعوے کو پرکھے وہ اس پر انہیں پورا اترتا ہوا پائے گا۔ یہ self-realization تھا، تعلی نہیں۔ ان کے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا اپنے کسی سگے بزرگ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو۔ (حمزہ ہاشمی، کراچی)

سائنٹفک نظریات کے علمبردار عالم مولانا وحید الدین خان کو سمجھنے کے لیے ان کی کتابوں اور ان کی تحریروں کو پڑھنا ہوگا۔ اعتدال پسند اسلامک اسکالر اور عالم دین ہیں ، جب ٹی وی یا اخباروں میں کوئی مذہبی بحث ہوتی تو مولانا کو تلاش کیا جاتا تھا۔ کیونکہ وہ بہت ہی متوازن اور تعمیرانہ رخ اختیار کرتے تھے۔ ان کو کسی تحریر یا مضمون سے نہیں سمجھا جاسکتا ، کیونکہ کچھ لوگ اگر ان کے مخالف ہیں تو بعض ان کے نظریہ کے سخت حامی بھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنی سادگی اور بیباکی کی وجہ سے مولانا ہر طبقہ میں مقبول رہے ہیں۔ پیدائش: مولانا 1925ء میں اتر پردیش کے مردم خیز علاقہ اعظم گڑھ کے بڈھر یا قصبہ میں پیدا مدرسہ الاصلاح اعظم گڑھ میں انہوں نے عالمیت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسلامی مرکز نئی دہلی کے سر براہ رہے اور وہاں سے مقرر، مصنف اور مفکر کی خدمات انجام دیتے رہے اور اپنے مرکز کے رسالہ الرسالہ کے مدیر رہے۔ مولانا ہفت روزہ الجمعیۃ میں 1967ء سے 1974ء تک ایڈیٹر بھی انہیں اردو، ہندی ، عربی، فارسی اور انگریزی پر یکساں عبور حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں کو ہر طبقہ، جن میں دانشوروں کی تعداد زیادہ ہے، بہت ہی دلچسپی سے مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے ہند ومسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کی ہمیشہ کوشش ان کی کوشش ہوتی تھی کہ برادران وطن میں اسلام سے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں، انہیں حتی الامکان دور کیا جاسکے۔ ان کے نزدیک دعوت دین کے لیے یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ انفرادی نظریہ کے علمبردار: مولانا منفرد نظریات اور خیالات کے حامل تھے۔ اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری شاید فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی ۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری تفکیری زندگی کا ایک حصہ ہے جو الرسالہ یا کتب میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا نسبتاً غیر منظم ڈائریوں کے صفحات پر ہے ۔ ان سب کے باوجود مولانا کے انفرادی نظریات کے

سبب بعض اہل علم اور نقاد صاحبان ان سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔

مولانا کی تصنیفات کی فہرست طویل ہے۔ انھوں نے کل ملا کر دوسو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں لکھی ہیں اور ان کی علمی قابلیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا نے اہم اسلامی موضوعات پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی اکثر کتابوں کے ترجمے انگریزی اور عربی وغیرہ زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ مولانا کی عظمت اور علمی بلندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کتاب الاسلام تحدی، مذہب اور جدید چیلنج، قطر، قاہرہ، طرابلس، خرطوم اور تیونس کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل رہ چکی ہیں۔

قومی اور بین الاقوامی اعزازات: ڈیمورگس بین الاقوامی ایوارڈ سابق سوویت یونین کے صدر گورباچیف کے ہاتھوں دیا گیا۔ پدم بھوشن، قومی یکجہتی اعزاز، کمیونل ہارمنی اعزاز، قومی اتحاد اعزاز، ارونا آصف علی (بھائی چارگی ایوارڈ)، بین الاقوامی اعزاز۔ مولانا کی خدمات کے صلہ میں 1989ء میں حکومت پاکستان نے مولانا کی کتاب پیغمبر انقلاب پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔ نے ٹی وی، ریڈیو اور سیمیناروں میں کمزوری صحت کی وجہ سے جانا بند کر دیا تھا، لیکن اپنی آخری سانس تک دعوت و تصنیف کا کام کرتے رہے۔ لیکن جس طرح لوگ ان کی زندگی میں ان کے علم سے استفادہ کرتے رہے ہیں، امید ہے کہ اب ان کی عدم موجودگی میں بھی لوگ ان کے صالح تعمیری اور سائنٹفک نظریات سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔ (دی وائس ڈاٹ ان)

یہ فقرہ ہزاروں بار سنا کہ فلاں شخص کا خلا کوئی پر نہیں کر سکتا لیکن سہی معنوں میں یہ فقرہ مولانا کے لیے کہا جا سکتا۔ کیونکہ ان کی جیسی مثبت سوچ کے علماء بہت بہت کم شاید کوئی اکا دکا۔ مسلم امہ اس وقت جس ذہنی پستی اور تنگ نظری میں مبتلا۔ مولانا اس میں ایک امید تھے۔ کاش مولانا کی سوچ آگے چلتی رہے۔ ورنہ راہ بہت (لقمان ظفر، کراچی)

بصائر وعبر کے ایک عہد کا خاتمہ ناظم اشرف مصباحی، مغربی بنگال، انڈیا ہمارے ہاں تعزیتی کلمات میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں کے جانے سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا، اکثر اوقات یہ لغو اور بے معنی معلوم ہوتا تھا۔ لیکن کل مولانا وحیدالدین خان صاحب کے انتقال پر جب یہی الفاظ دیکھا تو لگا جیسے آج ان کلمات کو صحیح مقام مل گیا۔ واقعی مولانا کے ساتھ ایک عہد بصیرت، ایک عہد اسلوب، ایک عہد فکرو تدبیر کا خاتمہ ہوگیا۔ ان کا انتقال امت کے لیے کسی بڑے سانحہ سے کم نہیں، بلکہ 2021 کو سب سے زیادہ اس سانحہ کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ 21 ستمبر 2017 کی شام کو جب سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری ہوئی تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مولانا کے گھر بھی پہنچا، سی پی ایس کے متحرک ممبر جناب یعقوب عمری صاحب اور دیگر حضرات نے استقبال کیا اور مولانا سے ملاقات ہوئی اور مختلف موضوعات پر گفتگو رہی۔ مغرب کا وقت ہو چکا تھا، مولانا نے مجھے امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، اس کے بعد بھی طویل گفتگو رہی، بالآخر عشاء سے کچھ دیر پہلے رخصتی کی اجازت لی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کی ملاقات ہے۔ ان کی خوش اخلاقی بھی یاد ہے اور تمکنت اندازہ ہوا کہ مولانا جیسا لکھتے تھے ویسا بولتے بھی تھے، ان کی زبان و تحریر میں مجھے فرق نظر نہیں آیا، وہی الفاظ، وہی چھوٹے جملے، وہی تعبیرات۔

ڈاکٹر ذیشان صاحب نے انہیں ”بیسویں صدی کی مسلم بصیرت‘‘ کہا ہے، جو سو فیصد درست کہا تمام تر اختلافات کے باوجود مولانا وحیدالدین خان صاحب کا طرز تحریر اور اسلوب ہر ایک کے نزدیک مسلم ہے۔ انہوں نے اپنی خدماتی زندگی کی شروعات عام دھارے سے کی، لیکن اپنی فکری جولانی اور اجتہادی شان کی وجہ سے الگ راہ بنائی اور تا حیات اسی پر چلتے رہے۔ ایک نئے لکھاری طالب علم کے لیے ان کی ذات ہمیشہ مشعل راہ بنی رہے گی کہ انہوں نے کثرت سے لکھا، ہر مہینے لکھا، ہر ہفتے لکھا، ہر دن لکھا، بلکہ وہ پوری زندگی لکھتے ہی رہے، اخیر عمر میں لکھنے کے ساتھ بولنا بھی شروع

ایک طویل مدت تک الرسالہ کو تن تنہا لکھا، وہ اپنے رسالے کے خود ہی مدیر، خود ہی مرتب اور خود ہی لکھاری تھے۔ ادھر ہم جیسے ہزاروں لکھاریوں کا پورا مہینہ یہ سوچنے میں گزر جاتا کہ کس ٹا پک پر لکھیں، ادھر مولانا کا ایک مکمل رسالہ چھپ کر آ جاتا۔

انہوں نے ماہنامہ لکھے جو اسلام کے فکری انقلاب کی دعوت دیتے تھے، انہوں نے ڈائریاں لکھیں جو مکمل دستاویز ہوا کرتی تھیں، انہوں نے کتابیں لکھیں جو فکر و بصیرت کے دریچے کھولتی تھیں۔ پہلے عام موضوعات پر لکھا، پھر مذہبی سیاسیات پر لکھا، پھر فکریات پر آئے، پھر دعوت کو موضوع سخن بنایا، اس کے بعد اخیر عمر تک روحانیت پر لکھتے رہے۔ ان کی تحریروں کے مواد سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، لیکن ان کے مسلسل لکھنے، اچھا لکھنے، بغیر دل دکھائے تنقید لکھنے کی ادا سے شاید ہی کسی کو اختلاف مولانا کے جانے سے دل اداس ہے، من مضطرب ہے، قدم بوجھل ہیں اور آنکھیں نم ہیں۔ ایک عہد ساز شخصیت کی دنیا سے رخصتی میرے لڑکپن کی محبت سید مودودی اور ان کی تعبیر دین تھی، تمام دنیا پر اسلام کا غلبہ ہمیشہ مطمح نظر لڑکپن کی اس محبت میں دراڑ ڈالنے والی ہستی مولانا وحید الدین خان مرحوم کی تھی، ان کی کتاب’ تعبیر کی غلطی‘ نے سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ سید صاحب کی فکر سے دامن چھڑانا اتنا آسان تو نہ تھا لیکن کچھ مدت کے بعد احساس ہو گیا کہ مولانا وحید الدین کی بات درست ہے۔ الحمد للہ، حق کی محبت سید مودودی کی محبت پر غالب آ گئی۔ اللہ کی محبت میں سرشار مولانا وحید الدین خان ایک سچے داعی تھے، بلاشبہ اپنے رب سے شدید محبت کرنے والے۔ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے جو وارفتگی کی کیفیت ان کے ہاں محسوس ہوتی شاید بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہوگی۔ ان کی عظیم شخصیت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن تحریر لمبی ہو جائے گی۔ ایک عہد ساز شخصیت سے ہم محروم ہو گئے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانیت ایک عظیم نقصان سے دوچار ہوئی ہے۔ (عامر ندیم، پاکستان)

روش دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے سالم فاروق ندوی ، مظفر نگر ، یوپی مولاناوحیدالدین خان جو مختلف زبانوں میں متعدد کتابوں کے مصنف اور موجودہ دور میں تحقیقی دنیا کے ایک بڑے امام سمجھے جاتے ہیں ، 21 اپریل 2021 کو اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے ہیں، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ آپ کی ولادت یکم جنوری ، 1925ء کو بڈھر یا اعظم گڑھ میں ہوئی، اور مدرسہ الاصلاح اعظم گڑھ میں آپ نے تعلیم حاصل کرکے فراغت حاصل کی۔

مولانامرحوم ہندوستان کے لیے عزت کا تاج اور عالم اسلامی کے دانشور طبقہ کے لیے ایک بہترین راہنما اور کامیاب مفکر تھے ۔ آپ کی زندگی سیرت وسنت اور احیائے امت کے لیے گویا وقف رہی ، آپ کی اکثر کتابیں فکری وشعوری انقلاب پیدا کرنے والی تحریروں اور تقاریر پر مشتمل ہیں ، آپ کے اکثر پروگرام بھی احیائے اسلام اور حقانیت اسلام کے ہی تحت ہوتے تھے ، آپ کی زندگی کا ایک بڑا مقصد دعوت و تبلیغ رہا ، بالخصوص برادران وطن میں آپ کے دعوتی جذبات قدر کی نگاہوں سے دیکھے جانے کے قابل ہیں ، آپ کا مشن مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا ، نیز اسلام کے تعلق سے برادران وطن کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں اور غلط تصویریں ہیں ان کا ازالہ کرنا تو آپ کا اولین مقصد رہا ہے ، اسی کے تحت آپ نے ’’ عظمت اسلام‘‘ ، ’’ دعوت اسلام ‘‘ ، ’’ دین انسانیت‘‘ اور ’’ دین کامل‘‘ کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔ آپ کے کار ہائے نمایاں میں سب سے بڑا کارنامہ دین کی سیاسی تعبیر پر معتدلانہ اور منصفانہ تنقید ہے جس میں مصنف کی علمی عبقریت کو سلامت رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ نے اس کی علمی سطح پر گرفت کی ہے ، اور نہ صرف یہ کہ تنقید پر بس کیا بلکہ اس کا بدل پیش کیا اور اس موضوع پر مستقل ایک محققانہ کتاب ’’ تعبیر کی غلطی‘‘ بھی تصنیف فرمائی ہے۔

اردو زبان میں مذهبیات کو ایک عصری اسلوب دیا۔ مثلاً مذهبیات کو روزمرہ کی آسان زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں پر دین کی حقیقت واضح کی جائے، معرفت الہی سے ان کو

روشناس کرایا جائے اور سیاسی رو سے جو مسلمانوں میں منفی پہلو ہیں ان کی اصلاح کی جائے، مولانا نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہیں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور آخرت میں حساب دینا ہے، وہیں پر اگر مولانا کی پوری تحریروں کا تجزیہ کیا جائے تو مذکورہ بالا نتیجہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلے گا کہ مولانا نے مسلمانوں کو یہ بھی سمجھایا کہ تمھارا مشن کیا ہے؟ اس دنیا میں تمہارا وجود کس لیے ہوا ہے؟ تمہیں ردعمل کی نفسیات سے نکل کر برادران وطن کے ساتھ مثبت اور تعمیری سوچ اور معتدل رویہ اختیار کرنا چاہیے اور پوری دنیا کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے، منفی نظر سے نہیں۔ اس طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا کی ساری تحریروں کا مرکزی خاکہ معرفت الہی اور دعوت و تبلیغ ہوتا تھا۔ آپ نے بہت ہی سلیس اور آسان فہم انداز میں قرآن کا انگلش ترجمہ کیا جو انگلش زبان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بے حد مفید اور دعوتی راہ میں نہایت کارآمد ثابت ہوگا۔ اب تک اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیئر مین اور ماہ نامہ ’’الرسالہ‘‘ کے مدیر بھی رہے ہیں۔ آپ کی زندگی مفکرانہ، قلم ادیبانہ اور اندازِ خطابت نہایت عالمانه تھا، آپ تمام مذاہب کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے، ہندوستان آپ کی ملی و وطنی خدمات کا ہمیشہ معترف اور مرہون منت رہے گا۔

حکومت ہند نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حال ہی میں 25 جنوری 2021 کو ہندوستان کے دوسرے بڑے شہری ایوارڈ ’’پدم وبھوشن ایوارڈ‘‘ سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ بھی ہندوستان اور بیرون ممالک سے آپ کو بہت سے ایوارڈ زدے جا چکے ہیں۔ مثلاً 12 مئی 1989ء میں حکومت پاکستان نے آپ کی ایک کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ (انگریزی) پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا تھا، ڈیمورگس بین الاقوامی اعزاز، یہ آپ کو گورباچیف کے ہاتھوں دیا گیا تھا۔ غرض یہ کہ مولانا کی شخصیت ایک عظیم شخصیت رہی ہے، وہ اپنے آپ میں خود ایک انجمن تھے، ہر موضوع پر گفتگو کرتے اور لکھتے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جتنا انھوں نے لکھا ہے شاید ہی کسی اور نے لکھا ہو، عالم اسلامی میں آپ کا وجود تمام لوگوں کے لیے ایک افتخار تھا اور آپ کی جدائی تحقیقی دنیا میں شاید حال کا سب سے بڑا خسارہ ہو، ماضی کے علماء اور ان کے علوم پر آپ کی نادر تنقیحات ہوتی تھیں۔ اپنی سیرت و کردار اپنے اخلاص وللہیت اور ہمدردی وخیر خواہی اور معرفت الہی کے ایک سچے طالب کے اعتبار سے نمونہ تھے ، اپنی عمر کے 96 سال اس دنیا میں گزار کر آج بتاريخ 21 اپریل

2021ء بمطابق 8 رمضان 1442ھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور مولانا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ روش دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے۔ یہ نہ سمجھو کہ مجھ تک مرا افسانہ ہے..! مولاناوحید الدین خاں صاحب کے اوصاف جاویداقبال ، پرنسپل اینگلو عربک اسکول، ترکمان گیٹ، دہلی وحید الدین خاں صاحب مرحوم ہمیشہ اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھتے تھے۔ جو نیا خیال ان کے ذہن میں آتا اس کو فوراً ڈائری میں نوٹ کر لیتے ۔ جب موصوف کی کسی سے ملاقات ہوتی تو اس شخص کی گفتگو بڑی توجہ سے سنتے۔ خود کم بولتے، مخاطب کو بولنے کا موقع دیتے۔ اس کی گفتگو میں کوئی سبق آموز اور بامقصد بات ہوتی تو اسے ذہن میں رکھتے اور بعد میں ڈائری میں نوٹ کر لیتے۔ اسی طرح جب کوئی کتاب پڑھتے تو اس سے حاصل شدہ معلومات کو نوٹ کرتے۔ عوام اور خواص سے ملنے جلنے میں تکلف نہیں کرتے تھے۔ ان سے ملاقات بہت آسان تھی۔ تعلیم یافتہ لوگوں سے جب ملتے تو دو سوال ضرور پوچھتے۔ پہلا سوال: آج کل کون سی کتاب زیر دوسرا سوال: دوران مطالعہ یا دوران غور و فکر آپ کی کوئی یافت ہو تو بتائیں۔ بہت کچھ لکھا۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ انھوں نے اتنا کچھ لکھا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد کم سے کم دس سال تک ان کے مضامین الرسالہ میں شائع ہوتے رہیں گے۔ ان کے زیادہ تر مضامین ایک صفحہ کے ہوتے ہیں، یعنی چار سو سے کم الفاظ پر مشتمل۔ وہ نکات جو وہ اپنی ڈائری میں لکھتے، انہیں مضمون کی شکل میں مرتب کر لیتے۔

مولانا وحید الدین خان نے کیا کیا؟

Printed page