Al-Risala · August 2021

مالک اشتر، نئی دہلی

Al-Risala, August 2021, pp. 193–200

By Maulana Wahiduddin Khan

دلی کی بستی نظام الدین کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ یہ علاقہ نرالی شان والا ہے۔ طرف حضرت محبوب الہی کا آستانہ ہے تو ان کے پائنتی میں امیر خسرو آرام کر رہے ہیں۔ چند گز کے فاصلے پر غالب کی مرقد ہے اور اس سے چند سو میٹر دور رحیم کا مدفن ہے۔ ایسا لگتا ہے، کچھ گز زمین کے دائرے میں کئی عہد پیوند خاک ہوں۔ کہنے والے کی بات سولہ آنے سچ ہے البتہ اس علاقے کی ایک فضیلت اور بھی ہے۔ اسی محلے سے لگ کر وہ کالونی واقع ہے جہاں ہمارے عہد کا ایک عظیم اسکالر مرتے دم تک علم کا چراغ روشن کیے رہا۔ مولانا وحید الدین خان نے عمر بھی یہیں گزاری اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو اسی علاقے کے پنج پیران قبرستان میں سپر د لحد کیے گئے۔

اس گنہگار کو مولانا وحید الدین خان سے ملاقات کی سعادت کئی بار نصیب ہوئی۔ دیکھ کر تعجب ہوتا تھا کہ بڑھاپے کے باوجود وہ کتنے فعال اور متحرک ہیں۔ جب کبھی انہیں انٹرویو کیا مخصوص گھن گرج والی آواز کے ساتھ علم کا دریا بہتا پایا۔ نہیں معلوم کہ اب جب کہ مولانا دنیا سے اٹھ گئے تو مجھ جیسے لوگ سوالوں سے خشک حلق لے کر کس چوکھٹ پر جایا کریں گے جہاں سے جوابوں کا پانی مل سکے۔ مولانا وحید الدین خان ہمارے عہد کی کتنی مقبول شخصیت تھے یہ بات اور زیادہ تب کھلی جب ان کی وفات کی خبر آئی۔ کہاں کا مسلک اور کیسا مذہب؟ اس رات سوشل میڈیا پر سب ان کے غم میں نوحہ گر نظر آئے۔ البتہ کچھ لوگوں نے دبے لفظوں میں مولانا کی نظریاتی گمراہیوں‘ کو یاد دلانا شروع دن نکلتے نکلتے وہ جماعت بھی فیس بک کی گلیوں میں نکل آئی جس کی دانست میں مولانا کا بخشا جانا مشکل تھا۔ میں مولانا کی مغفرت کے ساتھ ان دوستوں کی ہدایت کی دعا بھی کرتا رہا۔ مولانا سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو شاید یہ سوال کچھ کے لگا رہا ہو کہ مرنے والے میں آخر ایسا کیا تھا جو ایک عالم اداس نظر آ رہا ہے۔ مولانا و علامہ تو اور بھی ہیں، کتا بیں تو دوسروں نے بھی کم نہیں لکھیں، شاگردو مرید تو بہت سے علما کے ہوتے ہیں، پھر مولانا وحید الدین میں کیا خاص تھا؟

آئیے ان سوالوں سے پریشان ہو رہے بھائیوں کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے عہد میں مذہبی گھرانوں میں آنکھ کھولنے والے اکثر لوگوں کو ان کا ماحول مذہب سے خود بخود قریب کر دیتا ہے۔ گھر میں جو مکتب فکر رائج چلا آ رہا ہے اس کی بنیادی باتیں پرورش کے دوران ہی منتقل کر دی جاتی ہیں۔ آگے چل کر ان میں سے بہت سے لوگ اپنے ذوق کے مطابق مذہب کو کم یا زیادہ گہرائی سے سمجھ کر اس پر راسخ بھی ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک تو کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن جھنجھٹ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان میں سے کچھ لوگوں کو ہر لحظہ بدلتی اس دنیا کے تقاضوں اور اقدار کے ساتھ اپنے مذہبی نظریات کو ہم آہنگ کرنے میں دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ ان لوگوں کی کشمکش یہ ہوتی ہے کہ نہ تو وہ اس مذہب کو چھوڑنا چاہتے ہیں جس کی سچائی کو ان کا دل بچپن سے قبول کر چکا ہے اور نہ ہی وہ اس دنیا سے کنارہ کر سکتے ہیں جس میں انہیں بہر حال involve ہونا ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں جب یہ منزل آتی ہے تو وہ ایک فکری تذبذب کے عذاب میں مبتلا ہو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ کوئی ایک راستہ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ دنیا پر لاحول پڑھ کر خالص مذہب کے ہو جاتے ہیں تو کچھ مذہب کو سلام کر کے دنیا سے بغل گیر ہو رہتے ہیں۔ جوان دونوں میں سے کسی کا بھی حوصلہ نہیں کر پاتے وہ باری باری سے دونوں طرف نظر ڈالتے ہیں اور پھر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔

لوگوں کی اس مشکل کو مذہب کے کچھ جانکاروں نے سمجھا اور کوئی حل کھوجنے میں لگ گئے۔ بہت سوچ بچار کر کے ان اصحاب نے مذہبی فکر کی بذریعہ اجتہاد تطبیق نو کرنے کی ٹھانی تا کہ مذہب اور تمدن کے زینے پھلانگتی دنیا کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ یہی وہ سوراخ ہے جس سے مذہب میں تجدد پسندی کی روایت کا چشمہ پھوٹا۔ اس روایت سے نکلے کچھ افکار تو اس انتہا تک چلے گئے کہ ان میں مذہب کی اصولی روح ہی غائب نظر آئی۔ جب کہ کچھ ایسے نظریات سامنے آئے جنہوں نے تذبذب کے جھاڑ جھنکار کو صاف کر کے مذہب اور جدید دنیا کے درمیان ہم آہنگی کی راہ گزر تیار کی۔ مذہب میں تجدد پسندی کی اس روایت کو رائج خطوط پر چلنے والے حلقوں نے نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ ان کی گمراہی کا فتویٰ بھی صادر فرمایا۔ کچھ حلقوں نے تجدد پسندی کے پیچھے مذہب دشمن طاقتوں کا ہاتھ بھی دیکھ لیا۔ ان حلقوں نے اپنے نو جوانوں کو نصیحت کی کہ بھول کر بھی اس نئی روایت کی طرف نہ

جائیں کہ وہاں نقصان ہی نقصان ہے ۔ بہت سے لوگ تو اس ہدایت پر سچے دل سے عمل پیرا رہے لیکن ان حلقوں میں ہی کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے تو کچھ نہ تھے لیکن ان کے بھی دلوں میں تذبذب کی وہی آگ جل رہی تھی۔ ایسے افراد بھی خاموشی سے نئی روایت کی طرف بڑھ گئے۔

مولانا وحید الدین خان سے لے کر جاوید احمد غامدی تک مذہبی فکر کی تشکیل نو کرنے والے تمام اسکالروں کو آپ جتنا چاہیں برا بھلا کہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ نہ جانے کتنے افراد کو تذبذب کے عذاب سے نکالنے میں ان بزرگوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا یہ کارنامہ بہت بڑا ہے کہ انہوں نے ایک خلقت کو یہ باور کرا دیا کہ دنیا کیسی ہی ترقی کرلے تب بھی مذہب کی معنویت باقی رہتی ہے۔ میرے مشاہدے میں مولانا وحید الدین خان اور جاوید غامدی جیسے افراد کی مذہبی فکر بہت سے لوگوں کے لیے ان ستونوں کی طرح ہیں جنہیں ہٹا دیا جائے تو رائج مذہبی بیانیہ سے متعلق شبہات کی چھت مکینوں کے سروں پر آ پڑے گی۔ اس لیے ان ستونوں کی بناوٹ میں کوتاہیوں کے امکان کے باوجو دان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا وحید الدین خان کی مذہبی تعبیرات کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں مذہب کی اصولی حیثیت بہر حال نمایاں ہے۔ مذہب کی تفہیم کرتے وقت وہ دین کے دائرے میں کھڑے ہو کر استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ جدید دنیا سے ہم آہنگی کی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں اور اس راہ میں ہر سنگ میل پر یہ یاد دہانی بھی لکھتے جاتے ہیں کہ انسان کی حتمی منزل کچھ اور ہے۔ مولانا کے سیاسی نظریات پر تنقید کا سب کو حق ہے لیکن ان کو بنیاد بنا کر مولانا کی پوری ریاضت کو ٹکے ٹوکری کر دینا انصاف نہیں۔ نظریاتی اختلاف تو بہت جگہوں پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی فکری شکم سے نکلی دو تنظیمیں سیکولرزم کے بارے میں دو بالکل مختلف نظریے رکھتی ہیں۔ ہماری طرف والی تنظیم کو سیکولرزم بہت عزیز ہے جب کہ سرحد پار والی کو سیکولرزم سخت نقصان دہ لگتا ہے۔ جس طرح ان نظریاتی اختلافات کو بنیاد بنا کر یہاں یا وہاں والی تنظیم کی گمراہی کا حکم لگانا زیادتی ہے، ویسے ہی مولانا کے سیاسی نظریات کو وجہ بتا کر ان کی تمام کارگزاریوں کی تکذیب بھی ایمانداری کے خلاف ہے۔

خاکسارانہ خودداری کا رول ماڈل صہیب سلیم رومی، ضلع لوئر دیر تیمرگرہ علم ہو اور ساتھ میں خاکسارانہ بے نیازی تو تینوں کی مجسم شکل مولانا وحید الدین خان ہوتے مولانا کی علمیت اور تفضل کی شاہد ان کی کتابیں، اقوال، رسائل، خطوط اور ڈائر یز تو ہیں ہی، ان کی خاکساری اور بے نیازی ملاقات کا شرف حاصل کرنے اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہونے والوں کے نقل کردہ واقعات سے عیاں ہے۔

دنیا جہان کے لوگوں سے ایسے پر خلوص شفقت سے ملتے جیسے ایک سراپا محبت روحانی والد سے توقع کی جاسکتی ہے۔ مخالفین، ذاتی حملے کرنے، کردار کشی کرنے والے ایک عرصے کے بعد خودان کے مرید بن جاتے۔ دیوبندیوں نے خلاف لکھا، جماعت اسلامی والوں نے ان کے خلاف مہم کچھ لوگ مولانا کی ذاتی کردار کشی پر اتر آئے۔ مولانا نے سب نظر انداز کر دیا، خاموش رہے اور معاف کر دیا۔ بالآخر سب لوگ خاموش ہو گئے۔ مولانا کے زبان و قلم سے ایک حرف ملامت نہ مولانا کی یہی پر وقار خاموشی اور عدم رد عمل ان کی سب سے بڑی فتح تھی۔ علماء کے طعنے، فتوے اور ذاتی حملے آج کسی کو بھی یاد نہیں۔ جب کہ مولانا علم و فضل کی تاریخ میں کل اور آج بھی زندہ ہیں اور تا دیر زندہ رہیں گے۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے پاکستان کے ایک مفتی صاحب ایک دفعہ اسلام آباد سے دہلی مولانا وحید الدین کے دفتر ان سے ملاقات کے لیے گئے۔ ان دنوں اسرائیل و قادیانیت کے بارے مولانا کے افکار و خیالات نے مسلمانوں کے درمیان ایک طوفان بپا کر رکھا تھا۔ محترم پاکستانی مفتی صاحب، مولانا کے ان دونوں نکات پر مولانا کی اصلاح کے لیے انتہائی پر جوش و پر عزم تھے۔ دوران گفتگو مفتی صاحب نے کہا کہ میں فلاں مفتی، پاکستان سے آیا ہوں۔ مدعائے ملاقات یہ ہے کہ آپ سے دو باتوں پر مناظرہ کروں۔ ایک یہ کہ آپ اسرائیل کے وجود کو درست تسلیم کرتے ہیں اور دوئم یہ کہ آپ قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ مولانا نے جواب دیا:

میں نے سوچ سمجھ کر اپنی تحریروں کا ایک موقف اپنایا ہے۔ اسی پر میں لکھتا ہوں: (1) معرفت اور دعوت میرے بنیادی موضوع ہیں۔ (2) شخصی مدح و قدح سے مکمل اجتناب (3) بعض موضوعات پر ایک مرتبہ کچھ لکھ چکا ہوں تو اس کو پھر سے دہراتا نہیں ہوں ۔ میری ایک علمی توجیہہ یا میری علمی رائے کی حد تک ہو گئی۔ اس طرح بات ختم ہوگئی۔ دوسرا واقعہ لیبیا میں پیش آیا۔ لیبیا کی، مرد آہن اور آمر کرنل قذافی اپنی شہرت، طاقت اور مقبولیت کے عروج پر تھے۔ دنیا جہان کے معروف سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات کو لیبیا بلاتے اور ان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ صاحبانِ علم و قلم سے قصیدے لکھواتے اور بدلے میں انعام واکራም کی بارش سے نوازتے۔ پاکستان کے ایک معروف مذہبی سیاسی قائد بھی، مسلکی فرق کے باوجود، ان کے مستقل وظیفہ خوار رہے۔

1989ء کی بات ہے، کرنل قذافی نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مسلمان علماء کی ایک کانفرنس منعقد کی جس میں اسلامی دنیا کے 300 علماء بشمول مولانا وحیدالدین بھی مدعو تھے۔ کے دوران ایک صاحب کی تقریر جاری تھی۔ اسی اثناء میں قذافی کا نفرنس ہال میں داخل ہوئے تو کانفرنس میں موجود سب علماء و شرکاء اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے لیکن ایک شخص اپنی نشست پر متانت سے بیٹھا رہا۔ یہ انڈیا سے آئے ہوئے مولانا وحیدالدین خان تھے۔ کانفرنس کے تیسرے روز قذافی نے علماء کے لیے عشائیہ کا خصوصی پروگرام بنایا، مگر مولانا نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ یہ واقعہ خود مولانا کی زبانی سنیے۔ مولانا نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ستمبر 1989 کے آخری ہفتے میں لیبیا میں انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ مختلف ملکوں کے کئی سو آدمی وہاں میں بھی شریک ہوا۔ ہم لوگ طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے بعد تمام لوگ اسپیشل جہاز کے ذریعہ بن غازی لے جائے گئے تاکہ وہاں کرنل قذافی سے ملاقات کر سکیں۔ تمام شرکاء خوشی خوشی وہاں گئے۔ میں اکیلا طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرارہا۔ میں اکیلا قذافی سے ملنے اپنے اس استغنا کی وجہ سے 500 ڈالر کھو دیے ۔ (ڈائری 24 فروری، 1990)

مولانا وحید الدین خان میری نظر میں قریب دو ہفتوں سے مرحوم کی صحت مسلسل گرتی جارہی تھی، اور 21 اپریل 2021 کو جان عزیز کو لبیک کہہ گئے۔ مرحوم کا میں نے ظاہری طور پر دیدار نہیں کیا تھا لیکن ملاقات کی جو خواہش تھی وہ پوری نہ ہوسکی۔ وفات باحسرت کی خبر سن کر یقین جانو، میں ششدر اور خوف زدہ ہوگیا کہ کیا واقعی مولانا اللہ کو پیارے ہوگئے، جن کی کتابوں کا مطالعہ میں دس سالوں سے بلا فصل کرتا آرہا ہوں اور یہ کہ ان کی وفات کے وقت بھی انہی کی کتاب سفرحیات کا مطالعہ جاری تھا۔ کتنی حیرت انگیز اور جبری الارم ہے موت، بغیر کسی رعایت کام تمام کرتی ہے۔ مرحوم کی کتابوں کے مطالعہ کرنے سے پہلے علم کی دنیا میں میری حیثیت ایک ادنیٰ سے طالب علم کی بھی نہ تھی۔ آج دو حرف لکھنے کی صلاحیت اور اس کی تحریک مولانا مرحوم کی بالواسطہ دین ہے۔ کچھ چند جزوی مسائل کے اختلاف کے باوجود میری نظر ہمیشہ خان صاحب کے بیشتر مثبت اور اہل سنت کے موافق مسائل پر جاتی رہی۔ اس سے ہوا یہ کہ میرے ذہن نے منفی سوچ کو مثبت میں تبدیل کرنے کا آرٹ سیکھا، جو میری ذاتی زندگی میں خوب نمایاں ہے اور یہی روش تمام مکاتب فکر کے مطالعہ میں رہی۔ بہر کیف مولانا وحید الدین خان مرحوم ایک بلند مرتبت کے حامل متعدد خصوصیات کے پیکر تھے۔ عالم اسلام کے ایک عظیم مفکر ہونے کے ساتھ ہی ایک عمدہ آئیڈیالوجسٹ، سائنٹفک تھنکر اور دعوتی میدان کے ایک داعی تھے، جس نے اپنے آخری وقت تک یہ سلسلہ نہ تھمنے دیا۔ مولانا مرحوم مختلف مکاتب فکر کے یہاں متنازعہ شخصیت کہلاتے ہیں۔ چند تفردات کی وجہ سے بعض علماء ان کی تنقید میں کئی کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں اور کئی لوگوں نے بدترین قسم کی تنقیص بھی کی، جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ بعض حضرات نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ کا مسیح مہدی ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر انھوں نے اپنی بات کسی ٹھوس دلیل کے بغیر کہی ہے۔ یہ ایک بدترین قسم کا الزام ہے۔ اسی طرح کا الزام مولانا زکریا

کاندھلوی تبلیغی جماعت کے بانی کی طرف سے سید مودودی پر بھی لگایا گیا تھا۔ کسی پر ایمان وعقیدہ کے اعتبار سے الزام لگانے کے لیے براہ راست دلائل و برہان ہونے چاہیے، نہ کہ بالواسطہ استنباط۔ بعض تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ مہدی کو کوئی فرد نہیں گردانتے تھے بلکہ آپ کا رخ ایک آئیڈیالوجی کی طرف تھا۔ اگرچہ یہاں تفصیلی بحث ممکن نہیں ہے۔ مختصرایہ عرض ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مرحوم کا نظریہ پہلے یہی ہو، بعد میں رجوع کر لیا ہو جیسا کہ بعد میں شائع ہونے والی تحریروں سے معلوم ہوتا مثال کے طور پر 2014 کی کتاب اظہار دین صفحہ نمبر 245 یوں رقم طراز ہیں: ’’اصحاب رسول نے جس دور تاریخ کا آغاز کیا تھا تقریبا ڈیڑھ ہزار سال میں وہ اپنے نقطہ کمال پر پہنچ چکا ہے اب دوبارہ اس نئی نسل سے ایک فرد اٹھے گا جس کو حدیث میں المہدی کا نام دیا گیا ہے۔ اسی طرح کا ایک اور الزام جو مسیحی ماڈل کے نام سے مشہور مضمون ہے کہ آپ نے جون 2007 کے الرسالہ میں کہا تھا کہ ’’اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسوہ مطلوب ہے‘‘ کا پروپیگنڈا چلایا گیا۔ بظاہر اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی نفی ہوتی ہے حتی کہ اس کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ جولائی 2010 میں خان صاحب نے اس الزام کا ایک سوال کے جواب میں یہ دیا تھا۔ اس کا اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

سوال: ماہ نامہ الرسالہ جون 2007 کے شمارے میں مسیحی ماڈل کی آمد ثانی کے عنوان سے آپ کا ایک مضمون نگاہ سے گزرا اس سلسلے میں دو سوال پیش خدمت ہیں۔ ایک یہ کہ اس تعبیر کے استعمال کرنے کی کیا حکمت پیش آئی۔ صفحہ نمبر 38۔

جواب: آپ نے غالبا اصل مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا اور نہ آپ کو اس قسم کا اشکال پیش نہ آتا۔ اگر آپ مضمون کو غور سے پڑھیں تو آپ پر کھل جائے گا کہ مسیحی ماڈل کی آمد ثانی کا مطلب دوسرے لفظوں میں مکی ماڈل کی آمد ثانی ہے۔ مذکورہ مضمون میں جس چیز کو مسیحی ماڈل کہا گیا ہے، وہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پوری طرح موجود ہے۔ مکی دور میں آپ نے خود اسی اصول کے مطابق عمل فرمایا ہے مضمون میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس تصور کو زیادہ ممیز کرنے کے لیے اس کو مسیحی ماڈل کا نام دے دیا گیا ہے، تا کہ وہ جدید ذہن کے لیے زیادہ قابل فہم جیسا کہ معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبرانہ مشن کے دو دور ہیں— مکی دور اور

مدنی دور مکی دور پر امن دعوت کا دور ۔ اس کے مقابلے میں مدنی دور کو جہاد اور قتال کا دور سمجھا جاتا ہے اور یہ دونوں ادوار بلاشبہ اسلام میں مستند ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خان صاحب مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی سے مراد یہ لیتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کی جب آمد ہوگی، اور وہ جو ماڈل اپنائیں گے وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنایا ہوا ہی ماڈل ہوگا، نہ کہ کوئی خود ساختہ مسیحی ماڈل۔

بہر کیف مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے پیچھے قرآنی مشن کا ایک عظیم کام بالعموم تمام لوگوں پر اور بالخصوص اپنے پیروکاروں کے کندھوں پر چھوڑ کر چلے گئے ۔ خان صاحب کے مغفرت اور صدقۂ جاریہ کے لیے قرآنی مشن ایک صدقۂ عظیم کے برابر ہے۔ مختلف زبانوں میں قرآن شریف کی سب سے زیادہ تراجم کرنے والی سر فہرست دعوتی این جی او خان صاحب کا cps سنٹر ہے۔ یہی مشن خان صاحب کا آخری مشن ہے۔

Printed page