بابا چلے گئے
Al-Risala, August 2021, pp. 200–222
By Maulana Wahiduddin Khan
کل رات سے دنیا بھر میں موجود ہم تمام دوستوں پر ایک رنج والم کی کیفیت طاری ہے۔ میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ خود کو دلاسا دیں یا ایک دوسرے کے غم خوار بنیں ۔ بابا ہمارے لیے کیا کچھ چھوڑ گئے ہیں؟ اُن کی علمی خدمات کیا ہیں؟ یہ کوئی ایک دن کا موضوع تو نہیں ہے کہ ابھی کے ابھی سارا قصہ لکھ دیا جائے ۔ دنیا بھر میں موجود سبھی دوستوں نے لکھنے کا آغاز کیا ہے اور یہ نہ ختم ہونے والی داستان بابا کے علمی کام کو ہر ایک تک پہنچانے کی صورت آب جاری و ساری رہے گی ان شاء بابا مدح سرائی سے منع کر گئے ہیں لیکن بابا سچ تو ہم میں سے ہر ایک لکھے گا۔ یہ سچ ہے بابا کہ آپ نے آخرت کی یاد دہانی کرانے، تزکیہ اور خدا کی معرفت کی راہ دکھانے میں اپنی تمام عمر لگادی۔ جبھی تو یہ آخری بات کس سرشاری میں کہہ گئے کہ میں بہت جلد اللہ تعالیٰ کا خوشی اور آنسوؤں سے استقبال کرنے والا ہوں‘‘ (ڈاکٹر اشفاق، کراچی)
تحریک الرساله ایک تعارف پروفیسر ظہیر الدین خواجہ، رائچور، کرناٹک مولانا وحید الدین خاں بلا مبالغہ بیسویں صدی کے بڑے عالم دین اور مفکرِ اسلام تھے۔ اس کا اعتراف کر رہے ہیں۔ آپ کی وفات عالمِ اسلام کے لیے ایک عظیم سانحہ سے کم نہیں۔ مولانا کی متعین فکری رجحان کا اظہار ویسے تو ان کی کتاب ’’خدا کا مطلوب انسان‘‘ سے ہو چکا مگر 1976ء میں الرسالہ کے اجراء کے بعد مولانا کی فکر ’’تحریک الرسالہ‘‘ کے نام سے موسوم ہو ایک منفرد تحریک جس کی نظیر دور دور تک نظر نہیں آتی۔ ایسی تحریک جس نے ایک طرف دین خداوندی کو انسانی اضافوں سے پاک کر کے اس کی اصل روح اور اصل چہرے کو بے آمیز شکل میں ویساہی پیش کرنے کی کوشش کی جیسا کہ وہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اور دوسری طرف بے شمار نفوس کو نہ صرف معرفت کی روشنی سے منور کیا بلکہ زمانی بصیرت اور عصر حاضر کا شعور بھی عطا تقریباً نصف صدی پر محیط تحریک الرسالہ کے مکمل علمی و فکری جہات کا احاطہ کرنا اس مختصر مضمون کا مقصود نہیں ہے۔ یہاں تحریک الرسالہ کے مختلف ادوار کا اجمالی تعارف پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاکہ قاری کو الرسالہ کی تحریریں قابل فہم ہو سکیں۔
راقم الحروف کے خیال کے مطابق، الرسالہ کے اصل بنیادی موضوعات ابتدا سے معرفت اور دعوت اور آخرت ہی رہے ہیں، مگر اپنے مضامین کے لحاظ سے اس تحریک کو درجہ ذیل تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
پہلا ’’معرفت رب‘‘ کا دور۔ سنہ 1976ء سے لے کر 1986ء تک۔
دوسرا ’’معرفت زمانہ‘‘ کا دور۔ سنہ 1986ء سے لے کر 1996ء تک۔
تیسرا ’’معرفت دعوت‘‘ کا دور۔ سنہ 1996ء سے لے کر 2021ء تک۔
’’معرفت رب‘‘ کا دور: اس دور میں الرسالہ کے صفحات پر ’’عظمتِ خداوندی‘‘ کے مضامین کا غلبہ رہا۔ اس دور میں خدا کی کبریائی، خدا کے جلال و جمال، کلماتِ اللہ اور آلاء اللہ کا ایسا لافانی نغمہ
الرسالہ کے صفحات سے بلند ہوا ایسا لگتا تھا کہ دینِ فطرت کا کائناتى اظہار ہورہا ہے، گویا کہ فطرت ہم کلامى کررہی ہے۔
’’خدا کو پانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے، کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی زلزلہ خیز دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلا دیتی ہے وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے، اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی کرنوں میں خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا، ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمسِ ربانی کا تجربہ ہوگا، وہ پھول کی خوشبو میں خدا کی مہک کو پائے گا۔ ایمان ایک زلزلہ ہے جو خدا کی معرفت سے پیدا ہوتا ہے، ایمان ایک سیلاب ہے جو خدا کے فیضان کو پا کر آدمی کے سینے میں بہہ پڑتا ہے۔ ‘‘ (اللہ اکبر)
اس دور میں مولانا کے قلم سے ایسے ربانی کلمات نکلے جنہیں پوری تاریخِ بشری میں انسانی زبان سے نکلے ہوئے بہترین ربانی کلمات کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خدا اور توحید نہ صرف مولانا کا پسندیدہ موضوع تھا بلکہ ہمیشہ مولانا پر ”العظمۃ للہ‘‘ کی نفسیات کا غلبہ رہتا تھا۔ ’’اللہ اکبر‘‘ اس دور کی نمائندہ کتاب ہے اور یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں قرآن کے بعد خالص خدا کی عظمت کے مضامین پر مشتمل اوّلین کتاب ہے۔ اس دور کا پیغام و خصوصیات: اس دور میں مولانا کا موقف یہ تھا کہ خدا کی عظمت اور خدا کی قدرت کا اتنا چرچا کیا جائے کہ لوگ دريافت کی سطح پر خدا اور دین کو پانے والے بن جائیں۔ اصحابِ رسول نے دین کو خدا کی دریافت کی سطح پر پایا تھا۔ اس دور میں:
الرسالہ برصغیر میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا دینی پرچہ بن گیا تھا۔ مولانا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے کچھ حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا ہوگئی۔ مولانا کے خطابات میں جدید تعلیم یافتہ اور دینی مدارس کے طلبا و فارغین کا ایک ہجوم شریک ہوتا تھا۔ شاید یہ بھیڑ اس لیے جمع ہوتی تھی کہ مولانا عظمتِ خدا کے ساتھ ساتھ، عظمتِ رسول، عظمتِ اسلام، عظمتِ صحابہ، عظمتِ مومن اور اسلام دورِ جدید کا خالق، جیسے مسلمانوں کے پسندیدہ موضوعات پر بھی بات کرتے تھے، شاید انہیں مولانا کی تحریروں میں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی جھلکیاں نظر آتی تھیں، اور زوال یافتہ قوموں کے لیے ایسے موضوعات میں زیادہ کشش ہوتی ہے۔
دوسرا دور ”معرفت زمانہ“ 1986ء سے 1996ء تک امت مسلمہ کے لیے ایک ہنگامی دور اس دور میں امت مسلمہ دنیا کے کئی ممالک میں بے شمار مسائل میں ایسا گھرتی چلی گئی کہ آج تک ان سے نکلنا نصیب نہ ہوسکا۔ ان مسائل کے پیدا ہونے کے دو بنیادی سبب تھے۔ کی غلط تعبیر کا عوام میں سرایت کر جانا اور دوسرے بصیرت زمانہ کا مکمل فقدان۔ عالمی سطح پر فلسطین سے لے کر عراق، افغانستان، کشمیر اور بوسنیا وغیرہ تک، اور ادھر ہندوستان کی سطح پر شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں جو ہنگامہ خیز تحریک چلائی گئی اس نے بابری مسجد کے سوئے ہوئے مسئلے کو نئی زندگی بخشی۔ اور مسلم قیادت نے مسلمانان ہند کے مستقبل کو گویا بابری مسجد پر بھینٹ چڑھادیا۔
اس احمقانہ سیاست کا حاصل آج یہ ہوا کہ CAA اور NRC جیسے سنگین مسائل اٹھ کھڑے ان حالات میں مولانا ملت کی بربادی کا تماشہ دیکھ کر تڑپ اٹھے اور قرآن وسنت اور زمانی بصیرت کی روشنی میں مسلسل مسلمانوں کی مثبت رہنمائی فرماتے رہے۔ ملت کے عالمی مسائل سے لے کر مقامی مسائل تک ہر موضوع پر لکھا، قدم قدم پر رہنمائی کی اور پیشگی متنبہ فرماتے رہے کہ جس راستے پر ملت کو اس کے بے ریش و باریش رہنما لے جارہے ہیں، وہ بربادی کا راستہ ہے۔ مسلمانوں کو سمجھایا کہ قدیم قبائلی دور کی سوچ اور ”پدرم سلطان بود“ کی نفسیات سے نکل کر جدید زمانی تبدیلیوں کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں اپنے لائحہ عمل کو طے کرنے کی ضرورت ہے۔ بابری مسجد کے انہدام سے پہلے بھی اس مسئلے کو باہمی گفت و شنید سے حل کرانے کی کوشش کی اور انہدام کے بعد، قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی خاطر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا کر تین نکاتی فارمولا بھی پیش کیا۔ جس کو روزنامہ انقلاب ممبئی اور روزنامہ مڈڈے (Mid-Day) کے سروے کے مطابق 63% مسلم اور 69% غیر مسلم عوام نے منظور بھی کیا تھا۔ مگر ملت کے نام نہاد قائدین نے نہ مولانا کی سنی، نہ عوام کی سنی اور بدستور اپنی لایعنی سیاست میں لگے رہے۔ (ایک صاحب نے اپنے حالیہ مضمون میں یوں لکھا کہ ”امت نے مولانا کور جیکٹ کردیا“۔ حالانکہ اوپر کا سروے بتا رہا ہے کہ امت نے مولانا کور جیکٹ نہیں کیا، بلکہ اپنی نااہلی اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسا لکھا جارہا ہے)۔ حدیث رسول میں جس فراست اور زمانی بصیرت کو مومنانہ صفت بتایا گیا ہے، اس نعمت
سے وافر حصہ اللہ نے مولانا کو عطا کیا تھا۔ چنانچہ تعمیر ملت کے لیے پر حکمت مضامین پر مشتمل مولانا نے جو مثبت کتابیں لکھیں وہ اردو زبان میں لکھی گئی شاہکار کتابیں سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے، راز حیات، رہنمائے حیات، تعمیر حیات، کتاب زندگی، روشن مستقبل اور راہیں بند نہیں وغیرہ۔ ان کتابوں سے انفرادی سطح پر تو مسلمانوں نے خوب استفادہ کیا، مگر اجتماعی مسائل کو حل کرنے میں وہ اسی سنجیدگی کا ثبوت نہ دے سکے۔ اسی لیے اجتماعی ملی مسائل کا حل بھی قرآن وسنت کے ابدی اصولوں کی روشنی میں مولانا نے اپنی درجہ ذیل کتابوں میں پیش کر کے ملت کی مستقل رہنمائی کا سامان بھی کر دیا۔ مسلمان، قیادت نامہ، تصویر ملت، خلیج ڈائری، صبح کشمیر، کشمیر میں امن، وغیرہ۔ اس دور کا پیغام و خصوصیات: ملی مسائل پر مولانا کا موقف شروع ہی سے بالکل واضح رہا۔ بدقسمتی کہیے کہ کسی نے اس کو سمجھنے کی ذرا بھی زحمت نہ کی۔ ورنہ مسلمانان ہند کی تاریخ بربادی کے بجائے تعمیر نو کی تاریخ ہوتی۔ مولانا کے نزدیک قرآن وسنت میں جس طرح ذکر و عبادت کے احکام موجود ہیں، اسی طرح مسلمانوں کے اجتماعی امور کی رہنمائی بھی موجود ہے۔ اسی کی روشنی میں ان کو حل کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔ اس دور میں:
الرسالہ کی اشاعت بہت کم ہوگئی۔ مگر مولانا نے اس کی پرواہ نہ کی۔ یہ واقعہ مولانا کی بے لوث ملی خیر خواہی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
مولانا کو بدنام کرنے کا لوگوں کو بہترین موقع مل گیا۔ چنانچہ ملت کے نادان دوستوں نے اپنی سادہ لوحی سے طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگا کر مولانا کو خوب بدنام کیا اور عوام کو مولانا سے بدظن کرنے کا کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا۔ اس کی وجہ سے ملت کو تو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ عنداللہ وہ ان الزامات کو کیسے ثابت کر پاتے ہیں۔
مولانا کے گرد ہر طرح کے لوگوں کی جو بھیڑ اکٹھا ہوگئی تھی وہ غبار کی طرح چھٹ گئی۔ اس دور کو تحریک الرسالہ کا سب سے مشکل ترین دور سمجھا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک یہی دور الرسالہ تحریک کی مضبوطی اور تقویت کا اصل دور ہے۔ اس لیے کہ اس دور میں جو بھیڑ جمع تھی وہ تو چھٹ گئی اور جنھوں نے ’’علی وجہ البصیرۃ‘‘ اس مشن کو اختیار کیا تھا، وہی لوگ جمے رہے اور مولانا کے مستقل ساتھی بنے۔
تیسرا دور ”معرفتِ دعوت“: یہ دور 1996ء سے لے کر 2021ء تک پھیلا ہوا ہے۔ کو علامتی طور پر ”معرفتِ دعوت“ کا دور کہہ سکتے ہیں۔ مولانا کا اصل مشن ہی دعوت الی اللہ ہے بلکہ مولانا کی فکر کو اگر کوئی ایک نام دینا ہو تو اسے دین کی ”دعوتی آئیڈیالوجی“ کہہ سکتے ہیں۔ نے بہت صحیح لکھا ہے کہ اس امت کے لیے اگر کوئی کامیاب اقدامی عمل ہے تو وہ ”دعوت الی اللہ“ کا دعوت شاہ کلید ہے، دعوت ہر کامیابی کا سرا ہے، دعوت تکمیل ایمان و معرفت بھی ہے۔ چنانچہ مولانا لکھتے ہیں:
”ایمان جب اپنی آخری انتہا کو پہنچتا ہے تو وہ دعوت بن جاتا ہے۔ دعوت دوسرے لفظوں میں کائنات کے غیر ملفوظ نغمہ کو الفاظ کی صورت دینا ہے۔ داعی خدا کی خاموش نشریات کو با آواز اعلان میں منتقل کرتا ہے۔ وہ خدائی پیغام کوسن کرا سے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ “ (اللہ اکبر، صفحہ 35) چنانچہ اس کام کے لیے ایک طرف عصری اسلوب میں دعوتی لٹریچر تیار کیا۔ دعوتی ٹیم کو تیار کرتے رہے۔ دعوت کے ہر پہلو کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا، دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیا، داعی اور مدعو کے تعلق کی نزاکتوں کو سمجھایا، آداب دعوت واسلوب دعوت سے روشناس کرایا، جدید دور میں پیدا ہونے والے دعوتی امکانات اور اس کی موافقت میں جو علمی تحقیقات تھیں ان کو قابل فہم بنایا۔ الغرض دعوتی ضرورت کے ہر نکتہ کی مکمل تفہیم وتبین کی ۔ راہ کو اپنانے کے لیے بطور تشجیع کہا کہ اصحاب رسول وہ لوگ تھے جو اپنی پچھلی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا خلاصہ تھے۔ انہوں نے خدائی مشن اور خدا کے منصوبۂ تخلیق کو سمجھا اور رسول اللہ کے ساتھ مل کر اس مشن کو تکمیل تک پہنچایا۔
بالکل اسی طرح آج بھی خدا نے پچھلے پانچ سو سالہ عمل کے ذریعہ دوبارہ وہ سب موافق دعوتی امکانات ومواقع پیدا کردئے ہیں جن کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ دین کا فکری اظہار کر کے تاریخ کو دہرایا جاسکتا ہے۔ گویا خدا کے فرشتے پکار رہے ہیں ”من انصار اللہ“۔ اور زمین و آسمان کو انتظار ہے کچھ خدا کے ایسے بندوں کا ( نہ کہ بھیڑ کا )، جوایک طرف اس خدائی پلاننگ اور جدید دعوتی امکانات کا گہرا ادراک رکھتے ہوں اور دوسری طرف ان کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ وہ فرشتوں کی پکار کو سن کر زبان حال سے ”نحن انصار اللہ“ کی تصویر بن جائیں، اور ”اصحاب رسول“ کی
طرح اپنے آپ کو اس خدائی مشن میں لگا کر اخوانِ رسول‘‘ کی فہرست میں اپنا نام شامل کرواسکیں۔ اس دور کی نمائندہ کتابیں یہ ہیں: دعوتِ اسلام، دعوت حق، دورِ دعوت، مضامینِ اسلام، کتابِ معرفت، اظہارِ دین وغیرہ۔
اس دور کا پیغام و خصوصیات: قرآن کے مستند و معیاری تراجم ملکی و عالمی زبانوں میں شائع کرنا، اور حدیث رسول میں کی گئی ادخال کلمہ کی پیشین گوئی کے مطابق تمام انسانوں تک قرآن کو پہنچانا۔ اس دور میں ــــ 2001ء میں CPS International کو قائم کیا گیا۔
2010ء میں القرآن مشن کی شروعات کی گئی۔
گڈ ورڈ کے تحت اب تک 30 سے زیادہ ملکی اور بین الاقوامی زبانوں میں تراجم قرآن کی اعلیٰ معیار پر اشاعت ہوچکی ہے۔
ملک اور بیرونی ممالک میں بڑے پیمانے پر قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام جاری ہے۔ دوسرے اور تیسرے دور میں تحریک الرسالہ سے جڑنے والے اللہ کے مخلص بندوں پر مشتمل ایک مضبوط CPS کی ٹیم وجود میں آچکی ہے اور ان شاء اللہ یہی لوگ اللہ کی نصرت و توفیق سے اس مشن کو تکمیل تک لے جائیں گے۔
مولا نا نے ہر وقت دعوتِ دین کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا۔ یقیناً اُن کی موت بھی اُن کے دعوت کے کام کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گی۔ جو لوگ مولا نا کو نہیں جانتے تھے اُن تک جب یہ خبر پہنچے گی تو وہ بھی اُن کی دینی خدمات سے واقف ہو جائیں گے اور یوں دعوتِ دین کا کام اور تیزی سے آگے بڑھے گا۔ (سو ہان، فیصل آباد)
مولانا وحید الدین کی فکر کا ایک مطالعہ خالد محمود، کشمیر، پاکستان غالباً 1990ء کی بات ہے جب میں نے مولانا وحید الدین کی کتاب رازِ حیات کا مطالعہ کیا۔ تقریباً تین سال تک میں بار بار اس کتاب کو پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ ان کی دیگر کتابیں بھی میں نے حاصل کیں اور سب کا مطالعہ کیا۔ آج میں نے مولانا کی ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ آپ کی کتابیں ایک بار نہیں بار بار پڑھنے کے لیے ہیں۔ ان کو بار بار پڑھ کر ان سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرنی آپ کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں۔ (1) غیر مسلموں کو دعوت کے ذریعے دائرہ اسلام میں لانا آپ کی فکر کی بنیاد ہے۔ (2) آپ کا یہ کہنا ہے کہ غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانا نہ صرف اللہ کا حکم ہے بلکہ اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے کے بعد ہی ہمیں دنیوی اور اخروی ترقی (3) غیر مسلموں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے مسلمانوں کو اپنے رویے اور سوچ میں تبدیلی (4) رویے میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ یک طرفہ طور پر اعلیٰ اخلاق کا معاملہ کرنا ہے۔ (5) سوچ میں تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ ہمیں پوری خیر خواہی کے ساتھ دلی طور پر غیر مسلموں سے ہمدردی کرنی ہے۔ (6) جب ہم اپنے ظاہر و باطن میں غیر مسلموں سے ہمدردی کریں گے تو جوابی طور پر وہ بھی اسلام کے قریب آئیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی حاصل کریں (7) مسلمانوں کو اپنے مذہبی روایتی ڈھانچے سے اوپر اٹھ کر حقیقی اسلام کو دوبارہ دریافت کرنا (8) اسلام کو دوبارہ دریافت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ باپ دادا سے ملے ہوئے دین کو ذاتی طور پر سمجھا جائے اور پھر ذاتی دریافت کے طور پر پورے یقین کے ساتھ اس کو مانا جائے۔ تو اس طرح ماننے سے ہی ہم صحیح مسلمان بن سکتے ہیں اور دوسروں کو اس کا حقیقی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ کے نزدیک تلوار کے ذریعے کسی کو فتح کرنا جہاد کی ایک معمولی شکل ہے، جب کہ دلیل کے ذریعے کسی کو قائل کرنا جہاد کی سب سے بڑی اور عظیم شکل ہے۔ (10) مسلمانوں کے پاس سب سے بڑی دلیل قرآن پاک ہے اور خود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے جہاد کرنے کی ترغیب دی ہے۔
(11) ہر زمانے کی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔ پرانے ادوار میں تلوار کے زور پر اپنی بات منوائی جاتی تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بھی اپنے دفاع میں تلوار اٹھانی پڑی۔ لیکن اسلام اُس دور میں بھی قرآن پاک کے ذریعے ہی پھیلا۔ (12) موجودہ دور تو ہے ہی دلائل کا دور۔ اس لیے آج بھی اسلام قرآن پاک کو بطور دلیل سامنے رکھ کر ہی پھیلے گا۔ (13) قرآن کو دلیل بنانے کے لیے اس کو سمجھنا پڑے گا، اور اس کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ (14) اور خود مولانا نے کیا شاندار محنت کی ۔ 25 سال کی عمر تک مدرسے میں پڑھتے رہے، اور پھر 25 سال تک ذاتی مطالعے کے ذریعے انگریزی زبان سمیت جدید علوم سے آشنا ہوتے رہے۔ (15) 50 سال کی عظیم الشان محنت کے بعد آپ نے درد دل سے اپنے جذبات اور خیالات ساری دنیا تک پہنچائے۔ درد دل سے نکلی ہوئی اس آواز نے قلب سلیم والوں کو بہت متاثر کیا۔
مولانا کے خیالات اور جذبات پر کچھ لوگ سیاسی اور مذہبی حوالے سے تنقید کرتے ہیں۔ ان کی تنقید میں وزن نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی تنقید میں دلیل نہیں ہے۔ درد دل نہیں ہے۔ 50 سال کی عظیم الشان محنت نہیں ہے— کسی پر صرف اس لیے تنقید نہیں کرنی چاہیے کہ اس کی فکر ہماری روایتی سوچ کے مطابق نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ فکر دلائل مطابق ہے یا نہیں۔ کل نفس ذائقۃ الموت ، آج مولانا نے رخت سفر باندھا کل ہماری باری ہے۔ ہے کہ مولانا انسانیت کو کیا دے کر گئے اور جس دن ہم یہاں سے جائیں گے ہم کیا دے کر میں یہ عہد بھی کرتا ہوں کہ میں مولانا کے مشن کو جاری رکھوں گا اور اپنے اللہ کے حضور دست بدعا ہوں کہ اللہ میرے اس عزم کو زندگی کے آخری سانس تک ایسے جواں رکھ جیسے مولانا کے عزم جواں تھے۔ اللہ میرے عہد کو تقویت عطا فرما کیوں کہ تیری مدد کے بغیر کسی عزم پر قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔ (محمد فاروق ، لاہور )
بڑے نانا سے میں نے کیا سیکھا مزطرب خان، فیض آباد مولاناوحید الدین خاں صاحب میرے نانا کے بڑے بھائی تھے۔ میرے نانا تین بھائی تھے، ان میں مولانا دوسرے نمبر پر تھے اور میرے نانا تیسرے نمبر پر (تفصیل کے لیے دیکھیے الرسالہ مئی مولانا سے میرا شعوری تعلق اس وقت شروع ہوا جب مجھے دہلی میں ایک مہینہ رہنے کا موقع اس وقت میں teenager تھی۔ اس دوران روزانہ میں مولانا سے ملتی رہی۔ وہ ایک مہینہ میری زندگی کا turning point تھا۔ اور وہ میری سب سے cherished memory ہے۔ میں اپنے آپ کو بالکل nothing سمجھتی تھی، مگر مولانا نے مجھے movtivate کیا اور مجھے یہ احساس دلایا کہ میں بھی کچھ کر سکتی ہوں۔ اس دوران مولانا نے میری زندگی میں خدا کا احساس بھر دیا۔ ایک مہینہ گزارنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مستقبل میں مجھے اس خدائی مشن کا حصہ بننا ہے۔ نے نانا کے ذریعے میری upbringing کروائی، یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔ نانا کے ذریعے مجھے دنیا کی life of desire سے دوری ہوئی اور خدا کو پانے کا desire انھوں نے میرے اندر بہت کم عمر میں ہی God-oriented زندگی گزارنے کا بیج ڈال دیا تھا۔ ان کے ذریعے میں نے وہ informal education پائی جو سب سے زیادہ مگر افسوس کہ لوگ اس پر فوکس نہیں کرتے ہیں۔ انسان formal education میں کتنی ہی ڈگری حاصل کر لیتا ہے مگر میں نے یہ جانا کہ informal education سے ہی انسان اعلی انسان بن سکتا ہے۔ مولانا سے جو کچھ میں نے سیکھا، ان میں سے چند باتیں یہ ہیں: ہر چیز کو خدا سے connect کرنا خدا سے قریب کرتا ہے۔ ہر سچویشن کو پیچ کرنے میں ہیلپ کرتا ہے اور ہمیں right path پر رکھتا ہے۔
لوگ دوسروں کی غلطیوں کو point out کرتے ہیں۔ میں نے مولانا سے سیکھا کہ اپنی غلطیوں کو ڈھونڈو۔
3- کسی بھی سچویشن میں نیگیٹو نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کو positively/creatively
4- صرف ritual کے خدا سے گہرا تعلق پیدا نہیں ہوتا، بلکہ تدبر و تفکر کے ذریعے خدا سے حقیقی قربت حاصل کی جاسکتی ہے۔
5- لوگ self-interest کے لیے دنیا میں کام کرتے ہیں۔ مگر نانا نے ہم لوگوں کو خدا کے لیے کام کرنے کا موقع دیا۔ مولانا نے بتایا کہ خدا کا کام سب سے بڑا ہے۔ اس سے بڑا کوئی اس کام سے ہمارا development ہوگا اور آخرت میں ہمیں نجات ملے گی۔ یہ چند لرننگس تھیں جو میں نے share کیں۔ مگر جب ہم مولانا کی books کو پڑھیں تو سمجھ میں آجاتا ہے کہ مولانا کی writings اور lectures ہماری فطرت کی آواز ہیں۔ خدا کے بعد ماں باپ کا حق ہے۔ یہ میں نے جانا ہے۔ مگر میں نے یہ realize کیا ہے کہ ماں باپ وہ اصل ماں باپ ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کو خدا سے connect کر دیں نہ کہ دنیا سے جوڑ لوگ اپنے بچوں کو material world سے جوڑتے ہیں۔ مولانا نے مجھے spiritual world/God سے جوڑا ہے۔
مولانا صاحب نے صرف مجھے نہیں ساری دنیا کو اپنی فیملی ممبر کی طرح treat کیا ہے۔ نے ہمیں اتنا کچھ دے دیا ہے جو دنیا کی تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ میری دعا ہے کہ میں بھی نانا کی طرح سارے عالم کے لیے well wisher بن سکوں۔ میرے لیے مولانا خدا کی ایک عظیم بلیسنگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو مولانا کے ساتھ جنت میں رہنے کی توفیق
یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ یہ ایسا خلا ہے جو صدیوں میں بھی پر نہیں کیا جاسکتا۔ نے الحمد للہ ان کے علم سے بے انتہا استفادہ حاصل کیا۔ ان کی ہر تحریر سیدھا دل پر وار کرتی یہ ان کے اخلاص کا کمال تھا۔ (احمد شاہ جمیل، پاکستان)
اسلام کا داعی بے مثل نعیم بلوچ، لاہور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی پر سب سے اچھی تنقید مولانا وحید الدین نے کی ہے۔ آپ تعبیر کی غلطی سال تو یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جب استاد محترم (جاوید احمد غامدی) سلطان پورہ میں تشنگانِ علم کے لیے آسودگی کا باعث تھے۔ اور ہماری ان سے ملاقات کو شاید ابھی دو ڈھائی برس ہی ہوئے تھے۔ استاد محترم کی بہت سی عنایات میں سے ایک یہ بھی ہے وہ ہمیں مختلف اہل علم کی تصنیفات اور عالم اسلام کی علمی شخصیات سے متعارف کراتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا وحید الدین سے تعارف انہی کی وجہ سے ہوا۔
تعبیر کی غلطی بڑی مشکل سے ملی۔ معلوم ہوا کہ ایک جماعت کے کچھ لوگوں نے کتاب کے شائع ہوتے ہی بازار سے اس کے زیادہ تر نسخے اٹھا لیے تھے۔
اس کتاب کو دو حصوں میں منقسم پایا۔ پہلے حصے میں مولانا وحید الدین خاں نے وہ داستان ہوش ربا بیان کی تھی کہ وہ کیسے اس کتاب کو شائع کرنے پر مجبور ہوئے۔ اسے پڑھنے کے بعد قاری مولانا مودودی کے بارے میں خوف ناک تحفظات کا شکار ہو سکتا ہے یا وہ مولانا وحید الدین کو جھوٹا قرار دے کر کتاب ایک طرف رکھ دے گا کہ بانی جماعت اسلامی ایسے کردار کے مالک نہیں ہو سکتے۔ میں تو یقیناً کتاب ایک طرف رکھ دیتا، لیکن میرے ذہن میں مولانا مودودی سے انتہائی عقیدت کے جذبات کچھ کچھ مجروح ہو چکے تھے۔ اصل میں، جماعت اسلامی سے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے اس کی تاریخ کا مطالعہ بھی کرتا تھا۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ ماچھی گوٹھ (17 تا 21 فروری 1957ء) کے اہم اجلاس کے بعد مولانا مودودی نے جو کچھ کیا، اس کی کیا اخلاقی توجیہ کی جاسکتی ہے؟ واضح رہے کہ 53-1951 کے صوبائی انتخابات میں جماعت اسلامی نے بڑے زور شور سے حصہ لیکن اسے توقعات سے برعکس انتہائی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس پر پیدا ہونے والی بے چینی کا نتیجہ ایک کمیٹی کی شکل میں نکلا جس نے جماعت کے اراکینِ شوریٰ سے ملاقاتوں کے بعد اپنی یہ
سفارشات پیش کیں کہ جماعت اسلامی کو عملی سیاست میں آنے سے پہلے معاشرے کی فکری اور اخلاقی تربیت کے کام کو اولیت دینی چاہیے۔ لیکن مولانا مودودی نے انتہائی غیر جمہوری اور غیر اخلاقی انداز میں کمیٹی کی ان سفارشات کے خلاف فضا پیدا کر دی۔ اس کی وجہ سے جماعت اسلامی کے بڑے بڑے رہنما جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ ان میں مولانا امین احسن اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد بھی شامل تھے۔ اس داستان کو پڑھنے کے بعد جماعت اسلامی کی تاریخ سے واقف ہر غیر جانب دار شخص پر واضح ہو جاتا ہے کہ مولانا مودودی اپنے مخصوص دینی نظریات اور حکومت الہیہ کے خود ساختہ تصور کی ترویج کے لیے بہت سے اخلاقی اصولوں کے قائل نہیں ہیں اور جماعت اسلامی اصل میں جمہوری اقدار کے بجائے بعض انتہائی فاشسٹ اور آمرانہ خصائص کو دین کا حصہ سمجھتی ہے۔ اور اس حقیقت کی گواہی اسے جماعت کی عملی جدوجہد کی تاریخ کے ہر صفحے پر بجا ملتی ہے۔ تعبیر کی غلطی کا پہلا حصہ اس کا دستاویزی ثبوت ہے۔ تعبیر کی غلطی کا دوسرا حصہ ایک اعلیٰ درجے کی علمی تحقیق ہے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جماعت اور مولانا مودودی پر متعدد علماء کی علمی تنقیدیں نکلیں تھیں لیکن یہ محض تاثراتی تھیں۔ علماء ان پر کامیاب علمی نقد نہیں کر سکے تھے۔ لیکن مولانا وحید الدین خاں نے اس تنقید کا حق ادا کر دیا۔ نے بتا دیا کہ مولانا مودودی کی فکران کی کتاب ’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات‘ پر استوار ہے۔ میں انھوں نے الہ، رب، عبادت اور دین کو زیر بحث لا کر ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے کہ ان چار اصطلاحات پر قرآن کا درست فہم منحصر ہے لیکن امتداد زمانہ سے ان کا درست فہم اس قدر گہنا چکا ہے کہ لغات میں بھی وہ فہم موجود نہیں رہا جو اصل میں تھا۔ اس لیے دین کی تعبیر وہ نہیں رہی جو حقیقت میں اس کے بعد انھوں ان اصطلاحات کی وضاحت کی اور اپنے تئیں ان کی معنی متعین کیے۔ اس کے بعد مولانا وحید الدین خاں نے دلائل کے ساتھ واضح کیا کہ مولانا مودودی کی یہ تفہیم بالکل غلط ہے۔ یہ خود ساختہ ہے۔ اس سے دین کی ایک نئی تعبیر سامنے آئی ہے جس کو انھوں نے بعد میں اپنی دوسری کتاب میں ’دین کی سیاسی تعبیر‘ کا نام دیا۔ کیونکہ مولانا مودودی دین کو ’ریاست‘، عبادت کو ’ٹریننگ کورس‘ اور رب کو ایک ایسی ذی اقتدار ہستی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنی مرضی کو آخری معنوں میں زمین پر نافذ دیکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس تعبیر کی روشنی میں دین کی تشریح یہ ہوئی کہ اصل میں یہ دنیا اللہ کی ریاست ہے۔ اللہ تعالیٰ کو الہ اور رب ماننے کا تقاضا ہے کہ اس کی
مرضی کو پورے انسانوں پر نافذ کر دیا جائے ۔ اس لیے سوائے اسلام کے دنیا پر کسی کی حکومت نہیں ہونی چاہیے ۔ اسی کا غلبہ ہونا چاہیے ۔ اس لیے اسلام اور کچھ نہیں بس غلبہ دین کی جد و جہد ہے ۔ عبادات اس کی ٹریننگ ہے ، دعوت ، تبلیغ اور جہاد اس منزل کو حاصل کرنے کا راستہ ہے ۔ اس کے برعکس ، مولانا وحید الدین خاں فرماتے ہیں کہ زیر بحث اصطلاحات کے فہم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ انھوں نے قرآن مجید اور اسلامی تاریخ کے جید ائمہ اور علماء کی رائے نقل کر کے بتایا کہ الہ کا مطلب اللہ تعالیٰ ہے ، جس میں تمام جملہ صفات آتی ہیں ۔ مگر مولانا مودودی نے اس میں ایک صفت حاکم مطلق کو تمام صفات پر حاوی کر کے الہ کے معنی کو محدود بھی کیا ، اور یک رخا بھی ۔ رب کا مطلب اصل میں تو پالنے والا ہے لیکن اس میں مالک و آقا کا مفہوم بھی متضمن ہے ، مگر مولانا موصوف نے اس میں اسی معنی یعنی مالک و آقا کو لے لیا اور جب دونوں مفہوم کو ملایا تو اچھا خاصا تمام صفات کا حامل اللہ تعالیٰ محض ایک ڈکٹیٹر فرماں روا بن گیا ۔
یہی حال عبادت اور دین کا ہے ۔ عبادت تضرع ، عجز اور فروتنی کا نام ہے ۔ آپ خود کو اپنے معبود ، خالق و آقا اور رحمان خدا سے انتہائی کم تر اور انتہائی کمزور مان کر اس سے مانگتے ہیں اور اس کی محبت میں حمد و تسبیح کرتے ہیں ۔ لیکن جب آپ اسے اصل میں حکمران سمجھتے ہیں ، عبادت کو اللہ کی سلطنت میں کام کرنے کی قوت کے حصول کا ایک آلہ سمجھتے ہیں ، اپنے آپ کو اللہ کی زمین پر اللہ کے اقتدار کو بحال کرنے کا ایک کل پرزہ سمجھتے ہیں تو آپ میں عجز نہیں فخر و برتری کا جذبہ پیدا ہوگا ۔ آپ بندے نہیں ، فوجی پریڈ میں تن کر کھڑے کمانڈوز ہوں گے ۔ آپ کا رخ اپنی تربیت پر نہیں ، دوسروں کی ایسی تیسی کرنے کے طریقوں پر ہوگا ۔ مولانا وحید الدین خاں نے اپنی تشریح میں متعدد مثالیں بھی دی ہیں ۔ اسلامی کے معتقدین کا یہ پسندیدہ شعر تو ان کے اس دعوے کو آخری حد تک ثابت کر دیتا ہے کہ : میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی میں اسی لیے مسلمان ، میں اسی لیے نمازی !
مولانا وحید الدین خاں کی اس ساری تنقید کو ، ہم قرآن مجید کی ایک اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کریں تو وہ اقامت دین ہے ۔ مولانا مودودی اس کا مطلب " دین نافذ کرنا بیان کرتے ہیں اور مولانا وحید الدین خاں دین پر قائم رہنا ۔ ایک غیر مسلم ریاست میں اس آیت پر مولانا مودودی کے
نظریے کے مطابق عمل اس طرح ہوگا کہ آپ وہاں غیر مسلموں کی حکومت کو ختم کر کے وہاں اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوشش کریں گے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ چین ہو یا روس ایسی’’ باغیانہ کتاب‘‘ کی اشاعت پر پابندی لگائے گا۔ اور عملاً صورت حال یہ ہوگی کہ وہ کروڑوں مسلمان جو غیر مسلم ممالک یا اسلام کو سرکاری مذہب نہ ماننے والے مسلم ملکوں میں بستے ہیں وہ کامل ایمان کا مظاہرہ کریں تو انھیں اپنی اپنی حکومتوں سے بغاوت کر دینی چاہیے یا اضطرار کے اصول پرجس طرح حرام کھایا جاتا ہے اسی طرح وہ ان حکومتوں میں رہیں گے اور جیسے ہی موقع ملے گا، کافروں اور زندیقوں کی حکومت کو ختم کر کے اعلائے کلمہ اللہ کا جھنڈا بلند کریں گے۔ اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ مولانا مودودی غیر اسلامی ملک میں رہنا تو دور کی بات وہاں کی نوکری کو بھی حلال نہیں سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ قرارداد مقاصد کی منظوری سے پہلے پاکستانی حکومت کی نوکری کو جائز بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس، مولانا وحیدالدین خاں اور تمام ائمہ وعلماء کی تشریح کی روشنی میں دین پر قائم رہنے کا حکم ہے اور یہ کہ دین ریاست کے ہم معنی نہیں، بلکہ حقائق یعنی عقائد کو مان کر اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے جب آپ پر نماز فرض ہوگی، آپ نماز پڑھیں گے، روزہ رکھیں گے، انفاق کریں گے، استطاعت ہوگی تو حج کریں گے، قربانی کریں گے۔ اسی طرح آپ مسلمان ریاست میں حکمراں یا سیاسی اثرورسوخ رکھتے ہیں تو اسلامی شریعت کے نفاذ کی آئینی حدود میں رہ کر کوشش جیسے آپ کو زکوٰۃ اور انفاق کرنا ہے جب آپ کے پاس اس کی گنجائش ہوگی۔ کہ اس کو ادا کرنے کے لیے پہلے دولت اکٹھی کریں گے پھر انفاق کریں گے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کرنا ہے کہ پہلے آپ اسلامی ریاست قائم کریں گے یا حکومت حاصل کرنے کے لیے کوئی جماعت اسلامی بنائیں گے، پھر حکومت حاصل کر کے اسلامی نظام نافذ کریں گے۔
مولانا وحیدالدین خاں کہتے ہیں کہ اسی لیے جماعت کے لٹریچر میں واضح الفاظ میں پہلے اس مفہوم کی عبارت لکھی ہوتی تھی کہ حکومت الہیہ کا قیام ہر مسلم مرد و عورت پر فرض ہے۔ غیر جانب داری اصل میں باطل کی طرف داری ہے اور اگر آپ کے پاس ہماری حمایت نہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں تو آپ اللہ کے حضور اپنا عذر تیار رکھیں ورنہ آپ آخرت میں جواب دہ ٹھہرائے جائیں لیکن مولانا وحیدالدین خاں کے نزدیک یہ دین میں دخل اندازی ہے۔ اس میں ایک نئے حکم کا
ایسا کوئی حکم اسلام میں نہیں۔ جس طرح قاتل، چور اور زانی وغیرہ کو سزا دینا ہر آدمی پر فرض نہیں اسی طرح شریعت کے نفاذ عام آدمی پر نہیں، حکمران پر فرض ہے۔ شارع نے کہیں بیان نہیں کیا تم شریعت نافذ کرنے کے لیے حکمران بنو۔
اسلام کی اس غلط تعبیر کا نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے جابجا بیان کیا کہ پاکستان میں اس کے لیے جماعت اسلامی نے کسی حد تک آئینی اور جمہوری طریقہ اختیار کیا لیکن جن معاشروں میں ان کو اس کی اجازت نہ ملی وہاں القاعدہ اور اس قبیل کی بے شمار مسلح تحریکیں منظم اسی لیے جماعت اسلامی کے سابق امیر مرحوم منور حسن ( جو کسی مصلحت کے قائل نہیں تھے ) اور ڈاکٹر اسرار احمد کی تنظیم اسلامی صاف لفظوں میں اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے کر انہیں مجاہد اسلام کہتے رہے ہیں۔ اور مولانا وحید الدین خاں تعبیر کی اس غلطی کے برے انجام کی طرف واضح الفاظ میں نشان دہی کرتے رہے ہیں۔
مولانا وحید الدین خاں نے اس بات کو بھی واضح کیا۔ تعبیر کی یہ غلطی کیوں سرزد ہوئی، غلط ہونے کے باوجود مسلمان معاشروں میں یہ تعبیر اتنی مقبول کیوں ہوئی؟ انھوں نے بجاطور پر اس پر بہت زیادہ لکھا اور خوب لکھا۔ فرمایا کہ مسلمان دین میں جامد تقلید اور دنیا میں سائنسی اور جدید سماجی علوم میں پیچھے رہنے کی وجہ سے پہلے سیاسی زوال کا شکار ہوئے اور پھر اقتدار چھن جانے کی وجہ سے ردعمل کی نفسیات کا نشانہ بنے۔ ان کے لیڈروں، دانش وروں اور علماء نے غلط طور پر یہ سمجھا کہ ان کے ساتھ سازش ہوئی ہے۔ جب کہ وہ تو اپنی جہالت، تقلید اور زمانے کے نئے علوم سے بے گانہ ہونے کی وجہ سے یورپی اقوام کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے۔ اس موضوع پر انھوں نے جتنا شان دار لٹریچر تخلیق کیا ہے اس کی عالم اسلام میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس میدان میں وہ ون مین آرمی تھے۔ اس موضوع پر انھوں نے انتہائی دلچسپ، مدلل، اور آسان زبان میں لکھا۔ اور ماضی ہی نہیں وہ جدید دور کے مسائل کو بھی زیر بحث لاتے رہے۔ اور مسلمانوں پر زور دیتے رہے کہ وہ سازشی تھیوریوں سے باہر نکلیں، دشمن تو سازش کرتا ہی ہے۔ ہمارا کام اس کی سازش کو سمجھ کر اس کا شکار ہونے سے محفوظ رہنا ہے لیکن ہمارے اندھے راہ دکھلانے والے ہمیں ٹکراؤ کی تعلیم دیتے رہے۔ حالانکہ ہمیں اعراض اور بچاؤ کی پالیسی اختیار کر کے ہر میدان میں تعلیم کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کا شاہکار جملہ ہے کہ تخریب
سے تعمیر ممکن نہیں، ہتھیار خریدنے والے ہتھیار بنانے والوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ احتجاج کرنے والے غور و فکر سے محروم رہتے ہیں۔
مولانا وحید الدین خاں کے لٹریچر اور علمی کاوش کا یہ صرف ایک پہلو ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اسلام کی حقانیت کو واضح کرنے کے لیے مسلمانوں کی کردار سازی میں، اسلام کی دعوت کو پھیلانے کے لیے، مسلمانوں کے اندر مثبت ذہنیت کو پیدا کرنے کے لیے جو کام کیا اس کی مثال شاید ہی اسلام کی علمی، تحریکی اور سماجی تاریخ میں مل پائے۔ (یہ ایک لمبا موضوع ہے، جس پر مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے) اتنی عظیم شخصیت کے ساتھ ادنیٰ سا تعلق بھی بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اس لیے میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر انھیں نوے کی دہائی میں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ ان سے خط و کتابت کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی اور انھوں نے آخر کار ہماری دعوت قبول کی اور وہ پاکستان تشریف میری خط و کتابت کا ذکر انھوں نے اپنے سفر نامے میں بھی کیا جو میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ میرے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات ہے کہ میں اللہ کے فضل و کرم سے مولانا وحید الدین خاں صاحب جیسی عظیم شخصیت کو پہچان پایا۔ جب کہ لوگوں نے ان پر بے دینی، کفر و فسق، الغرض ہر قسم کے شبہات کے پردے ان کے اوپر بطور الزام لوگوں نے ڈال رکھے تھے۔ اس کے باوجود مسلسل دعا سے مدد لے کر ان کی اصل شخصیت کو پہچانا اور پھر لومۃ لائم کی پرواہ کیے بغیر ان سے جڑ گیا اور حتی المقدور استفادہ کیا۔ جب مجھ پر کھلا کہ مولانا عین قرآن و حدیث پر چلنے والے ہیں۔ ان کا الرسالہ عصری اسلوب میں اسلام کی تشریح ہے۔ تو پھر میں بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ ان کو پڑھنے لگا اور لوگوں کو بھی مطالعہ کے لئے ابھارتا رہا۔ نے مجھے اندھی تقلید کے طعنے دیے ان سب کے باوجود میں ان سے جڑا رہا اور ان کی کتابوں کو پھیلاتا رہا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ جو مجھ کو مقلد کہتے ہیں وہ دراصل مولانا کو جانتے نہیں اگر جانتے ہوتے تو وہ بھی وہی کرتے جو میں کر رہا تھا۔ اصل کمی مجھ میں نہیں تھی بلکہ مجھ کو طعنہ دینے والوں میں تھی۔ (مولانا عبد الباسط عمری، گلبرگہ)
مولانا وحید الدین خان ، اپنی تصانیف کی روشنی میں طاہر محمود، پاکستان میری عادت ہے کہ کہیں بھی کوئی کتاب پڑی ملے تو اسے اٹھا کر سرسری طور پر ضرور پڑھا ایک دفعہ اسی طرح میں نے اپنے چھوٹے بھائی کے پاس پڑی ہوئی کتاب اٹھا کر دیکھی تو مجھے اس کتاب میں کچھ خاص لگا۔ جب اس کا مطالعہ شروع کیا تو ایک ہی نشست میں ساری کتاب کتاب اتنی اچھی لگی کہ اس پر دیے ہوئے رابطہ نمبر پر کال کر کے میں نے مولانا کی تمام کوئی سو سے زائد کتابیں ہوں گی۔ چند دنوں میں کتابیں وصول ہوگئیں اور الحمد للہ دن رات ایک کر کے تمام کتب مطالعہ کر لیں۔ ان کی کتب کا حاصل مطالعہ اور خلاصہ مندرجہ ذیل ہے : میں سمجھتا ہوں کہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ بندے کو اس کے رب کا تعارف کروانے اور اس سے جوڑنے پر انہوں نے بہت عمدہ اور پر اثر لکھا۔ مجھے اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت پر پڑھ کر سب سے بڑھ کر سکون ملتا ہے اور میں نے ان کی کتب میں یہ چیز سب سے بڑھ کر آپ ان کی کتابیں ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’الاسلام‘‘ پڑھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں نے اس موضوع کا حق کس طرح ادا کیا ہے۔
ان کا دوسرا اہم موضوع ترغیب و تحریک (motivation) ہے۔ بلاشبہ میں نے اس موضوع پر ان سے بہتر تحریر کسی دوسرے مذہبی انسان کی نہیں دیکھی۔ ’’راز حیات‘‘، ’’کتاب زندگی‘‘، اور ’’مقصد حیات‘‘ اس موضوع پر کسی شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ قرآن مجید پر انہوں نے کافی کام کیا۔ انھوں نے ’’تذکیر القرآن‘‘ نامی ترجمہ اور مختصر تشریح لکھی جو کہ عام فہم ہے۔
اس کے علاوہ اسلام اور جدید سائنس کے موضوع پر ان کا کام بہت گراں قدر ہے۔ انسانیت کو اسلام کی دعوت پر امن طریقے اور حکمت سے دینے پر ان کا کافی زور رہا ہے۔ اس پر انھوں نے کافی کتب تحریر کی ہیں۔
اس کے علاوہ بھی ایسے بہت سے موضوعات ہیں جن پر انہوں نے بہت کچھ لکھا اور خوب لکھا۔ لیکن یا درہے کہ میں نے اپنے ذوق کے مطابق خلاصہ پیش کیا ہے۔
میری رائے میں وہ اس دور کے ایک عظیم اور درد دل رکھنے والے انسان تھے اور اللہ کریم نے ان سے اپنے دین کا بہت بڑا کام لیا ہے جس سے رہتی دنیا تک استفادہ کیا جاتا رہے گا۔ بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اس موقع پر ان کا دنیا سے یوں رخصت ہونا کسی حکمت سے خالی نہیں ہے کہ ہم لوگ کسی کے کام کو اس کے دنیا سے جانے کے بعد ہی جانچتے اور پرکھتے ہیں۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ جو شخص بھی تعصب سے بالاتر ہو کر تاریخ کے اس اہم اور نازک موڑ پر ان کو مطالعہ کرے گا تو ایک نئی دنیا سے متعارف ہوگا اور ان کی بیش بہا خدمات کا اعتراف کیے بنا رہ نہیں سکے گا۔ (بشکریہ ماہنامہ انذار، کراچی) مولانا وحید الدین خاں ، ایک ایسے عالم جنہوں نے دین کی تبلیغ کے ساتھ زندگی آموز کتابیں بھی لکھیں اور بتایا کہ زندگی میں جامد فقہی احکام کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ ان کے اسفار، ان کی ڈائریاں اور انگریزی اخبارات سے زندگی آموز واقعات پر نوٹ سب قابل مطالعہ ہیں۔ ہوئے کشمیر پر ان کا موقف پڑھا تھا تو طیش آیا تھا۔ آج سوچو تو کھا کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ درست زندگی اور سیاست سے متعلق ان کے جیسی بصیرت کسی اور عالم میں شاید ہی ہو۔ غلطی، کیسی مدلل کتاب ہے۔ انداز ایسا جیسے کہتے ہوں کہ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ کوئی زور زبردستی نہیں، کوئی غصہ نہیں۔ یار عزیز ابوعمش ان کے پرستار تھے اور انھوں نے ہی ان کی تحریروں سے متعارف کرایا۔ ایک بار دیکھا کہ استنبول میں غلطہ پل کے سامنے مسجد میں ان کا کیا قرآن کا انگریزی ترجمہ مفت بٹ رہا تھا۔ اللہ کوششوں کو قبول کرے (سید کاشف رضا) مولانا آپ سراپا محبت تھے، آپ پر اللہ کی رحمت ہو، ہمارے پاس تو آپ جیسا اب ایک بھی آپ بھی چلے گئے۔ بلاشبہ مولانا کی وفات ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ اب اس اسلوب کی خوشبو مزید کبھی نہیں اڑے گی کہ جس کا سحر قاری کو باندھ کے رکھے رہتا تھا۔ بسا اوقات کنٹینٹ سے اختلاف اپنی جگہ، مگر پریزینٹیشن آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ (عزیز سالار، پاکستان)
مولانا وحید الدین خاں کی فکر اور میرے تاثرات سید اسفندیار، پاکستان 21 اپریل 2021 کو مولانا وحید الدین خاں صاحب کا انتقال ہو گیا۔ وہ دن بھی مجھے یاد ہے جس دن پہلی مرتبہ میرے ہاتھ میں مولانا صاحب کی کتاب آئی تھی۔ یہ 2003 کی بات ہے، رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں میں چند دوستوں کے ساتھ اعتکاف کے لیے بیٹھا تھا۔ دوست کے پاس مولانا صاحب کی کتاب اللہ اکبر موجود تھی۔ اس نے مجھے پڑھنے کے لیے دی۔ نے اس کتاب کے دو تین صفحات پڑھے اور اچانک ہی میری کیفیت بدل گئی۔ مجھے ایسا لگا کہ اچانک میں نے کوئی چیز پالی ہو، جس کو میں بچپن سے ڈھونڈھ رہا تھا۔ جیسے یہی کتاب میرے سوالوں کا جواب بن گئی ہو، میں نے محسوس کیا کہ جیسے اچانک میں نے راستہ ڈھونڈھ لیا ہو، جس کے سہارے میں اپنی منزل کی طرف گامزن ہو جاؤں گا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی ان دیکھی طاقت نے میرے ہاتھ میں مولانا صاحب کی کتاب تھما دی ہو اور سرگوشی کی زبان میں مجھ سے کہہ رہا ہو کہ اس کتاب کو پڑھو۔ نے اس کے بعد ساری کتاب ایک ہی رات میں ختم کر ڈالی اور اگلے دن دوست سے کہا اس مولانا صاحب کی کوئی دوسری کتاب مجھے پڑھنے کے لیے دو۔
میری جب مولانا صاحب کی فکر سے شناسائی ہوئی تو اس پر میں خدا کا شکر بجا لایا تھا کہ یہ خدا کی طرف سے میرے اوپر مہربانی ہے اور اس سے بھی زیادہ blessing میں سمجھتا ہوں جب میں اپنی جوانی کے ابتدائی سالوں میں تھا میں اس وقت انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا جب مولانا صاحب کی فکر سے
مولانا صاحب کی مثبت طرزِ فکر سے میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ تاثرات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ بہت کم ہیں اور بات بہت بڑی:
مولانا صاحب کی فکر سے میں نے آج کے دور میں خالص اسلام کو جانا۔
مولانا صاحب کی فکر سے میں نے اسلام کو تجرباتی کیفیت کے طور پر دریافت کیا۔
مولانا صاحب کی فکر سے میں نے اسلام کی سچائی کو بے آمیز شکل میں دیکھا۔ مولانا صاحب کی فکر کو پڑھنے کے بعد میری بے قیمت زندگی مجھے قیمتی نظر آنے لگی۔ مولانا صاحب کی فکر سے میں نے پایا کہ میری اندرونی تڑپ نے باہر کی دنیا سے مطابقت کرلی ہو اور جیسے میرے سوالوں کا جواب مجھے مل گیا ہو۔ مولانا صاحب کی فکر سے میں نے دورِ حاضر کے عصری اسلوب کو بہتر طور پر سمجھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پوری امت مسلمہ میں واحد مولانا صاحب کا لٹریچر ہے جو جدید افکار کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ مولانا صاحب کے لٹریچر کے مطالعے کے بعد میں نے اپنی پوری سوچ میں مثبت تبدیلی محسوس کی اور اپنے دنیوی معاملات کو مثبت طرزِ فکر سے حل کرنے کی کوشش کی۔ مولانا صاحب کے فکری نظریات سے دینِ اسلام کو میں نے واحد مستند دین سمجھا۔ مولانا صاحب کا لٹریچر آدمی کو ایک حقیقت پسند انسان بناتا ہے۔
میں نے مولانا صاحب کے لٹریچر سے خدا کے منصوبہ تخلیق کو بہتر انداز میں سمجھا۔ مولانا صاحب کے لٹریچر سے انسان کا ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر مولانا صاحب کے اتنے چاہنے والوں کو دیکھ کر رشک آیا۔ کسی بڑی شخصیت کے اس دنیا سے چلے جانے کا بعد اس شخصیت کے ساتھ وفاداری کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے مشن کو زندہ رکھا جائے، اور اس کو مسلسل چلاتے رہنا چاہیے ۔ یوں تو دنیا میں بہت ساری شخصیات آئیں اور چلی گئیں، بعض اپنے زمانے میں مشہور بھی تھے لیکن زمانے نے جب کروٹ بدلی تو اس شخصیت کو کوئی پہچاننے والا بھی نہ تھا، اور بعض ایسے ہیں کہ جن کا نام اب بھی دنیا کے ہر کونے میں زندہ ہے۔ انسان اپنی جسمانی زندگی کے حساب سے اس دنیا میں محدود مدت کے لیے آتا ہے لیکن انسان اگر اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو فکری و عملی حساب سے وہ ہزاروں سال زندہ رہ سکتا ہے۔ شخصیات کا دارو مدار اس کے فالورز کی وفاداری و بے وفائی پر ہوتی ہے۔ فالورز وفاکر لیں اور مشن کو زندہ رکھیں تو شخصیت ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہے، ورنہ نہیں۔ (سراج احمد بدینی)
مولانا وحید الدین خان کے اہم افکار کا خلاصہ مولانا ابوالمرجان فیضی ، مالیگاؤں 1- مثبت منفی: حالات و واقعات چاہے کتنا ہی مخالف کیوں نہ ہوں، سازشوں کی باد صر چلے، پتھروں کی بارش ہو، آپ ان سے مثبت پیغام لو، پتھروں سے سیڑھی بنا کر بلندی کی طرف چڑھ جاؤ، ان پر اخلاق کا اتنا دباؤ ڈالو کہ ان پتھروں سے بھی پانی نکلنے لگے .. حل یہی ہے اور یہاں ہے۔ 2- کنڈیشنڈ مائنڈ و ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ : مخصوص حالات و ظروف ، بہت سے حادثات و واقعات، بعض افراد واقوام کے سابقہ برتاؤ کے تناظر میں ہم پہلے سے طے کیے رہتے ہیں کہ اگر ادھر سے کوئی چیز آئے گی تو ہمارے خلاف ہی ہوگی۔ دماغ صاف رکھو۔ ہمارا دماغ پیار محبت اور اچھی و مفید معلومات کے لیے بنا ہے، نفرت کو ذخیرہ کر کے رکھنے کے لیے نہیں۔ ہر نئے واقعے کو نئے سرے سے لو، اسے اچھا شگون مانو، اس کو بھلائی پر محمول کرو، اس سے وہ نتائج نکالو جو ہمارے حال و مستقبل کے لیے مفید ہو۔ پہلے سے موجود معلومات کی بنیاد پر دماغ کو ہر نئے واقعے کی آٹو کرکشن کی اجازت نہ دو۔
3- خدا کی معرفت : خدا میں جیو، اسے پہچانو، اپنی ذات میں خدا کو پہچانو، پیش آنے والے واقعات میں خدا کو ڈھونڈھو، فطرت میں خدا کو تلاش کرو، دریاؤں، صحراؤں، بستیوں، تنہائیوں، اونچائیوں، پستیوں، قدرتی مناظر اور فطرت کے حادثات میں خدا کی معرفت حاصل کرو۔ نتائج اخذ کرو اور سبق لو۔
آہ... مولانا وحید الدین خان کی وفات نے رنجیدہ کر دیا ہے ... کیا کمال کے شخص بر صغیر کے ایسے ماحول میں انہوں نے برداشت اور میانہ روی کا درس دیا کہ جہاں شدت پسندوں کا غلبہ تھا ... کتنے ہی لوگ ہوں گے جوان کی فکر کے سبب شدت پسندی سے تائب ہوئے ہوں گے (انوار الحسن ، پاکستان)
ایک قاری الرسالة کی ڈائری نذیر الاسلام پلوامہ کشمیر زندگی ایک نازک امتحان انسان اپنی اعلی صلاحیتوں اور بھاری ذمہ داریوں کے اعتبار سے خدا کی شاہ کار مخلوق ہے۔ انسان نے عظیم صنعتی انقلاب برپا کر کے دنیا کو جنت کا نمونہ بنا مگر یہی انسان کا مقصد تخلیق نہیں ہے۔ انسان کو خدا نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور اس دنیا کو اس کے لیے امتحان گاہ بنایا ہے۔ عبادت اپنے حقیقی معنوں میں اپنا سب کچھ خدا کے حوالے کر کے خدا کو اپنا سب کچھ بنانا ہے۔ نے انسان کو عمل کی آزادی دے رکھی ہے۔ انسان کے لیے اپنی آزادی کو غیب میں چھپے ہوئے خدا کے حوالے کرنا ہمیشہ انتہائی مشکل کام رہا ہے۔ اس میں جانتے بوجھتے اپنے آپ کو ذبح کرنا، ہلاک کرنا، کچلنا اور رونا پڑتا ہے۔ تاکہ آخرت میں خدا کے انعام کے طور پر اس کو جنت کی ابدی زندگی مگر تمام انسان سوا ان لوگوں کے جو سچے مومن ہوں، اس عظیم قربانی کا ثبوت دینے میں ناکام رہ جاتے ہیں اور بالآخر جہنم کی ہولناک آگ اور دردناک عذاب سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ میں فتنوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں کیسے جہنم سے بچ کر جنت کا باسی بنایا جائے۔ مولانا وحیدالدین خان نے زندگی بھر یہی منزل دکھانے کا کام کیا ہے۔ مگر قرآن کے الفاظ میں، وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (41:35)۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔