Al-Risala · August 2021

مولانا وحیدالدین خان اپنی تحریر کے آئینے میں

Al-Risala, August 2021, pp. 222–226

By Maulana Wahiduddin Khan

"دو احساسات ہر وقت غم کا پہاڑ بن کر میرے اوپر چھائے رہتے ہیں۔ ایک دعوت دین اور اصلاح امت کی ذمہ داری، دوسرے آخرت کی جواب دہی کا مسئلہ۔

"ان دو غموں کے نیچے میری شخصیت گویا کچل کر رہ گئی ہے۔ کتنا جینے کی ضرورت ہے اور حال یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی جینے کی طاقت نہیں۔ اسی طرح آخرت کی دنیا میں لازمی طور پر داخل ہونا ہے اور

آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کی ذرا بھی ہمت نہیں۔ ”ایک صاحب نے مولانا وحید الدین خان سے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا رہا ہوں اور ان کو پسند کرتا ہوں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون؟ مولانا نے جواب میں کہا کہ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون؟ میری دعوتی جدوجہد تقریباً 50 سال کی مدت تک پھیلی ہوئی اس راہ میں، میں نے اپنا خون خشک کیا، میری شخصیت ویران ہوگئی، میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا، مگر اب بھی ہر طرف وہی حال نظر آتا ہے جس کی مثال انجیل میں ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ ہم نے بانسری بجائی مگر تم نے رقص نہیں کیا، ہم نے ماتم کیا مگر تم نہیں روئے‘‘۔ خدا کی دریافت زندہ اور طاقتور خدا پر یقین کرنا اتنا عجیب ہے کہ ماننے والے بھی اس کو نہیں مانتے اور جاننے والے بھی اس کو نہیں جانتے۔ خدا مکمل طور پر ظاہر ہونے کے باوجود مکمل طور پر چھپا ہوا ہے۔ وہ اپنی تخلیق میں مکمل طور پر ظاہر ہے مگر اپنی ذات میں وہ مکمل طور پر پوشیدہ ہے۔ براہ راست طور پر اس کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں آخری حد تک ناممکن ہے مگر بالواسطہ طور پر اس کا مشاہدہ آخری حد تک ممکن ہے۔ انسان کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے رابطہ قائم کرنے کا کیا ذریعہ ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسان کی زندگی نہ صرف نامکمل ہے بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو وہ بلا شبہ سب سے بڑا مفلس ہے۔ اس نے ساری دولت کے ڈھیر کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا ہو۔

اس دنیا میں سب سے بڑا پانا یہ ہے کہ آدمی نے خدا کو پا لیا ہے اور سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی خدا کو پانے سے محروم رہا۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی اور جو لوگ خدا کو پانے سے محروم ہوں وہ گویا محرومی کی آخری حالت پر پہنچ گئے ہیں جہاں محرومی ہی محرومی ہے اول بھی اور آخر بھی۔

خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور اس کے لیے آنسو بہانے کی کیفیت پیدا کرنے کے زیادہ مؤثر ذرائع ہیں جو آدمی کے اپنے پاس موجود ہیں اور ہر وقت حاصل ہو سکتے ہیں۔ وہ مؤثر ذرائع یہ ہیں:

قرآن میں تدبر کرنا۔

کائنات میں غور وفکر کرنا۔

ہر آن اپنے رب کو یاد کرنا۔

نماز میں ہمہ تن مشغول ہونا۔

دعا واستغفار میں اپنے آپ کو لگائے رہنا۔

خدا کی یاد میں کھو جانا۔

صبر و شکر اور قناعت کی زندگی اختیار کرنا۔

آخرت کی طلب میں اپنے ذوق، اپنی عادتوں اور اپنے عیش و آرام کو ترک کرنا۔ تنگی کے باوجود خدا کی خوشنودی میں خرچ کرنا۔

دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس کے خدائی مشن کو اپنا مقصد بنانا۔ اس قسم کے بے شمار مواقع ہیں جو ہر وقت اور ہر جگہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک آپ کو تڑپا دینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں خدا کے فرشتے ترقی ایمان کی بے حساب غذائیں تقسیم کر رہے ہیں۔

خدا کی معرفت اول دن سے میری تلاش کا مرکز رہا ہے۔ میرا دن اور میری راتیں اسی تلاش میں یہاں تک کہ شاید میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کو پالیا ہے۔ یہ موضوع بلاشبہ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع ہے۔ زمین و آسمان گواہ ہیں کہ میں سب سے زیادہ توحید کے موضوع پر سوچتا ہوں، میں سب سے زیادہ آخرت اور جنت کی باتوں میں گم رہتا ہوں۔ آدمی کو زندہ خدا کا اتنا زیادہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کو بالفرض اپنے آپ پر شک ہو تو ہو لیکن اللہ رب العالمین کے وجود پر ادنی درجہ میں بھی اس کے اندر کوئی شک پایا نہ جائے ۔ اس کو اس بات کا زندہ یقین ہو کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی پکڑ میں ہے ۔ یہ یقین و ایمان کسی کو ذکر و فکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ کے علاوہ یقین کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

جہاں تک انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے جتنا انسان کا وجود۔

اس دنیا میں کامیاب انسان وہ ہے جو حقیقی یقین پر کھڑا ہو سکے مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کی دنیا میں چند خوش نصیب روحوں کے سوا کسی کو بھی حقیقی یقین کا سرمایہ حاصل نہیں۔ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ سب سے بڑی حقیقت اللہ رب العالمین ہے۔ اس ذات کو پالینا ہی آدمی کی سب سے بڑی موجودہ دنیا میں آدمی جہاں اپنے رب کو پاتا ہے وہ سجدہ ہے۔ مگر سجدہ حقیقی معنوں میں سجدہ اس وقت بنتا ہے جب کہ سجدہ سے باہر کی دنیا میں آدمی تواضع اور جھکاؤ کی زندگی اختیار کر چکا ہو۔ اپنی نفسی حالت کے اعتبار سے اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کی تجلیات کا آخذ (recipient) بن اس کے لیے سجدہ حقیقی معنوں میں رب العالمین سے ملاقات کا مقام بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص سجدہ سے باہر کی زندگی میں خود پسند اور متکبر بنا رہے، اس کی روح کے اندر شیطان اپنے گھونسلے بنا لیتا ہے۔ اس کا سجدہ غفلت اور بے کیفی کا سجدہ ہوتا ہے۔ اس کا سجدہ اس کو خدا سے نہیں ملاتا۔ اس کا سجدہ اس کو خدا سے قریب نہیں کرتا۔

اصل یہ ہے کہ انسان لامحدود اطمینان چاہتا ہے۔ مگر دنیا کی چیزیں اس کو محدود اطمینان دیتی اس لیے وہ اس کی تسکین نہیں بنتیں۔ یہ صرف اللہ کی یاد ہے جو نفسیاتی سطح پر انسان کی فطری طلب کا حقیقی جواب ہے۔ أَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) ۔ یعنی سن لو! بہتا کید جان لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

اللہ کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ اس لا زوال ہستی میں اپنا دل لگایا جائے جو حقیقی اور ابدی اپنی امیدوں اور تمناؤں کو اس عالم کے ساتھ وابستہ کیا جائے جوان تمام کمیوں اور محدودیتوں سے پاک ہوگی جن کی وجہ سے موجودہ دنیا ہمارے خوابوں اور تمناؤں کی تعبیر بننے نہیں پاتی۔ جو اللہ کو پالیتا ہے وہ گویا اپنا سب کچھ پالیتا ہے۔ دنیا میں اگر اس کو تکلیف پہنچے تب بھی وہ مطمئن رہتا ہے کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے وہ بالآخر اس کو منزل پر پہنچانے والا ہے۔

آدمی کی امیدیں اور احساسات جہاں اٹکے ہوئے ہوں وہیں وہ جی رہا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو ہر آدمی خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو کہیں نہ کہیں جی رہا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے گھر بار اور بال بچوں میں جیتا

ہے، کوئی اپنی معاش اور کاروبار میں جیتا ہے، کوئی اپنی قیادت اور سیاسی سرگرمیوں میں جیتا ہے اور کوئی اپنی عزت اور اقتدار کے خوابوں میں جی رہا ہے، مگر یہ تمام جینا جہالت کا جینا ہے۔ یہ اپنا آشیانہ ایسی شاخوں پر بنانا ہے جن کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ حقیقی جینا یہ ہے کہ آدمی اپنے رب میں جینے لگے، وہ اس سہارے کو پکڑے جس کے سوا اس کائنات میں کسی کے لیے کوئی سہارا نہیں۔ وہ اللہ کی یاد کو لے کر سوئے اور اللہ کی یاد کے ساتھ صبح کرے ۔ وہ اسی کے بھروسہ پر چلے اور اسی کے بھروسہ پر رکے۔ کے لیے بولے اور اسی کے لیے خاموشی اختیار کرے۔

Printed page