خدا کو پانے کی قیمت
Al-Risala, August 2021, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کو پانے کی قیمت طالب خدا کی خود اپنی ذات ہے۔ اس سے کمتر کوئی چیز خدا کو پانے کی قیمت نہیں بن سکتی۔ اپنی نفی نہیں تو خدا کی یافت بھی نہیں۔ خدا کو پانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی خدا کو اپنا واحد کنسِرن نہ بنا سکے۔ خدا کو پانے کے لیے بلاشبہ یہی سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ علم کے بارے میں کسی بزرگ کا قول ہے: ”علم تم کو اپنا جز صرف اس وقت دیتا ہے جب کہ تم اس کو اپنا کل دے دو۔ “ یہی بات خدا کو پانے کے لیے بھی درست ہے۔ خدا کو پانے کی قیمت یہ ہے کہ آدمی اپنا سب کچھ خدا کو دے دے، وہ خدا کو اپنا واحد کنسِرن بنائے۔ وہ خدا کی سوچ کو لے کر شام کو سوئے اور خدا کی سوچ کے ساتھ صبح کو جاگے۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا زیادہ غرق کرے کہ وہ اس کا خواب دیکھنے لگے۔ خدا کو پانے کی قیمت کامل حوالگی ہے، جو شخص اپنے آپ کو خدا کے حوالے نہ کرے، خدا کی یافت کے دروازے بھی اس کے لیے نہیں کھلتے۔
اگر آدمی چاہتا ہے کہ اس کو دنیا میں حیات طیبہ حاصل ہو، آخرت میں وہ جہنم کے درد ناک عذاب سے بچے اور اس کو جنت نعیم کی فراخی نصیب ہو تو اس کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی دین توحید کو دین توحید یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس طرح خدا میں شامل کرے کہ صرف ایک اللہ اس کے یقین اور خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود، اس کا دل و دماغ، اس کے جذبات و کیفیات خدا کی امانت ہیں۔ انسان کی زندگی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا ایک مرکز ہواور وہ ایک خدا ہو۔ اس کے جذبات، اس کی سوچ، اس کی سرگرمیاں اور اس کا سب کچھ پروانہ وار خدا کے گرد گھومنے لگیں۔