Al-Risala · August 2021

تجدیدی کام

Al-Risala, August 2021, pp. 228–237

By Maulana Wahiduddin Khan

تجدید کا مطلب کیا ہے۔ اس کو مولانا نے خود اپنی کتاب میں واضح کیا ہے: تجدید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین میں کوئی نئی چیز نکالی جائے... حدیث میں جس تجدیدی عمل کا ذکر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کی تعلیمات کو از سر نو اس کی اصل صورت میں واضح کرنا۔ دین کو انسانی ملاوٹوں سے پاک کرکے اس کو اس کی ابتدائی صورت میں سامنے لے آنا جیسا کہ پیغمبر نے اس کو اپنے زمانہ میں پیش کیا تھا (تجدید دین)۔

اس اعتبار سے مولانا وحید الدین خان اس دور کے عظیم مجدد ہیں۔ اُن کے تجدیدی کارناموں میں سے چند یہ ہیں:

انسان ایک عاجز مخلوق واقع ہو ا ہے۔ وہ اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی تلافی کے لیے ایک برتر ہستی کی تلاش میں ہوتا ہے، اسی طرح انسان اپنی اُمیدوں اور تمناؤں کی تکمیل کے لیے ایک لامحدود دنیا چاہتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان جس خارجی سہارے کی تلاش میں ہے وہ اس کا خدا ہے جو انسان کی فطرت میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہے اور انسان جس کامل دنیا کو پانا چاہتا ہے وہ جنت ہے جو انسانوں کو موت کے بعد خدا پرستانہ زندگی گزارنے کے نتیجے میں آخرت میں حاصل ہوگی۔ ان دونوں تقاضوں کا مفصل اور مدلل جواب فراہم کرتا ہے۔ وہ تمام ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جو اس خدائی سچائی کو پانے میں ناکام رہتے ہیں وہ یا تو مایوسی، ناکامی اور عدم تحفظ کی زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے الرسالہ فکر آخری پناہ گاہ ہے۔ الرسالہ فکر انسان کے تمام سوالوں کا اطمینان بخش جواب دیتا ہے۔ وہ آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردوں کو ہٹا دیتا ہے یہاں تک کہ انسان اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک کرنے لگتا ہے۔

الرسالہ فکر پیغمبرانہ مشن کی صحیح ترین تعبیر اور تشریح ہے جو عقل وفطرت کے ناقابل تردید دلائل اور شواہد پر مشتمل ہے۔

الرسالہ فکر کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں: سچائی کی تلاش، بے آمیز حق کی دریافت، معرفت

خداوندی، انسانی عجز کی حقیقت، تزکیہ نفس اور دعوت الی اللہ۔

الرسالہ مشن اسلام کے بنیادی موضوعات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے تخلیق آدم کی حقیقت اور اُس کے تقاضے، توحید، آخرت، رسالت، شہادت حق، امن اور اسلام کو درپیش جدید چیلنجوں کا تجزیہ اور اُن کا رد شامل ہیں۔ قومی، سیاسی اور عسکری اسلام کی آئیڈیا لوجی کے مقابلے میں مولانا نے امن، انسانیت اور روحانیت کی آئیڈیا لوجی دی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے۔ اب کوئی پیغمبر آنے والا اب کارِ نبوت کا کام آپ کے اُمتیوں کو انجام دینا ہے۔ اس لیے قرآن میں اُمّتِ محمدی کو ’’اُمّتِ وسط‘‘ بتایا گیا اور کارِ نبوت کو اُمّتِ مسلمہ کا مقصدِ وجود بتایا گیا۔ مولانا نے دعوت الی اللہ اور شہادتِ حق کے اِس قرآنی تصور کو زندہ کیا جو دورِ رسالت میں موجود تھا اور جو صدیوں سے اسلامی لٹریچر میں اپنی مربوط، مدلل اور مکمل صورت میں غائب ہو چکا تھا۔

الرسالہ مشن خالص اساسیاتِ دین پر مرکوز مشن ہے۔ یہ مشن اُن تمام فروعی اور ضمنی حد بندیوں سے اوپر ہے جن کی وجہ سے نئی نئی جماعتیں اور فرقے وجود میں آتے ہیں۔ صاحبِ الرسالہ نے ایمان، عبادت، ذکر، تزکیہ، معرفت، خشوع اور ربانیت جیسی قرآنی اصطلاحات کی معنوی اہمیت کو نئے انداز میں پیش کیا۔

احادیثِ رسول میں اخوانِ رسول کا خصوصی تذکرہ آیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دورِ آخر میں دینِ حق کے اعلان واظہار کے مشن کو پورا کریں گے۔ ان لوگوں کو خدا کے فضل سے مثلِ صحابہ ایمان مولانا نے اخوانِ رسول کے رول کو نمایاں کیا اور مسلمانوں کو اخوانِ رسول کی اہمیت کا احساس دلایا تا کہ وہ اس گروہ میں شامل ہو کر سعادتِ اُخروی کے اُمیدوار بنیں۔ صاحبِ الرسالہ کا اسلوبِ بیان تجزیاتی ہے۔ اس اسلوبِ بیان کے خاص اجزا یہ ہیں سائنسی طرزِ استدلال، لفظی سے دوری، واقعیت اور مؤثر انداز میں حقائق وافكار کو ترتیب وار پیش کرنا۔ تجدید و احیائے دین کے سلسلے میں مولانا کے ذریعے زمانے کے معیار کے مطابق انتہائی طاقتور لٹریچر وجود میں آچکا ہے جو دنیا کے تمام اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لیے کافی داعیانِ حق کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم اس لٹریچر کو حق سے

غافل یاحق سے بے خبر بندگانِ خدا تک پہنچادیں تا کہ ہم خدا کی بارگاہ میں بری الذمہ ہوں اور لوگوں کے لیے عذر کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم اس خدائی کام کو اپنا ذاتی مسئلہ بنائیں اور ہم اپنی تمام صلاحیتوں اور وسائل کو اس مشن میں لگا دیں تاکہ ہم اُن سعادتوں کے اُمیدوار بنیں جو ایسے لوگوں کے لیے خدا کے یہاں مقدر ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ آج تک ہم اس دعوتی مہم میں اپنے آپ کو یا اپنے مال کو کتنا خرچ کر چکے ہیں اور آئندہ کے لیے ہمیں شعوری طور پر یہ طے کرنا چاہیے کہ ہم اپنے وسائل کا کتنا حصہ اس کام کے لیے وقف کرنے کے لیے تیار ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں ’کرنے‘ کی قیمت ہے، نہ کہ صرف ’کہنے‘ کی۔

مولانا وحید الدین خان کے انتقال پر نبیل احمد رشیدی کا اظہار تعزیت: بجنور (اسٹاف رپورٹر) نبیل احمد رشیدی ممبر جمعیۃ علماء ضلع بجنور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عظیم مفکر، مدبر، دانشور، سینکڑوں کتابوں کے مصنف، الرسالہ کے مدیر بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم دین، مذہبی اسکالر مولانا وحید الدین خان اب ہمارے درمیان مولانا وحید الدین خاں ایک بہت ہی متحرک انسان تھے اللہ نے ان کو مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی، جو بہت ہی کم لوگوں کو خدا عطا کرتا ہے۔ مرحوم کی میں نے کافی کتابوں کو پڑھا، تو ان کی کتاب میں ایک الگ ہی شاندار، مثبت مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت اور تخلیقی ذہن سازی ہوتی تھی۔ میں مرحوم کو بہت ہی ادب کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، اور دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کی مغفرت فرمائے ( روزنامہ انقلاب، ممبئی، 23 اپریل 2021)۔

مولانا میری نظر میں مولانا عبد اللہ چترویدی، لکھنؤ مولانا وحید الدین خاں صاحب ایک عظیم شخصیت تھے۔ میں نے مولانا سے زندگی میں صرف ایک مرتبہ ملاقات کی ہے اور ان کی تقریباً ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں ہیں۔ جن میں، سے دوسو کے آس پاس میں نے پڑھی ہیں۔

مولانا پر جو بہت سارے الزامات ہیں کہ انھوں نے یہ لکھا ہے یا فلاں بات لکھی ہے۔ جب میں نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو پتا چلا کہ مولانا نے لکھا کچھ اور ہے اور الزامات بے بنیاد لگائے جا رہے ہیں۔ ایک جگہ مولانا نے لکھا ہے کہ آج تک جتنے لوگوں نے میرے اوپر اعتراض کیا ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے جو یہ بتا سکا ہو کہ آپ کی یہ بات قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ یہ سب بے بنیاد اور جھوٹی چیزیں پھیلائی جارہی ہیں۔

اس سے اندازہ ہوا کہ آدمی جب کسی کی مخالفت پر آتا ہے تو وہ یہ بھی نہیں ڈرتا کہ میں اللہ کے غضب کا مستحق ہو رہا ہوں۔ اس کے لیے وہ جھوٹ بھی بولتا ہے، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ میں جتنے بھی لوگ اس طرح کے ہوئے، یعنی خود ساختہ دین کے خلاف بے آمیز دین پیش کیا ان سب کے ساتھ یہی ہوا۔ قرآن اس کی گواہی دے رہا ہے اور بڑی عجیب و حیرت انگیز بات ہے کہ اس زمین پر سب سے پہلا فتویٰ کفر کا دیا گیا، وہ ایک رسول کو دیا گیا۔ وہ ہیں سیدنا عیسی علیہ السلام۔ کے تمام اہل علم نے جو یہودی تھے ان سب نے عیسی علیہ السلام کو کافر قرار دیا۔ وجہ کیا ہے۔ علیہ السلام ان کے خودساختہ دین کی تردید کر رہے تھے تو انھوں نے ان کو کافر قرار دے دیا۔ صحابہ کرام نے اس سے مکمل طور پر پر ہیز کیا۔ کسی صحابی نے کسی کو کافر نہیں کہا۔ حد یہ ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو قرآن کا حصہ نہیں مانتے تھے، اس کے باوجود صحابہ ان کا احترام کرتے تھے، ان سے محبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ قرآن سیکھیں گے تو عبد اللہ ابن مسعود سے۔ اختلاف کی وجہ سے کسی پر جھوٹی باتیں گڑھنا اور اس پر بہتان لگانا، بے بنیاد

باتیں کرنا یہ کم از کم اہل ایمان کی شان تو نہیں ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ دنیا میں جتنے بھی لوگوں نے خود ساختہ دین کے خلاف بے آمیز اور حقیقی دین پیش کیا ان سب کے ساتھ یہی ہوا۔ مثلاً حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر مولانا علی میاں ندوی نے تاریخ دعوت و عزیمت میں ایک جلد پوری لکھی ہے۔ میں انھوں نے لکھا ہے کہ حافظ ابن تیمیہ کو اس وقت کے اہل علم نے کافر قرار دیا۔ لیکن علی میاں نے لکھا کہ کافر کا فتویٰ دینے والوں کو دنیا نہیں جانتی لیکن ابن تیمیہ کو دنیا رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی یہ نئی چیز نہیں ہے جتنے بھی لوگوں نے خود ساختہ دین کے خلاف بے آمیز اور سچا دین پیش کیا ان سب کے ساتھ یہی ہوا۔ خود مولانا وحید الدین صاحب سے کسی نے بات کی تو مولانا نے جواب دیا جو بعینہ درج کر رہا ہوں۔ مولانا نے لکھا ہے:

’’ایک صاحب نے کہا کہ لوگ آپ کو ایسا اور ایسا کہتے ہیں تو میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ ہماری قوم میں کون وہ شخص ہے جس کو ایسا اور ایسا نہیں کہا گیا۔ اس قوم نے شاہ ولی اللہ کو زندیق کہا اور آج انھیں کو سب سے بڑا عالم سمجھا جاتا ہے۔ اس قوم نے سرسید احمد کو انگریز کا ایجنٹ کہا اور آج انھیں کو قوم کا سب سے بڑا محسن بتایا جاتا ہے۔ اس قوم نے اقبال کو انگریز کا نمک خوار کہا اور آج وہ مفکر اسلام کی فہرست میں نمبر ایک پر لکھے جاتے ہیں۔ اس قوم نے مولانا حسین احمد مدنی کو کانگریس کا پٹھو کہا اور آج وہ شیخ الاسلام قرار دیے جاتے ہیں۔ اس قوم نے مولانا ابوالکلام آزاد کو show boy کہا اور آج وہ دورِ جدید کی سب سے بڑی اسلامی شخصیت شمار کیے جاتے ہیں۔ مسٹر محمد علی جناح کا انتقال ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ مر گیا مردود نہ فاتحہ نہ درود۔ اور آج وہ قائدِ اعظم کا مقام حاصل کئے ہوئے ہیں، وغیرہ۔ مولانا نے کہا کہ یہ قوم زندہ کی بے قدری کرتی ہے اور مردے کو پوجتی ہے۔ یہی سیکڑوں سال سے ہو رہا ہے تو میرے معاملے میں استثنا کیوں ہو سکتا ہے ۔ اسی طرح سے مولانا کے بارے میں الزام ہے کہ مولانا نے لیبیا کے کرنل قذافی کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ مولانا نے لکھا ہے کہ میرے بارے میں یہ مشہور کیا جا رہا ہے کہ میں نے لیبیا کے صدر کرنل قذافی کی کتاب الاخضر کا اردو ترجمہ کیا اس سلسلہ میں ایک صاحب سے گفتگو ہوئی میں نے کہا یہ بالکل جھوٹی بات ہے۔ اس کے بعد میں نے انھیں ایک واقعہ سنایا۔ مولانا نے لکھا ہے کہ برطانوی حکومت کے دور

میں وائسرائے کے سامنے ایک خط پیش کیا گیا جس پر محمد علی کا دستخط تھا۔ یہ خط امیر کابل کے نام تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ آپ اپنی فوج لے کر ہندوستان پر حملہ کر دیجیے، ہم اندر سے بغاوت کر دیں اس کے بعد انگریزوں کو بھاگنا پڑے گا۔ اور ملک آزاد ہو جائے گا۔ اس خط کے مضمون سے مولانا محمد علی جوہر کی بغاوت ثابت ہوتی تھی۔ اس کو وائسرائے کونسل میں غور کرنے کے لیے پیش کونسل کی اس میٹنگ میں جنرل ڈائر بھی تھا، جو اپنی صفا کی کے لیے مشہور تھا۔ نے اس خط کو پڑھا پھر اس کو پھینک دیا۔ اس نے کہا کہ اس خط کی زبان محمد علی کی زبان نہیں یہ تو ہمارے کسی جونیئر آفیسر کا لکھا ہوا خط ہے۔ جنرل ڈائر کی اس بات پر وہ خط رد کر دیا گیا۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے مخالفین کے اندر جنرل ڈائر کے بقدر کردار بھی نہیں، ورنہ وہ قذافی کی کتاب کا ترجمہ دیکھ کر اس کو رد کر دیتے اور کہتے کہ یہ تو وحید الدین خاں کی زبان ہی نہیں ہے۔ کیوں کہ واقعہ ہے کہ اس کتاب کی زبان میں اور میری زبان میں بہت فرق ہے۔

کرنل قذافی کی کتاب کا ترجمہ تو بہت دور کی بات ہے مولانا کی کرنل قذافی نے ایک دعوت کی تھی جس میں وہ نہیں گئے تھے وہ بھی مولانا نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے۔ ڈاکٹر شمس الآفاق منسٹری آف ہیلتھ نئی دہلی ملاقات کے لیے آئے۔ وہ الرسالہ سے پوری طرف متفق ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کا فعل مشکوک معلوم ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ خدانخواستہ ہندوؤں کا یا حکمرانوں کا ایجنٹ ہوں جو کچھ کہتا ہوں مفاد کے تحت کہتا ہوں۔ مولانا نے کہا کہ ستمبر 1989 کے آخری ہفتے میں لیبیا میں انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ مختلف ملکوں کے کئی سو آدمی وہاں آئے۔ میں بھی شریک ہوا اور اخبار نو کے ایڈیٹر م افضل صاحب بھی اس میں شریک تھے، ان سے آپ پوچھ ہم لوگ طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے بعد اسپیشل جہاز کے ذریعہ طرابلس سے بن غازی لے جائے گئے تاکہ وہاں کرنل قذافی سے ملاقات کر سکیں۔ تمام شرکاء خوشی خوشی وہاں گئے۔ میں اکیلا طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرار ہا۔ میں اکیلا قذافی سے ملنے نہیں گیا۔ اس استغنا کی وجہ سے 500 ڈالر کھود یے۔ یعنی جو لوگ کرنل قذافی سے ملنے کے لیے گئے ان کو 500 ڈالر انعام کے طور پر دیے گئے۔ یہ بات پہلے معلوم تھی لیکن مولانا ملاقات کے لیے نہیں گئے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد باتیں پھیلائی گئیں۔ میں یہ بات

اور واضح کر دوں کہ میں مولانا کی تنظیم سے جڑا ہوا نہیں ہوں۔ لیکن میرا ایک اصول ہے کہ اگر کسی کے اوپر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہو اور مجھے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم ہے تو میں اس کی تردید کرتا ہوں اور اس کو اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ مولانا وحید الدین صاحب تو سراپا دعوت تھے۔ قرآن وحدیث کو دعوت کے طریقہ سے پورا پیش کیا۔ انھوں نے بہت واضح طور پر بتایا کہ دنیا میں جب بھی کوئی حامل کتاب قوم مغلوب و ذلیل ہوتی ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانا چھوڑ دیا۔ چونکہ جو کام میں کرتا ہوں وہی کام مولانا مجھ سے اعلیٰ پیمانے پر کرتے رہے، منظم طریقہ سے کرتے رہے۔ پوری دنیا میں ان کی ٹیمیں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ کوالٹی کے اعتبار سے جتنی بڑی تنظیم انھوں نے تیار کی وہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ بہت سارے لوگوں کے سوالات اور اشکالات آرہے تھے تو میں نے سوچا کہ میں ایک message لوگوں کو دے دوں۔ میں غیر جانبدار ہو کر یہ بتا رہا ہوں کہ مولانا کے اوپر یہ سب جھوٹے مولانا دنیا کے ایک عظیم مفکر تھے اور ان کی سوچ آخرت رخی تھی جس کی جھلک ان کی ساری کتابوں سے ملتی ہے۔ جو ان کی کتابوں کو پڑھ لیتا ہے اس کی سوچ بھی آخرت رخی ہو جاتی میں ان کی تنظیم سے جڑے بہت سے لوگوں سے ملا ہوں، دیکھتا ہوں کہ ان کی سوچ بھی آخرت رخی ہے اور ان کے اندر بڑی سنجیدگی اور متانت میں نے پائی۔ ان کی تنظیم کے لوگوں سے مل کر میں بہت متاثر ہوا اور اس لیے میں نے سوچا کہ بے بنیاد اور جھوٹی باتیں جو لوگ پھیلاتے ہیں اس کے بارے میں کچھ عرض کر دوں۔

حد یہ ہے کہ ہمارے لکھنؤ میں ہمارے جاننے والے ایک انجینئر صاحب رہتے ہیں۔ ایک بار دو کتابیں دے گئے اور کہنے لگے کہ یہ علماء نے لکھی ہے۔ ایک کتاب کو تو دس بارہ عالم نے مل کر لکھا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ الرسالہ چٹکلوں کا مجموعہ ہے تو میں نے ان سے فون کر کے کہا کہ یہ تو سب سے بڑا جھوٹ پہلی ہی لائن میں مل گیا۔ میں نے کہا کہ الرسالہ میں نے پڑھا ہے اور سیکڑوں الرسالہ میرے پاس ہیں ان میں کہیں پر چٹکلہ ہے ہی نہیں، اس میں قرآن وحدیث کی بات ہوتی اتنا بڑا جھوٹ انھوں نے کتاب میں لکھ دیا۔ دوسری کتاب جو موٹی تھی وہ ایک ادارے کے بہت بڑے عالم کی لکھی ہوئی تھی۔ اس میں انھوں نے مخالفت میں ایک ایسی بات کہہ دی جس کی تو

میں توقع بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی عالم کیا عام مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔ انھوں نے کہا صلح حدیبیہ (سورۃ فتح) کوئی دائمی حکم نہیں تھا۔ میں نے ان کو فون کیا کہ کیا سورہ فتح کا حکم دائمی حکم نہیں ہے، قرآن کی ہر آیت تو قیامت تک کے لیے ہے۔ بہر حال وہ کوئی مثبت جواب نہ دے سکے۔ حال ہے کہ لوگ مخالفت میں غیر حقیقی باتوں پر مشتمل کتابیں لکھتے ہیں اور لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ بغیر تحقیق مان لیتے ہیں۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ کوئی بات سنو تو پہلے اس کی تحقیق کرو (الحجرات، 49:6)۔ اس لیے صاحب معاملہ کو کوئی بات کہنے سے پہلے اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔

میں آخر میں ایک بات کہتا ہوں کہ مولانا نے سورہ صف کی آخری آیت کا ایک جگہ تذکرہ کیا ہے جس پر ایک صاحب الزام یہ لگاتے ہیں کہ مولانا وحید الدین خاں کہتے ہیں کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں چلے گا بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کا طریقہ چلے گا۔ اس کی تحقیق میں نے کی تو پتہ چلا کہ یہ تو بالکل بیہودہ بات ہے۔ یہاں پر تو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جس طرح سے عیسیٰ کے حواریوں نے ان کی مدد کی تھی اسی طرح تم لوگ مدد کرو۔

مختصراً، لوگ مخالفت میں اس قدر گر جاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ایمان والا بھی کہتے ہیں، اور جھوٹے الزام بھی لگاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ "لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ قرآن (3:61) نے کہا ہے، اور بخاری (حدیث نمبر 34) میں ایسے لوگوں کو منافق کہا گیا ہے۔ میں ہے کہ مومن چوری کر سکتا ہے، مومن زنا کر سکتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5827)، مومن بخیل ہو سکتا ہے، مومن بز دل ہو سکتا ہے، لیکن مومن جھوٹ نہیں بول سکتا (موطا امام مالک، حدیث نمبر 2832)۔ بعض لوگ مخالفت میں اس حد تک گر گئے کہ اتنے جھوٹے الزامات لگا ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ’’وما علينا الا البلاغ‘‘ مولانا وحید الدین خان کے انتقال سے عالم اسلام ایک عالی دماغ سے محروم ہو گیا۔ ایک شخص نہیں ایک ادارہ تھے ایک مکتب فکر تھے۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا تھا اور کیا بھی گیا ہے لیکن ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ (ندیم اقبال، لاہور)

الرسالہ مشن کی تحریروں کا تعارف مولانا سید اقبال عمری، عمر آباد، تمل ناڈو مولانا وحید الدین خاں صاحب نے جس میدان کا انتخاب کیا تھا اسے ہم اسلام عصری اسلوب میں، عصر جدید میں اسلامی لٹریچر یا عصر حاضر میں اسلام کی تشریح و توضیح کہہ سکتے ہیں۔ وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں عصری اسلوب میں اسلام کا عنوان مولانا کا امتیازی موضوع ہے اور انھوں نے اس موضوع کی وضاحت میں اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ عصری اسلوب میں لٹریچر حقیقت یہ ہے کہ جب ماڈرن ایج (modren age) آیا تو مختلف علماء نے یہ خیال ظاہر کیا کہ دورِ جدید کی نسبت سے اسلام کو کیسے قابل فہم بنایا جائے۔ چنانچہ دیوبند کے ایک بزرگ عالم (مولانا قاری محمد طیب) اکثر کہا کرتے تھے کہ آج کی ضرورت جدید طرز استدلال ہے۔ کے الفاظ میں مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں ۔ (ڈائری 1984 ص 318)

اسی طرح اہل ندوہ کی "الی الإسلام من جديد" کی تحریک بھی اسی رائے کا اظہار تھی۔ سلسلے میں مولانا علی میاں کی ایک کتاب کا عنوان ہے "ردة ولا ابابکر لھا" (صفحہ 171) یعنی ارتداد جدید کے مقابلے کے لیے کوئی ابو بکر صدیق نہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ میدان کار پوری طرح قربانی چاہتا تھا، ڈیڈیکیشن (dedication) چاہتا تھا، مکمل سنجیدگی اور فراغت چاہتا تھا۔ چنانچہ مولانا کے ذہن میں اللہ تعالیٰ نے یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ اس کام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔ لہذا انھوں نے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کو تیار کرنے میں اپنی ساری زندگی لگادی؛ دورِ جدید کو متعین کیا، اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے گہرائی سے اس کا مطالعہ کیا، دورِ جدید میں پائی جانے والی مثبت اقدار کی وضاحت کی، عصری اسلوب میں مذہبی اپروچ کیا ہونا چاہیے، اس کی وضاحت کی۔ الغرض اسلام کی از سر نو دریافت کی حد تک ایک علمی اور فکری لٹریچر تیار کر کے انسانیت کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ معاملہ تجدد پسندی کا نہیں تھا بلکہ تطبیق نو یا

انطباق نو (reapplication) کا تھا۔ یعنی قرآن وحدیث کی ابدی تعلیمات کو دور جدید کے اسلوب میں بیان کرنا اور عصر حاضر کی نسبت سے ان کا (relevance) ریلیونس ثابت کرنا۔ اس کو مذہبی اصطلاح میں ہم اجتہاد کہہ سکتے ہیں۔ گویا مولانا نے دور جدید کی نسبت سے بھر پور اجتہاد کیا۔ اس علمی اور فکری عمل کو تین عناوین کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے:

مبنی بر عقل روحانیت (mind-based spirituality)

مبنی بر عقل استدلال (reason-based argument)

مبنی بر امن اقدام (peace-based activism)

مولانا کا مرکزی تصور (central idea) یہ تھا کہ دور جدید حقیقت میں دور اسلام ہے مگر اس دور کو ملحد فلسفیوں نے الحاد کے حق میں خوب استعمال کیا۔ امت مسلمہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس دور کو مکمل طور پر توحید کے حق میں استعمال کرتے۔ مگر امت مسلمہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے مولانا فرمایا کرتے تھے کہ میری سب سے بڑی دریافت اللہ کی دریافت ہے۔ میں نے اس دور کے علمی الحاد کو مکمل طور پر پڑھا ہے اور ہر طریقے سے اس کے استدلالی بنیادوں کو اسلام کی دریافت نو میں (convert) کنورٹ کر دیا حقیقت میں سائنسی علم کو ملحدین نے ہائی جیک کر لیا تھا۔ میں نے اس علم کو توحید کے اثبات کے لیے ان سے آزاد کرا لیا ہے۔

Printed page