Al-Risala · August 2021

اسلام ایک مشن

Al-Risala, August 2021, pp. 237–238

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا کی تعبیر کا ایک پہلو یہ ہے کہ مولانا قرآن وحدیث، تاریخ انبیا اور تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کو ایک خدائی مشن کے روپ میں دیکھتے ہیں اور اس کو خدا کے منصوبہ تخلیق کے عنوان کے تحت واضح یعنی تخلیق کائنات اور تخلیق حضرت آدم سے لے کر قیامت تک کے تمام واقعات کو زمانی اعتبار سے وہ ایک قابل فہم منصوبہ بندی کے طور پر واضح فرماتے ہیں، اور قرآن و حدیث سے مشن کی ترقی اور تسلسل کے لیے رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ گویا مولانا کے پاس اسلام ایک مشن ہے۔ مولانا کی تحریریں عصری اسلوب میں ہیں، یعنی سائنٹفک اسلوب میں۔ اس میں ڈیٹا کی بنیاد پر گفتگو ہوتی ہے، بیانیہ انداز نہیں ہوتا۔ اس میں تقدساتی اسلوب یا تمثیلی اسلوب نہیں ہوتا بلکہ تجزیاتی

اور تحقیقی اسلوب ہوتا ہے؛ قدیم روایتی اسلوب میں نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے یہ جدید ذہن کے لیے قابل فہم ہوتا ہے، مگر جن کا مطالعہ روایتی ہوتا ہے ان کی اپنی ذہنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ابتداء ان کے لیے ان باتوں کو قبول کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ ان کا معاملہ حالفنی الشباب خالفنى الشیوخ» کا معاملہ بن یعنی جدید سوچ رکھنے والوں نے ساتھ دیا اور قدیم سوچ رکھنے والوں نے اختلاف کیا۔ مولانا اپنی غیر مطبوعہ ڈائری میں ایک جگہ لکھتے ہیں: میں نے علما پر جو تنقید کی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ علما نے کوئی مفید کام انجام نہیں دیا ہے۔ میری تنقید صرف اس بات پر ہے کہ موجودہ زمانے کے علما دورِ جدید کی نسبت سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے۔ نہ ہی انہوں نے دورِ جدید کو سمجھا اور نہ ہی دورِ جدید کی نسبت سے امت کی رہنمائی کی (ڈائری 2011)۔ اس موضوع سے متعلق کتاب ’’علما اور دورِ جدید‘‘ کا مطالعہ مفید ہوگا۔ مولانا کی تحریروں میں بار بار مختلف انداز سے جن باتوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ ہیں:

(Realization of God) معرفت رب (Realization of Life) معرفت حیات (Realization of Paradise) معرفت جنت (Realization of Dawah Work) معرفت دعوت تقریباً ساری تحریروں کا محور یہی موضوعات ہیں۔

Printed page