تحریر کے متعلق اصولی موقف
Al-Risala, August 2021, pp. 238–239
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا نے ہماری ایک تربیتی مجلس میں کہا تھا کہ میں نے سوچ سمجھ کر اپنی تحریروں کا ایک موقف اپنایا ہے۔ اسی پر میں بار بار لکھتا ہوں، یعنی معرفت اور دعوت کے موضوع پر اور شخصی مدح و قدح سے مکمل اجتناب کرتا ہوں اور بعض موضوعات پر ایک مرتبہ کچھ لکھتا ہوں تو اس کو پھر سے دہراتا نہیں ہوں۔ گویا وہ میری ایک علمی توجیہ یا میری علمی رائے کی حد تک ہوتا ہے۔ مبنی بر دلیل لٹریچر مولانا کی تحریروں میں قرآن وحدیث سے ماخوذ الفاظ کی جو تشریحات ہیں اگر ان کو مولانا کے علمی استدلال اور فکری نقطہ نظر کے مطابق سمجھ لیا جائے تو الرسالہ مشن کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
مولانا نے دعوت و معرفت کے موضوعات کو عصری اسلوب میں سمجھانے کے لیے صفحات کے صفحات لکھے ہیں۔ بظاہر کہیں کوئی بات قابل اعتراض لگ رہی ہو تو دوسرے مضامین میں یا دوسرے پیراگراف میں ہی اس کا جواب موجود ہوتا ہے۔ قاری اگر مولانا کی تحریروں سے وابستہ رہے تو باتوں کو ٹھیک طور پر سمجھ سکتا ہے۔
مولانا کے خلاف لکھی گئی کتابوں سے الرسالہ مشن کی تحریروں کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ فرمایا تھا کہ میری تحریر یا تقریر میں جس بات کی وضاحت ہوتی ہے میں اسی کا ذمہ دار ہوں۔ فضل ہے کہ آج تک ہماری نظر سے کوئی ایسی کتاب نہیں گزری جس میں مولانا کی تحریروں پر علمی رد کیا گیا ہو۔