Al-Risala · August 2021

عصر حاضر کے چیلنجز

Al-Risala, August 2021, pp. 239–240

By Maulana Wahiduddin Khan

توحید اور اس کے پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری ہر زمانے میں مطلوب ہے اور اللہ تعالی ہر زمانے میں ایسے افراد کو اٹھائے گا جو وقت کے انحراف کا اور باطل افکار کا دلیل و برہان کی زبان میں مقابلہ کرتے رہیں گے ۔ چاہے وہ اہل دین کا غلو ہو یا ملحدین کے مغالطے ہوں۔ ہر قسم کے فکری مسائل کو ایڈریس کرتے رہیں گے۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول میں اس ذمہ داری کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ آپ نے کہا: يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلْفٍ عُدُولُهُ، يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ، وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ، وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ (شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر 3884)۔ یعنی، اس علم کو ہر دور کے قابل اعتماد لوگ آگے لے کر جائیں گے— یہ لوگ اس علم سے اہل غلو کی تحریفات کی نشاندہی کریں گے ۔ وہ اہل باطل کے جھوٹ اور جاہل لوگوں کی غلط تشریحات کی نفی

موجودہ دور بہت سے نئے نئے فکری مغالطوں کا دور ہے۔ اس دور میں مختلف نظریات اور ازم پیدا

جہاں اہلِ دین کا انحراف ہے وہیں غیر اہلِ دین کا الحاد بھی اپنے پاس مستقل ایک لٹریچر رکھتا ہے گویا ہر ایک نے مبنی بر نظام تشریح کرنے کی کوشش کی ــ معاشی نظام، سیاسی نظام، اخلاقی نظام ہر فکر کے مستقل رہنما شخصیات ہیں۔ اس طرح ہر ایک کے پاس رہنمائی کرنے والا لٹریچر بھی بنیادی طور پر بڑی تقسیم کے اعتبار سے چار ازم وجود میں آئے ہیں: مارکس ازم، ڈارونزم، فرائڈ ازم اور اسلام کی سیاسی تعبیر چند مسلم شخصیات نے حالات سے متاثر ہوکر اسلام کو بھی نظامی یا سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی، جس کو دین کی نظامی تشریح یا سیاسی تشریح کہہ سکتے ہیں۔ الغرض ان تمام باطل افکار کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ مولانا نے الرسالہ اور تذکیر القرآن کے ذریعے ان تمام غلط افکار کا جواب دیا۔ اور ان پر علمی حجت قائم کی۔ مولانا نے دور جدید کے ان فکری چیلنجز کو پہچان کر اسلام کو از سر نو دلیل و برہان کے اعلیٰ مقام پر پہنچانے کا فریضہ ادا شاید ہی کسی شخص نے یہ حق ادا کیا ہو۔ مستقل کتابیں اور مقالات تیار کیے، اور مختلف اسفار کرکے ملا قوم تک سچائی کا پیغام پہنچایا۔ مذہب اور جدید چیلنج، کتاب معرفت، اظہار دین، خدا کی دریافت، دور دعوت وغیرہ جیسی کتابیں شائع کیں۔

Printed page