فکری سفر
Al-Risala, February 2021, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُه (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906) ۔ یعنی اس کے عجائب (معانی) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے معانی کے مختلف پہلو ہیں۔ اہل علم ان پر غور کر کے ہمیشہ اس کے نئے نئے پہلو دریافت کرتے یہ قرآن کے کلام الہی ہونے کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اگر قرآنی آیتوں کے صرف چند پہلو ہوتے تو قرآن ایک محدود کتاب بن جاتا۔ لیکن قرآن کی آیتوں کے لامحدود پہلو ہیں تو قرآن ایک ابدی کتاب بن گیا ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین کی ذات ایک ابدی ذات ہے۔ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر غور کرو۔ مثلاً : كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الْأَلْبَابِ (38:29) - یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت قرآن کی آیتوں میں یہ غور وفکر صرف فنی معنی میں نہیں ہے۔ یعنی یہ اس لیے نہیں ہے کہ قاری آیت کے الفاظ کو حل کرے، اس کے گرامر وغیرہ کو دریافت کرے۔ بلکہ وہ دراصل اس لیے ہے کہ قاری قرآن کی آیتوں میں چھپے ہوئے سبق (lesson) کو تدبر و تفکر کے ذریعے دریافت کرے۔ مثلاً قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (29:20) ۔ یعنی کہو کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کو شروع کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ اٹھائے گا۔ بے شک اللہ
ہر چیز پر قادر ہے۔ قرآن کی اس آیت میں سفر سے مراد نتیجہ سفر ہے، نہ کہ صورتِ سفر۔ جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں ابو منصور الماتریدی نے لکھا ہے: زمین میں چلنے اور دیکھنے کے حکم کا مطلب جسمانی طور پر سفر کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے تخلیقات میں غور کرنا (أمر يارسال الفكر فيها)، مثلاً تخلیق کی ابتدا اور جو کچھ اس میں ہے، اس پر غور کرنا، اور اس کا مطالعہ کرنا (تفسیر الماتریدی، جلد 8، صفحہ 216)۔ مثلاً آپ نے ایک درخت کو دیکھا، اس سے آپ کا مائنڈ ٹریگر ہوا، آپ اس کے آغاز و انجام پر سوچنے لگے۔ آپ نے سوچا کہ زمین پر وسائل (soil) کیسے وجود میں آیا، زمین پر نباتات کی دنیا کیسے آباد ہوئی، انسان کی غذا اور دوسرے اسبابِ حیات کس طرح وجود میں آئے، اس سوچ نے آپ کو نباتات (plant world) کی دنیا میں پہنچادیا۔ پھر نباتات کے عالم کبیر (macro world) سے گزر کر آپ نباتات کے عالم صغیر (micro world) تک پہنچ نباتات کے آغاز سے لے کر اس کے اختتام تک آپ نے ایک پوری دنیا کی سیر کر ڈالی۔ کائنات کے اس فکری سفر کے ذریعے آپ نے بہت سے حقائق دریافت کیے۔ بہت سے چھپے، اور کھلے حقائق کو از سرِ نو دریافت کیا، وغیرہ۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کا حوالہ قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں دیا گیا ہے۔ یہی معرفت ہے۔ یعنی ان باتوں کو دریافت کرکے ان کو اپنے ذہن کی غذا بنانا۔ یہی وہ چیز ہے، جس سے مومن کو معرفت کی غذا حاصل ہوتی ہے۔