Al-Risala · August 2021

تلخیص ، نہ کہ تشریح

Al-Risala, August 2021, pp. 241–264

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک طویل علمی صحبت کے نتیجے کی بنا پر میں نے اپنی فہم و دانش کے مطابق مولانا کی تحریروں میں جو اہم بنیادی موضوعات ہو سکتے ہیں ان کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی مزید وضاحت الرسالہ کے مضامین میں کوئی بھی قاری پا سکتا ہے۔ میں نے صرف تقریب فہم کے لیے یہ کوشش کی ہے۔ میں نے ذیل میں 30 اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جو مولانا کی فکر کو سمجھنے میں معاون ہو سکتے ان میں شخصیات کا رول واضح کیا گیا ہے، دین کے تعلق سے پائے جانے والے تصورات کی تصحیح کی گئی ہے اور مستقبل کا روڈ میپ بتایا گیا ہے:

ابراہیم علیہ السلام کا رول: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (3:33)۔ یعنی، بیشک اللہ نے آدم کو اور نوح کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو سارے عالم کے اوپر منتخب کیا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں تاریخ انبیا کا ذکر ہے اور ہر ایک پیغمبر کے رول کو دریافت کرنے کی طرف کا اشارہ کیا گیا ہے۔ بالخصوص خدا نے ابراہیم علیہ السلام کو بت پرستی کے ماحول سے نکال کر فطرت کے آزادانہ ماحول میں بسایا تا کہ ایک مضبوط گروہ تیار ہو جو عالمی مشن کے لائق ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین دونوں اپنی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کرتے ہیں۔

قرآن میں’’أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا‘‘ (16:123) کا حکم دیا گیا ہے، یعنی ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو۔ اس کو دریافت کر کے عمل کا صحیح نقشہ بنایا جائے تا کہ امامت عالم کا ابراہیمی منصوبہ واضح ہو، جس کا اعلان قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ’’إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا‘‘ (2:124)۔ یعنی میں تم کو سب لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ان مذکورہ آیات میں انبیاء کی تاریخ کا ذکر ہے، اور ملت ابراہیم کی اتباع اور حضرت ابراہیم کی امامت کا ذکر ہے، گویا یہ ایک خدائی منصوبے کا اعلان ہے۔ بنو اسماعیل کا رول: خدائی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے عرب کے صحرا کے فطری ماحول میں ایک نسل کو اللہ تعالیٰ نے پروان چڑھایا، اور انہیں ڈیزرٹ تھرپی کے ذریعے شجاعت،

صداقت اور اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل بنایا۔ اس نسل کو تاریخ میں بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ میں رسول اور اصحاب رسول جیسے با عزم و با حوصلہ لوگ پیدا ہوئے۔ قرآن کی اس آیت میں اسی منصوبۂ تخلیق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے :

وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ (22:78)۔ یعنی اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اسی نے تم کو چنا ہے۔ اور اس نے دین کے معاملہ میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا۔

اس آیت میں غالباً بنواسماعیل کے انتخاب کا ذکر ہے۔ اس نسل کا انتخاب کر کے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک لیے کائناتی معرفت اور عالمی دعوت کی پلاننگ کی ہے۔

اصحاب رسول کا رول: بنواسماعیل میں اللہ تعالیٰ نے ایک گروہ پیدا کیا جن کو ہم اصحاب رسول کہتے ہیں۔ اس گروہ کو اللہ تعالیٰ نے مذہبی جبر کے خاتمے کے لیے برپا کیا تا کہ ختم نبوت کا خدائی منصوبہ پائے تکمیل تک پہنچے۔ اس خدائی منصوبے کے تحت اصحاب رسول کی شکل میں ایک مضبوط جماعت کا قیام عمل میں آیا، جس نے مذہبی تعذیب کے دور کا خاتمہ کیا اور مذہب کو اقتدار کے جبر سے آزاد کرایا۔ جس کی بنا پر دنیا میں حقیقی خدا پرستی وجود میں آئی اور انسان کو یہ موقع ملا کہ وہ تخلیق کو خالق کا درجہ دینے کے بجائے مخلوق کا درجہ دے اور تخلیق کو تحقیق کا موضوع بنائے۔ نتیجے میں بتدریج دور جدید کا ظہور ہوا جس کو آج ہم سائنسی دور کہتے ہیں ۔ اس کی ابتدا دور صحابہ سے ہوئی، اور اس کا کلمینیشن (culmination) اہل یورپ کے ذریعے اکیسویں صدی میں ہوا۔ اعتبار سے اسلام کو دورِ جدید کا خالق مانا جاسکتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اسی رول کی طرف اشارہ ہے کہ صحابہ کرام نے خدا کے منصوبے کو سمجھا اور ایک دوسرے سے مسابقت کیا اور مشن کو پائے تکمیل تک پہنچایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (9:100)۔ یعنی اور مہاجرین و انصار میں جو لوگ سابق اور مقدم ہیں اور جنھوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ اگر کوئی گروہ اصحاب

رسول کی طرح خدا کے لیے وقت کا مطلوب رول ادا کرے گاوہ گروہ بھی خدا کی رضا کا امیدوار ہوگا۔ تکمیل دین: رسول اور اصحاب رسول نے جو جدوجہد کی، اس کا اعلان حجة الوداع کے موقع پر کیا گیا۔ چنانچہ اس وقت قرآن کی جو آیتیں اتریں، ان میں ایک جز یہ تھا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (5:3) ۔ یعنی آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔

یہاں تکمیل دین کا مطلب استحکام دین ہے، نہ کہ فہرست احکام کی تکمیل۔ اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے دین ناقص تھا، اب دین مکمل ہو گیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے رسول اور اصحاب رسول کو دعوت سے اقتدار کے مرحلے تک پہنچا دیا اور دین اسلام کو مستحکم کر دیا، جس کی وجہ سے حفاظت دین کا انتظام ممکن ہوا۔

اس آیت کے بعد بھی وحی کا سلسلہ جاری رہا۔ مثلاً، ابن عباس وغیرہ کے مطابق، سورہ البقرہ کی آیت نمبر 281 سب سے آخری آیت ہے (الاتقان فی علوم القرآن، جلد 1، صفحہ 178)۔ اس آیت سے استحکام دین کا وہ اعلان ہورہا ہے، جس کی بنا پر ختم نبوت کا منصوبہ ممکن ہو پایا۔ کی یہی توجیہ عین مطابق واقعہ ہوگی۔

حفاظتِ قرآن: قرآن مجید کی کامل حفاظت خدا کا منصوبہ تھا (الحجر، 9: اسی مقصد سے مسلمانوں کو اقتدار کی طاقت عطا کی گئی، اور اسی بنا پر ختم نبوت کا منصوبہ بھی ممکن ہوا۔ ورنہ پوری تاریخ میں کسی بھی نبی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ نسل درنسل اپنی تعلیمات کی حفاظت کر سکے۔ انبیائے کرام اور ان کے اصحاب پر معاصر بادشاہوں نے شدید مظالم ڈھائے، اپنی جان بچانے کی خاطر انھوں نے ہجرت کی۔ یہی تعذیب تھی جو مکمل طور پر حفاظتِ دین کے لیے مستقل رکاوٹ بنی جیسا کہ حضرت مسیح اور پیروان مسیح کی زندگی اس بات کی قریبی دلیل ہے اور انجیل مقدس کی غیر محفوظیت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے۔

اس پس منظر میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو اقتدار کا ملنا اور اس کا چھن جانا آخر کس بنا پر روایتی دور میں جب تک قرآن کی حفاظت کا مسئلہ تھا مسلمانوں کو اقتدار کی طاقت دی گئی تھی۔

جب پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے قرآن کی حفاظت کا بہتر انتظام ہو گیا تو اقتدار کی طاقت غیر اہم ہوگئی۔ حفاظت قرآن کے اس انتظام کے بعد اشاعت دین کے لیے سارا زمانہ خود ہی تائید میں آگیا ہے۔ آج اسلام کی تعلیمات کی اشاعت کے لیے اقتدار کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پر امن منصوبے کی ضرورت ہے۔

قرآن کی اس آیت میں حفاظت قرآن کے اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ یعنی، یہ یاد دہانی (قرآن) ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ

حفاظتِ قرآن کے خدائی منصوبے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر امت اس بات کو نہ سمجھے تو وہ اقتدار میں غالب آنے والی قوموں کے خلاف منفی نفسیات میں مبتلا ہوگی اور اقتدار کے حصول میں اپنا وقت ضائع کرے گی۔

اظہار دین بعض آیات کی صحیح توجیہ نہ کرنے کی وجہ سے اقدام میں فرق ہو جاتا ہے۔ آیات میں سے اظہارِ دین والی آیت ہے۔ اس آیت میں اظہارِ دین کا مطلب سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ دین اسلام کا فکری اظہار ہے۔ اظہار قوم نہیں، بلکہ دین کا اظہار ہے۔ یہ بات اس آیت میں خود موجود آج اسلام کے حق میں وہ سارے علمی دلائل جمع ہو چکے ہیں جو اسلام کے فکری غلبے کے ہم معنی ہیں۔ آج دین کے فکری اظہار کے لیے علمی تیاری کی ضرورت ہے، نہ کہ عالمی اقتدار کے لیے جنگ کی تیاری قرآن مجید میں اظہارِ دین اور اتمام نور کے الفاظ اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس دور میں تقریباً دونوں وعدے پورے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (48:28)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے۔ سورہ الصف میں ہے كَمَ اللهِ مُتِمُّ نُورِهِ (61:8)۔ یعنی اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا۔ اظہار دین اور اتمام نور کا واقعہ خدائی مشن کی تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انذار عالم : ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ پر فرض کے درجے میں کار نبوت کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے، یعنی انذار عالم کی ذمہ داری۔ اس کو واقعۃ بنانے کے لیے خدا نے دور جدید میں ہر قسم

کی کمیونی کیشن کی سہولیات مہیا کیں، اور عالمی إنذار کا عمل ممکن ہو گیا۔ امت مسلمہ کو عالمی إنذار کی پلاننگ کرنی تھی، نہ کہ عالمی اقتدار کی منصوبہ بندی کی۔

مگر دوسو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ نے خلافت اسلامیہ کی واپسی کے لیے ان تھک کوششیں کی۔ لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا، بلکہ برعکس طور پر نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کو دہشت گردی پر ابھارنے والا مذہب سمجھا جانے لگا۔ ایک طرف عالمی سطح پر اسلام کی امیج بلڈنگ کی ضرورت تھی تو دوسری طرف عالمی تبلیغ و إنذار کی۔ مجید میں اسی عالمی إنذار کے بارے میں بتایا گیا ہے:

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:01)۔ یعنی، بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ عالمی إنذار کو واقعہ بنانا اس دور میں ممکن ہو گیا ہے، اگر اس موقع کو بھر پور طور پر استعمال نہ کریں تو خدا کے یہاں پکڑ ہوگی۔

عصری اسلوب میں اسلام کی تبیین نو: زمانے کی نسبت سے مدعو کے ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے جو اسلوب اختیار کیا جاتا ہے اس کو لسان قوم میں بات کرنا کہتے ہیں۔ آج ایک داعی کو مدعو کے لحاظ سے اسلوب عصری کو جاننا ضروری ہے۔ عصر حاضر تمثیلی اسلوب کے بجائے سائنٹفک اسلوب میں کلام کرنے کا طریقہ رائج ہے۔ عصر حاضر کا اسلوب ریزن بیسڈ اسلوب اور تحقیق بیسڈ اسلوب ہے۔ چنانچہ اسلامی لٹریچر کو عصری اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش الرسالہ مشن کے ذریعے ہوئی عصری اسلوب کے تقاضوں کی رعایت الرسالہ لٹریچر میں پائی جاتی ہے۔ اسلوب عصر میں کلام ہی اس لٹریچر کی خصوصیت ہے، اللہ تعالیٰ صاحب مشن کو جزائے خیر عطا کرے کہ انھوں نے اس مقصد کے لیے اپنے خون کے آخری قطرے تک کو نچوڑ کر امت مسلمہ کی طرف سے یہ فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ فرض عین کے درجے میں اس لٹریچر کو استعمال کریں اور دعوت دین کا فریضہ کیونکہ دعوت ایک سنگین ذمہ داری ہے۔ اور اسلوب عصر اس کی ناگزیر ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:04)۔ یعنی اور ہم نے جو رسول بھی

بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تا کہ وہ ان سے بیان کر دے۔ اس آیت میں لسان قوم کا مطلب ہے لسان عصر۔

اجتہاد: اجتہاد ہر زمانے کی ایک ناگزیر ضرورت ہے، تا کہ قیامت تک دین کی عصری تطبیق اور دین کی تبلیغ ہو سکے۔ اجتہاد کی اسی اہمیت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ (صحیح البخاری، حدیث یعنی، جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے، اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔

حدیث کے مطابق، غلط اجتہاد میں بھی ثواب ہے اگر نیت صحیح ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ بدلے ہوئے حالات کی رعایت کرتے ہوئے تطبیق نو کرنا ہی اجتہاد ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ تعبدی امور میں نئے اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ دعوتی اور تربیتی امور میں ہر وقت اجتہاد کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اجتہاد کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو تبیین حق کا کام انجام نہیں پاسکتا۔ اور اسلام عملاً ایک ماضی کی داستان بن کر رہ جائے گا، وہ حال اور مستقبل کے لیے اپنا ریلیونس کھودے گا۔ اس روش سے نہ ہی ازدیادِ ایمان نصیب ہوگا اور نہ ہی فریضہ دعوت کا حق ادا ہوگا (قرآن، حدیث اور اجتہاد، یہی احیاء اسلام کے

دورِ جدید: موجودہ دور قدیم دور سے مختلف ہے۔ اس دور میں ہر قسم کی ایجادات اور ہر قسم کی آزادیاں ہیں۔ اس میں ہر قسم کے مثبت اور منفی تغيرات واقع ہوئے ہیں۔ اگر ہم اس تبدیلی سے بے خبر ہیں تو صحیح معنوں میں ہم دین اسلام کی اشاعت اور اس کی تبیین کے لیے مطلوب کردار ادا نہیں دورِ جدید دورِ اسلام ہے۔ لیکن یہ دورِ اسلام کی موافقت کے اعتبار سے پوٹینشل (potential) حالت میں ہے۔ اس کو ایکچول (actual) بنانے کی ذمہ داری امت مسلمہ کی جس طرح اللہ تعالیٰ نے دورِ جدید میں مادی سفر آسان کر دیا ہے، اسی طرح معنوی سفر بھی خدا نے آسان کر دیا ہے۔ قرآن میں آیا ہے:

وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ

(16:07)، یعنی، اور وہ جانور تمہارے بوجھ اٹھا کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم اپنی جان کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے، بیشک تمہارا رب بڑا شفیق، مہربان ہے۔ اس آیت کے مطابق معلوم ہوا کہ ماضی میں انسانی مشقتوں کو حیوانی تعاون کے ذریعے سے حل کیا جاتا تھا مگر آج میکانیکل سپورٹ کے ذریعے سے حل کیا جاتا ہے۔ گویا جدید دور کے اس انقلاب نے انسان کی ہر مشقت کو دور کر دیا ہے، چاہے وہ مادی ہو یا معنوی۔ دور امن : رسول اور اصحاب رسول نے جو جنگیں کی تھیں، اس کا اہم مقصد یہ تھا کہ مذہب کے حق میں پرامن ماحول قائم ہو جائے، اور مذہبی تعذیب کا خاتمہ ہو جائے جس کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ (2:193) یعنی اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے۔

صحابہ کرام نے اسی فتنے کو ختم کرنے اور دور امن کو وجود میں لانے کے لیے جنگ کی تھی۔ ابن عمر نے فرمایا تھا: قَاتِلْنَا حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ، وَكَانَ الدِّينُ لِلَّهِ، وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (4513) یعنی ہم جنگ کر چکے ہیں، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا، اور دین سارا کا سارا اللہ کے لیے ہو گیا، اور تم جنگ کرنا چاہتے ہو، یہاں تک کہ دوبارہ وہ فتنہ آئے، اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔

دوسرے الفاظ میں، اب جو جنگ ہوگی وہ ملک و مال کے لیے ہوگی۔ اس کی وجہ سے یہ اندیشہ ہے کہ قدیم دور کا مذہبی جبر والا فتنہ واپس نہ آجائے۔ گویا ختم فتنے کے بعد جو عمل کرنا ہے، وہ پرامن دعوت کا مشن ہے، نہ کہ دوبارہ جنگ کی حالت کو واپس لانا۔ اب مذہبی امور کے لیے جنگ موقوف ہو چکی کیوں کہ جو چیز ماضی میں جنگ کے ذریعے ملتی تھی آج وہ پرامن منصوبے کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ آج جنگ صرف تباہی لاتی ہے، کامیابی نہیں۔ یہ زمانہ بڑے پیمانے پر تباہی لانے والے ہتھیاروں کا زمانہ ہے۔ اس دور میں جنگ کے برے اثرات صرف دولڑنے والے فریقوں کے درمیان نہیں رہتے ہیں، بلکہ اس تباہی کا برا انجام عام لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ جنگ کا انجام اجتماعی ہلاکت (mass destruction) کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس دور میں ہتھیار سے جنگ کرنا اسلام کی روح کے سراسر خلاف ہے۔ آج کا انسان حقیقت میں امن و شانتی کا متلاشی ہے، جنگ کا نہیں۔

ایمان اس بات کو سمجھ جائیں تو امن کی طرف دنیا اپنے قدم مزید آگے بڑھائے گی۔ بس اس کی ایک ہی شرط ہے کہ اہل اسلام اپنے دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر قیمت پر پرامن جدوجہد کریں، نہ کہ کوئی پرتشدد اقدام۔ جدید دور ، دور امن ہے۔ مگر یہ پوٹینشل حالت میں موجود ہے، اور اس کو ایکچول بنانے کی ذمہ داری اہل اسلام کی ہے۔

معرفتِ اعظم: تخلیقات میں غوروفکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے لیے ایک اعلیٰ فریم ورک اور ایک بہترین انفراسٹرکچر (infrastructure) درکار تھا، وہ آج میسر ہو گیا ہے ۔ خالق کی معرفت کو تخلیق کی معرفت سے جاننے کا اتنا بڑا موقع اہل ایمان کو اس سائنسی دور میں ملا ہے، جو اس سے پہلے اتنے اعلیٰ پیمانے پر حاصل نہ تھا۔ اس کے ذریعے وہ اثبات ایمان بھی کر سکتے ہیں اور اپنے لیے از دیاد ایمان کا سامان بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

اسپِرٹ آف انکوائری یعنی تلاش و جستجو کے نتیجے میں جو کائناتی نشانیاں ڈسکور ہوئی ہیں، وہ عین اسلام کے حق میں ہے۔ لہٰذا یہ دور اعلیٰ معرفت کا دور ہے ، اگر ہم مادی مسائل میں الجھنے کے بجائے معرفت کو اپنا مقصود بنائیں تو معرفتِ اعظم کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ معرفتِ اعظم کوئی پر اسرار بات نہیں ہے۔ کائنات کی نشانیوں کے ذریعے دلائل اعظم کا پانا ہی معرفتِ اعظم کا پانا ہے۔ دنیا میں دلائلِ اعظم ہی سے حقیقتِ اعلیٰ کا ادراک ممکن ہے۔ کیونکہ احادیث میں اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اللہ کی ذات پر نہیں۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے :

تَفَكَّرُوا فِي آلاءِ اللهِ ، وَلا تَفَكَّرُوا فِي اللهِ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 6319) - یعنی اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر کرو، اللہ کی ذات میں نہیں۔ ابن عباس کی ایک روایت میں ہے : تَفَكَّرُوا فِي كُلِّ شَيْءٍ ، وَلا تَفَكَّرُوا فِي اللهِ (العظمة لابي الشيخ الاصبهانی، حدیث نمبر (2) - یعنی ہر چیز میں تفکر کرو، اور اللہ کی ذات میں تفکر نہ کرو۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے : فَإِنَّكُمْ لَا تَقْدُرُونَ قَدْرَهُ (العظمة لابی الشيخ الاصبهانی، حدیث نمبر (5) - یعنی تم اس کی قدرت نہیں رکھتے ہو۔

ان احادیث میں” آلاء اللہ“ اور ”کل شئی‘‘ میں غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں غور کرو، اس سے تم کو خالق کی معرفت حاصل ہوگی۔ یہ عملاً اس دور میں اعلیٰ پیمانے پر قابلِ تطبیق ہو چکا ہے ۔ خوردبین، اور دوربین کی ایجاد کے بعد ، تخلیق کا تفصیلی علم حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

کے ساتھ کہ سائنسدان کی نظر صرف قوانین فطرت کی معلومات تک رہتی ہے، مگر اہل ایمان کے لیے وہ معرفت کا سامان ہوتا ہے۔ سائنسدان کو معلوماتِ اعظم ملتی ہیں، اوراہل ایمان کو معرفتِ اعظم۔ شہادتِ اعظم: دور جدید میں جو انفراسٹرکچر (infrastructure) تیار ہوا ہے اور آفاق وانفس کے جو دلائل کھولے گئے ہیں اس کی وجہ سے خدا اور آخرت کے اثبات کے لیے دلائلِ اعظم فراہم ہو گئے ہیں۔ اب اہل ایمان کو اقوامِ عالم کے درمیان شہادتِ اعظم کا فریضہ ادا کرنا ہے، نہ کہ لڑ کر اپنے آپ کو یا سامنے والے کو ختم کر دینا۔ آج حجت و برہان کی طاقت سے حجت قائم کرنا ہے، نہ کہ تلوار و بم کے ذریعے خون بہانا۔ ایک حدیث میں بذریعہ دلائل حق کو ثابت کرنے والے کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: هَذَا اَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِين (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)_ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی رب العالمین کے ہاں سب سے بڑی شہادت کا حامل ہوگا۔

اس حدیث میں غالباً اسی عظیم شہادت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کو ادا کرنے خدا کے یہاں بڑا اجر مقدر ہے۔ شہادت علی الناس کا یہ عظیم موقع ہر داعی کے لیے مقدر ہے، تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے ــــ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ خدا کی طرف سے حجت کو ادا کرنے کا یہ فریضہ دلائل وبراہین کے میدان میں ہوگا، نہ کہ میدانِ جنگ میں۔

مثبت فکر: انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی یا دعوتی رول، اگر اس کو پر امن طریقے سے گزارنا ہے تو صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ ہے مثبت فکر کو اپنانا۔ ورنہ شکایت اور نفرت کا ذہن پیدا ہوگا اور سماج کو تباہی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ لہٰذا کسی کو دشمن سمجھنا، سازشی سمجھنا، ظالم سمجھنا یہ ساری چیزیں مثبت فکر کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب تک اس روش کو ترک نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک کوئی بڑا تعمیری کام انجام نہیں پا سکتا۔ انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ لیے قرآن میں بار بار شکر گزار بننے پر زور دیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن کی یہ آیت: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ (14:07)_ یعنی تم شکر کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا۔

شکر پر مزید پر انعام مزید کے وعدے ہیں، ناشکری کی زندگی تو حسرت میں اضافہ کرے گی۔

مثبت فکر خدا کے تعلق سے مثبت رہنا سکھاتی ہے ورنہ انسان خداہی سے منفی اور بدظنی کا شکار ہو جاتا ایک حدیث میں مومن کو دعا کے الفاظ یہ بتائے گئے ہیں : وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 771)۔ یعنی تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور برائی نسبت تیری طرف نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بندہ خدا سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اس کے تعلق سے مثبت ذہن کے ساتھ رہے گا۔

علما کے مطابق، خدا کے تعلق سے یہ سوچ تقدیر کا مسئلہ ہے۔ اس اعتبار سے مثبت ذہن پر قائم رہنا گویا عقیدے کا مسئلہ ہے۔ مثبت فکر کو اپنانا گویا خیر کا سر چشمہ حاصل کرنا ہے۔ تزکیہ : کائنات کی ہر چیز انسان کو یہ سبق دینا چاہتی ہے کہ اپنے اندر ذہنی ارتقا پیدا کرو ( آل عمران، 193-3:190)۔ خدا کی کائنات میں نیکٹر (nector) کی طرح تزکیہ کے بے شمار آئٹم چھپے ہوئے ہیں۔ اگر انسان اس کی آواز پر کان لگائے تو اپنے ایمان میں اضافہ بھی ممکن ہے اور اخلاق میں درستگی بھی۔ قرآن اگر کتاب مسطور ہے تو کائنات کتاب مشہود ہے۔ لہذا تزکیہ کا تعلق اوراد و وظائف سے نہیں ہے بلکہ شعوری دریافتوں سے ہے، جن اوراد ووظائف کو ہم پڑھتے ہیں وہ بھی انبیائے کرام کے شعوری الفاظ ہیں، نہ کہ ہماری طرح محض تکرار لسانی یا رٹے ہوئے الفاظ۔ تزکیہ نام ہے ربانی دسترخوان سے رزق معرفت حاصل کرنے کا۔ تزکیہ نام ہے شعوری سطح پر تعمیر شخصیت کا۔ مزکی کی انسان ہی کے لیے جنت ہے، نہ کہ کسی کے حلقہ ارادت میں شامل ہو جانے سے جنت ملے گی۔ تزکیہ ایک شعوری عمل ہے، اپنے آپ کو بے خودی اور مدہوشی کے عالم میں لے جانے کا نام تزکیہ نہیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیات سے تزکیہ کی اہمیت واضح ہوتی ہے : وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى (20:76) یعنی یہ (جنت) بدلہ ہے اس شخص کا جو پاکیزگی اختیار کرے۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (87:14) یعنی کامیاب ہوا جس نے اپنے کو پاک کیا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا کامیاب ہوا جس نے نفس کو پاک کیا۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو ڈیولپ کرے اور شعوری تزکیہ کے لیے اپنے آپ کو تیار شعوری تزکیہ ہی ارتقاء ذہنی کا ذریعہ ہے۔ یہی تزکیہ عبرت پذیری سکھاتا ہے، اسی سے انسان درس وعبرت والی زندگی گزار سکتا ہے۔

اخوان رسول کا رول: مادی ترقی ہو یا معنوی ترقی اس کے لیے ایک بوسٹر (booster) کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک شدید محرک کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس کا حق ادا ہو اور آگے بڑھنے کا ذہن پیدا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں آنے والے امتی کو اخوان رسول کا ٹائٹل دیا ہے۔ آپ نے یہ ٹائٹل بطور مشن دیا ہے، نہ کہ بطور فضیلت۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، آپ نے کہا:

وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249)۔ یعنی میں پسند کرتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں آپ نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے۔ رسول اللہ کا مشن قیامت تک لوگوں پر خدا کی حجت قائم کرنا ہے۔ اسی عمل کی ترغیب کے لیے رسول اللہ نے اس حدیث میں داعی حق کو اخوان رسول کا لقب دیا ہے تاکہ سارے امتی اس مشن کو شعوری طور پر جانیں اور رسول اللہ کے مشن پر قائم ہو کر مطلوب دعوتی رول ادا کریں۔ کار نبوت کی ادائیگی ہی رسول سے محبت کا تقاضا ہے۔ اصحاب رسول سے جو تقاضا تھا اسی طرح اخوان رسول سے بھی ایک تقاضا ہے۔ اصحاب رسول سے حفاظت قرآن کا مشن مستحکم ہوا، اخوان رسول سے اشاعت قرآن کا مشن گھر گھر پہنچنا ہے۔

دور تائید: اشاعت قرآن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا دور ظاہر کیا ہے، جس کو ہم دور تائید کہہ سکتے ہیں۔ دور جدید اسلام کے حق میں دور تائید ہے، نہ کہ دور تعذیب۔ دعوت کا عملی اقدام ہو یا فکری اظہار دونوں کے لیے یہ دور موافق دور ہے۔ اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم نے خدا کے اس منصوبے کو نہیں سمجھا تو اندھے اور بہرے بنے رہیں گے، اور اپنا مطلوب رول ادا نہیں کر پائیں گے، اور یہ ڈر ہے کہ خدا کے یہاں ان مواقع کو ضائع کرنے پر سخت پوچھ ہوگی۔ رول کے بارے میں مختلف احادیث میں بتایا گیا ہے۔ مثلاً قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ

هَذَا الدِّيْنَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ ان دونوں احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس دین کی تائید ہر قسم کے افراد سے کرے گا، خواہ وہ سیکولر ہوں، یا غیر دیندار۔ اس قسم کی کئی احادیث ہیں جو غیر اقوام کے تائیدی رول کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر ہم اس دور کو ڈسکور کریں تو ہر ترقی ہمیں اپنی تائید نظر آئے گی اور ہر شخص دین اسلام کا مؤید نظر آئے گا چاہے وہ مغربی ہو یا مشرقی۔

اہل مغرب کا رول: اہل مغرب اسلام کے لیے مؤیدین کا گروہ ہیں، نہ کہ مخالفین کا گروہ۔ خدا نے ان کو اپنے دین کی خاطر سائنسی ترقی دی ہے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ ان کی ایجادات اور ان کی کوششوں کا دل سے اعتراف کریں۔ ان سے شکایت کو اپنے اوپر حرام سمجھیں۔ انہوں نے جو تہذیب دی ہے اس کو سمجھیں۔ اگر ان میں کلچر کی برائیاں ہیں تو اس کو دعوت کا موضوع سمجھیں، نہ کہ دشمنی اور نفرت کا۔ کیوں کہ اس کا تعلق انسانی آزادی کے غلط استعمال سے ہے، نہ کہ اہل مغرب کی سائنسی ترقی سے۔

آج اہل مغرب میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو اپنے اندر اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں اور جنہوں نے انسان کو جدید سہولیات سے نوازا ہے۔ ہمیں ان تمام چیزوں کا اعتراف کرنا ہے اور اسلام کے حق میں انھیں استعمال کرنا ہے۔ ان چیزوں کے استعمال کی قیمت کھلے اعتراف ہی سے ادا کی جا سکتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ویسٹو فوبیا میں مبتلا ہونے کے بجائے ان کی خدمات کا اعتراف کریں، اور ان کی ایجاد کردہ چیزوں کو دعوتی میدان میں استعمال کریں۔

آج مسلم برانڈ کے نام سے کوئی مادی چیز کو ایجاد کرکے اپنا الگ جزیرہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ ویسٹ کی ایجادات کو استعمال کریں، اور اپنے پاس موجود سب سے بڑی چیز قرآن کو ان لوگوں کے سامنے بطور دعوت پیش کریں۔ اللہ قیامت کے دن پہلے مادی ایجادات کے بارے میں نہیں پوچھے گا، لیکن دعوتی کوتاہی کے بارے میں وہ ضرور پوچھے گا۔ ایک حدیث میں اہل مغرب کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ قیامت کے قریب ان کا غلبہ رہے گا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ (صحیح مسلم،

حدیث نمبر 2898)۔ یعنی، قیامت قریب اہلِ روم سب سے زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ اس غلبہ والی بات کو جب قرآن میں بیان کردہ ایک خبر سے ملا کر سمجھا جائے تو یہ ایک مثبت بات بن جاتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کے لیے نصاریٰ اپنے دل میں سب سے زیادہ نرم گوشہ رکھتے ہیں : أَقْرَبُهُمْ مَوَدَّةً (5:82) ۔ یعنی، ایمان والوں کے ساتھ دوستی میں تم سب سے زیادہ ان لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں، یہاں اہلِ مغرب سے بے نتیجہ مقابلے سے روکا گیا ہے۔ اس لیے اب ان کے تائیدی رول کو جاننے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان سے دشمنانہ طریقہ اختیار کرنے کی۔ میں اضافے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ حسن سلوک کے ذریعے دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی تلقین کرتا ہے (فصلت، 41:34)۔

تخلیق کے ادوار: تخلیق کے چھ ادوار ہیں جس میں انسان کی تخلیق سب سے آخر میں ہے۔ انسان کو خدا نے اپنی معرفت کے قولی اظہار کے لیے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ انسان کو اس دنیا میں خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہونا ہے اور اقوام عالم کے درمیان اس کا اظہار کرنا ہے۔ ساری تخلیق کا مقصد خدا کی معرفت ہے۔ اور انسان ایک استثنائی مخلوق ہے جو آزادی کا اختیار رکھتے ہوئے سیلف ڈسکوری پر خدا کو دریافت کرنے اور سیلف ڈسپلن پر رہنے کی ذمہ داری لیے ہوئے ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (33:72)۔ یعنی اور انسان نے اس (امانت) کو اٹھا لیا۔ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔

مولانا کے مطابق، امانت سے مراد اختیار و آزادی سے کام کرنا ہے۔ انسان نے کائنات کے آغاز میں اپنے لیے امانت، یعنی آزادانہ اختیار کا چوائس لیا۔ قرآن کی مختلف آیتوں میں تخلیقی ادوار کا یہ انسان کی معرفت میں اضافہ کرنے کے لیے ہے، نہ کہ صرف خبر دینے کے لیے۔ تحریروں کو اگر ترتیب سے جمع کیا جائے تو کائنات کے آغاز اور اس کے انجام کا ایک نقشہ تیار ہوسکتا سیکولر لوگوں نے اگر دنیا کے مادی نقشے کی ترتیب کی کوشش کی ہے تو مولانا نے معنوی نقشہ تیار

تاریخ کی تعبیر: تاریخ کی تعبیر جنھوں نے بھی کی ہے وہ خدا کے منصوبہ تخلیق سے واقف

انھوں نے تاریخ سے منفی غذالی ۔ خدا کے نقشے کے مطابق یہ ہے کہ خدا نے انسان جیسی ایک با اختیار مخلوق پیدا کی اور خدا خود انسان کی آزادی کو ہر وقت بیچ کر رہا ہے۔ قرآن میں انسانی تاریخ کے آغاز کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، جو فرشتوں اور خدا کے درمیان ہوا تھا: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ (2:30) ۔ یعنی، اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے جب اپنا ایک نیا منصوبہ ظاہر کیا تو فرشتوں نے مجموعے کو دیکھ کر یہ رائے قائم کی۔ مگر خدا نے جب مطلوب افراد کی فہرست بیان کی تب فرشتوں نے خدا کا منصوبہ سمجھ لیا۔ اگر ہم انسانی تاریخ کو مثالی افراد کا باغ سمجھیں تو تاریخ اس سے خالی ملے گی، اگر ہم یہ مانیں کہ یہاں غیر مثالی دنیا میں مثالی افراد کا انتخاب ہو رہا ہے۔ یعنی، تاریخ میں صالح افراد کو چنا جا رہا ہے، تو انسانی تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جائے گی ۔ ورنہ تاریخ صرف خاک وخون کی داستان نظر آئے گی۔ تاریخ میں صالح افراد کو چننے کا خدائی عمل جاری ہے، تاکہ ان کو خدا کی جنت میں بسایا جائے۔

تاریخ کاربانی سفر : معرفت ہی مقصدِ تخلیق ہے ۔ اسی بنیاد پر تاریخ انسانی اپنا سفر طے کر رہی ہے ۔ اس دنیا میں معرفت کے سفر کا آغاز ہوتا ہے جو ابدالآباد تک جاری رہے گا۔ منتخب افراد کو یہ موقع دے گا کہ وہ کبھی ختم نہ ہونے والی معرفت کا سفر جاری رکھیں ۔ چنانچہ کوئی بھی تخلیق بے کار نہیں ہے بلکہ وہ ایک عظیم سفر کا حصہ ہے جس کو ربانی سفر کہا جاتا ہے، جس کی قیمت ربانی زندگی اپنانے سے ادا ہوگی۔ سیاست یا قومیت کے مسائل میں الجھے رہنے سے نہیں ہوگی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے : قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (18:109) یعنی، کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں ، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں ۔ اس آیت میں جو بات ہے وہ صرف ایک خبر کے طور پر

نہیں ہے بلکہ مطلوب عمل کے طور پر ہے جس عمل کو ایک مومن بندہ ابد الآباد تک انجام دیتا رہے گویا دنیا اور آخرت میں حمد رب میں جینا ہی اصل جینا ہے۔

حدیبیہ منہاج: مولانا نے الرسالہ میں صلح حدیبیہ کے واقعے کو بہت اہمیت دی ہے۔ کی وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کو قرآن میں فتح مبین (الفتح، 1: کہا گیا ہے۔

صلح حدیبیہ سے یہ پتہ چلا کہ جان کی قربانی کے مقابلے میں وقار کی قربانی زیادہ بڑی چیز ہے۔ یہی وہ قربانی تھی جس نے رسول اللہ کے مشن کو فتح مبین تک پہنچایا۔ انسان کے دلوں کو جیتنے کا یہ حکیمانہ طریقہ سب سے پہلے رسول اللہ نے دنیا والوں کو انٹروڈیوس کیا، یعنی یک طرفہ طور پر فریق مقابل کی ہر شرط کو مان لینا۔ تاکہ امن کا ماحول بنے، آج اسی امن کے حصول کے لیے مسلمانوں کو ماضی کی عظمت باہر آنا ہوگا۔ حدیبیہ منہاج اجتماعی کامیابی کے لیے شاہ کلید ہے۔ یہ مادی شکست میں معنوی فتح کی کامیابی کا راز ہے، اور مادی فتح سے زیادہ معنوی فتح اسلام کا اصل مطلوب ہے۔ اس لیے قرآن میں اس کو فتح مبین کہا گیا ہے: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا (48:01)۔ یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔

دعوتی مشن کا سفر ہمیشہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ کی حد تک جاتا ہے۔ جس نے اس راز کو جان لیا وہی فاتح ہے اور جس نے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا، وہ شکست کھا گیا۔ آج عالمی طور پر اقوام متحدہ میں ایک ناجنگ معاہدہ طے پایا ہے۔ گویا دنیا اصولی طور پر اس کی پابند ہو گئی ہے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک پر جارحانہ کارروائی نہیں کرے گا۔ اس موجودہ صورت حال کو صلح حدیبیہ کی توسیعی سنت سمجھنا چاہیے، اور اس سے عالمی فائدے حاصل کرنا چاہیے۔

اقامت دین: اقامت کے موضوع پر مولانا نے بہت لکھا ہے۔ اس کو ردعمل کہنا بہت بڑی نادانی ہے۔ اس کو عمل کا صحیح رخ متعین کرنے کی کوشش سمجھنا چاہیے۔ کیوں کہ اقامت دین کو نفاذِ دین یا کامل دین کا نفاذ سمجھ کر امت کو تکلیف مالا یطاق میں ڈال دیا گیا ہے۔ جس کا انجام یہ ہوا ہے کہ امت مایوسی کا شکار ہوئی، اور اس مفروضہ مقصد کے حصول کے لیے خودکش بمباری جیسے قبیح فعل تک کو اپنے لیے جائز کر لیا۔ دین ہر ایک سے مکمل قبولیت کا تقاضا کرتا ہے، مکمل نفاذ کا نہیں۔ لوگ اقامتِ دین کو تنفیذ شریعت کے معنی میں لیتے ہیں، وہ دین کی ایسی تعبیر کرتے ہیں جس میں

اقتدار کی طاقت لازمی جز کے طور پر شامل ہو جاتی ہے۔ پھر امت ایک سیاسی اپوزیشن کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ جب کہ اس کی پہچان خدا اور آخرت کی دعوت دینے والی امت کے طور پر ورنہ امت کا ہر اقدام قوم رخی بن جاتا ہے، مدعو ہمیشہ اسی مغالطے میں رہتا ہے کہ اسلام بھی ایک سیاسی جنگ کا مذہب ہے، اخروی نجات کا مذہب نہیں ہے۔

دین کی ایسی تعبیر کرنا، جس کے ہم مکلف نہیں ہیں، یہی تحریف اور غلو ہے، اور اسلام میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ جس آیت سے یہ ہدف متعین کیا گیا ہے، وہ اس ہدف کے لیے، مطابق واقعہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی مطابق تاریخ ہے۔ حتیٰ کہ مطابق لغت بھی نہیں ہے:

شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِه نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِه إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ (42:13) ۔ یعنی، اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو۔ اس آیت میں اولوالعزم انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم حقیقت پسندی کے ساتھ ان کے اقامت دین کو سمجھنے کی کوشش کریں تو پتہ چلے گا کہ مذکورہ پیغمبروں نے نہ ہی اقتدار کی کوشش کی اور نہ نفاذ قانون کے لیے سرگرم رہے۔ بلکہ ان مشترک تعلیمات کی اشاعت کرنے میں لگے رہے، جس پر نجات کا دارومدار ہے۔ دین کی اقامت کا مطلب اس کا اتباع ہے، نہ کہ حکومت یا اقتدار کا قیام ۔ کیوں کہ یہ بات تمام انبیائے کرام کے درمیان غیر مشترک بلکہ غیر موجود چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ احتساب خویش : اسلام کا مطلوب یہ ہے کہ افراد کے اندر احتساب غیر سے پہلے احتساب خویش کا ذہن پیدا ہو۔ دوسروں کی غلطیوں کا انکشاف کرنے سے زیادہ انسان اپنی غلطیوں کو دریافت قرآن میں الامر بالمعروف، والنہی عن المنکر کا حکم بھی آپسی اصلاح کے لیے ہے۔ مستقبل کی صحیح تعمیر کے لیے ماضی اور حال کی غلطیوں کو جان کر توبہ کی روش اختیار کرنا چاہیے۔ جب کوئی مصلح احتساب خویش کی ذمہ داری ادا کرے گا تو اس کی زد میں اس کی اپنی ذات بھی آئے گی اور ماضی اور حال کے اکابر بھی ہوں گے۔ یہ بہت ہی حساس عمل ہے۔ یعنی یہ قیامت سے پہلے قیامت کو قائم کرنا ہے۔ خدا کے سامنے حاضر ہونے سے پہلے اپنا دفتر چیک کرنا ہے۔ یہی ایسا کام ہے

جس میں وقت کے مصلحین امت کا بھی امتحان ہے، اور متبعین شریعت کا بھی۔ قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (42:30) ۔ یعنی، اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔

اس آیت کے مطابق، مصیبت کا پہلا ذمہ دار خود مبتلا انسان ہے، نہ کہ کوئی دوسرا شخص۔ اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : موجودہ دنیا کو اسباب کے قانون کے تحت بنایا گیا ہے۔ یہاں آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ واضح طور پر اس کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کے یہ واقعات اس لیے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے۔

اپنی پیدا کردہ مصیبتوں کو جاننا بہت ہی مشکل کام ہے دوسروں کو دوشی ٹھہرانا بہت آسان "اپنی ذات کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا، یہی قرآنی روش ہے ۔ دوسروں کی سازش کا انکشاف کرتے رہنا غیر قرآنی روش ہے۔ اگر احتساب خویش کے لیے امت تیار ہو جائے تو غیر معمولی تبدیلی واقع ہوگی (الرعد، 13:11)۔ مولانا کے الفاظ میں، اب اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے گا تو اندرونی کم زوریوں کی وجہ سے، نہ کہ خارجی حملوں کی وجہ سے۔ اور اندرونی کمزوریوں سے پاک رہنے کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔

خشیت انسانی، خشیت ربانی: یہ دور خشیت انسانی سے نکل کر خشیت ربانی میں داخل ہو گیا آج اسلام اور مسلمان دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔ ارکان اسلام کا تقریباً ہر جگہ اہتمام کیا جاتا اللہ کی عبادت کے لیے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں۔ اگر کسی جگہ مسلمانوں کو کوئی رکاوٹ ہے تو وہ "آبیل مجھے مار" کے اصول کے تحت ہے۔ قرآن وحدیث کی تعلیم کے لیے، مدارس اور مکاتب کا ایک مضبوط سلسلہ ہر جگہ قائم ہے۔ مسلمان کسی بھی معاشرے کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ وہ ماضی کے خوف اور خدشات میں جینا چھوڑ دیں، وہ خوف خدا میں جینے والے بنیں۔ قرآن میں حکم کے انداز میں بطور پیشین گوئی ارشاد ہوا ہے: فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (5:3) ۔ یعنی تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔

دوسرے الفاظ میں، اب جو دور آنے والا ہے، اس میں انسانوں سے ڈرنے کا ماحول نہیں ہوگا

تو تم ان سے نہ ڈرو، بلکہ میری خشیت میں جیو۔ مولانا ہمیشہ امت مسلمہ کو انسان کے خوف سے نکالنا چاہتے تھے اور خدا کی خشیت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ انسان کا خوف اگر ہو بھی تو وہ وقتی ہوگا مگر خدا کا خوف دائمی ہے۔ لہذا وقتی خوف سے نکل کر دائمی خوف کی طرف آگے بڑھنا ہوگا۔ بہ ظاہر حالات اگر خوف کے ہوں تو خدا پر ڈال دیں اور انتظار کریں۔ کیوں کہ مومن کا اصل سہارا خدا کی ذات ہے، نہ کہ کوئی اور طاقت۔

نفرت مغرب کا فتنہ: اس کا اشارہ حدیث میں فتنۂ دہیماء کے الفاظ میں موجود ہے۔ حدیث کے متعلق الفاظ یہ ہیں: "ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ، لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً" (سنن ابوداود، حدیث نمبر 4242)۔ یعنی پھر دہیماء کا فتنہ ہوگا، اور وہ اس امت میں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑے گا مگر وہ اس کو ہٹ (hit) کرے گا۔ حدیث کے مطابق، فتنۂ دہیماء (سیاہ فتنہ) امت مسلمہ میں پھیلنے والا عمومی فتنہ ہوگا۔ لطمہ سے مراد غالباً لطمہ نفرت ہے۔ یعنی نفرت کا فتنہ اتنا زیادہ پھیلے گا کہ امت کا ہر فرد اس سے شدید طور پر متاثر ہو جائے گا۔ وہ ہر امت کے ہر فرد کو نفرت کا کیس بنا دے گا۔

یہ حادثہ اس طرح پیش آئے گا کہ جو مغربی قومی میں حدیث میں موید دین بن کر ابھریں گی، ان کے ساتھ ایک اور اتفاقی پہلو بھی شامل ہوگا۔ وہ یہ کہ یہ مغربی قو میں ایک طرف موید دین تہذیب لے کر ظاہر ہوں گی، لیکن اسی کے ساتھ ان کی دوسری حیثیت یہ ہوگی کہ وہ اس سیاسی کلچر کی حامل ہوں گی، جس کو نو آباد یاتی نظام (colonialism) کہا جاتا ہے۔ نو آبادیاتی نظام ایک اتفاقی سبب (chance factor) کی بنا پر اس تائیدی تہذیب کا حصہ ہوگا۔ مگر مسلم رہنما دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی پالیسی (delinking policy) اختیار نہ کر سکیں گے، اور سیاسی اختلاف کی بنا پر خود اپنی تائید کے لیے ظاہر ہونے والی تہذیب کے دشمن بن جائیں گے۔ کا یہ مزاج اتنا زیادہ بڑھے گا کہ امت کا کوئی فرد اس کی زد میں آنے سے محفوظ نہ رہے گا۔ اگر ہم اس فتنے کو نہیں سمجھیں گے تو خالق سے بھی بدظن رہیں گے، اور مدعو سے بھی۔ بحیثیت اخوان رسول ہم مطلوب دعوتی رول ادا نہیں کر پائیں گے۔

انصار اللہ ماڈل: قرآن میں کہا گیا ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ

عیسی ابن مریْمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ (61:14)۔ اے ایمان والو تم اللہ کے مددگار بنو۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔

اس آیت میں رسول اللہ کی موجودگی میں ہی اہل ایمان کو انصار اللہ بننے کے لیے حواریوں کے ماڈل کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی توجیہ کیا ہوگی۔

مولانا اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: یہود کی اکثریت نے اگرچہ حضرت مسیح علیہ السلام کو رد کر دیا مگر ان میں سے کچھ لوگ (حواریین) ایسے تھے جنہوں نے پورے اخلاص اور وفاداری کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا، اور آپ کے پیغمبرانہ مشن کو آگے بڑھایا (تذکیر القرآن)۔

حواریوں نے جو طریقہ کار اپنایا اس کو اپنانا ہوگا۔ یعنی عمومی رجحان سے اوپر اٹھ کر خدا کے دین کی حکمت دعوت کے طور پیروان حضرت مسیح نے ساری دنیا میں دعوتی کلچر قائم کیا ہے اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ۔ ہمیں بھی ان کے دعوتی طریقہ کار کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے، ان کی شریعت یا ان کے عقیدہ کو نہیں۔ یہی حکمت دعوت کا تقاضا ہے۔ امتحان کے تقاضا کے تحت وہ حالات جو ملت مسیح پر پیش آئے ، وہ امت مسلمہ پر بھی پیش آئیں گے۔ مگر وہ لوگ مشکل حالات میں بھی ایک دعوتی گروہ بن کر ہی رہے، ان کی پہچان ہی محبت ، امن، دعوت، تعمیر، تعلیم ترقی بن گئی۔ طریقہ ملت محمدی کو بھی اپنانا ہوگا۔

نا جنگ تدبیر، پیس فل پلاننگ : ہتھیار کے استعمال اور خون بہائے بغیر اپنا مطلوب حاصل کرنا اگر دیکھنا ہو تو سیرت رسول کو گہرائی سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مولانا کی تحقیق کے مطابق دنیا کی جنگی تاریخ میں رسول اللہ ہی وہ واحد قائد ہیں جن کی جنگی تدبیر کی وجہ سے انسانوں کا سب سے کم خون بہا، رسول اللہ نے ہر جنگ کو معمولی جھڑپوں میں بدل دیا، واقعہ یہ ہے کہ ساری جنگوں کی مدت صرف 36 گھنٹے شمار کی جاتی ہے۔ یعنی 23 سال کی مشنری زندگی میں صرف ڈیڑھ دن کی مدت سے بھی کم میدان جنگ میں رہے ۔ نا جنگ تدبیر کی واضح مثال صلح حدیبیہ ہے۔ رسول اللہ نے امن کی بحالی کے لیے ایک طرفہ طور پر اہل مکہ کے سارے شرائط قبول کیے۔ اگر کوئی کہے کہ صلح سے کیا ہوتا ہے تو اس کا جواب قرآن کی زبان میں فتح مبین ہے۔ اسی طرح پر امن تدبیر سے کیا ہوتا ہے تو اس کا جواب

ہندوستان کی آزادی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان والوں نے آزادی کے لیے ہتھیار اٹھائے تو ہر طرح کی ناکامی ملی، جب گاندھی جی کے کہنے پر ہندوستانیوں نے ہتھیار پھینک دیے، اور پرامن تدبیر، یعنی غیر ہتھیاری تدبیر اختیار کی تو آزادی کا پرچم لہرا سکے، امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ پرامن تدبیر اختیار کریں تا کہ انسانوں کو جہنم سے آزادی ملے، انسانوں کے دلوں کو فتح کیا جا سکے ۔ تعمیر ہو یا معرفت کا سفر دونوں کے لیے پرامن منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

مولانا نے جب کبھی سیکولر حوالے دیے ہیں تو وہ پریکٹیکل وزڈم کے طور پر ہوتے ہیں۔ حکمت کو اپنانے کے لیے اسلام میں کوئی تفریق نہیں ہے، چاہے وہ مذہبی انسان سے ملے یا سیکولر انسان سے ۔ جیسا کہ حدیثِ رسول ہے: الحكمة ضالة المؤمن، حيثما وجد المؤمن ضالته فليجمعها إليه (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 146) ۔ یعنی حکمت مومن کا متاع گم شدہ ہے، مومن جہاں اپنی گم شدہ متاع کو پائے تو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے پاس رکھ لے۔ 29_ ذہنی ارتقاء : ذہنی ارتقاء کا لفظ مولانا کی کتابوں میں بہت زیادہ ملتا ہے۔ اس سے مراد سیکولر پرسنالٹی ڈیولپمنٹ نہیں، بلکہ انٹلیکچول اور اسپرچول ڈیولپمنٹ ہے۔ مادی واقعات سے معنوی حقائق تک پہنچنا، زندگی کے حقائق سے واقف ہونا، قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں اپنی عاجزانہ پوزیشن کو دریافت کرنا، دنیا کے مقابلے میں آخرت کی زندگی کو ڈسکور کرنا، اعلیٰ اخلاق پر قائم قرآن میں رسول اللہ کے اخلاق کے بارے کہا گیا کہ وہ بلند اخلاق پر فائز تھے : وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4)۔ یعنی، اور بیشک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔ اعلیٰ اخلاق کا حامل انسان وہی ہوتا ہے جو ذہنی ارتقاء کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو۔ خدا سے اعلیٰ تعلق اور بندوں سے اعلیٰ سلوک یہی ذہنی ارتقاء ہے۔ بے خدا ذہنی ارتقاء مولانا کے یہاں نہیں ہے۔ 30_ دعوت: مولانا کی تحریروں میں ابتداہی سے دعوت الی اللہ کی بات کہی جارہی ہے۔ کا مطلب خدا کے بندوں کو منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنا ہے، خدا اور آخرت کا تعارف کرانا ہے مدعو کی قابل فہم زبان میں خدا کا پیغام پہنچانا ہے۔ ایسی تبلیغ جس سے مدعو کا ذہن اور ڈریس ہو۔ دعوت اور کنورژن (conversion) میں فرق کرتے ہیں۔ دعوت کا مطلب ہے انٹلیکچول دعوت ہمارا اختیار ہے، ہدایت خدا کا ڈومین ہے (القصص، 56: جو لوگ

کنورٹ کرنے کو دعوت سمجھتے ہیں، وہ نہ اسلامی دعوت سے واقف ہیں اور نہ ہی زمانے کے تقاضوں دعوت کا مطلب اسلام کے کلمے کو ہر گھر داخل کرنا ہے، نہ کہ دعوت کے پیغام کو کسی کے اوپر امپوز (impose) کرنا۔

قرآن میں کئی مقامات پر اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں: وَمَا عَلَيْنَا إِلا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (17: یعنی، اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ (مسند احمد، حدیث نمبر (16957)۔ یعنی یہ دین اس جگہ تک پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچتے ہیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ مذکورہ آیت اور حدیث میں ابلاغ عام اور ادخال عام کا ذکر ہے۔ مکمل سنسیرٹی کے ساتھ تبلیغ ہماری ذمہ داری ہے، تبدیل کرنا خدا کی منشاء سے ہے۔ توحید کا یہ مشن تاریخی اعتبار سے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی آخری تکمیل تک پہنچے گا:

حضرت آدم سے حضرت ابراہیم تک، حضرت ابراہیم سے حضرت مسیح تک، حضرت مسیح سے حضرت محمد تک، اور حضرت محمد سے وقوع قیامت تک۔

اس کے لیے خدا نے امن کا دور پیدا کیا ہے۔ اب ایسے افراد کی ضرورت ہے جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں۔ قیامت تک انسان حالت امتحان میں رہے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ساری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے اور ساری دنیا تبدیل ہو جائے۔ انسان کو منصوبہ تخلیق کے مطابق، انکار واختیار کا حق ان کے رب کی طرف سے ملا ہوا ہے۔ قیامت سے پہلے اختیار کا کلی طور پر خاتمہ ہو جائے ایسا مصلحت امتحان کے خلاف ہے : قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (18:29) ۔ یعنی ، اور کہو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، پس جو شخص چاہے اسے مانے اور جو شخص چاہے نہ مانے۔

ابلیس نے قیامت تک مہلت مانگی تھی : قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (15:36)۔ اے میرے رب ، تو مجھے اس دن تک کے لیے مہلت دے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔

کے مطابق، خدا نے ابلیس کو قیامت تک کے لیے چھوٹ دے کر بھیجا ہے۔ مگر اس سے مخلص بندے بچے رہیں گے، اور وہی آخرت میں کامیاب ہوں گے: ﴿إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ (15:40)۔ سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں (سب کو میں گمراہ کروں گا)۔

اللہ تعالیٰ صاحبِ الرسالہ کی کوششوں کو قبول فرمائے، انھوں نے جو دورِ جدید میں دین کے تطبیق نو، یا اجتہاد کی کوشش کی ہے اس کو سمجھنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں منصوبۂ تخلیق کو جان کر اس کے مطابق زندگی گزارنے، اور صحیح رخ پر منصوبہ بندی کرنے کی توفیق عطا اُمّتِ مسلمہ کی ایک بڑی شخصیت، جنھوں نے کروڑوں انسانوں کو راہِ ہدایت دکھائی اور زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ حق پر رہنے اور جینے کا انداز بتایا وہ اس دنیا سے رخصت ہو (عاطف، سعودی عربیہ)

یہ مولانا کا اعجاز تھا کہ وہ فرد کی توجہ خارج سے ہٹا کر داخلی اصلاح پر لگا دیتے تھے۔ (حسن جمیل، اوکاڑا)

اللہ کریم کی عظمتوں سے صحیح معنوں میں روشناس کرانے والا اپنے اسی عظیم رب سے جا ملا۔ اللہ کریم ان کی عزت و رفعت والی خصوصی مہمان نوازی فرمائے آمین۔

مغالطوں کا جائزہ پروفیسر ابواريب، کرناٹک انسان کی اصلاح کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے کیوں کہ خدا نے انسان کو با اختیار مخلوق کی حیثیت سے پیدا فرمایا ہے۔ اس بنا پر آدمی سرکشی اور اطاعت دونوں قسم کے رویوں کا اظہار کرتا ہے، اپنی شخصیت کو آخری حد تک چھپانے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر سچائی کے مقابلے میں ہر قسم کی غلط روش اختیار کرتا ہے۔ یہ سلسلہ نبیوں کے زمانے سے آج تک کے مصلحین کے ساتھ بھی جاری ہے، استہزاء، عیب نکالنا، الزام تراشی کرنا، شوشہ نکالنا وغیرہ۔ صاحب الرسالہ بھی وقت کے ایک مصلح انسان تھے ان کے معاصرین نے بھی وہ تمام حربے مولانا کے خلاف استعمال کیے جو ماضی کی تاریخ میں مصلحین کے ساتھ کیے گئے تھے۔ میں نے اس قسم کے بعض الزامات اور مغالطوں کا جائزہ لے کر ان کی حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ قارئین کو کوئی بات دعوت الی اللہ سے نہ پھیر سکے: بَرْنَامِجُنَا اِعْدَادُ الْمُبْرَمِجِين: تحریکیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک خارج رخی تحریک اور دوسرے داخل رخی تحریک۔ اول الذکر تحریک کا نشانہ کسی خارجی ڈھانچے کو بدلنا ہوتا ہے۔ معاشرتی، معاشی یا سیاسی نظام کو بدل کر اس کی جگہ دوسرا نظام قائم کرنا، ثانی الذکر تحریک کا مقصد کسی خارجی ڈھانچے کی شکست و ریخت نہیں ہوتا، بلکہ ایسی تحریک انسان کو اس کے داخل سے مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہتی ہے جس کے سہارے تمام خارجی عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ اسی لیے ایسی تحریک فرد کو خارجی سطح پر متحرک کرنے کے بجائے اس کے باطن کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے، تا کہ اس سے زیادہ دور رس اور گہری نوعیت کی تبدیلی لائی جا سکے۔

الرسالہ تحریک بھی انسان کی داخلی شخصیت میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے اٹھی تھی۔ ایسی تحریک کو جو ایک زوال یافتہ قوم کے انسانی جمود کو توڑنے کے لیے اٹھی ہو، اسے انتہائی صبر کے ساتھ ایک طویل مدت تک تزکیہ و تربیت کے ذریعہ افراد سازی میں لگے رہنا ضروری تھا۔ الرسالہ کے اجراء سے لے کر قیام سی پی ایس انٹرنیشنل تک یعنی 1976ء سے 2001ء تک کا زمانہ، افکار

الرسالة کا گویا دور تیاری (preparatory period) تھا۔ اس زمانے میں مولانا کے کام کا طریقہ یہ رہا کہ الرسالة اور دیگر شائع شدہ کتب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلایا جائے تا کہ اس ذہن سازی کے ذریعہ مطلوبہ افراد کار کی ایک ایسی ٹیم وجود میں آجائے جو اپنی ذات میں پروگرام ساز ہوں۔ اسی لیے مولانا نے ایک عرصہ تک، نہ کوئی تنظیمی ڈھانچہ بنایا، اور نہ ہی کوئی خارجی پروگرام اس روایتی طریقہ کو ترک کرنے کی اور بھی کئی اہم وجوہات تھیں۔ چونکہ یہی چیز آگے چل کر بہت جلد ایک نئی جماعت اور ایک نئے فرقے کے وجود میں آنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اور پھر ایک زوال یافتہ قوم سے کسی تعمیری کام کی توقع نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اس کی اچھی طرح تربیت نہ کی ورنہ ایسے افراد کسی تنظیم کی تنزّل و بربادی میں اضافے کا سبب تو ضرور بن سکتے ہیں، نہ کہ اس کی تعمیر و ترقی میں اضافے کا ذریعہ۔

مولانا کا یہ انداز روایتی ذہن اور سطحی سوچ رکھنے والوں کی سمجھ میں نہ آسکا۔ چنانچہ اس بات کو عوام و خواص میں اس طرح مشہور کیا گیا کہ، مولانا کے پاس الرسالہ اور لٹریچر کے سوا کوئی عملی پروگرام نہیں یعنی ان لوگوں کے نزدیک غیر تربیت یافتہ افراد کو لے کر عملی پروگرام کے نام پر خارجی ہنگامہ کھڑا کرنا گویا کام تھا، اور لٹریچر کے ذریعہ خاموشی سے تزکیہ و تربیت اور تعمیر و اصلاحِ فرد میں ایک وقت تک لگے رہنا کوئی کام ہی نہیں تھا۔

اس بات کو ہر طرف پھیلا دیا گیا۔ چنانچہ ہندوستان سے لے کر عرب ممالک تک ہر جگہ مولانا سے ایک سوال ضرور کیا گیا ۔ وہ یہ کہ، آپ کا پروگرام کیا ہے۔ اس کے جواب میں مولانا نے وہ جملہ کہا جو بہت مشہور ہوا:

Printed page