قرآنِ عصرِ حاضر میں
Al-Risala, February 2021, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں نازل ہوا۔ لیکن قرآن کا خطاب قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں تک وسیع ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی کچھ آیتیں اس میں وہ ہیں جو ساتویں صدی میں پوری طرح قابلِ فہم تھیں، لیکن قرآن کی کچھ آیتیں ایسی ہیں، جو پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں ہیں۔ یعنی یہ آیتیں نزول کے اعتبار سے ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوئیں، لیکن خود قرآن میں ایسے اشارات موجود ہیں، جو بتاتے ہیں کہ یہ آیتیں صرف مستقبل میں پوری طرح قابلِ فہم ہوں گی۔ یعنی اپنے نزول کے اعتبار سے وہ ساتویں صدی عیسوی کی آیتیں ہیں۔
معنویت کے اعتبار سے وہ بعد کے زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں، اپنی تفسیر کے اعتبار سے وہ مستقبل میں پوری طرح قابل فہم ہوں گی۔ ان میں سے چند آیات یہ ہیں:
(1) سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔
(3) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ. وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ (35:27-28)۔ یعنی کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے، اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بیشک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ (4) فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے، اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔