Al-Risala · February 2021

ایک مثال

Al-Risala, February 2021, pp. 7–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے ان حوالوں کی اہمیت اس وقت مجھے زیادہ اہمیت کے ساتھ سمجھ میں آئی، جب میں نے مندرجہ ذیل کتاب پڑھی:

The Bible, the Qur'an and Science: The Holy Scriptures Examined in the Light of Modern Knowledge, by Maurice Bucaille, Robert Laffont, 1982, pp. 269

یہ کتاب اصلاً فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعد انگریزی ، اور عربی وغیرہ متعدد زبانوں میں چھپ کر شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ دو مغربی سائنسدانوں نے مصر جاکر فرعون کی لاش کو دریافت کیا، اور تحقیق کرکے ثابت کیا کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے، جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں سمندر میں غرق ہوا تھا۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب عظمت قرآن میں لکھا ہے۔ اس مقالے کا ایک جزو یہاں نقل کیا جاتا ہے: تیر ھویں صدی قبل مسیح (13th century BC) میں مصر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا اس کا نام مرفتحاح (Merneptah) تھا۔ اس کا مقابلہ پیغمبر موسیٰ کے ساتھ پیش آیا۔ بتاتا ہے کہ وہ پیغمبر موسیٰ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔ البتہ وہ خود بحرِ احمر (Red Sea) میں غرق قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً (10:92) ۔ یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی موت کے بعد اس کی لاش نابود نہیں ہوئی، بلکہ وہ باقی رہی۔ بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ سمندر میں غرق ہونے کے بعد اس کی لاش سمندری جانور کھا جائے ۔ جسم کی حیثیت سے اس کا وجود باقی نہ رہے۔ لیکن یہاں بتایا گیا کہ فرعون کا جسم بدستور موجود ہے، اور وہ بعد والوں کے لیے ایک عبرت کا نشان بنے گا۔ یہ واقعہ بعد کے لوگوں کے لیے مکمل طور پر ایک غیر معلوم واقعہ بن گیا۔ کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ فرعون کی لاش کہاں موجود ہے۔ تقریباً دو ہزار سال بعد قرآن عرب میں اترا۔ اس میں مذکورہ آیت شامل تھی۔ لیکن بوقت نزول کوئی مسلم یا غیر مسلم اس حقیقت کو جانتا نہ تھا۔ یہ حقیقت تاریخ کا ایک فراموش شدہ واقعہ بنا ہوا تھا۔ لیکن انیسویں صدی کے آخر میں سائنس کے ذریعہ یہ واقعہ پیش آیا کہ فرعون کی لاش دوبارہ انسان کے علم میں آگئی۔ قصہ یہ ہے کہ فرعون کے مرنے کے بعد آل فرعون نے اس کی لاش کو قدیم طریقے کے مطابق سومیائی کرکے محفوظ کردیا، اور اس کو اہرام مصر میں ایک تاریخی یادگار کے طور پر رکھ

لیکن بعد کے زمانے میں کوئی بھی شخص اس حقیقت کو جانتا نہ تھا، نہ مصر کے اندر اور نہ مصر کے باہر۔ پروفیسر وکٹر لاریٹ(Victor Loret) پہلا شخص ہے جس نے 1898 میں مصر کے ایک قدیم مقبرہ میں داخل ہو کر دریافت کیا کہ یہاں مذکورہ فرعون کی لاش ممى کی ہوئی موجود ہے۔ 1907 کو ایلیٹ اسمتھ(Elliot Smith) نے اس لاش کے اوپر لپٹی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ باقاعدہ سائنسی تحقیق کی، اور پھر 1912 میں ایک کتاب شائع کی، جس کا نام ہے شاہی ممیاں (The کاربن ڈیٹینگ کے ذریعے ثابت ہو گیا کہ یہ ممی کی ہوئی لاش اسی فرعون کی ہے جو تین ہزار سال حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق کیا گیا تھا۔ ایک مغربی مفکر کے الفاظ میں: His earthly remains were saved by the Will of God from destruction to become a sign to man, as it is written in the Quran. فرعون کا مادی جسم خدا کی مرضی کے تحت برباد ہونے سے بچالیا گیا تا کہ وہ انسان کے لیے ایک نشانی ہو، جیسا کہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ بائبیل اور قرآن اور سائنس (The Bible, the Quran and Science) کے مصنف ڈاکٹر موریس بوکائی (Maurice Bucaille) نے 1975 میں فرعون کی اس لاش کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کتاب میں اس پر جو باب لکھا ہے، اس کا خاتمہ ان الفاظ میں کیا ہے:

Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo!

وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرے کو دیکھیں، وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہے۔ (عظمت قرآن، صفحات 31-30)۔

Printed page