برنامجنا اعداد المبرمجین
Al-Risala, August 2021, pp. 264–283
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی ہمارا پروگرام ہے پروگرام ساز افراد کو تیار کرنا۔ وقت کے روایتی ڈھانچے میں کھڑے ہو کر دیکھنے والوں کو یہ جواب سمجھ میں نہیں آسکتا تھا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تاہم اس سے قطع نظر جو اعتراض کیا گیا اس جملے پر ایک اور رخ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس جملے کو دوبارہ دیکھیے: ”مولانا کے پاس صرف الرسالہ اور لٹریچر ہے کوئی عملی پروگرام نہیں ہے۔ اس جملے میں بہت بڑا بالواسطہ اعتراف موجود ہے، گو یا وہ یہ اقرار کر رہے ہیں کہ فکر الرسالہ میں
تو کوئی ایسی بات نہیں ملتی جو قابل گرفت ہو، یا جس کو عقلی یا نقلی دلائل سے غلط ثابت کیا جا سکے۔ اعتراض بات بس یہ ہے کوئی عملی پروگرام مولانا کے پاس ہمیں نظر نہیں آتا۔ یہ جملہ کہہ کر گویا وہ الرسالہ کی صحتِ فکر کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ جملہ اعتراف ہے، نہ کہ جملہ اعتراض۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کچھ نادان لوگوں نے اس کو اعتراض سمجھ کر پھیلایا۔
القرآن مشن: دوسرا مغالطہ بعض احباب کو اس وقت پیشین آیا جب القرآن مشن کا آغاز ہوا، قرآن کے انگریزی ترجمہ کی اشاعت کے فوری بعد۔ 2010ء میں القرآن مشن کی شروعات ہوئی۔ اس کا خاص مقصد حدیث رسول میں کی گئی اد خال کلمہ کی پیش گوئی کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ مولانا نے اپنی ساری توانائی اور توجہ کے ساتھ پوری CPS ٹیم کو اس کام پر لگایا۔ اس کے لیے ہندستان کے مختلف شہروں میں کئی دعوہ میٹ منعقد ہوئے، جیسے دہلی، حیدرآباد، بنگلور اور ممبئی وغیرہ۔ ان دعوہ میٹس کا خاص مقصد دعوت الی اللہ کی اہمیت اور ٹیم اسپرٹ کو سی پی ایس ممبران میں پیدا کرنا تھا تا کہ قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے سب متحرک ہو جائیں۔
اس پر کچھ لوگوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مولانا نے اسلامی مرکز کے تاسیسی مقصد، یعنی علمی وتحقیقی کام سے، ہٹا کر ساری ٹیم کو بس قرآن کی تقسیم (Quran distribution) پر لگا دیا۔ جن افراد کو یہ اشکال پیش آیا انھوں نے میرے سامنے جب ذکر کیا تو ذہن کے حافظے میں یہ بات رہ گئی اور ذہن مسلسل اس پر سوچنے لگا۔ علمی و تحقیقی کام پر مولانا نے کہاں لکھا ہے ۔ ہوئے یاد آیا کہ مولانا نے اپنی کتاب تجدید دین کے باب ”علوم اسلامی کی تدوین“ کے تحت اس سلسلے میں کچھ لکھا ہے۔ فوراً تجدید دین کا متعلقہ باب دوبارہ پڑھا اور جب فہرست تدوین علوم اسلامی کو بغور دیکھا تو حیرت واطمئنان کی کیفیات سے دوچار ہوا۔ اطمینان اس بات کا کہ مجھے اس اشکال کا جواب مل چکا تھا، اور حیرت کی پہلی وجہ تھی کہ بار ہا اس فہرست کو میں نے دیکھا ہے، مگر پہلا نکتہ ہی یاد نہ تھا۔ دوسری وجہ یہ ہوئی کہ سنہ 1983ء میں پہلی بار تجدید دین شائع ہوئی تھی، جب کہ CPS اور القرآن مشن کا کوئی وجود بھی گویا اس وقت مولانا نے جس علمی وعملی کام کا نقشہ بنایا تھا۔ ٹھیک اسی پروگرام کے تحت مولانا کام کر رہے تھے۔ اس فہرست کے مطابق سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ درج ذیل ہے:
غیر عربی دانوں کے لیے قرآن پاک کے تراجم (بغیر تفسیر) شائع کرنا، مختلف زبانوں میں۔
اسی وقت مولانانے یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ پہلا کام تراجم قرآن کی اشاعت کا کام ہے۔ ڈسٹری بیوشن (distribution) کا عمل بھی اشاعت ہی کا کام ہے۔ ظاہر ہے یہ اشاعت دعوتی تقاضوں کو پورا کرنے ہی کے لیے مطلوب تھی۔ جب ترجمہ اور اشاعت کا کام ہو چکا تو اس کو خدا کے بندوں تک پہنچانا ہی سب سے اولین تقاضا ہوگا۔ اور پھر اس کام کی نوعیت بھی ذہن میں رہے کہ دنیا کے تقریباً 6 بلین انسانوں تک قرآن کو ان کی قابل فہم زبان میں پہنچانا ہے۔ گویا کام تو عین اپنے پروگرام اور مقصد کے تحت ہی ہو رہا ہے، نہ کہ مقصد سے ہٹ کر کیا جا رہا ہے۔ اور پھر قرآن ڈسٹری بیوشن کو دعوتی کام نہ سمجھنا دعوت الی اللہ کی تصغیر ہے۔
3 مسیح کی آمد ثانی اور مولانا کا موقف: تیسرا مغالطہ لوگوں کو اس وقت ہوا جب مولانانے مسیح کی آمد ثانی کی احادیث کی قابل فہم تاویل کرنے کی کوشش کی۔ اس مسئلہ کو لے کر مسلمانوں میں بہت سی بے اصل باتیں مشہور ہو چکی ہیں ۔ جیسے دوبارہ آسمان سے ایک خاص شہر اور ایک خاص جگہ پر مسیح کا جسمانی نزول ہوگا ، وہ دجال کو قتل کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ قدیم و جدید دور کے ممتاز اہلِ علم نے مسیح کے جسمانی نزول کا انکار کیا ہے۔ جیسے جمال الدین افغانی، مفتی محمد عبدہ، سید رشید رضا، مولانا عبید اللہ سندھی، ڈاکٹر محمد اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، جاوید احمد غامدی وغیرہ۔ اس سلسلے میں مولانا نے جو لکھا ہے، وہ ملاحظہ ہو:
”مصر کے مشہور عالم محمد بن احمد ابو زہرہ نے نزول مسیح کی تمام روایات کو اخبار آحاد کہا ہے اور وہ متواتر نہیں ہیں اور پہلی تین صدیوں کے بعد عوام میں مشہور ہوئی ہیں“ (الرسالہ جولائی 2008 صفحه 8) اس طرح کے معاملات میں جب کوئی تاویل سمجھائی نہ دے رہی ہو تو اہل علم کو دو طرفہ مشکل پیش آتی ہے، ان اخبار آحاد کو مان کر ایک ایسی بات کو تسلیم کیا جائے جو نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ عقل اسے قبول کر سکتی ہے، یا ان احادیث کا انکار کیا جائے۔ اس کشمکش سے ہر صاحبِ علم کو سابقہ پڑتا اس کشمکش سے نکلنے کی جستجو اور ایسی تاویل کی تلاش ہمیشہ مطلوب ہوتی ہے جو عقل اور قلب دونوں کے لیے اطمینان بخش ہو۔ جن اخبار آحاد میں مسیح کی آمد ثانی کا ذکر ہوا ہے ان کی بہترین تاویل کرنے کی مولانا نے دو طرح سے کوشش کی ہے، ایک وہ جو کتابچہ قیامت کا الارم میں موجود ہے۔
”ایک اعتبار سے، ظاہر ہونے والا شخص، امت محمدی کا ایک فرد ہوگا، اس اعتبار سے اس کو رجل مؤمن کہا گیا۔ دوسرے اعتبار سے وہ گم راہی کے عمومی اندھیرے میں ہدایت کی روشنی کو مکمل طور پر دریافت کرے گا، اس اعتبار سے اس کو مہدی کہا گیا ہے، یعنی ہدایت پایا ہوا شخص۔ ایک اور اعتبار سے وہ شخص امت محمدی کے آخری زمانے میں وہی رول ادا کرے گا، جو امت یہود کے آخری زمانے میں حضرت مسیح نے انجام دیا تھا۔ گویا کہ یہ تینوں الفاظ ایک ہی شخصیت کے تین پہلوؤں کو بتاتے ہیں، نہ کہ الگ الگ تین مختلف شخصیتوں کو“ (قیامت کا الارم صفحہ، 45)
دوسری تاویل وہ ہے جو مضمون ”مسیحی ماڈل کی آمد ثانی“ میں لکھا ہے۔ ”جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں کا زمانہ نبوت قیامت تک ہے، اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طور پر آنا نا قابل فہم بات ہے۔ اس لیے ان روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی، وہ مسیح کی آمد ثانی نہیں ہے، بلکہ مسیح کے ماڈل کی آمد ثانی ہے۔ یعنی بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابل انطباق (applicable) بن جائے گا۔ حیدر آباد دعوہ میٹ میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک نشست میں مولانا نے فرمایا کہ دراصل محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح پیغمبر امن ہیں جس طرح پیغمبر مسیح کو سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے یہاں بھی پرامن ماڈل پوری طرح موجود ہے، مگر بعد کے ادوار میں امت محمدی جہادی ماڈل (معنی قتال) سے اس قدر کنڈیشنڈ ہو جائے گی کہ وہ آپ کے پرامن ماڈل کو دریافت کرنے سے عمومی طور پر قاصر رہے گی، غالباً اس دور میں جو چیز واقع ہوگی وہ یہ کہ پرامن طریقہ کار ہی قابل عمل ہوگا، اسی بات کو حدیث میں تمثیل کی زبان میں مسیح کی آمد ثانی کہا گیا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ مسیح کی آمدثانی کا عقیدہ، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اخبار آحاد اور اسلامی لٹریچر میں پہلے سے موجود ہے۔ اور اس مسئلہ کی مولانا نے جو قابل فہم تاویل پیش کی ہے، اس تاویل کو ماننا لازمی نہیں ہے۔ اس مسئلہ میں آپ کے اور ہمارے لیے اب جو انتخاب ہے وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح کا آسمان سے جسمانی نزول مانیں، یا ان اخبار آحاد کا انکار کریں۔ تیسرے یہ کہ مولانا
کی پیش کردہ قابل فہم تاویل کو مانیں ۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس معاملے میں اپنے آپ کو کس گروہ کے ساتھ بریکٹ کرنا پسند کرتے ہیں ۔
آریس ایس، بی جے پی اور مولانا: چوتھا مغالطہ یہ ہوا کہ مولانا بی جے پی اور آریس لیس سے ملے ہوئے ہیں ۔ یہ غلط فہمی لوگوں کو محض ان کے غیر داعیانہ مزاج کی وجہ سے ہوئی ۔ اگر مسلمانوں میں داعیانہ مزاج ہوتا تو ان کے اندر انسانوں سے خیر خواہی کا مزاج ہوتا ، وہ مدعو سے ملاقات کو غنیمت سمجھتے ، مدعو کی تالیف قلب کرتے ہوئے دین کا پیغام ان تک پہنچانے کے مواقع تلاش کرتے ۔ مولانا کے اندر خالص داعیانہ مزاج تھا ، جہاں بھی مدعو کے سامنے اپنی بات پیش کرنے کا موقع ملتا وہاں پہنچ جاتے تھے ۔ جیسا کہ مولانا نے وضاحت کی ہے۔
ہندوستان میں غیر مسلم دو طرح کے ہیں۔ ایک ، نو پرابلم ( سیکولر ) طبقہ اور دوسرا ، پرابلم طبقہ۔ مسلمان یہ کرتے ہیں کہ نو پرابلم طبقے کے لوگوں سے مل کر جلسے اور پروگرام کرتے ہیں تا کہ ان کی تائید حاصل کر سکیں ، اس سے ہمارا مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے ۔ مولانا نے انتہائی حکمت سے پرابلم گروہ میں کام کیا اور ان کے ذہن سے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔ (ملاحظہ ہو اوراق حیات ، صفحه 825-824)
اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ محمد علی جناح کی قیادت میں تقسیم کی تحریک چلا کر مسلمانان ہند نے ہندوستان میں رہنے کا اخلاقی جواز کھودیا ہوتا ، اگر دو مسلم رہنما موجود نہ ہوئے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے ، مولانا حسین احمد مدنی (بشمول جمعية العلماء ہند ) ۔ دونوں کا یہ احسان ہے کہ انھوں نے ہمیں سر اٹھا کر ہندوستان میں رہنے کا اخلاقی جواز فراہم کیا۔ دونوں نے مذہبی بنیاد پر تقسیم ہند اور دو قومی نظریہ کی پرزور مخالفت کی، قومی یکجہتی اور ملک کی تعمیر وترقی میں بھر پور اپنا حصہ ادا کیا، مگر بد قسمتی سے آزادی کے بعد جتنے بھی مسلمانوں کے لیڈرور رہنما پیدا ہوئے ، سید شہاب الدین سے لے کر موجودہ رہنماؤں تک ، سب مسٹر جناح کا تسلسل ثابت ہوتے ہیں، سوائے دو کے ۔ ایک ، مولانا وحید الدین خاں اور دوسرے، سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام۔ جدید ہندوستان میں ملک اور قوم وملت کی تعمیر و ترقی کے لیے ان کی خدمات و تعاون (credibility and contribution) کسی بھی درجہ میں مولانا آزاد اور مولانا مدنی کی خدمات سے کم نہیں ہیں۔ دونوں نے برادران وطن کی
نظروں میں مسلمانوں ان ہند کے وقار کو بلند اور وفاداری کو غیر مشکوک بنایا۔ کشمیر و فلسطین اور مولانا کا موقف: کشمیر کا مسئلہ بھی غیر داعیانہ ذہن کی پیداوار ہے۔ اس مسئلے کو ایک داعی کی طرح دیکھتے تھے۔ مولانا جس کشمیر کا تصور کرتے تھے اس کا خاکہ کچھ اس طرح کا تھا:
"کشمیر کو خدا نے بے پناہ سیاحتی کشش رکھنے والا خوبصورت قدرتی مناظر کا مرکز اور مخصوص پلاننگ کے تحت ایک مسلم اکثریتی علاقہ بنایا تا کہ دنیا بھر سے سیاح وہاں آئیں اور کشمیر ایک بہت بڑا عالمی دعوتی مرکز بن جائے۔ کشمیری اس منصوبہ خداوندی کو سمجھتے اور مکمل طور پر پر امن دعوتی کام میں اپنے آپ کو لگاتے ہوئے ہر سیاح کو قرآن پہنچاتے رہتے تو نہ صرف یہ کہ بہت بڑا دعوتی کام ہوتا بلکہ اس طرح وہ دنیا و آخرت دونوں میں خدا کی خصوصی مدد و نصرت کے مستحق بھی بن جاتے۔ مگر افسوس کشمیر کے کچھ لیڈروں نے مولانا کی پرامن دعوتی آئیڈیالوجی کے بجائے پرتشدد سیاسی آئیڈیالوجی کو اختیار کیا، جس کی وجہ سے یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔ اور اس کے برعکس، روز بہ روز کشمیر اور کشمیر یوں کی تباہی و بربادی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔
فلسطین کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ فلسطین بھی اپنی قدیم مذہبی تاریخی آثار کی وجہ سے عالمی سیاحوں کا مرکز ہے۔ اسی لیے فلسطین میں دعوت کا عالمی مرکز بننے کا پورا امکان موجود ہے، مگر افسوس فلسطین اور کشمیر دونوں کی کہانی ایک جیسی ہے۔
ان نامساعد حالات کے باوجود خدا کا فضل ہے کہ دونوں جگہ اب CPS کی ایک مضبوط ٹیم وجود میں آچکی ہے اور خاموشی سے اپنا کام کر رہی ہے۔
(6) بابری مسجد اور مولانا کا موقف: دوسرے معاملات کی طرح بابری مسجد کے مسئلے میں بھی مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے نے مولانا پر بڑی زیادتی کی ہے۔ مولانا کے موقف کو پڑھے اور سمجھے بغیر بات کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔ حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا so called دانشور طبقہ کیا اتنا کم فہم ہے کہ وہ کسی بات کو سمجھنے کی اپنے اندر سرے سے کوئی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ کسی نے کہا بابری مسجد مولانا نے ہندوؤں کو دے دی، کسی نے کہا مولانا نے مسلمانوں کو مسجد سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا، وغیرہ وغیرہ۔
بابری مسجد کے معاملے میں مولانا نے جو رائے دی اس کی درجہ ذیل ترتیب ہے۔ ترتیب (chronology) کو سمجھے بغیر مولانا کا موقف واضح نہیں ہوسکتا۔ اس کی وضاحتی ترتیب کچھ اس طرح ہے:
اس معاملے میں مسلمانوں کو کم سے کم جو کرنا تھا وہ یہ تھا کہ یکم فروری 1986 کے بعد بھی وہ اسی طریقہ پر قائم رہتے جس پر وہ اس سے پہلے قائم تھے یا دوسری سیکڑوں مسجدوں کے بارے میں آج بھی جس طریقہ کو وہ عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یعنی مذکورہ غلط فیصلہ کو قانون اور گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرنا۔ (قیادت نامہ، صفحہ 79)
مولانا کا پہلا مشورہ یہ تھا۔ مگر ہمارے لیڈروں اور اخبارات نے اس کے بالکل برعکس جو کچھ کیا، وہ یہ تھا: بند، گرفتاری، دھرنا، ریلی، جلسوں اور تقریروں کے ہنگامے شروع کردیے۔ اخبارات نے اس موضوع پر تیز و تند سرخیاں قائم کر کے مسلسل دھواں دھار مضامین شائع کیے۔ طرح اس مسئلے کو مقامی سطح سے اٹھا کر بین الاقوامی مسئلہ بنا کر پورے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شدید ترین تناؤ کا ماحول بنا دیا۔
دوسرے مرحلے میں جب حکومت اور عدالت دونوں کوئی پائیدار فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے، اس وقت ایک میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی کہ تاریخ دانوں کے ایک بورڈ کو ثالث بنا کر معاملہ اس کے حوالے کیا جائے تا کہ وہ تاریخی آثار کی روشنی میں جانچ کر بتائے کہ مسجد کسی دوسری عمارت کو توڑ کر تو نہیں بنائی گئی ہے۔ ہندو فریق کے نمائندوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا مگر مسلم فریق کے ایک لیڈر نے ہنگامہ کر کے اس کو ماننے سے انکار کیا۔ (ملاحظہ ہو مضمون، قیادت کا دیوالیہ پن، اس مسئلہ پر جلسہ، جلوس، نعرے بازی و بیان بازی کر کے نفرتوں کو اتنی ہوا دی گئی کہ فرقہ پرستی کا سویا ہوا فتنہ جاگ اٹھا۔ تمام فرقہ پرست عناصر متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے، جس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ اگلے الیکشن میں بی جے پی کی نشستیں 2 سے 89 ہوئیں اور پھر 89 سے بڑھ کر 180 ہو گئیں (اب 300 تک پہنچ چکی ہیں)۔ بالآخر اس سیاست کا انجام یہ ہوا کہ بابری مسجد 6 دسمبر 1992 کو گرا دی گئی اور اس کی جگہ ایک عارضی مندر بھی پولیس اور فوج کی موجودگی میں بنا دیا گیا۔
3- تیسرا مرحلہ۔ مسجد شہید ہو چکی ہے، پورے ملک میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ گویا ایک آتش فشاں ہے جو اگر پھٹ جائے تو سب کچھ جل کر خاک ہو جائے گا۔ حالات کی نزاکت اور سنگینی کا بروقت مولانا نے ٹھیک اندازہ لگایا، حالات جس رخ پر جا رہے تھے اور اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اس کو سمجھنے کے لیے درج ذیل سطور ملاحظہ ہوں:
”6 دسمبر سے پہلے ہمارے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ بابری مسجد کو کس طرح بچائیں۔ 6 دسمبر کے بعد اب مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو کس طرح بچایا جائے اور اجودھیا جیسے واقعہ کو کسی اور مقام پر دہرانے کو کس طرح روکا جائے، شریعت کی روشنی میں پوری طرح سوچ بچار کرنے کے بعد اس کے حل کے لیے میں نے تین نکاتی فارمولا پیش کیا ہے جو کہ اس طرح ہے:
مسلمان بابری مسجد کے بارے میں اپنے ایجی ٹیشن کو ختم کر دیں، ہندواپنی مندر تحریک کو اجودھیا ہی میں ہمیشہ کے لیے اسٹاپ کر دیں۔ گورنمنٹ عبادت گاہوں کے تحفظ کے ایکٹ (1991) کو دستور ہند کا جز بنا دے‘‘۔ (الرسالہ، مئی 1993، صفحہ 4)
اس فارمولے کو غور سے دیکھیے، اس کے بین السطور کو سمجھیے۔ کتنا معقول فارمولا مولانا نے دیا اس فارمولے کے تحت مولانا مسلمانوں کو مسجد کے ایجی ٹیشن کو ختم کرنے یا بالفاظ دیگر مسجد سے دستبردار ہونے کا مشورہ کب دے رہے ہیں۔ غور کیجیے، یہ مشورہ کب دیا جا رہا ہے۔ یہ مشورہ اس وقت دیا جا رہا ہے جب کہ مسجد کا وجود ختم کر دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو مسجد کی عمارت سے دستبردار کیا جا چکا ہے، تمام مسلم رہنما صرف تماشہ دیکھتے رہنے کے علاوہ کچھ نہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اب دوبارہ مسجد وہاں بننے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اب وہاں جو کچھ ہے وہ مسجد نہیں مسجد کا ملبہ پڑا ہوا ہے، اگر آپ دانشمند ہیں تو اب آپ اس ملبہ سے (نہ کہ مسجد سے) صرف اعلان دستبرداری کر کے (آپ کی عملی دستبرداری تو ہو چکی ہے، یعنی جو چیز آپ کھو چکے ہیں اس سے اعلان دستبرداری کر کے) 15 کروڑ مسلمانوں اور ہماری اگلی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے، اگلے دونکات حاصل کر سکتے ہیں۔ تھا مولانا کا اصل مشورہ (بین السطور کو اپنی دانست میں میں نے کھولنے کی کوشش کی ہے)۔ اور اگر آپ اس ملبہ سے دستبرداری کے لیے تیار نہیں تو کیا ہوگا، مولانا کی اس پیشین گوئی کو بھی سن لیجیے۔ مولانا کے الفاظ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں، ملاحظہ ہو:
6 دسمبر کے حادثہ کے معاملہ میں نوعی اور بنیادی تبدیلی ہوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اب مسئلہ بابری مسجد کے تحفظ کا نہیں ہے۔ اب اصل مسئلہ خود مسلمانانِ ہند کے تحفظ کا ہے۔ اب اگر مسلمان اپنی اس احتجاجی تحریک کو مزید جاری رکھیں جس طرح اس ایشو پر وہ 6 دسمبر سے پہلے چلا رہے تھے تو یقینی طور پر اس کا نتیجہ یہ نہیں نکلے گا کہ مذکورہ مقام پر دوبارہ بابری مسجد بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس عملاً جو نتیجہ نکلے گا وہ یہ ہوگا کہ مسلمان پورے ملک میں فسادات کی زد میں آجائیں گے۔ وہ بے شمار ایسی مشکلوں میں گھر جائیں گے کہ اس ملک میں عزت کے ساتھ رہنا ہی ان کے لیے دشوار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ 6 دسمبر کے بعد دو اور دو چار کی طرح یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اس معاملے میں اب مسلمانوں کے لیے جو انتخاب ہے وہ بابری مسجد بنانے یا بابری مسجد نہ بنانے کے درمیان نہیں ہے، بلکہ بابری مسجد اور ملت کی تباہی کے درمیان ہے۔ یعنی مسلمان اگر دوبارہ اسی مقام پر بابری مسجد تعمیر کرنے کی مہم چلائیں تو اس کے نتیجہ میں یہ نہیں ہونے والا ہے کہ بابری مسجد اپنے اصل مقام پر بن کر کھڑی ہو جائے۔ اس کے برعکس، جو ہوگا وہ یہ کہ انڈیا کے مسلمان ناقابلِ بیان تباہی میں بین القوسین کی عبارت پر غور کیجیے۔ آج لفظ بہ لفظ یہ بات صحیح ثابت ہو چکی ہے، مسجد اب دوبارہ وہاں نہیں بن سکے گی۔ 1993ء میں ہی ایک صاحبِ بصیرت انسان کو یہ سمجھ میں آچکا تھا، مگر ہمارے دانشورانِ ملت کو اس وقت کیا سمجھ میں آتا، نہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد آیا، اور نہ 9 نومبر 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد۔ آج صورت حال یہ ہے کہ CAA اور NRC جیسے قوانین کا مسئلہ درپیش ہے۔ کئی والدین اس خدشے سے پریشان ہیں کہ ہماری اگلی نسلوں کا مستقبل کیا ہوگا، ہمارے رہنماؤں نے اپنی نااہلی سے ایک بھیانک تاریکی میں پوری قوم کو دھکیلا ہے۔ اب اس پر کچھ احباب کو یہ شکایت ہے کہ CAA اور NRC پر مولانا نے کوئی رہنمائی نہیں حالاں کہ رہنمائی تو ان لوگوں سے طلب کرنی چاہیے، جو مولانا کے پیشگی تنبیہ کے باوجود، ان حالات کو پیدا کرنے کے براہِ راست ذمہ دار ہیں، اور برابر ملت کو اسی راستے پر ہانکے جا رہے ہیں۔ اب واحد خدائے عالم الغیب کی ذات ہی سے امید ہے کہ وہ اگلی نسل کو ہماری کوتاہیوں اور ہمارے رہنماؤں کی نادانیوں کے نتیجہ میں پیدا شدہ حالات سے نکلنے کے اسباب بھی فراہم کرے گا۔
مولانا کی تحریریں میری نظر میں محمد ندیم ندوی، مظفر نگر مولانا کے متعلق پہلا تعارف لکھنؤ میں دورانِ تعلیم ہوا، یہ تعارف منفی تھا۔ دوسرا تعارف اس وقت ہوا جب میں نے ندوہ کی لائبریری میں پیغمبر انقلاب کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب نے میرے زاویہ فکر کو تبدیل کر دیا۔ یعنی یہ معاملہ قدیم اسلوب تحریر اور عصری اسلوب تحریر کا ہے، منفی ہونے کا معاملہ پھر میں نے مولانا کی کتابوں کا باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ مولانا کی کتابوں کے متعلق تاثرات کو میں چند نکات کی روشنی میں رکھوں گا:
علمی تنقید زندہ قوم کی علامت اور اس کی بقاء کا ذریعہ ہے اور تعمیر ملت کا لازمی جزء ہے۔ آپ کو مولانا کی تحریروں میں جا بجا نظر آئے گی، خصوصاً "شتم رسول کا مسئلہ" نامی کتاب میں علمی تنقید کا اعلیٰ نمونہ موجود ہے۔
مولانا نے ثابت کیا کہ کیسے ہم موجودہ مسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کر سکتے جب کہ دیگر علماء، پچھلی صدیوں ہی میں گم نظر آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مولانا کی کتاب مسائل اجتہاد بہت اچھی کتاب ہے۔
مولانا کی تحریروں سے انسان کے اندر تعمیری صلاحیت اور عملی جذبہ پیدا ہوتا ہے جو تعمیر انسانیت کے لیے ناگزیر ہے۔ جیسے رازِ حیات، تعمیر حیات اور ’’نشری تقریریں" کے بعض خطبات۔ ان کتابوں کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا مولانا ایک موٹیویشنل آرٹ کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ہندوستان کے مسائل پر مولانا نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے، اور ہر محبِ وطن کے لیے اس کا مطالعہ لازمی ہے۔ اس سلسلہ میں مولانا کی "ہند پاک ڈائری" اور "ہندوستانی مسلمان" بہت عمدہ کتابیں ہیں۔
مولانا کی تحریریں معرفتِ الہی کا ذریعہ بنتی ہیں، اور بندے کا رب سے تعلق مضبوط کرتی یہ چیز مولانا کی "کتاب معرفت" اور "اللہ اکبر" میں نمایاں ہے۔
مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ خارجی سیاست سے پہلے داخلی سیاست (اصلاح) لازمی ہے، جو مشکل امر ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ گزشتہ صدی میں اسلام کے نام پر جتنی تحریکیں وجود میں آئیں ان کا تعلق خارجی سیاست سے تھا۔ انہوں نے اصلاح بین المسلمین کی کوشش نہیں کی، اس سے صرف تبلیغی جماعت کو مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں مولانا کی کتاب قیادت نامہ، تصویر ملت ایک نشان راہ کا کام کرتی ہے۔
مولانا کی تحریروں کا مرکزی نقطہ جس کے لیے مولانا نے ساری زندگی وقف کی تھی، وہ یہ تھا کہ امت کو اس کا فرض منصبی یاد دلایا جائے، تاکہ مسلمان اللہ کی امانت لوگوں تک پہنچائیں ۔ کو اللہ کا تعارف کرائیں جس کے متعلق یہ امت مجرمانہ غفلت میں پڑی ہوئی تھی۔ اس موضوع پر مولانا نے بہت کام کیا جن میں سے چند کتابیں یہ ہیں: دور دعوت، اسلامی دعوت، دعوت اسلام، حل یہاں ہے، وغیرہ۔
مولانا وحید الدین خان اس صدی کے نابغہ تھے۔ فکری وضوح، سلاستِ تحریر، مشاہداتی انداز، تاریخی تناظر، تجدیدی و تنقیدی، سائنسی و عصری، مثبت و تعمیری انداز تفکر ان کے وہ اوصاف ہیں جو انہیں عہد حاضر کے کسی بھی مسلم مفکر سے ممتاز کرتے رہیں گے ۔ وہ اپنا کام کر گئے ۔ اللہ پاک ان سے راضی اللہ کرے کہ ہمیں اپنے حصے کا کام کرنے کی توفیق نصیب ہو۔ آمین یا رب (اختر ضیاء، گوجرہ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ)
مولانا وحید الدین خان اور علماء کا اعتراض مولانا انس ملک ندوی ، سورت گجرات مولانا وحید الدین صاحب اب اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف سنجیدہ لوگ دھیرے دھیرے ان کی خدمات کا اعتراف کرنے لگے ہیں تو وہیں پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں، اور عوام کے مابین اپنی شہرت اور مقبولیت کے سبب لوگوں کو مولانا کے فکر سے بدظن کرتے ان کی حیات میں یہی علماء ان کی کردار کشی کے درپے تھے اور آج ان کے اس دار فانی سے جانے کے بعد بھی ان کے خلاف جھوٹ اور بہتان باندھنے سے باز نہیں آتے دکھائی دیتے ، اور یہ سب وہ دین کے نام پر کرتے ہیں۔
بلاشبہ یہ بہت ہی بڑا اور بہت ہی سنگین جرم ہے۔ کاش کہ یہ لوگ آخرت کی جوابدہی کا احساس مجھے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ حسد جیسی برائی علماء کی ایک موروثی برائی ہے۔ میری مراد علماء ئے سوء ہیں۔ ہمیشہ سے یہ چلا آ رہا ہے کہ ہر مصلحین کے ساتھ وقت کے دینی طبقہ کے پیشواؤں نے یہی سلوک کیا ہے۔ کسی سے اگر آپ کو علمی بنیاد پر اختلاف ہوا ہے تو اس کو اختلاف ہی تک محدود رکھنا چاہیے اسے نزاع اور کردار کشی تک نہیں جانے دینا چاہیے۔ بلاشبہ یہ سنگین جرم ہے۔ اب ہم جائزہ لیں گے کہ آخر ہمارے علما، کے اعتراضات کیا ہیں۔ کیا واقعی ان میں کوئی سچائی بھی ہے یا نہیں؟ مولانا وحید الدین خان پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، وہ یہ ہیں: مولانا وحید الدین خاں اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔
مولانا وحید الدین ایک متنازع شخصیت ہیں۔ وہ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ مولانا وحید الدین الہدیث ہیں، تین طلاق کے حق میں نہیں ہیں۔
وہ غیر مسلموں کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔
مولانا جہاد بالسيف کے قائل نہیں۔
مولانا تبلیغی جماعت کی مخالفت کرتے ہیں۔
7- بابری مسجد کے بارے میں مولانا کا موقف دوسرے علماء سے الگ کیوں ہے؟
8- رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مولانا نے کہا ہے کہ وہ اسوہ حسنہ ہیں، اسوہ کاملہ نہیں۔ 9- مولانا شاتم رسول کی سزا کے قائل نہیں ہیں۔
10- آمد مسیح اور دجال کو ایک الگ زاویے سے دیکھتے ہیں۔
سب سے پہلے جو چیز سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ مولانا وحید الدین خان دین اسلام کے ایک سچے داعی ہیں اور حقیقی معنی میں اسلام کے مزاج اور اس کی روح سے آشنا ایک عالم دین۔ تبھی آپ مولانا کی فکر کو ان کے مشن کو سمجھ سکتے ہیں۔ ورنہ آپ انہیں اگر دوسرے علماء کی طرح سمجھیں گے تو ان کی باتوں کو سمجھنا یاد رکھیے کہ گائے کی غذا گھاس ہے اور شیر کی غذا گوشت۔ اسی طرح ہر آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ مولانا کو سمجھ سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا ذہنی مستوی بلند کرے۔ کند ذہن ذھن کا آدمی اس قابل نہیں کہ وہ مولانا وحید الدین خان جیسی علمی شخصیت کو سمجھ سکے۔ جو کوئی بھی بلا تعصب مولانا صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرے گا وہ با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ مولانا کے دلائل ایسے ہیں کہ اس کا کوئی جواب ہمارے رواجی علماء کے پاس موجود نہیں۔ دلیل کی سطح پر علماء پوری طرح بے بس ہیں۔ مولانا صاحب کی پوری فکر قرآن وسنت پر مبنی ہے۔ سالوں سے مولانا کی کتابوں کو پڑھنے کے بعد اور ان کی زندگی کو بغور مشاہدہ کرنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا کی پوری زندگی رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے تعبیر ہے۔ سادگی، قناعت، صبر وتحمل، خدا کی معرفت، اور آخرت کا انداز— اسی سے مولانا کی پوری زندگی عبارت ہے۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مولانا کے متعلق ایک شخص نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ وہ تو آخرت نویسی کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ بات بالکل درست ہے کہ مولانا کی تمام کتابیں اور ان کی زندگی کے روزو شب اسی سے عبارت ہیں۔ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت خدا کی معرفت، مخلوق کی خیر خواہی یہی ساری چیزیں مولانا کی کتابوں میں آپ پائیں گے۔ والے کی یہ بات درست ہے۔ لیکن بس اسے طنزیہ نہیں، بلکہ تعریف میں ہونا چاہیے تھا۔ دراصل معاملہ تو اصل آخرت ہی کا ہے۔ مخلوق کی خیر خواہی میں اپنے آپ کو پگھلا ڈالنا۔ خدا کی معرفت اور دین اسلام کی تبلیغ کے علاوہ مولانا کو کبھی کسی اور معاملے کے لیے اتنا فکر مند اور بے چین نہیں پایا۔
رسول اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کر دیا (شَيْبَتْنِي هُودٌ وَأَخَوَاتُهَا) الطبقات الکبریٰ، جلد 1، صفحہ 334۔ بلاشبہ مولانا کی ذات میں آپ اسی فکر و تڑپ کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ خدا کے دین کے سچے داعیوں کو جو اذیت مذہبی گدیوں پر بیٹھنے والوں نے دی ہے وہ کسی دوسرے نے نہیں دی۔ حضرت مسیح کی زندگی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ ویسے یہ دنیا آزمائش کے اصول پر بنی ہے۔ یہاں کھوٹا سکہ چل جاتا ہے اور کھرا رہ جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مدارس آج کی ایجاد ہیں۔ یہ کوئی دین کا معیار نہیں کہ آٹھ سال یا دس سال مدارس میں تعلیم لینے سے انسان خدا کے نزدیک بھی علامہ کا لقب پا لے۔ بلاشبہ یہ بالکل غلط تصور ہے۔
میں علم دین اور علماء کا مخالف نہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ چند سال مدرسے میں پڑھ لینے سے کوئی اللہ والا عالم نہیں ہو جاتا۔ یہ چند سالوں پر مشتمل علم کے ایک کورس کو مکمل کرنا ہے۔ اس سے عملاً دین کے تعلق سے معلومات حاصل ہوتی ہے، نہ کہ خشیت الہیٰ اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ یہ روایتی تعلیم کسی کو خدا کے نزدیک عالم قرار نہیں دے سکتی، اگر اس کے اندر تقویٰ اور محبت الہی وغیرہ پیدا نہ ہوئی ہو۔ قرآن پاک کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو علماء وہ ہیں جو خدا کی خشیت میں کانپتے رہتے ہیں (فاطر، ان کے دل ہمیشہ خدا کی یاد سے آباد رہتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ دنیا اعتراف اور بے اعترافی کی امتحان گاہ ہے۔ کرو گے تو خدا کی جانب سے انعام ہے اور اگر بے اعترافی کرو گے تو بلا شبہ خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ اب ہم بات کرتے ہیں ان اختلافی موضوعات کی جن کو لے کر کچھ نادانوں نے مولانا کی کردار کشی کرنا چاہی اور مولانا کے خلاف مسلمانوں میں غلط فہمیاں پیدا کیں۔ ان میں سرفہرست مولانا پر یہ الزام ہے کہ وہ اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔
پہلا اعتراض مولانا صاحب امت کے اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں تو بھائیو اس امت کا ہر وہ بڑا عالم جو زندہ تھا اور غور و فکر کرتا تھا وہ اجماع سے ہٹا ہوا کہلاتا تھا۔ ہاں مگر جب وہ مر جاتا تو امام، شیخ الاسلام اور نہ جانے کیا کیا القابات سے نوازا جاتا۔ مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ امام ابو حنیفہ، شافعی، مالک اور احمد ان کی تاریخ آپ پڑھ لیں آپ کو جواب مل جائے گا۔
کیا مولانا وحید الدین خان اجماع سے ہٹے ہوئے تھے؟ علماء، عام طور پر عوام کو مولانا وحید الدین خان کے خلاف صرف اسی جملے سے سے متنفر کرتے ہیں کہ مولانا اجماع سے ہٹے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے یہاں جو محتاط رویہ اختیار کیا جاتا ہے وہ آپ کو دوسری جگہ دیکھنے کو نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ مولانا نے کچھ اکابرین پر تنقیدیں کی ہیں اور اس کے پیچھے بھی محرک صرف یہ تھا کہ دین اسلام کی حقیقی تصویر انسانیت کے سامنے آئے اور اسلام کا حقیقی چہرہ جو کہ ان اکابرین کی سیاسی اور جارحانہ تعبیر کے گرد و غبار میں چھپ چکی تھی، وہ چھٹ جائے۔ اور اسلام کا روشن چہرہ پوری انسانیت دیکھ سکے۔ مولانا کی زندگی کا ایک اہم اصول یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو صرف ان ہی کاموں میں مشغول رکھتے اور انہی امور میں بولتے جہاں کوئی نتیجہ خیز عمل کی امید ہو، ورنہ وہ خاموشی ہی کو ترجیح دیتے اکابرین کے خلاف ان کی تنقیدیں در حقیقت علمی تجزیہ ہوتی تھیں، تنقید کے نام پر کسی کی تنقیص کرنا ان کا مسلک نہیں مولانا کی فکر کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مولانا ایک داعی ہیں۔ اسلام کے سچے داعی۔ دعوت اسلام ان کی زندگی کا مشن ہے جس کے سبب ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں مولانا کی رہنمائی ہمیشہ سے یہی رہی کہ اس ملک میں ہر حالت میں امن برقرار رہنا چاہیے۔ کہ اگر امن نہیں ہوگا تو اس ملک میں دعوت کے مواقع برباد ہو جائیں گے۔
مولانا صاحب کی اسی حکمت کا یہ نتیجہ ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مولانا پہلے شخص ہیں جو غیر مسلموں کے اعلیٰ افراد تک اسلام کی صحیح ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ثابت ہوئے۔ کے متعلق جو غلط فہمی ہندوستان کے غیر مسلم عوام کو لاحق تھی، ان کے ازالہ کا ایک بہت بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مولانا کی ذات کو بنایا۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان مساعی کو شرف قبولیت بخشے اور اس ٹیم کو دین کی خدمت کے لیے مزید بہتر کارکردگی کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
دوسرا اعتراض ہے کہ مولانا وحید الدین خان ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ ان کو قبول عامہ میں کہوں گا کہ متنازعہ ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی سنت ہے۔ کیوں کہ داعی کا کام حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ہوتا ہے۔ اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا وہ معاشرے میں متنازعہ ہو کر ہی رہے گا۔ انبیاء کی تاریخ اس کی شاہد ہے۔
تیسرا اعتراض مولانا کے متعلق یہ کیا جاتا ہے کہ مولانا احناف کے مسلک سے ہٹے ہوئے اس طرح کے اعتراضات ہی سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے علماء کے یہاں مسالک اور گروہ بندی کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔ تو ظاہر ہے کہ جو عالم اتحاد بین المسالک کے ساتھ انسانیت کو جوڑنے کی آواز بلند کرے وہ ان میں مقبول کیسے ہو سکتا ہے۔
مولانا اس طرح کی باتوں کو ایمانیات میں شمار نہیں کرتے تھے۔ ہاں، مولانا حنفی مسلک کے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جو باتیں قرآن اور سنت سے غلط ثابت ہو جائیں، اسے صرف اس بنا پر صحیح سمجھیں کہ ان کا مسلک اس کا حکم دیتا ہے۔ تین طلاق کے متعلق سبھی لوگ جانتے ہیں کہ مولانا اس سلسلے میں سلفی مسلک کو زیادہ درست مانتے تھے۔ کیوں کہ موجودہ حالات کو مدنظر रखते ہوئے اور دینی مزاج کو دیکھتے ہوئے یہی مسلک زیادہ راجح نظر آتا ہے، اور اسی سبب سے خود مختلف مسلم ممالک نے بھی اب اسی کو اپنایا ہوا ہے۔ جیسے سعودی عرب، یو اے ای اور انڈونیشیا وغیرہ نے۔ چوتھا اعتراض یہ کہ مولانا صاحب غیر مسلموں کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔ نزدیک یہ سارے بودے اعتراضات کی اصل وجہ دعوتی ذہن کا نہ ہونا ہے۔ ورنہ یہ جانتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے میلوں میں کیوں جاتے تھے؟ دعوت دین اس امت کا اصل مشن ہے۔ دعوت کا ذہن مفقود ہے تو اس امت کا خیر امت ہونا یقیناً مشکوک ہے۔ مولانا ایک داعی تھے۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے میلے میں جا کر دعوت دیا کرتے تھے۔ لہذا دعوت کے لیے جو مواقع ملیں، انھیں اویل کرنا ایک سچے داعی کا کام ہے، اور مولانا یہی کرتے تھے۔
مولانا کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مولانا جہاد بالسيف کے قائل نہیں۔ یہ مولانا پر سراسر ایک الزام ہے جس کی ہمارے علماء کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں۔
مولانا نے کبھی یہ نہیں کہا کہ جہاد بالسيف اب منسوخ ہو چکا ہے۔ مولانا صرف یہ کہتے ہیں کہ جہاد بالسيف خدا کا عارضی حکم تھا۔ جب کہ جہاد بالقرآن یعنی دعوت کا کام اسلام کا ایک ابدی حکم ہے۔ دعوت دین یا دین کی نسبت سے اب قتال بالسيف عملاً موقوف ہے حکماً منسوخ نہیں۔ سمجھائے ان نادانوں کو جو کچھ کا کچھ مطلب اپنے ذہن سے نکال لیتے ہیں۔ البتہ یہ درست ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو لڑائیاں کشمیر، افغانستان، عراق، ایران اور فلسطین میں لڑی جارہی ہیں، ان کو مولانا
جہاد کا نام نہیں دیتے تھے۔ بلکہ اسے قومی لڑائیاں شمار کرتے تھے۔ اگر آج مسلمان مولانا کے مشوروں کو قبول کرلیں تو یقیناً ان کے لیے یہ سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوگی۔ مگر کچھ لوگوں نے دین کی سیاسی تعبیر کر کے اس خونریز لڑائیوں کو جواز بخش دیا ہے، جس سے آخر یہی ہوگا کہ مسلمان مزید سے مزید تر ہلاکت کے گڑھے میں گرتے چلے جائیں گے۔
چھٹا اعتراض مولانا پر یہ ہے کہ مولانا مصلحت کی بنا پر تبلیغی جماعت کے حامی ہیں، ورنہ دراصل تبلیغی جماعت کے مخالف ہیں۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ یا تو کلی طور پر کسی کی موافقت کو جانتے ہیں یا کلی مخالفت کو۔ جب کہ ان کے درمیان ایک تیسری چیز بھی موجود ہے، اور وہ ہے اچھے پہلوؤں کو سراہنا اور غلطیوں کی نشاندہی کرنا۔ مولانا نے بس یہی کیا۔ وہ مداہنت اور چاپلوسی کے ہنر سے پوری طرح ناواقف تھے۔ ان کا کام صحیح باتوں کا اعتراف کرنا اور غلط بات کی وضاحت کرنا ہوتا تھا۔ ملت، قوم و مسلک سے کہیں زیادہ اسلام کی سر بلندی کی فکر رہتی تھی۔ وہ مسلم قوم کے نہیں، اسلام کے اسی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں کو ان کی غلطیوں پر آگاہ کیا۔ انہوں نے کبھی مصلحت کی خاطر قوم کی غلطیوں پر خاموشی نہیں اختیار کی بلکہ حق اور سچ بولنے کا حق ادا کر دیا۔ اللہ انہیں اس کا بہترین بدلہ عطا کرے۔
مولانا نے تبلیغی تحریک پر جو کتاب لکھی ہے بلاشبہ وہ خود تبلیغی جماعت کے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے بدرجہا بہتر ہے اور اس کو پڑھنے کے بعد تبلیغی جماعت کے بارے میں میری اپنی مثبت رائے بنی ہے۔ میں علماء کی اکثریت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ تبلیغی جماعت سے بیزار ہیں۔ میں ان کے لیے عناد رکھتے ہیں۔ لیکن مصلحت کے سبب وہ علماء تبلیغی جماعت سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ مولانا وحیدالدین وہ ہیں، جن میں نفاق بالکل نہیں تھا۔ جہاں وہ ایک طرف اس کے اچھے کاموں کو سراہتے ہیں تو دوسری طرف اس میں جو خرابیاں ہیں، اس کی نشاندہی بھی کرتے ہیں، اور یہی ایک حقیقی عالم دین کا کام ہے۔
ساتواں اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مولانا کا بابری مسجد کے بارے میں موقف ہمارے علماء کے موقف سے بالکل الگ ہے۔ جی بالکل درست، لیکن یہاں پر بھی مولانا کے بارے میں ہمارے قائدین غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔ بابری مسجد کے حوالے سے ہندوستانی علماء نے مولانا کے ساتھ بڑی زیادتی
وہ کہتے ہیں کہ مولانامسجد کو غیر مسلموں کے سپرد کر دینے کے قائل تھے جب کہ ایسا بالکل بھی بابری مسجد کے قضیہ میں مولانا کا موقف مختلف مراحل میں مختلف تھا۔ یعنی مولانا کی تجاویز ہر مرحلے میں الگ الگ تھی۔ مسجد کی شہادت سے پہلے انہوں نے مسلمانوں کو جو مشورہ دیا تھا وہ یہ تھا کہ ہندوؤں کی طرح مسلمان بھی ثالثی کے فیصلے پر راضی ہو جائیں۔ اس وقت مسلمانوں نے اسے نہیں کاش مسلمان اس پر راضی ہوجاتے تو بہت امید تھی کہ آج حالات ہر گز اس طرح نازک نہ ہوتے اور مسجد کی مخالفت ہندوؤں کے لیے وقار کا مسئلہ نہ بنتی۔
مگر جب مسجد کو گرا دیا گیا تب مسلمان اسی ثالثی کے آپشن (option) کی دہائی دینے لگے لیکن اب وقت گزر چکا تھا۔ مسجد کی شہادت کے بعد مولانا نے مسلمانوں کو صحیح اور غلط کے پیمانے پر نہیں بلکہ ممکن اور ناممکن کے زاویہ سے دیکھتے ہوئے جو مشورہ دیا تھا، وہ حالات کے اعتبار سے پوری طرح مناسب تھا، اور اگر اس وقت اسے مان لیا جاتا تو آج ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت بالکل اور بالآخر وہی ہوا جو مولانا نے کہا تھا، اور مسلمانوں نے اسے مجبور ہو کر مانا۔ بابری مسجد کے متعلق اگر مولانا کے موقف کو اپنا لیا جاتا تو مسلمانوں کو اس طرح کی شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ جو باتیں مولانا نے اس وقت کہی تھیں، جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اور جن باتوں کا مولانا نے اس وقت مشورہ دیا تھا، آج وہی مشورہ امت کے علماء دے رہے ہیں۔
مولاناصاحب پر ایک سب سے بڑا اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مولانا نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اسوہ حسنہ سمجھا، نہ کہ اسوہ کاملہ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ مولاناصاحب کے اس جملے پر معترض ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مولانا صاحب کے اس مضمون کو اس کے پورے سیاق کے ساتھ مطالعہ کریں۔ اللہ تعالی ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم انبیاء کے مابین فرق نہ کریں (البقرہ، 2:136,285) تمام انبیاء سے رہنمائی حاصل کرنا اور تمام کو اپنے لیے اسوہ سمجھنا یہی تعلیم ہمیں قرآن اور اسلام دیتا ہے۔ مولانا نے اسوہ حسنہ اور اسوہ کاملہ کا یہ لفظ استعمال کیا ہے اس کے پیچھے یہی سیاق تھا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے تمام رسولوں کو اسوہ سمجھے اور جس وقت جس حالات میں جس نبی کا اسوہ موجود ہو اس پر عمل پیرا ہوں۔ بس اتنی سی بات تھی۔ ایک سیدھی سی بات کو علماء نے کیا سے کیا معنی پہنا دیا۔
انسان مو شگافیاں تلاش کرنے کو ہی اپنا مشغلہ بنا لے تو اسے کوئی کیسے سمجھا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مولانا کا وہ جملہ پڑھنا چاہیے جو مولانا نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مولانا نے اپنی کتاب عظمتِ اسلام میں لکھا ہے: پیغمبر صرف پیغام رساں نہیں ہوتا، اسی کے ساتھ وہ لوگوں کے لیے نمونۂ عمل بھی ہوتا ہے جس کو قرآن میں اسوہ (الاحزاب، 33.21) کہا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہر قسم کے حالات آپ کے اوپر گزریں تا کہ آپ ہر اعتبار سے ساری انسانیت کے لیے نمونہ بن سکیں۔ چنانچہ سیرت اور حدیث کی کتابیں بتاتی ہیں کہ واقعۃً ایسا ہی ہوا۔ کی زندگی ہر قسم کے واقعات سے بھری ہوئی زندگی ہے۔ ہر صورتِ حال اور ہر موڑ کے لیے آپ کی زندگی میں نمونہ موجود ہے (صفحہ 106)۔ آپ نے اپنی عملی زندگی سے یہ بتایا ہے کہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی (supreme success) حاصل کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ آپ کی حیثیت ایک ابدی رہنما کی ہے (صفحہ 115)۔
اسی طرح مولانا ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانیت اتنی بلند تھی کہ اگر آپ پیدا نہ ہوتے تو تاریخ کو لکھنا پڑتا کہ اس طرح کا انسان نہ کوئی پیدا ہوا ہے، نہ ہو سکتا ہے۔ اسوہ حسنہ اور کاملہ کے جملے سے مقصود صرف اور صرف یہ تھا کہ رسول اللہ ہی کی طرح تمام پیغمبروں میں ہمارے لیے دعوتی نمونے موجود ہیں اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ حکم دیتا ہے: تم ان کی قرآن میں ہے: فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِه (6:90)۔
اسی طرح الرسالہ فروری 2013 میں مولانا نے اسوہ رسول کے عنوان سے لکھا ہے: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل اسوہ بہ اعتبار فہرست (in terms of list) نہیں ہے (یعنی ایسا نہیں ہے کہ آج پیش آنے والے ہر واقعہ کے لیے ڈائریکٹ طور پر رسول اللہ کی زندگی میں نمونہ مل جائے)، بلکہ وہ بہ اعتبار انطباق (in terms of application) ہے۔ یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو (بطورِ عامل) یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے معاذ بن جبل سے پوچھا کہ جب تمھارے سامنے کوئی معاملہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے اس کا فیصلہ کروں گا۔ فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ۔ انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔
آپ نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ کی سنت میں اور اللہ کی کتاب میں بھی نہ پاؤ۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا (أجتهد رأئي ولا ألو)۔ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے رسول کے فرستادہ کو اُس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے (سنن أبی داؤد، حدیث نمبر 3592)۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ بن جبل کو اعتماد تھا کہ وہ سنتِ رسول کے ذریعے تمام پیش آمدہ معاملات کا فیصلہ کر سکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ اس اعتبار سے نہ تھا کہ سنت بہ اعتبار فہرست ایک مکمل فہرست ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ معلوم فہرست پر اجتہاد کا اضافہ کر کے وہ اس کو مکمل کر سکتے ہیں۔ اس روایت سے جو اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ ہے ـــ سنت پلس اجتہاد برابر ہے کامل اسوۂ رسول کے :