Al-Risala · February 2021

قرآن کا موضوع

Al-Risala, February 2021, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے بارے میں ایک سوال یہ ہے کہ قرآن کا موضوع کیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا

ہے کہ قرآن کا موضوع انسان ہے۔ یہ بات جزئی طور پر درست ہو سکتی ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن کا موضوع اللہ رب العالمین کا منصوبہ تخلیق ہے۔ یعنی قرآن کا موضوع انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ اپنے رب کو کس طرح دریافت کرے، اور اپنے رب سے وہ ربط کس طرح قائم کرے، جس کو صِلَةُ العَبْدِ بِرَبَّه یا تعلق باللہ کہا جاتا ہے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے لیے قرآن میں اشارات موجود ہیں۔

انسان کا کام یہ ہے کہ وہ قرآن سے ان اشارات کو جانے، اور ان کو مفصل معنی میں دریافت یہ اسی عمل کا تسلسل ہے، جو پیغمبرِ اسلام اپنے اصحاب کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ ابوذر غفاری کہتے ہیں: تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا طَائِرٌ يُقَلِّبُ جَنَاحَيْهِ فِي الْهَوَاءِ، إِلَّا وَهُوَ يُذَكِّرُنَا مِنْهُ عِلْمًا، قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ، إِلَّا وَقَدْ بُيَّنَ لَكُمْ (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1647)۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہوئے، اس حال میں کہ کوئی چڑیا بھی فضا میں اپنے پروں کو پھڑپڑاتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے، اور آپ نے کہا: کوئی بھی چیز جو جنت سے قریب کرے یا آگ سے دور کرے، وہ تمھارے لیے بیان کر دی گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے پیدا ہونے کے بعد انسان کے لیے خدا کی دریافت کے بے شمار آئٹم ہوتے ہیں، اس دریافت کے ذریعے انسان اپنے خالق کو پہچانتا ہے۔ وہ اس پہلو پر غور وفکر کر کے ایک عارف انسان بنتا ہے۔ مثلاً انسان اگر غور کرے تو وہ پائے گا کہ جب وہ ماں کے پیٹ میں تھا، اس وقت وہ خارجی دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ مگر اس وقت بھی ماں کے پیٹ میں اس کی ضرورت کی تمام چیزوں کی سپلائی اس دریافت سے انسان کے اندر اپنے خالق کے لیے شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد جب انسان مزید غور کرتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ پیدا ہو کر وہ جس دنیا میں آیا ہے، وہاں پر اس کے خالق نے ایک انوکھا نظام قائم کر رکھا ہے، یعنی لائف سپورٹ سسٹم۔ اس دنیا میں ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ انسان دوست ہے، نہ کہ انسان دشمن۔ ہر چیز کی تخلیق اس انداز میں

ہوئی ہے کہ وہ انسان کے لیے نافع بنے، وہ انسان کے لیے نقصان دہ نہ بنے۔ مثلاً سورج کی روشنی فضا میں چھن کر آتی ہے، تاکہ وہ انسانوں کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔ اس طرح سورج زمین سے بہت ہی درست فاصلے پر ہے، تاکہ وہ انسان کے لیے صرف نفع بخش ہو، ضرر رساں نہ ہو، وغیرہ۔ پھر انسان جب مزید غور و فکر کرتا ہے، تو وہ اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ یہ معاملہ کوئی محدود معاملہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے باہر جو یونیورس ہے، وہ پوری کی پوری کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) ہے، یعنی انسان اور کائنات دونوں ایک دوسرے کے لیے مثنی (counterpart) ہیں۔ کائنات انسانی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (45:13) ۔ یعنی اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔

Printed page