Al-Risala · August 2021

Sunnah plus Ijtihad is equal to Uswah-e-Kamilah

Al-Risala, August 2021, pp. 283–287

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے (یا کہوں کہ مولانا کی ایک مشہور کتاب شتم رسول کا مسئلہ پر کیا جاتا ہے) وہ ہے شاتم رسول کی سزا۔ میں اس بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ مولانا کی ویسے تو تمام کتابیں ایک شاہکار ہیں لیکن اگر ان میں بھی کچھ کتابوں کو منتخب کیا جائے تو بلا شبہ مولانا کی یہ کتاب مستقبل میں ایک ریفرنس بک شمار کی جائے گی۔ مولانا نے اس میں بہت ہی عمدہ طریقے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی معاشرہ جبر کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام آزادی رائے کا پورا احترام کرتا ہے صرف احترام ہی نہیں بلکہ آزادی رائے کو معاشرے میں فروغ دیتا ہے۔ گستاخی رسول کے نام پر قتل کرنا بلاشبہ نبی رحمت کا طریقہ نہیں۔

محمد بن عبد اللہ تو سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ عبد اللہ بن ابی جیسا گستاخ رسول بلا شبہ سزا کا مستحق تھا۔ لیکن حضور کی جانب سے جس سلوک کا سزا وار بنا۔ ایک مرتبہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا : لَنُحْسِنَنَّ صُحْبَتَهُ مَا دَامَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ( الطبقات الکبریٰ، جلد 2، صفحہ 50)۔ یعنی جب تک وہ ہمارے درمیان ہے، ہم ضرور ضرور اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں گے۔ اسلام میں شتم بحث و مباحثے کا موضوع ہے، ڈائیلاگ کا موضوع ہے، نہ کہ قتل و سزا کا۔ یہی سب مٹانے کے لیے ہی تو اسلام آیا تھا۔ لیکن افسوس مسلمانوں پر کہ جوں

یوں مسلمان اپنی علمی کمی کی بنا پر دلائل میں کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے یہاں اس طرح کا تشدد اور غلو پنپتا جا رہا ہے۔

مولانا پر کیے جانے والے اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ مولانا مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی اور دجال کو بھی ایک الگ زاویے سے دیکھتے ہیں تو بھائی جان کم از کم مولانا ان حدیث کا علمی تجزیہ کر کے ایک معقول تاویل تو پیش کرتے ہیں۔ ویسے بھی یہ چیزیں ایمانیات کا حصہ نہیں ہیں؟ البخاری، حدیث نمبر 3435)۔ چلو مان لیا کہ مولانا مسیح علیہ السلام کی جسمانی آمد کے قائل نہیں۔ آپ ان علماء کے بارے میں کیا کہیں گے جو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس قبیل کی ایک بھی حدیث صحیح بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے چلے جانے کے تین سو سال بعد امت میں پھیلیں، اور ایسا کہنے والے اس امت کے بڑے بڑے علماء ہیں۔ لہذا اگر دیکھا جائے تو اس معاملے مولانا کا معاملہ بالکل محتاط ہے۔ دوستو اب ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں۔ فرقہ واریت چھوڑیں، اور علمی اختلافات کو حسن سمجھیں ، نہ کہ وبال۔ ہے کہ مولانا وحید الدین صاحب کی فکر کو لوگوں تک پہنچایا جائے، دعوت کا شعور مسلمانوں میں پھر سے زندہ کیا جائے۔

مسئلہ کشمیر، این آرسی اور سی اے اے: مولانا وحید الدین خان ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی مدبر بھی تھے۔ اگر چہ بہت سے لوگ مولانا کو اس زاویے سے دیکھنا پسند نہیں مولانا کی خوبی صرف اچھی باتیں کرنے میں نہیں تھی۔ بلکہ وہ مسائل کی جڑ کو جاننے کی کوشش کرتے ، اور پھر اس کا حل تجویز کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ حقیقت پسندی کی زمین پر کھڑے رہتے بلاشبہ یہی وہ حکمت خداوندی تھی، جس کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دے دیا گیا (البقرۃ ، 2:269)۔

مولانا نے شروع ہی سے اہل کشمیر کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ تشدد کا راستہ مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور ہندوستان سے الحاق کو دل کی رضا مندی سے قبول کر لیں۔ مولانا نے کہا تھا کہ کشمیر یوں کے پاس صرف دو ہی آپشنز ہیں۔ پہلا یہ کہ انڈیا سے الحاق پر راضی ہوتے ہوئے تعلیم و تجارت کے میدان میں ترقی کرتے اور دوسرا یہ کہ تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو مزید ہلاکت کے گڑھے میں ڈال

اور آج حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اتنی قربانیوں کے باوجود آج کشمیر کے حالات بد سے بدتر کاش کہ کشمیریوں نے مولانا کی تجویز کو قبول کر لیا ہوتا تو آج ان کو یہ حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مولانا کا ایک واقعہ آپ کے سامنے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ والوں کا رد عمل پریشان کن حالات میں کیسا ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں این آرسی اور سی اے اے کے معاملہ کو لے کر مسلمان کافی خوف زدہ ہیں۔ وہی جلسے جلوس اور احتجاجات کی فضا خوب چل رہی تھی، جو فی الحال کووڈ کی وجہ سے تھم چکی ہے۔ بہر حال مولانا سے سے این آرسی اور سی اے اے کے متعلق مشورہ چاہا کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ مولانا نے بالکل خاموشی کے ساتھ یہ جواب دیا کہ یہ ملک اور اس کی نعمتیں تمہیں دینے والا خدا ہے تو جو چیز خدا نے دی ہے تو اسے چھینے کا حق بھی صرف اور صرف خدا کو ہی ہے۔ اسے ہر گز چھین نہیں سکتا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، صرف اپنے وطنی بھائیوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں ، ان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے آگاہ کریں۔ یقین جانیے، یہ سب معاملے یوں ہی ختم ہو جائیں گے۔ یقیناً اسی کو کہتے ہیں حکمت۔ خدا کی عنایت سے ایک مومن ان چیزوں کو جان لیتا ہے جسے دوسرے لوگ کبھی جان نہیں سکتے۔ مولانا کی یہ بات حتمی ہے۔ یقیناً ان چیزوں سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ماضی کے پہیے کو کبھی بھی ریورس گیئر میں گھمایا نہیں جا سکتا۔ مگر یہ کہ مسلمان پھر سے ”آ بیل مجھے مار“ والی پالیسی اپنائیں۔ ورنہ اس طرح کی چیزیں خود بخود مٹ جاتی ہیں۔ کے لیے ڈرنے کا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم الشان ذمہ داری کو کرنے کا کام ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو سونپی ہے اور وہ ہے دعوت الی اللہ کا مشن۔

مولانا کی وہ صفت جس نے مولانا کو لاکھوں انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا، وہ تھی پوری انسانیت کی فلاح کے لیے ان کی کڑھن۔ وہ صرف ذہین انسان نہیں، بلکہ وہ ایک نہایت متقی انسان تھے، اور اسی تقوی کی بنا پر اللہ نے ان پر اپنی حکمت کے سرے کھول دئے تھے۔ آج کوئی بھی معقول آدمی مولانا کو پڑھ کر متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ ان کی باتوں میں جس طرح کا وضوح، مسائل کا استدراک اور ہر ایک واقعہ سے عبرت خیزی کا انوکھا انداز یقیناً خدا کی عطا کے بنا ممکن ہے۔ مولانا دعا اور پینٹیڈ انسان تھے۔ وہ ہر وقت دعائیں رہتے تھے اور ہم تمام ساتھیوں کو بھی اسی کی تلقین مجھے اب بھی یاد ہے کہ 2019 میں میں جب دہلی قرآن کانفرنس میں شریک ہوا تو مولانا

جس وقت تشریف لائے ان کی زبان سے سب سے پہلا لفظ جو نکلا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالی ہم سب کو جنت آج مولانا اپنے کریم خدا کے سامنے حاضر ہو چکے ہیں۔ رب کریم مولانا پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں اور ان کے لیے اس کارِ خیر کو ان کی بلندی درجات کا ذریعہ بنائے۔ اور ہمیں کامل بصیرت کے ساتھ دعوت الی اللہ کے اس خدائی مشن میں اپنا بھر پور کنٹری بیوشن کرنے والا بنائے۔ امن و آشتی کے علم بردار تھے مولانا وحید الدین خان: نئی دہلی، مولانا وحید الدین خان ہمارے درمیان ایک ایسی شخصیت تھے جو ہمیشہ اہل ملک کے درمیان صلح اور امن کی راہیں تلاش کرتے تھے، وہ مذاہب کی ان تعلیمات کو پیش کرتے تھے جو سب کے درمیان یکساں تھیں، وہ برادران وطن کے ساتھ خیر خواہی کے تعلقات پر زور دیتے تھے، شدت پسندی کے سخت خلاف رہتے تھے۔ سارا لٹریچر امن اور صلح کا خزانہ ہے۔ جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار کل ہند مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر جناب کلیم الحفیظ نے پریس کو جاری ایک تعزیتی بیان میں کیا۔ کہا کہ مولانا کو درجنوں اعزازات سے نوازا گیا جس میں پدم بھوشن بھی شامل ہے، لیکن مولانا کی شخصیت بھارت کے لیے خود ایک اعزاز کی حیثیت رکھتی تھی۔ مولانا اسلام کے مبلغ بھی تھے اور مفکر بھی، ان کی فکری جدوجہد کے نتیجے میں بہت سے پہلو روشن ہوئے۔ مولانا کی ادارت میں شائع ہونے والا ماہنامہ الرسالہ اپنی شناخت میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ مولانا کا انتقال علم کے سورج کے غروب ہونے کے برابر ہے۔ مولانا کا کافی مدت سے علیل تھے، انھوں نے بھر پور عمر (97 سال) پائی، اللہ نے ان سے خوب کام لیا۔ اب یہ ان کے عقیدت مندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ مولانا کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی اولاد کو اعلی تعلیم دلائی اور اپنے مشن کا ساتھی بنایا، ان کی ایک بیٹی فریدہ خانم صاحبہ جو جامعہ سے ریٹائرڈ ہیں انھوں نے مولانا کی درجنوں کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور الرسالہ انگریزی کی مدیر ہیں، ان کے بیٹے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب خود ایک بین الاقوامی اسلامی اسکالر ہیں۔ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے۔ (اردو لیکس ڈاٹ کام، 22 اپریل 2021)

موت العالم، موت العالم خورشید احمد ندیم، پاکستان بیسویں صدی کے بڑے اور جید عالم مولانا وحید الدین خاں دنیا سے رخصت ہوئے۔ ایک بندہ جو پیغمبروں کی اتباع میں، تمام عمر رب سے ملاقات کی منادی کرتا رہا، اپنے رب کے سامنے پیش ہو گیا۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ پروردگار عالم کے دربار میں، ایک داعی الی اللہ کی یہ حاضری کیسی اس شان، اخلاص اور استدلال کے ساتھ آخرت کی تذکیر، واقعہ یہ ہے کہ اس امت میں صدیوں سے نہیں سنی گئی اور نہیں معلوم پھر کب سنی جائے گی۔

Printed page