اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
Al-Risala, August 2021, pp. 287–290
By Maulana Wahiduddin Khan
1988ء میرے لیے ایک مہربان سال تھا۔ اس سال مولانا وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی صاحب سے میرا شعوری تعارف ہوا۔ 1989ء میں جب جاوید صاحب کی صحبت نصیب ہوئی تو ان شخصیات کے کام کو علمی سطح پر سمجھنے کا ذوق پیدا ہوا۔ اگر’’جاوید نامہ‘‘ ان سے سبقا سبقا نہ پڑھا ہوتا تو علامہ اقبال کو شاید اس طرح دریافت نہ کر پاتاہی۔ یہی معاملہ مولانا وحید الدین خان اور دوسرے اہل علم کا بھی ہے۔
بطور عالم اور داعی، مولانا ایک بے مثل آدمی تھے۔ ان کی شخصیت کی تیسری جہت ادبی ہے۔ ایک صاحب طرز ادیب اور انشا پرداز تھے۔ وہ دبستانِ شبلی ہی کے ایک فرد تھے جس سے منسوب شخصیات کے علمی کمالات ہی نہیں، اردو زبان و ادب کے لیے خدمات بھی ہماری روایت کا ایک شاندار باب ہے۔ دینی ادب کو مولانا نے ایک نیا لہجہ اور اسلوب دیا۔ ان کے جریدے الرسالہ کو دعوتی لٹریچر میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔
بحیثیت عالم، ان کا سب سے بڑا کارنامہ دین کی سیاسی تعبیر پر عالمانہ تنقید ہے۔ یہ تنقید مولانا اشرف علی تھانوی نے کی اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے بھی کی۔ مگر مولانا وحید الدین خان کی کتاب تعبیر کی غلطی اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔ علمی متانت، عقلی نقلی استدلال، قوت بیان و تاثیر
اور درد دل کا ایسا مرقع، دینی لٹریچر میں شاید ہی مل سکے۔ اگر کوئی یہ سمجھنا چاہے کہ تنقید کا علمی معیار کیا ہوتا ہے تو اسے یہ کتاب پڑھنی چاہیے۔
یہ کتاب ایک علمی رومان کے ٹوٹنے کا بیان بھی ہے۔ ایک علمی وصال اور ہجر کی داستان بھی۔ جو اس حادثے سے دوچار ہوا ہو، وہی جان سکتا ہے کہ اس کا کرب کیا ہوتا ہے ۔ جنیاں تن میرے تے لگیاں، تینوں اک لگے تے توں جانے (جتنی میرے جسم پر لگی ہیں، تمہارے جسم پر اس طرح کی ایک ضرب لگے تو تمہیں اس کی اذیت کا ادراک ہو)۔ مولانا نے اس کتاب کے پہلے صفحے پر لکھا ’اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر کتنی سخت ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے اس کے شائع ہونے کے بعد میں کسی ایسی جگہ پر جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے، اور پھر اسی حال میں میں مر جاؤں۔ ’تعبیر کی غلطی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تعبیر دین پر تنقید ہے۔ وہ مولانا مودودی کے پہلے باضابطہ ناقد ہیں جن کی رسائی مولانا کے فکری جوہر تک ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ تعبیر دین کا ہے، کسی ایک مسئلے میں علمی تفرّد کا نہیں۔ مولانا مودودی، مولانا وحیدالدین خان کے شعوری سفر کا پہلا انہوں نے اپنی کتاب ’’علم جدید کا چیلنج‘‘ کو مولانا کا بالواسطہ فیض قرار دیا ہے۔ جاسکتا ہے کہ اسی قلم سے ’’تعبیر کی غلطی‘‘ لکھنا کتنا بار خاطر ہوگا۔ مولانا مودودی کی علمی وجاہت اور فکری شکوہ میں کچھ کلام نہیں۔ مولانا وحیدالدین خان نے اس فکر کا جواب دعویٰ (antithesis) ، اُسی علمی شان کے ساتھ ہمارے سامنے رکھا۔ زندہ فکر اسی طرح ارتقا کی منازل طے کرتی ہے۔ مولانا کا دوسرا بڑا کارنامہ مسلم نفسیات کی تشکیل نو ہے جو ان کے علمی کام ہی کا عملی اطلاق ہے۔ ماسبق مسلم مفکرین اور راہنماؤں کے زیر اثر، جو مسلم نفسیات پیدا ہوئی، وہ سیاسی تھی۔ اس کے نتیجے میں سیاسی عظمت رفتہ کی بازیافت، مسلمانوں کا اجتماعی نصب العین بنا۔ یہ ماضی کی فکری اسیری تھی، جس سے مولانا نے مسلمانوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی غلبہ مادی دنیا کا ایک واقعہ ہے جس کا تعلق عالم اسباب سے ہے، دین سے نہیں۔
غلبے کی خواہش دوسروں کو حریف بنا کر آپ کے سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔ اس سے دیگر اقوام کے ساتھ آپ کا جو تعلق پیدا ہوتا ہے، وہ دنیاوی مفادات کے تصادم سے عبارت ہے۔ غیر مسلموں کے
ساتھ، اہل اسلام کا اصل تعلق داعی اور مدعو کا ہے۔ غلبے کی نفسیات اس تعلق کو مجروح کرتی ہے۔ مدعو کا خیر خواہ ہوتا ہے، دشمن نہیں۔ اسی لیے وہ کہتے تھے کہ ان کے دل میں کسی کے لیے کوئی نفرت وہ اس دل کے ساتھ خدا کے حضور پیش ہونا چاہتے ہیں جو نفرت سے خالی اور سب کا خیر خواہ ہو۔ انسانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ انہیں آخرت کے عذاب سے خبردار کیا جائے اور آخرت رخی (Akhirat oriented) شخصیات وجود میں آئیں ۔ پیغمبر اسی لیے مبعوث اس باب میں وہ سرسید اور مولانا محمد الیاس کے وارث تھے۔ سرسید کی خیر خواہی کا ہدف مسلمانوں کی دنیاوی ترقی اور مولانا الیاس و مولانا وحیدالدین خان کی مساعی کا حاصل اہل اسلام کی اُخروی نجات تھی۔
ان کا اصرار تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی ایمپائر ختم ہوگئی لیکن ابلاغیات کی دنیا میں آنے والے انقلاب نے ان کے لیے یہ مواقع پیدا کر دیے کہ وہ اپنی دعوہ ایمپائر کھڑی کر سکتے ہیں۔ وہ جدید ذہن کے شبہات دور کریں اور دین کو لوگوں کی علمی دریافت بنا دیں۔ مولانا ایک مدرسے کے فارغ التحصیل دعوت کے لیے انہوں نے طویل عرصہ جدید علوم سیکھے۔ انگریزی زبان میں مہارت پیدا کی اور پھر ایسا دعوتی لٹریچر تیار کر دیا کہ اس کی کوئی نظیر موجود نہیں۔
مولانا نے بتایا کہ انسان کی اصل آزمائش خدا کی معرفت کا حصول ہے۔ یہ معرفت کوئی پر اسرار واقعہ نہیں جو صوفیانہ مشاغل، چلوں اور ریاضتوں کا محتاج ہو۔ یہ ایک شعوری تجربہ ہے۔ آفاق و انفس پر غور و فکر کا فطری نتیجہ ہے۔ یہ بات اگرچہ ان کے لٹریچر میں روح کی طرح جاری و ساری ہے مگر کتاب معرفت اس باب میں لاجواب ہے۔ اس کا ایک مضمون 'اسمِ اعظم' میں نے کئی بار پڑھا اور ہر بار یوں لگا کہ جیسے میرے دل پر اتر رہا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے، مجھے محسوس ہوا ہے کہ خدا کی دریافت میرے لیے ایک حسی واقعہ ہے۔
روز مرہ کے واقعات کو آفاقی حقیقتوں سے جوڑنا مولانا کا خاص امتیاز تھا۔ ایک مقام پر انہوں نے اپنے سفر کی روداد لکھی کہ وہ ایک ایئر پورٹ پر اترے تو ایک بزرگ آدمی کے طور پر انہیں خصوصی توجہ کا مستحق قرار دیا گیا۔ انہیں امیگریشن کے لیے قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑا اور ان کے لیے تمام مراحل آسانی سے طے ہو گئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں ایئر پورٹ سے نکلا تو میں نے دعا کی کہ اے
پروردگار ، جب میں آپ کے سامنے حاضر ہوں تو مجھے معذور جانتے ہوئے میرے ساتھ خصوصی برتاؤ کرنا اور مجھے حساب کتاب کی مرحلے سے اسی طرح آسانی کے ساتھ گزار دینا۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ خدا بندے کے لیے ویسا ہی ہے جیسا وہ اس کے بارے میں گمان کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مولانا کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ ہوگا جیسا انہوں نے گمان کیا۔ ہم گواہ ہیں کہ وہ ایک صاف ستھری زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ (بشکریہ روزنامہ دنیا)