مولانا وحید الدین خان اور ہندوستانی مسلمان
Al-Risala, August 2021, pp. 291–305
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری، محکمہ اعلیٰ تعلیم حکومت جموں و کشمیر مجتہد العصر مولانا وحید الدین خان ( پیدائش 1925ء، اعظم گڑھ اتر پردیش، وفات 21 اپریل 2021ء، دہلی ) پوری دنیا میں دانشورانہ سطح پر اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے سلسلے میں جانے جاتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اپنے فیلڈ میں ہندوستان کو represent کر رہے تھے، اور یہ ان کی منفرد پہچان بھی تھی۔
وہ اپنے نرم لہجے، معتدل نظریے، وسیع تر مطالعے اور مشاہدے کے ساتھ ساتھ کشادہ ذہن کی وجہ سے بلا تفریق مذہب و ملت قبول کیے جاتے ہیں۔ اردو انگریزی ہندی میں ان کی 250 سے زائد کتابیں کئی ایڈیشنوں کے ساتھ شائع ہو کر داد حاصل کر چکی ہیں، جن میں The Prophet of Peace. The Age of Peace, The Prophet Muhammad, A Simple Guide to his Life. Islam تذکیر القرآن (تفسیر قرآن) شامل ہیں۔ ان کی بہت ساری کتابیں عالمی اشاعتی اداروں نے شائع کیں اور دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں ان کے ترجمے بھی ہوئے۔ دنیا کی مختلف یونیورسیٹیوں میں ان کی کتابیں نصاب کے طور پر بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ ان کا قائم کردہ ادارہ سی پی ایس انٹرنیشنل Centre for Peace and Spirituality International Nizamuddin West, New Delhi 110013 بھی اپنی نوعیت کی الگ پہچان رکھتا ہے۔
"ہندوستانی مسلمان" نام کی کتاب میں مولانا وحید الدین خان کے چھوٹے بڑے مضامین و لیکچرس اور ان کے افکار شامل ہیں، جنہیں (1) ہندوستانی مسلمان (2) روشن مستقبل (3) مسجد اور مسلمان اور (4) نیا دور، الگ الگ عنوان دے کر ایک لڑی میں پرویا گیا ہے، اور پھر ہر جگہ چند ذیلی سرخیوں کے تحت بھی بات کہی گئی ہے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین کئی بین الاقوامی سیمیناروں میں پڑھے گئے اور پھر مختلف رسالوں میں شائع ہوئے ہیں۔
چونکہ یہ کتاب آج سے کئی سال پہلے شائع (پہلی اشاعت 1993 ء اور اس کے بعد بھی ) ہوئی اور ظاہری بات ہے کہ اس کتاب میں زیادہ تر انہی مسائل کو اٹھایا گیا ہے، جو اس وقت یہاں کے لوگوں کو خاص کر مسلمانوں کو درپیش تھے مگر مولا نا نے ان مسائل پر اس طریقے سے بات کی اور اپنے خیالات کا اظہار اس انداز میں کیا ہے کہ ان کے یہ دانشورانہ خیالات آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ چونکہ ہر دور میں نئے نئے مسائل اور چیلنجز آتے رہتے ہیں اور ہمیں ان کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ تو ان مسائل کو حل کرنے کے لیے یا پھر مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ دماغوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور یہ اعلیٰ دماغ تب ہی پیدا ہوتے ہیں، جب ہمارے پاس علم ہو_ علم کے مختلف sources ہوتے ہیں۔ خان صاحب کی تحریریں ہمیں وہ سب کچھ دے دیتی ہیں، جو ہمیں وقت اور حالات کے پیش نظر درکار ہوتا ہے۔
مولانا صاحب ایک تو بات کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے اور وہ ہر بات کا حال اور مستقبل کیا ہو سکتا ہے اس پر بھی ضرور روشنی ڈالتے تھے۔ اس کے علاوہ تقسیم ہند کے بعد برصغیر میں جو حالات پیدا ہوئے، ہم اس ٹراما (trauma) سے ابھی بھی نہیں نکل پائے ہیں۔ بدقسمتی سے روز بہ روز نئے نئے مسائل ہی پیدا ہوتے جا رہے ہیں! اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ہندوستانی مسلمان نامی کتاب کے مطالعے سے ہمارا ذہن اس قدر کشادہ ہو سکتا ہے کہ ہر مسئلے کا حل ہونے کے امکانات نظر آجاتے ہیں یا اگر ہم خان صاحب کے دیے ہوئے نسخے آزما سکتے ہیں، تو ایسے مسائل پیدا ہونے میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ خان صاحب اپنی کتاب کی شروعات " ناکامی میں کامیابی" کے عنوان سے کرتے ہیں اور ایک مغربی مفکر ٹوئن بی کی کتاب تاریخ کا مطالعہ (Study of History) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جن قوموں نے کوئی تہذیب پیدا کی ، وہ پہلے شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ اس طرح دنیا کی مختلف تحریکوں کے نا کام ہونے کی اصل وجہ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا سرا کسی اور کے ہاتھوں میں ہوتا ملک کے اندرون میں آپسی فسادات کبھی کبھار ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے مختلف واقعات کا تجزیہ کر کے وہ لکھتے ہیں کہ ان حالات میں ردعمل کے بجائے حکیمانہ عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو بہتر آگے وہ ملت کی تعمیر کرنے کے لیے درج ذیل 10 نکاتی پروگرام بھی ترتیب دیتے ہیں: (1) اللہ اور بندہ کے حقوق سمجھ کر ادا کرنا (2) بہتر انسان بننا (3) باہمی اتحاد (4) ہر مسئلے کا
تعلیم (8) ہنر اور تجارت (9) وقف کی جائداد کا صحیح استعمال (10) مقامی سیاست کا فروغ ۔ مولانا وحید الدین خان سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد کی کمی کی سب سے بڑی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں خاص کر مسلم عورتوں میں ابھی بھی تعلیم کی کمی ہے۔ بھی مسلم بہت پیچھے ہیں ، البتہ اس معاملے میں انہیں آگے امید کی کرن نظر آنے لگتی ہے ۔ حالات کے بارے میں کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر 1947 ء سے پہلے سے ہم بہتر ہیں۔ یہاں کے مذہبی اداروں کی حالت اطمینان بخش تو ہے ، مگر مسلم سیاست سے وہ کسی قدر نالاں ہی ہیں ۔ زیادہ تر ذمہ دار سیاسی لیڈروں کو ٹھہراتے ہیں ۔ چونکہ ہمیں وحید الدین خان کے خیالات تقریباً بقیہ بھی مذہبی رہنماؤں سے الگ تھلک لگتے ہیں ۔ وہ اس لیے کیوں کہ انہوں نے خود اس بات کو مانا ہے کہ ان کا اپروچ Realistic ہے ، جب کہ دوسرے لوگوں کا اپروچ Non-Realistic ہوتا ہے ۔ وحید الدین خان کے مطابق انہوں نے حقیقت پسندانہ نقطہ نظر (Realisti Approach 1967) سے الجمعیۃ ویکلی کے زمانے سے ہی اپنا نا شروع کیا تھا۔ تب سے لے کر مرتے دم تک مایوسی خان صاحب کے نزدیک پھٹکی بھی نہیں تھی ۔ برصغیر کے جن اسلامی دانشوروں اور رہنماؤں نے بیسویں صدی کے آغاز سے ہی تشدد کو اسلام سے جوڑ کر اپنے خیالات کا پرچار کیا ، ان کی خان صاحب نے کافی مذمت کی ہے ۔
” ہندوستان کدھر “ سرخی کے تحت خان صاحب نے بابری مسجد پر بھی اپنے منفرد انداز میں بات کی ، اور وہ ہمیشہ اس مسئلے کے سلجھنے کے حق میں تھے ۔ جن خیالات کا اظہار بیان اس کتاب میں تفصیلاً کیا گیا ۔ اس طرح وہ ” نیا ہندوستان “ سرخی کے تحت نئی امیدوں کے سہارے نئے ہندوستان میں مذہبی ہم آہنگی ، انسانیت ، قومی اتحاد اور مسائل کا ایک proper حل کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ وحید الدین خان مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح تقسیم ہند کو سب سے بڑا المیہ اور غلطی بھی مانتے ہیں اور قومیت کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں : قوم وطن سے بنتی ہے ، نہ کہ مذہب سے ۔ مسلمانوں کا مذہب بلا شبہ الگ الگ ہے ، مگر دونوں ایک قوم ہیں ۔
جنگ آزادی کے دوران مسلمانوں کی خدمات کو وہ دہراتے ہیں ، البتہ دو قومی نظریے
Two Nation Theory کو وہ اسلام سے دور ہی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہندو مسلم ڈائیلاگ پر سب سے زیادہ زور دیا ، نہ کہ ہمیں اپنے مسائل کو حل کرانے کے معاملے میں سرکار پر dependent تاریخ کے اوراق کو کھنگالتے ہوئے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انڈیا میں ایک ہزار سال سے مسلمان رہ رہے ہیں۔ یہ لوگ پہلے ہندو ہی تھے ، جو بعد میں مسلمان ہو گئے۔ اب بتائیے یہ نسلی اعتبار سے انڈین ہی تو ہیں۔ اس بات کے پیش نظر دونوں مذہبوں کے لوگوں کو بھائیوں کی طرح ایک ہی خاندان میں رہنا چاہیے اور باہمی مسائل بھی اپنے ہی گھر میں حل کر لینے چاہیے اور اسی سے ہندوستان میں ایک نیا سورج طلوع ہوسکتا ہے! غرضیکہ مولانا کے یہ سارے افکار آج بھی تازہ ہیں اور موجودہ انتشار کا حل پیش کرسکتے ہیں !
آخر میں مولانا وحید الدین خان اور ان کے مجموعی کنٹریبیوشن کے پیش نظر یہاں یہ بات بھی درج کی جاسکتی ہے کہ بھارت سرکار کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف تنظیموں اور اداروں نے انہیں کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا ، مگر وہ امن کا داعی ، اسلامی مفکر، عالمی دانشور نو بل پرائز کے مستحق اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مسلم رہنماؤں کے ذریعے بار بار آزمائے ہوئے بے نتیجہ تجربات کو چھوڑ کر ہمیں مرحوم وحیدالدین خان کے مشن کو آگے لے جانا ہوگا ، اسی میں قوم کی بھلائی (ہفت روزہ سری نگر سماچار، 26 اپریل 2 مئی 2021، صفحہ 8)
بچھڑا کچھ اس انداز سے کہ رت ہی بدل گئی ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا مولانا ہمارے لیے دین کا روشن چراغ تھے۔ جن کے سائے میں ہم نے اپنے من کی اندھیر نگری کو روشن پایا۔ وہ تنہا شخص ایک عہد تھا۔ اس کے جانے سے عہد بدلا ہے۔
امن اور عدم تشدد کا نقیب :
مولانا وحید الدین خاں حکیم شمس الافاق، نئی دہلی میری ملاقات :
غالباً اکتوبر 1976 کا واقعہ ہے۔ میرے ایک ملاقاتی جناب ڈاکٹر محسن عثمانی صاحب جو آل انڈیا ریڈیو عربی یونٹ میں ایک سرکاری عہدے پر فائز تھے، سے میری ملاقات مفتی عتیق الرحمن عثمانی صاحب کے دولت کدہ پر ہوئی تھی۔ یہ ملاقات گہری ہوتی گئی۔ تعلقات بڑھتے گئے۔ اسی بیج حیدر آباد ہاؤس کی لکڑی والی مسجد میں محسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اتوار کا دن تھا۔ انھوں نے بتایا کہ آج میرے ہاسٹل میں ایک بزرگ تشریف لا رہے ہیں ان کا نام مولانا وحید الدین خاں ہے۔ ان کا لکچر ہے گھر پر، آپ تشریف لائیے۔ میں نے حامی بھرلی۔ ان کے گھر پر اکثر مولانا کی تقریر ہوا کرتی تھی جو بین المذاہب افراد پر مبنی ہوتی۔ میں حسب وعدہ پہنچا۔ دیکھا کہ ایک طویل القامت شخصیت، درخشاں چہرہ بالکل سادہ لباس میں موجود ہیں۔ اسی جگہ میری پہلی ملاقات مولانا مرحوم سے ہوئی۔ دھیرے تعلقات بڑھتے گئے۔ اور ایک دور ایسا بھی آیا کہ مولانا میرے غریب خانہ گول مارکیٹ پر ہر مہینے کے آخری Saturday کو تشریف لاتے ۔ بین المذاہب افراد کی موجودگی میں تقریر اور اصلاح کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس طرح مولانا سے قربت بڑھتی گئی۔ یہ سلسلہ ایک عرصہ تک چلتا رہا۔ الرسالہ سے تعلق :
غالباً اکتوبر 1976 سے ماہنامہ الرسالہ سے جڑا۔ ایجنسی لی، اور الرسالہ کو اپنے حلقہ احباب میں متعارف کرایا۔ پڑھے لکھے با شعور اور سنجیدہ افراد نے ایک نئے ولولے کے ساتھ الرسالہ پڑھنا میرے نرمان بھون کے دفتر میں الرسالہ کو پڑھنے اور پسند کرنے والوں کی تعداد بڑھتی الحمد للہ مولانا کی شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو جو میری نظر سے نہ گزری ہو۔ غلط فہمیوں کی وجہ سے
اکثر میرے کچھ ساتھیوں کو شکایت بھی ہوجاتی تھی۔ اور تقریر کے بعد یا دوران تقریر مولانا سے ذکر کرکے اس کا ازالہ چاہتے تھے۔ مولانا اس شکایت کا اس طرح ازالہ کرتے کہ تمام افراد اور خاص طور پر شکایت کنندہ بالکل مطمئن ہوجاتے۔
ایک واقعہ یہ ہے کہ مولانا تقریر کے دوران ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پر چہ لئے رہتے تھے۔ کے دوران اکثر قرآن کی کوئی آیت پڑھتے اور اسے دیکھتے۔ پھر اس کاغذ کو اپنی جانگھ کے نیچے دبا یہ بات شکایت کنندہ امتیاز صدیقی صاحب کو ناگوار اور ناپسندیدہ لگتی۔ ان کی نظر میں یہ قرآن کی بے حرمتی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا۔ میں نے اسی وقت مولانا سے تقریر کے دوران یہ بات پوچھ لی کہ جناب امتیاز صاحب کو شکایت ہے کہ آپ قرآن کی آیت کو اپنی جانگھ کے نیچے رکھتے ہیں، یعنی آپ قرآن کا احترام نہیں کرتے۔ مولانا کی صفت یہ بھی تھی کہ کسی بات پر فوراً react نہیں کرتے مسکرا کر کاغذ میری طرف بڑھا دیا۔ دیکھا تو اس کاغذ پر صرف ٹاپک کے الفاظ لکھے ہوئے مثلاً امن، اصلاح، وغیرہ جیسے الفاظ۔ سب لوگ شرمندہ ہو گئے اور غلط فہمی دور ہوگئی۔ یہ تھا مولانا کا اصلاح کا یہ طریقہ لوگوں کو بہت پسند آیا اور ان کی محبت اور ان کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ عرصے تک اس طرح کی نشست ہوتی رہی۔ میرے 2006 میں ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ اکثر احباب بھی retire ہوگئے، سب ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ جب للیتا پارک، لکشمی نگر میں رہائش ہوئی تو یہ سلسلہ پھر شروع کیا۔ اس وقت مولانا کمزور ہو چکے تھے۔ اور حلقہ احباب بھی الگ الگ ہو گئے جس سے یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ لیکن الرسالہ کا مطالعہ اور احباب کے درمیان اس کی تقسیم اب بھی جاری ہے۔ تازہ شمارہ مئی 2021 کا میرے پاس ہے۔ حلقہ احباب جس میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی تھے، مولانا کی قلمی و علمی صلاحیت ، قابلیت، مقبولیت اور ان کی سادگی سے بہت متاثر تھے۔ وہ انسان کے روپ میں ایک فرشتہ نظر آتے تھے۔ میری ان سے ملاقات نظام الدین والے گھر 29-C پر اکثر ہوتی، کبھی اکیلے کبھی احباب کے ساتھ۔ ان کے کمرے کے چاروں طرف کتابوں کا انبار تھا۔ وہ اسی میں غرق رہتے تھے۔
امن کے نقیب:
یقیناً مولانا امن کے نقیب تھے۔ وہ communal harmony کے ایک بہت بڑے
وہ خیر سگالی چاہتے تھے۔ ان کی تصنیفات کا ذخیرہ اردو، ہندی، انگریزی اور عربی زبانوں میں موجود ہے۔ لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔ وہ جتنی اچھی اردو زبان جانتے تھے اسی طرح وہ انگریزی زبان بھی جانتے تھے۔ مولانا نے جدید سائنس اور اسلام کے موضوع پر جو کام کیا وہ قابل ستائش ہے اور ناقابل فراموش ہے۔ ان کی تصانیف، تحریروں نے ایک بہت بڑے علمی حلقے کو متاثر کیا۔ کچھ لوگوں کو ان کی کچھ باتیں پسند نہیں آتی تھیں۔ روحانی طبیب یا مصلح امت:
مولانا وحید الدین خان ایک روحانی طبیب تھے۔ متعدد ایوارڈ یافتہ تھے۔ بھارت اور متعدد بیرون ملک نے ان کی علمی صلاحیت کے طور پر ان کو ایوارڈ سے نوازا لیکن یہ سارے ایوارڈز نے رتی بھر مولانا کے اندر کوئی تبدیلی یا کوئی کبر پیدا نہیں کیا۔ زندگی کا آخری ایوارڈ Padam Vibhushan 2021 میں وفات سے تقریباً ڈھائی ماہ (25 جنوری 2021) اس وقت ان کی طبیعت ناساز تھی، جس کی تصویر میرے پاس موجود ہے۔ یہ خبر سن کر مولانا کے چہرے پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑا۔ لوگوں نے بتایا تو کوئی توجہ نہ دے کر ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔ چھوڑئے یہ سب باتیں ۔ یہ تھی ان کی سادگی۔ وہ انکساری سے پر شخصیت تھے۔ مولانا امن اور خیر سگالی کے بہت بڑے علم بردار تھے۔ بے لوث انسان دیکھا تو مولانا کو دیکھا۔ ان کی متعدد کتابیں پڑھی ہیں۔ میرے پاس میرے چھوٹے کتب خانہ میں موجود ہیں مگر ان کی چند کتابیں مثلاً علم جدید کا چیلنج، پرافت آف پیس، تذکیر القرآن جیسی نایاب کتابیں پڑھنے کو ملیں۔ مختلف ادوار سے گزر کر مولانا نے غالباً 1976 میں اسلامک سینٹر قائم کیا۔ اس کے بعد غالباً اکتوبر 1976 سے ماہنامہ الرسالہ شروع کیا جو روز بروز ترقی کی طرف بڑھتا گیا۔ اس کی مقبولیت ہی ان کے مشن کی سچی ضامن ہے۔ آج بھی اردو رسالوں میں الرسالہ سے بہتر کوئی نیا اور قدیم رسالہ نہیں۔ اتنے عرصے تک اس کا زندہ رہنا ہی اس کی مقبولیت کا ضامن ہے۔
یہاں ایک واقعہ درج کرنا چاہتا ہوں۔ R.S.S کے صدرشن صاحب نے غالباً کانسٹٹیوشن کلب یا اس کے آس پاس کسی لان میں ایک جلسہ منعقد کیا۔ اس جلسہ میں ہندو مسلمان پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت تھی۔ اس جلسے میں آرایس ایس کی طرف سے ایک کتاب ”مسلمان غریب اور
پچھڑے کیوں‘‘ کا اجرا ہونا تھا۔ مولانا صدارت کر رہے تھے۔ متعدد شرکا نے اپنے اپنے خیالات کا میں بھی اپنے حلقہ احباب کے ساتھ اس میں موجود تھا۔ جلسے کے مقررین زہریلی، غلط سلط، بے مقصد نا پسندیدہ باتیں بولتے رہے۔ مولانا صدر کی حیثیت سے ایک سادہ سے لباس اور ایک پتلی سی چادر میں لپٹے ہوئے خاموش بیٹھے سن رہے تھے۔ جب سب نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر لیا اور صدر صاحب کی باری آتی تو مولانا کھڑے ہوئے، سدرشن صاحب نے کہا کہ مولانا آپ بیٹھ کر ہی اپنی بات کہیے۔ مولانا نے بیٹھ کر ہی جو تقریر کی اور ان سب کے غلط بیانات، ان کی غلط فہمیوں کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں واضح کیا تو سارا مجمع حیران رہ گیا۔ جلسہ میں ایک دم خاموشی طاری ہوگئی۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ اتنے میں سدرشن صاحب اٹھے، کہنے لگے مولانا آپ نے جو اسلام کی تشریح کی ہے اگر یہی اسلام ہے اور یقیناً ہے تو آج میں اس کتاب کا اجرا واپس لیتا ہوں۔ یہ سنتے ہی لوگوں میں ایک عجیب تجسس پیدا ہوا۔ اس کتاب کا اجرا واپس لے لیا گیا، اور کتاب روک بہر حال کسی طرح ایک دو کتاب میں نے اور میرے احباب نے حاصل کرلی۔ الحمد للہ آج تک وہ کتاب میرے پاس موجود ہے۔ بہر حال یہ وہ صفات اور کمالات ہیں کہ بڑی سے بڑی ہستی بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
ایک اور واقعہ مولانا کا یاد آتا ہے۔ مولانا کی ایک تقریر ہلٹن ہوٹل (امریکہ) میں تھی۔ تھا: Islam: Religion of Peace_ غالباً دنیا بھر کے مفکر، علمی شخصیتیں اور ہر مذہب کے نمائندے اس میں موجود تھے۔ ایسی مجلسوں میں پہلے پیپر سامعین کو بانٹ دیا جاتا ہے پھر تقریر ہوتی اس پر سب کچھ تفصیل سے لکھا ہوتا ہے۔
مولانا کی جب تقریر ختم ہوئی تو چند حضرات مولانا کی تقریر سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ انھوں نے مولانا سے دہلی میں رابطہ قائم کیا۔ ملاقات کا ٹائم لیا۔ مقرر وقت پر مولانا کی پہلی منزل پر بڑے ہال میں ملاقات ہوئی۔ اس وقت ایک مقامی مولانا بھی آگئے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ مولانا اس ڈیلیگیشن سے بہت انہماک سے بات کر رہے ہیں مجھ سے بات نہیں کر رہے ہیں۔ معذرت چاہی اور اٹھ کر واپس چلے گئے۔ اس ڈیلیگیشن میں پانچ افراد تھے۔ جن میں غالباً 3 مرد اور 2 مولانا کے شاگردوں نے انھیں اسلام پر چند کتابیں پیش کیں۔ انھوں نے شکریہ کے
ساتھ کتابوں کو قبول کیا۔ یہ لوگ چند ماہ بعد دوبارہ آئے تو ان کی سوچ بدل چکی تھی۔ آج وہ امریکہ میں اسلام کی دعوت کا زبردست نظام چلا رہے ہیں۔ اور ایک داعی کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح بہت سے علمی واقعات مولانا کے موجود ہیں۔ کہاں تک صفحہ قرطاس کو سیاہ کروں۔
کوئی بھی آدمی فرشتہ نہیں ہوتا۔ لیکن آدمی رہ کر زندگی گزارنا بڑی بات ہے۔ مولانا بھی آدمی تھے، فرشتہ نہیں ۔ انھوں نے ایک با مقصد زندگی گزاری۔ پوری زندگی مذہبی ، قومی اور ملی خدمات میں صرف کردی ۔ ان کا صرف یہ شیوہ تھا کہ اپنا کام کرتے رہو ۔ لوگ کیا کہتے ہیں اس کی پرواہ نہیں وہ چاہتے تھے کہ ملک میں ہی بلکہ پوری دنیا میں امن اور سلامتی رہے۔ مسلمان ترقی کریں۔ وہ اپنے ملک بھارت سے بے حد پیار کرتے تھے۔ ملک کے ہر فرد سے پیار کرتے تھے۔ کسی کو بھی غیر نہیں سمجھتے تھے۔ کسی سے کوئی بھی شکایت نہیں تھی ۔ نہ کوئی ہندو تھا نہ کوئی مسلمان۔ سب اس رب العزت کی پیدا کردہ کائنات میں اولاد آدم تھے۔ سب بھائی بھائی ہر جگہ ہر قوم میں ناپسندیدہ عناصر موجود ہوتے ہیں ان سے الگ ہو کر اپنا کام کرو۔ بس یہی ہمارا
مولانا نے انتہائی آسان زبان میں قرآن کریم کا انگریزی ہندی اور اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ عبدالکلام صاحب نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ میں نے مولانا کی متعدد کتابیں پڑھی ہیں۔ ایک زبردست مفکر ہیں۔ میں ان کو روحانی رہنما سمجھتا ہوں۔ اسی طرح انڈین ایکسپریس ، ٹائمس آف انڈیا جیسے نیشنل اخباروں نے مولانا پر مضمون لکھا۔ اردو اخبارات خاص طور پر راشٹریہ سہارا نے دو مکمل صفحہ کا مضمون شائع کیا ہے جو قابل غور ہے، سب کو پڑھنا چاہیے۔
مولانا کی تحریر بھی غضب کی ہوتی تھی۔ سمندر کو کوزے میں بھرتے دیتے تھے۔ ایک صفحہ کا الرسالہ کا مضمون اور مکمل سبق۔ کیا خوبی تھی جو دوسرے لوگ لمبی لمبی تحریروں اور تقریروں سے نہیں سمجھاپاتے تھے مولانا ایک صفحہ کے مضمون میں حل کر دیتے تھے۔ مولانا نے کبھی بھی جذباتی تقریر یا تحریر نہیں کی۔ یہ بڑی صفت تھی مولانا کی۔
بیسویں صدی کے جن علماء دین کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ان میں مولانا وحیدالدین خاں
کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ خصوصی طور پر بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینا ہی ان کی زندگی کا اہم مقصد تھا۔ اس میں انھوں نے کلیدی رول ادا کیا۔ ان کا نظریہ دین سائنٹفک تھا۔ وہ اپنی تقریر اور تحریر کی بدولت غیر مسلم دانشور طبقے میں بہت مقبول تھے اور پسند کئے جاتے تھے۔ مذہب اسلام کو اعتدال پسند مذہب کے طور پر پیش کیا۔ کبھی بھی تشدد کا پیغام نہیں دیا۔ مولانا میرے مشیر تھے۔ جب بھی میں کسی پریشانی یا الجھن میں ہوتا ان سے شیئر کرتا۔ اپنے حالات بتاتا۔ مولانا بہت مفید مشورہ دیتے۔ میرے پیچیدہ مسائل سن کر حالات اور واقعات سے متاثر ہو کر ایک مضمون کمینہ پن کے عنوان سے الرسالہ میں شائع کیا جو بہت کارگر ثابت ہوا۔ طرح ایک مسئلہ میری زندگی کے اہم موڑ پر ہوا۔ میں نے مولانا سے ذکر کیا۔ اس واقعہ سے بھی بہت کچھ دنوں کے بعد الرسالہ کے ذریعہ دوسرا مضمون غلط فہمی کے نام سے شائع ہوا۔ دونوں مضامین میں مولانا نے یہ ثابت کیا کہ غلط فہمی سے کیسے مسائل خراب ہوتے ہیں اور ان پر صبر کر لینے اور خاموشی اختیار کرنے سے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔ صبر پر اللہ کی غیبی مدد ہوتی ہے۔ مولانا نے معاشرہ کو خدا سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مولانا محترم بیسویں صدی کے آخری سب سے بڑے عالم تھے۔ جلیل القدر ہستی تھے۔ وہ بر صغیر کے واحد عالم تھے، جنھوں نے دور جدید میں اسلامی فکر کو بہت آگے بڑھایا۔ ان میں اعتدال پسندی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جو شخص اصلاح کی غرض سے کام کرنا چاہتا ہے اس کی مخالفت بھی ضرور ہوتی ہے۔ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے تنقیدی نظریہ کو اپنایا۔ دنیا کی تبدیلی کو دیکھا اور سمجھا۔ مولانا وحید الدین خاں جیسے جید عالم اور مصلح قوم وملت کا رخصت ہونا قوم اور ملت کا ایک بڑا مولانا نے خود کو صرف مذہب تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ انھوں نے بھارت میں قومی یکجہتی اور فرقہ پرستی کے خلاف ماحول سازی کے لئے بھی اپنی عمر کا بیشتر حصہ صرف کیا۔ سے بڑے فرقہ پرستوں کی زبان پر تالا لگا دینا صرف اور صرف مولانا مرحوم کا ہی کام تھا، دوسرا کوئی اس کام کو لگام نہیں دے سکتا۔ مولانا اعتدال پسندی کے نظریہ کے قائل تھے اور اپنی بات کہنے اور سمجھانے کا علمی ہنر بھی خوب جانتے تھے۔ اس کام کے لئے مولانا نے سوچا کہ جب تک بھارت کے مسلمانوں اور ہندوؤں میں پرامن تعلقات قائم نہیں ہوں گے تب تک نہ تو قوم ترقی کرے گی ، نہ مسلمان
ترقی کرے گا، اور نہ ملک۔ کسی قوم کی کسی ملک کی ترقی کے لیے ”امن“ سخت ضروری ہے۔ لیے بھی اور کل کے لیے بھی۔
چھوٹے چھوٹے صفحات میں بڑی بڑی گہری باتیں لکھنا یہ مولانا کی صفت تھی۔ اسلام کو جدید اسلوب میں اور محکم سائنسی ومنطقی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے۔ مولانا مرحوم کی کوشش بھی ان کے لیے ان شاء اللہ صدقہ جاریہ بنے گی۔ مذہب اور جدید چیلنج، کتاب معرفت، پیغمبر انقلاب، گاڈ ارائٹرز، تعبیر کی غلطی، قیامت کا الارم، اظہار دین، آخرت کا سفر، ڈسکوری آف گاڈ، اور سیکرس گائڈ وغیرہ جیسی بہترین تصانیف نے مولانا کو برصغیر کی اسلامی علمی روایات کا ایک اہم سنگ میل بنا دیا۔ وہ ایک جید عالم ودانشور، اور امن کے پیغمبر تھے۔ انتہائی خاموش طبیعت پائی۔ بولتے تھے، گہرائی سے سوچتے تھے۔ یہ ساری خوبیاں آج کے لوگوں میں خاص کر علماء میں کہاں پائی
طارق بدر صاحب (لاہور) کے نام ایک خط برادرم طارق بدر صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں نے آپ کی ریکارڈنگ سنی۔ آپ کے خیالات کو جان کر مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بھر پور مدد فرمائے۔ اب دوسرے دور کے لیے آپ کو میرا مشورہ ہے کہ آپ اسٹرکٹلی نان پولیٹیکل بن کر کام کریں۔ اسی کے ساتھ لو پروفائل کا طریقہ اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر طرح کامل مدد فرمائے۔
وحید الدین خاں
خیره نه کر سکے مجھے جلوۂ دانش فرنگ مولانا محمد عبد الہادی عمری، برمنگھم، یوکے جنوبی ہند کی مشہور درس گاہ جامعہ دارالسلام عمر آباد میں جب ہم زیر تعلیم تھے اس وقت برصغیر کی جن شخصیات کا طلبہ کے درمیان چرچا تھا ان میں مولانا وحید الدین خاں کا نام نمایاں تھا، خاص طور پر ان کی کتاب علم جدید کا چیلنج کے حوالے سے۔ اس کے ایک دو نسخے طلبہ تک پہنچے تھے، غیر درسی کتب کے اوقات مطالعہ میں اس کتاب کے مندرجات سینئر طلبہ سے ہم سنا کرتے۔ کتاب کا محققانہ اسلوب، قوت استدلال اور پھر اسلامی تعلیمات کی عظمت کے نقوش قاری کو ذہنی مرعوبیت سے نکال کر اسلام کی حقانیت کا قائل کرتے۔
پھر مولانا کی مختلف کتابوں کے مطالعہ کا شوق بڑھتا گیا۔ جب یہاں برطانیہ پہنچے تو ان کے ساتھ ملاقاتوں اور نشستوں کے کئی مواقع میسر آئے۔ بعض مسائل میں اختلاف رائے کے باوجود دعوتی کاز کے لئے ان کے خلوص اور تڑپ سے انکار ممکن نہیں۔
ہمارے بھائی شمشاد خان صاحب مؤسس اسلامی پروپیگنڈیشن سنٹر برمنگھم جو مشہور داعی شیخ احمد دیدات کے برمنگھم میں میزبان خاص ہوا کرتے، ان کی دعوت پر مولانا جب برمنگھم پہنچے تو ان کے پروگرامز کی فہرست میں جمعیت اہل حدیث، برمنگھم، برطانیہ کا مرکز بھی تھا۔ یہاں کے بعض علماء اور اراکین کے ساتھ مولانا کے تعلقات کا دائرہ قدیم اور وسیع تھا۔ جمعیت کی طرف سے شائع ہونے والے اردو مجلہ ماہنامہ صراط مستقیم کا ایک کالم درس قرآن ہے۔ اس میں عرصہ تک اس وقت کے مدیر مسئول مولانا محمود احمد میر پوری نے پسند کیا کہ مولانا کی تذکیر القرآن کا ہی حصہ شائع کیا جائے اور ماہنامہ الرسالہ دہلی کے مختلف مضامین اور اقتباسات بھی اس میں چھپتے رہے۔ مہمان گرامی نے صراط مستقیم کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں سے صراط مستقیم کی تعریف اور حوصلہ افزائی کی، اس دورہ میں مولانا کے ساتھ دو نشستیں ہوئیں، ایک خصوصی نشست جس میں اہم موضوعات پر علماء کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا بلکہ یوں کہیے کہ کچھ اشکالات پر گفتگو ہوئی۔ مولانا کا ایک
خاص وصف تھا کہ اختلاف رائے کو اہمیت سے سنتے اور دلائل پر مناقشہ بھی کرتے، اس نشست میں زیادہ گفتگو جہاد اور قرب قیامت میں ظاہر ہونے والی کچھ نشانیوں کے متعلق، جن کی پیشین گوئی صحیح احادیث میں وارد ہے اور بعض کے بارے میں مولانا کا اپنا خاص نقطہ نظر تھا۔ گفتگو کے بعد مولانا محترم نے کچھ باتوں پر دوبارہ غور کرنے کا وعدہ کیا اور بعض کے متعلق کہا کہ یہ میری رائے ہے، اگر آپ مطمئن نہیں تو اس رائے کو چھوڑ دیجئے۔
مولانا یہاں کئی بار تشریف لا چکے ہیں، اس وزٹ کی دوسری نشست خطاب عام کے لئے خاصی تعداد میں احباب جمع تھے۔ میں نے خطاب سے پہلے تعارف میں ایک بات کہی تھی کہ مولانا نے کمیونزم کے بارے میں کہا تھا کہ یہ نظریہ زوال پذیر ہے اور بہت جلد یہ نا کام ہو جائے جب آپ نے یہ بات کہی اس وقت وہ اپنے عروج پر تھا، پھر تقریباً تیس سال بعد اس کی شکست و ریخت ہوئی۔ ہمیں ایسے رہنما چاہیے جو وقت سے پہلے حالات کی تہ تک پہنچ کر درست رہنمائی کر سکیں اس تعارفی نکتہ کا فائدہ یہ ہوا کہ لوگ بہت توجہ سے مولانا کا خطاب سنتے رہے اور وقفۂ سوالات میں کئی احباب نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سوالات کئے کیونکہ اگر مولانا کی نظر اتنی گہری ہے تو اس مسئلہ میں کیا رہنمائی فرمائیں گے۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب عموماً کشمیری رہنما اپنی تقریروں میں یہ تاثر دیا کرتے کہ گویا کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی خبر آج ملے کل ملے۔ مولانا افکار و خیالات میں تقلید جامد کے سخت خلاف تھے۔ اپنے مطالعہ اور غور و فکر کے نتیجہ میں جس بات کو درست سمجھا اس کا اظہار برملا کیا، وہ اس اصول پر عمل پیرا تھے ”لا يَخَافُونَ لَوْمَةَ اپنے موقف کے اظہار میں کسی تعریف یا مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ کسی کو مولانا کے نتیجہ فکر سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن جس کو حق سمجھا اس کا برملا اعلان کیا۔ مشہور محدث علما الشیخ ناصر الدین البانی کی فن حدیث پر تحقیقی مساعی کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور فن حدیث میں انھیں اتھارٹی سمجھتے ہوئے الرسالہ کے مختلف شماروں میں ان کی مساعی جمیلہ کا تذکرہ کیا۔
مولانا کے بعض خیالات سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن وہ اپنے موقف کو دلائل سے اس طرح مزین اور وزنی کرتے کہ ان کا علمی جواب ہر کس و ناکس کے بس میں نہ ہوتا۔
نگارشات میں فکر آخرت گویا مرکزی عنوان اور اہم نکتہ تھا کہ دنیا کو آخرت کی کامیابی کا زینہ بناؤ، موصوف کی بیشتر تحریریں اسی نکتہ کے گرد گھومتیں اور اسی نتیجہ کی طرف قاری کو وہ لے جانا چاہتے۔ ماہنامہ الرسالہ کا بیشتر حصہ فرد واحد کی صلاحیت کا نمونہ تھا کہچہ پرچہ کو شائع ہوتے ہوئے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرا، اس کا اپنا ایک طرز تھا۔ اس وجہ سے ہر ماہ نئے شمارہ کا قارئین کو شدت سے انتظار رہتا، بلاشبہ صحافتی دنیا میں یہ عظیم کارنامہ ہے۔
وہ مسائل اور دشواریوں کی شکایت کرنے اور اپنی محرومی یا ناکامی کا شکوہ کرنے، راستہ میں حائل سیاسی اور سماجی نا انصافیوں کے ذکر میں اپنی توانائیاں صرف کرنے کے بجائے زور دیتے کہ ان رکاوٹوں سے اعراض کرتے ہوئے نئی راہیں تلاش کیجئے۔
گلہ نہیں جو گریزاں ہیں چند پیمانے نگاہِ یار سلامت ہزار میخانے جوانی اور بڑھاپا بڑھاپا کا دور انسان کے لیے عجز کی دریافت کا دور ہے۔ جس انسان کے اوپر بڑھاپا کا دور گزرے، وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے عجز کو دریافت کرے۔ عجز کی دریافت دوسرے اسباب سے بھی جزئی طور پر ہوتی رہتی ہے، لیکن کامل معنوں میں عجز کی دریافت صرف بڑھاپے سے حاصل
انسان جب جوانی کی عمر میں ہوتا ہے، اس کی تمام قوتیں شباب پر ہوتی ہیں۔ اس کے تمام آرگن پوری طرح کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ان قوتوں کا مالک وہ خود بڑھاپے کی عمر اس غلط فہمی کی تردید ہے۔ (مولانا وحید الدین خاں) میرے روزمرہ کے مشاہدے اور تجربے کے مطابق، مولانا کی خاص صفت تھی۔
اپنے خلاف تنقید کو معتدل انداز میں سننا اور اپنی غلطی کو ماننے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا۔ (فرہاد احمد، نئی دہلی)
ڈاکٹر محمد خالد، برمنگھم میں الرسالہ کی کتابیں غور وفکر کے ساتھ پڑھتا رہتا ہوں۔ دورانِ مطالعہ جو باتیں میں نے محسوس کی ہیں، ان کو تجاویز کی شکل میں ذیل میں درج کر رہا ہوں: