Al-Risala · February 2021

انسان کے لیے سبق

Al-Risala, February 2021, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الرحمن میں دو آیتیں ان الفاظ میں آتی ہیں : كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ۔ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (55:26-27) ۔ یعنی جو بھی زمین پر ہے، وہ فنا ہونے والا ہے، اور تیرے رب کی ذات باقی رہے گی، عظمت والی اور عزت والی۔ ایک شخص کی عمر 90 سال ہو چکی ہو، اور وہ پیچھے مڑ کر دنیا کو دیکھے، جس سے گزرتے ہوئے وہ 90 سال کی عمر کو پہنچا ہے تو اس کو اپنے تصور کی دنیا میں دکھائی دے گا کہ اس کے پیچھے دور تک وفات پانے والے انسانوں کی قبریں بنی ہوئی ہیں۔ قبریں اتنی زیادہ ہوں گی کہ اس کی گنتی ختم ہو جائے گی، لیکن قبروں کی تعداد ختم نہ ہوگی۔ اس کو چشم تصور میں ایک ایسا منظر دکھائی دے گا، جس میں اس کے جیسے بے شمار لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ مجھ کو دیکھو، ایک وقت تھا کہ میں بھی تمھاری طرح زمین پر چل پھر رہا تھا، آج صرف میری بھولی ہوئی یاد ہے، میں تم سے بہت دور ایک ایسی دنیا میں پہنچ چکا ہوں، جہاں تم کو بھی ایک دن آنا ہے۔ تم کو چاہیے

کہ تم سب سے زیادہ اس حقیقت پر غور کرو، دوسرے انسانوں کے انجام سے اپنے لیے سبق حاصل کرو۔ اس کے بعد اگر وہ آدمی اپنے تصور کی دنیا میں اللہ رب العالمین کو یاد کرے تو اس کو محسوس ہوگا کہ اللہ رب العالمین اپنے تمام جلال و کمال کے ساتھ ایک حی و قیوم ذات کی طرح موجود ہے۔ ہر چیز سے بلند ہے۔ اس وقت اس کو قرآن کی یہ آیت یاد آئے گی: وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے: His throne extends over the heavens and the earth اس حقیقت پر سوچتے ہوئے جب وہ قرآن کے مذکورہ الفاظ کو دہرائے گا تو اپنی بے چارگی، اور اللہ کی عظمت کو سوچ کر اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جائے ۔ اس کو اللہ کی موجودگی (presence) کا اتنا شدید احساس ہوگا کہ وہ بے ساختہ طور پر سجدے میں گر پڑے گا۔

Printed page