Al-Risala · August 2021

مولانا مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان برج تھے

Al-Risala, August 2021, pp. 307–322

By Maulana Wahiduddin Khan

عالم اسلام کی معروف شخصیت اور اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خان کے سانحہ ارتحال پر ریاست اتر پردیش کے رامپور میں ورک تنظیم کے ڈائریکٹر سید عبداللہ طارق نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا وحید الدین خان مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان برج کے مانند تھے۔ عالم اسلام کی ممتاز و معروف شخصیت مولانا وحید الدین خان 21 اپریل 2021 کی رات 11 بجے 96 برس کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ان کے سانحہ ارتحال پر ملک وملت کی سرکردہ شخصیات کی جانب سے اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

رامپور میں ورلڈ آرگنائزیشن آف ریلیجیس اینڈ نالج نام کی دعوتی تنظیم کے سربراہ سید عبداللہ طارق نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا وحید الدین خان جیسی شخصیت کا دنیا سے چلے جانا ایک بڑا خسارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد اجتماعات میں ان کا اور مولانا کا کافی ساتھ رہا ہے۔ مولانا وحید الدین خان مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پل کے مانند تھے : سید عبد اللہ طارق نے کہا کہ مولانا وحید الدین خان کی زندگی میں انفرادیت تھی۔ انہوں نے اسلامی دعوت کو عام کرنے میں کبھی کسی سے کوئی تعاون نہیں لیا۔ وہ اکیلے ہی کام کرتے چلے گئے اور انہوں اپنی زندگی میں مختلف اہم کاموں کو انجام دیا۔ عبداللہ طارق نے کہا کہ مولانا کی سرگرمیاں منفرد انداز کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا وحید الدین خان کا سب سے بڑا اور اہم کام وہ تھا جس کی آج کے زمانے میں شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے، وہ یہ ہے کہ نفرتوں کے ماحول میں ہندو۔ درمیان کی کھائی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی۔

اس موقع پر سید عبداللہ طارق نے کہا کہ مولانا نے اپنے مشن سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ نے مولانا وحید الدین خان کے ساتھ گزرے اپنے اوقات کو بھی یاد کیا۔ واضح رہے کہ مولانا وحید الدین خان مرحوم نے متعدد کتابوں کی تصنیف کے ساتھ ہی قرآن کریم کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے جس کو انگریزی حلقہ میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔ (ای ٹی وی بھارت)

علمی وادبی دنیا کا بہت بڑا خسارہ فیروز خان، دیوبند معروف عالم دین مولانا وحیدالدین خان 96 سال کی عمر میں علالت کے باعث انتقال کرگئے ۔ نئی دہلی کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ انہوں نے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی علاقے کی فضا سوگوار ہوگئی۔ مولانا وحیدالدین خان کے سانحہ ارتحال پر دارالعلوم وقف دیوبند کے نائب مہتمم مولانا ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا وحیدالدین خان نے اپنی زندگی میں درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی تفسیر بھی لکھی، ان کی علمی خدمات کے باعث حکومت نے انہیں دوسرے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پدم وی بھوشن سے بھی اللہ مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مولانا محمد شریف خان قاسمی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک کرکے ساری بڑی ہستیاں بچھڑتی جارہی ہیں، روزانہ کوئی نہ کوئی جانے پہچانے ہمارے درمیان سے رخصت ہورہے ہیں، ہم نے اپنی زندگی میں اس تواتر کے ساتھ اپنوں کو کھوتے ہوئے نہیں دیکھا، خدا کرے کہ یہ سلسلہ دراز نہ ہو، ایک دن میں کئی کئی جاننے والوں کی جدائی کا غم اٹھانا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم پانچ زبانیں جانتے تھے۔ ان کی تحریریں بلاتفریق مذہب ونسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ وہ دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے تھے۔ ان کا مشن مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیرمسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور ان کے مشن کو جاری رکھنا ہی انہیں سچی خراج عقیدت ہوگی۔

عالمی شہرت یافتہ شاعر وماہر تعلیم ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ مولانا وحیدالدین خاں بڑی عہد ساز شخصیت کے مالک تھے انھوں نے بہت منظم طریقہ پر اپنے دعوتی مشن کو مسلسل جاری رکھا۔ مخالف اور تیز ہواؤں کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ اپنے مشن کے چراغ کو جلائے رکھنے کا ہنر کوئی مولانا وحیدالدین خان سے سیکھے۔ وہ ہمیشہ سے مثبت سوچ کے حامی اور مبلغ رہے۔ ان سے بہت

سے معاملات میں اختلاف رکھنے والے لوگ بھی ان کے علمی کمالات کے قائل رہے ہیں۔ اور سیاسی مسائل پر بغیر کسی مصلحت کے بروقت اور بر محل بولنے والوں میں ان کا نام جلی حروف سے لکھا مولاناحیدالدین خاں نے اپنی تحریروں سے مثبت قومی مزاج بنانے کی کوشش کی ان کا رخصت ہونا ملک و قوم کا ایک بڑا نقصان ہے۔

معروف ادیب وقلم کار سید وجاہت شاہ نے مولانا مرحوم کے فرزندان و دیگر اہل وعیال کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خالص مذہبی مسائل پر مولاناحیدالدین خان کے دلائل، زندگی کے حقائق و احوال پر سادہ وجاذب اسلوب میں کیے گئے ان کے تبصرے، ان کی رہنما یا نہ گفتگو انہیں بہت پسند تھی اور حقیقی زندگی میں ان سے استفادے کی بھی کوشش کی۔ ان کے اسلوب میں ایک بانگپن تھا اور انداز تحریر میں بلا کی کشش، وہ لکھتے نہیں تھے، اپنی بات کو قاری کے دل کی گہرائیوں میں اتارنے کا ہنر جانتے تھے، ایسی سادگی کے ساتھ ایسی سحر انگیز تحریریں لکھنے والا اردو زبان میں شاید ہی کوئی دوسرا گزر اہوگا۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔ جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی خانقاہ دیوبند کے مہتمم مولانامزمل علی قاسمی نے کہا کہ مولانا مرحوم کے انتقال پر ملال کی خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اللہ نے انھیں بے پناہ مقبولیبتوں سے نوازا اور ہندوستان سے لے کر یورپ کے دور دراز ملکوں تک ان کے دورے ہوئے، مگر روئے زمین کے ہر خطے اور ہر گوشے میں وہ اپنی عالمانہ شان اور قلندرانہ وقار کے ساتھ پہنچے۔ انھوں نے دین اسلام کی عصری تعبیر و تشریح کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اپنی حد تک پوری زندگی اس ضرورت کی تکمیل کی کوشش کی۔ اللہ مرحوم کو اپنے قرب خاص سے نوازے۔

جمعیۃ علماء ہند کے ضلع سکریٹری مولانا محمد ابراہیم قاسمی نے کہا کہ مولانا وحید الدین خان سماج کی صالح تعمیر و تشکیل کے لیے فرد کی تعمیر کو ضروری قرار دیتے تھے اور فرد کی تعمیر کے اجزا و عناصر وہ قرآن و حدیث، اسلامی مآخذ اور دنیا بھر کی ترقی یافتہ قوموں کے واقعات و احوال سے تلاش کرتے تھے۔ وحیدالدین خان ایک فرد نہیں تھے، ایک ادارہ تھے، ایک انجمن تھے، ایک اکیڈمی تھے؛ بلکہ علم و نظر اور فکر و دانش کی پوری ایک کائنات تھے۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ دارالعلوم فاروقیہ دیوبند کے مہتمم مولانا نور الہدی قاسمی بستوی اور انڈو عرب ملٹی لنگول

پرائیویٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد انور خان قاسمی نے کہا کہ مولانا وحید الدین خان کو اے گریٹ سائنٹیفک سینٹ آف مسلم ورلڈ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا اچانک یوں چلے جانا علمی اور ادبی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے ، لیکن مولانا نے زندگی کی آخری سانسیں لینے کے لیے خاتمہ بالخیر کے طور پر جو مبارک لمحات پائے وہ ان کی دینی خدمات کی قبولیت کا نشان ہیں۔

یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم ، الحیاء پبلی کیشنز کے ڈائریکٹر عبداللہ عثمانی ، نوجوان شاعر تنویر اجمل دیوبندی، معروف افسانہ نگار ہارون حسرت اور ماسٹرشمیم کریم پوری، قاری عامر عثمانی ، مولانا عبداللطیف قاسمی ، مہدی حسن عینی قاسمی، جمعیتہ فلاح انسانیت کے قومی جنرل سکریٹری الحاج شاہ عالم قاسمی ، معروف اسلامک اسکالر مولوی سکندر خان اور محمد ثاقب خان نے مشترکہ طور پر کہا کہ مولانا وحید الدین خان اپنی سحر انگیز اور پر اثر خطابت کے ذریعہ ہوا کے رخ کو بڑی حد تک پھیرنے اور سامعین کے دلوں پر حکومت کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتے تھے۔ اللہ رحم کا معاملہ اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔

ہندوستان کے معروف اسلامی اسکالر وحید الدین خان نہیں رہے : (یو این آئی) ہندوستان کے معروف اسکالر اور پدم بھوشن سے سرفراز مولانا وحید الدین خان کا کل دہلی میں انتقال ہو گیا۔ برس کے تھے۔ ان کی پیدائش یکم جنوری 1925 ء کو بڈھریا اعظم گڑھ ، اتر پردیش میں ہوئی ۔ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل عالم دین، مصنف، مقرر اور مفکر تھے۔ وہ اسلامی مرکزی دہلی کے چیرمین اور ماہ نامہ الرسالہ کے مدیر تھے۔ وہ 1967 ء سے 1974 ء تک الجمعیۃ ویکلی (دہلی) کے مدیر رہ چکے ہیں۔ آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب ونسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ خان صاحب پانچ زبانیں جانتے تھے (اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی) اور وہ ان زبانوں میں لکھتے اور بیان دیتے ٹی وی چینلوں میں آپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان عام طور پر دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ ان کا مشن ہے مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا۔ مسلمانوں میں مدعوقوم (غیر مسلموں) کی ایذا وتکلیف پر ایک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا ہے جو ان کی رائے میں دعوت دین کے لیے ضروری ہے۔ (قومی آواز ، 22 اپریل ، 2021)

ڈاکٹرشیام سندرشرمانہئی دہلی میں نے مولانا صاحب کے ساتھ رہ کر جن اچھائیوں کو حاصل کیا وہ آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا میں نے پندرہ سال آرتھوپیڈکس کی حیثیت سے مولانا صاحب کی خدمت انجام دی ہے۔ صاحب اپنے آپ میں ایک مکمل شبد تھے۔ انھوں نے پوری زندگی سچائی کی تلاش میں گزاری۔ لیونگ میں نے اپنی زندگی میں کسی کو نہیں دیکھا۔ ان کے پاس جب میں پہنچتا تھا تو مجھے محسوس ہوتا کہ میں کسی فرشتے کے پاس آکر بیٹھا ہوا ہوں۔ آج تک میں نے ان سے نیگیٹیوشد نہیں سنا۔ وہ ہمیشہ ہم لوگوں کو یہی سکھاتے تھے کہ جیون میں کبھی نیگیٹیوٹی نہیں آنے دیجیئے گا۔ چاہے کیسی بھی مشکل ہو اس کو ایک چیلنج کے طور پر لیجیئے گا۔ اللہ جب ایک راستہ بند کرتا ہے تو دوسرا راستہ ضرور کھولتا ہے۔ اسی امید کے ساتھ آپ کو آگے مولانا کی سمپل لیونگ کے بارے میں میں اکثران کی زبان سے سنتا تھا کہ ان کی امی جان اکثر کہا کرتی تھیں کہ ”رلین باھن، بھیلی دھوب، جات جات ہم کیسن ہوب)‘‘ ہم برہمن تھے، دھوبی بن گئے، معلوم نہیں جاتے جاتے ہم کیسے ہوں گے )۔ مطلب کہ مولانا صاحب کی بچپن سے اتنی سادہ زندگی رہی ہے کہ ان کی امی کو کبھی یہ احساس ہوتا تھا کہ اتنی بڑی فیملی میں ان کا جنم ہوا اور ان کا جیون صوفیانہ اور فقیری والا گزر رہا ہے۔ مولانا کے پاس جب بھی ہم آتے تو وہ خیریت نہیں پوچھتے تھے کہ کیا حال ہے بلکہ پوچھتے کہ آپ کے پاس کوئی نیوز ہے؟ اور اس سے وہ کچھ نہ کچھ سیکھ ضرور لیتے تھے۔ ہر پل اور ہر سیکنڈ صرف اور صرف پازیٹیوٹھاٹ اور اللہ کی حمد میں جیتے تھے۔ جب وہ سوتے تھے تو اللہ کے نام سے سوتے تھے، اور جب سوکر اٹھتے تھے تو بھی اسی کے نام سے اٹھتے تھے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جب وہ سوتے تھے تو بھی اللہ ہی کے دھیان میں سوتے تھے۔ ان کی سمپل لیونگ ایسی تھی کہ ان کو فرق نہیں پڑتا تھا وہ کپڑا سیدھا پہنے ہوئے ہیں یا الٹا پہنے ہوئے ہیں، بس ان کا جسم ڈھکا ہوا ہو بہت ہے۔ وہ اپنے کمرے میں، اپنی لیونگ میں چینج نہیں چاہتے نیچر سے بھی ان کو بہت لگاؤ تھا، وہ نیچر میں جینے والے شخص تھے۔ ایک بات وہ مجھے سمجھایا کرتے تھے کہ ڈاکٹر شرما! اللہ سب کچھ معاف کرے گا لیکن مورتی پوجا کبھی معاف نہیں کرے گا تو میری بات یاد رکھیئے گا کہ کبھی مورتی پوجامت کیجیئے گا، تو میں ان سے کہتا تھا کہ مولانا صاحب میرا وعدہ ہے آپ سے کہ میں صرف مالک کی پوجا اور سجدے میں زندگی گزاروں گا۔

عصری اسلوب اسلامی لٹریچر میں مولاناحیدالدین خاں کے قلم سے امتِ مسلمہ کا فائنل رول سفرنامہ غیر ملکی اسفار۔ سفرنامہ غیر ملکی اسفار۔ میوات کا سفر ڈائری 1983- 1984 ڈائری 1989- 1990 ڈائری 1991- 1992 ڈائری 1993- 1994 اسلام : ایک تعارف دین و شریعت قال اللہ، قال الرسول عورت: معمارِ انسانیت سفرنامہ اسپین و فلسطین مذہب اور جدید چیلنج تعبیر کی غلطی انسان کی منزل مارکسزم: تاریخ جس کور د کر چکی ہے اسلام اور عصرِ حاضر شتمِ رسول کا مسئلہ سوشلزم اور اسلام دعاء و ذکر کی حقیقت اور اسمِ اعظم اسلام دورِ جدید کا خالق حل یہاں ہے مذہب اور سائنس سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ قرآن کا مطلوب انسان دین کی سیاسی تعبیر تعمیر کی طرف

روشن مستقبل | اسلام دین فطرت سبق آموز واقعات | اسلام اور انتہا پسندی آخری سفر | تعارف اسلام علماء اور دور جدید | صوم رمضان دین کیا ہے | صبحِ کشمیر خلیج ڈائری | امہات المومنین عظمت صحابہ | تعدد ازدواج عظمت اسلام (کتابچہ) | کشمیر میں امن عظمتِ مومن | خدا اور انسان باغِ جنت | تعمیر ملت راہیں بند نہیں | اتحادِ ملت اسلام کا تعارف | نارِ جہنم رہنماۓ حیات (کتابچہ) | مطالعہ سیرت (کتابچہ) اسلام: پندرھویں صدی میں | ایمانی طاقت ہندوستان آزادی کے بعد | اسلامی دعوت انسان اپنے آپ کو پہچان | اسلام کیا ہے نئے عہد کے دروازے پر | دینی تعلیم سچا رستہ | فسادات کا مسئلہ منزل کی طرف | حقیقت کی تلاش پیغمبر اسلام | تاریخ دعوتِ حق طلاق اسلام میں | تاریخ کا سبق اسلام اور خدمتِ خلق | یکساں سول کوڈ اسلام: ایک عظیم جدّوجہد قیامت کا الارم آخرت کا سفر حج کا پیغام شہادت: امتِ مسلمہ کا مشن منصوبہ بند عمل سوال و جواب خدا کی دریافت ان اردو کتابوں کوپی ڈی ایف (PDF) فارمیٹ میں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں یا QR Code کو اسکین کریں:https://cpsglobal.org/books/mwk/urdu

مولانأ وحیدالدین خاں دعوت اور تعارفی مضامین مولانأ وحیدالدین خاں مولانأ وحیدالدین خاں مولانأ وحیدالدین خاں خدا کی شعوری دریافت کے رہنما اصول مولانأ وحیدالدین خاں آیات قرآنی کا تکمیلی مطالعہ مولانأ وحیدالدین خاں مولانا وحید الدین خاں خدا کی دریافت سائنس کی روشنی میں خدا پر ایمان مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں اسلامی نظری اور عملی اور تاریخی مطالعہ مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں سفر نامہ اسپین فلسطین مولانا وحید الدین خاں

مولانا وحید الدین خاں کی تقریر اور تحریر کے لیے سی پی ایس انٹرنیشنل کے کچھ اہم لنک اور QR Codes ملاحظہ فرمائیں: سی پی ایس انٹرنیشنل کے ویب سائٹ پر جانے کے لیے الرساله اردو، انگلش اور ہندی کا مطالعہ کرنے کے لیے مولانا کے آرٹیکلس پڑھنے کے لیے سوال وجواب کا مطالعہ کرنے کے لیے مولانا کے اردو انگش ویڈیو دیکھنے کے لیے اردو، انگلش آڈیوز کے لیے اس لنک پر کلک کریں

The Prime Minister of India Mr Manmohan Singh honours Maulana Wahiduddin with Rajiv Gandhi National Sadbhavna Award in New Delhi in 2010. Maulana Wahiduddin Khan receiving the Divaliban Mohan Lal Mehta Award Progress of Religion from the former President of India, Mr R Venkataraman in 1997.

Khan receiving Sayyidina Imam Al Hassan Ibn Ali Peace Award from Sheikh Abdullah Bin Bayyah in Abu Dhabi in 2015.

Maulana Wahiduddin Khan delivering a lecture on the occasion of the 150th Birth anniversary of Swami Vivekananda at India International Centre in New Delhi in 2013 Maulana Wahiduddin Khan at Al-Aqsa Mosque, Jerusalem in 2010 Maulana Wahiduddin Khan in Amr ibn Al-As Mosque, Cairo

Maulana Wahiduddin Khan delivering a talk a IRS Conference in Toronto, Canada in 2016 Maulana Wahiduddin Khan at an interfaith conference ‘Walk of Hope’ in New Delhi in 2016 Maulana Wahiduddin Khan in a Prayer Meeting in Cyprus in 2008

Maulana Wahiduddin Khan and Dr Farida Khannam interacting with Mr Becov and other delegates at the Interfaith Conference at Zug, Switzerland in 2002

Maulana Wahiduddin Khan with the Prime Minister of India Dr Manmohan Singh in 2010 Maulana Wahiduddin Khan interacting with a participant of the program in New Delhi Maulana Wahiduddin Khan presenting a copy of the English Quran to the Israel President, Shimon Peres in 2010

Printed page