قرآن ایک عالمی کتاب
Al-Risala, February 2021, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ قرآن سادہ طور پر ایک کتاب نہیں، وہ انسانوں کے لیے ابدی ہدایت کی ایک عالمی کتاب ہے۔ چنانچہ قرآن میں ساتویں صدی عیسوی میں یہ اعلان کیا گیا تھا: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ قرآن چونکہ تاریخ کے ابتدائی دور میں اترا تھا، اس لیے اپنے آپ اس کے اندر بہت سے نقائص شامل تھے۔ مثلاً یہ کہ ابتدائی دور میں یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے متن کو یاد کر کے اس کو محفوظ کیا جائے، تا کہ قرآن بعد کی نسلوں تک کامل حفاظت کے ساتھ پہنچ سکے۔ اسی طرح یہ بھی کہ کتابت کے فن کو ڈیو لپ کیا جائے، کاغذ تیار کیا جائے، پرنٹنگ پریس وجود میں لایا جائے۔ قرآن کی زبان عربی کو اس طرح محفوظ کیا جائے کہ وہ قیامت تک قابل فہم زبان بنی رہے، قرآن کے اشارات کو تفصیل کی زبان میں بیان کیا جائے، قرآن سے متعلق علوم کو مدون کیا جائے، آئیچ آف کمیونی کیشن کو دنیا میں لایا جائے، دنیا میں مذہبی آزادی آئے، دنیا میں کشادہ دلی اور کھلا پن (openness) کا دور لایا
جائے، قرآنی علوم کی بنیاد پر کتب خانہ وجود میں لایا جائے ، قرآن کے ترجمے تمام زبانوں میں قابل فہم انداز میں تیار کیے جائیں ، ایسے اسباب پیدا کیے جائیں کہ قرآن ساری دنیا میں قابل حصول بن جائے۔ یک طرفہ قربانی کے ذریعے امن کا دور (age of peace) لایا جائے، دنیا میں کامل معنوں میں مذہبی آزادی لائی جائے، لڑائی کے ماحول کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے، وغیرہ۔ ان تقاضوں کی تکمیل کے بغیر یہ ممکن تھا کہ قرآن ہر دور میں پوری دنیا کے انسانوں کے لیے نذیر (ہدایت نامہ) بنا رہے۔ قرآن کے نزول کے بعد جو تاریخی ترقیاں (historical development) ہوئیں، ان کو قرآن کی تفسیر میں شامل کیا جاتا رہے، تاکہ قرآن ہمیشہ لوگوں کے لیے ایک زندہ کتاب بنا رہے۔
قرآن کو ایک ابدی کتاب کی حیثیت سے زندہ کتاب بنائے رکھنے کے لیے اس قسم کے بہت سے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری تھا۔ یہ ایک ایسا کام تھا، جو نزول قرآن سے لے کر قیامت تک امت محمدی جس کی حیثیت حامل قرآن کی تھی، وہ تنہا اس عالمی کام کو انجام نہیں دے سکتی تھی، اس لیے اللہ تعالی نے ایک عظیم منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ امت محمدی براہ راست طور پر اس منصوبہ کے جاری رکھنے کی ذمہ دار ہو۔ اسی کے ساتھ دنیا کی سیکولر قوموں کے لیے ایسے محرکات (incentives) پیدا کیے جائیں کہ وہ قرآن کے اس عالمی مشن کے لیے انفرااسٹرکچرل سپورٹ (infrastructural support) بن جائیں۔
قرآن کی اس عالمی ذمہ داری کا ذکر خود قرآن میں مختلف الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً قرآن کے متن کو محفوظ کرنا (الحجر، 15:9)، قرآن کو عالمی انذار کی کتاب بنانا (الفرقان، 25:1)، آفاق و انفس کی ان آیات کو ظاہر کرنا، جو قرآن کی اعلیٰ تبیین کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر رکھ دیا تھا، وغیرہ وغیرہ (فصلت، 41:53)۔