محفوظ کتاب
Al-Risala, February 2021, pp. 13–16
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں اترا۔ اس کا متن عربی زبان میں ہے۔
اتفاق ہے کہ قرآن آج بھی اپنی اصل عربی متن کے ساتھ اسی طرح محفوظ ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی میں تھا۔ مثلاً سر ولیم میور (1905-1819) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز مستشرق تھا، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندوستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا۔ سر ولیم میور نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ’لائف آف محمد‘ تھا۔ یہ انگریزی کتاب 1866 میں چار جلدوں میں شائع قرآن کے بارے میں ان کا ایک اقتباس یہ ہے:
There is probably in the world no other work which has remained twelve centuries with so pure a text...We may, upon the strongest presumption, affirm that every verse in the Quran is the genuine and unaltered composition of Muhammad himself. قرآن کے نزول کے وقت مختلف باتوں کے علاوہ یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ یعنی یہ ذکر ہم نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے یہ حفاظت صرف عربی متن کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک جامع معنوں میں ہے۔ یعنی ہر اعتبار سے حفاظت۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری طرح صحیح ثابت ہوئی ہے۔ مثلاً نزول قرآن کے وقت کی عربی زبان استثنائی طور پر آج بھی ایک قابل فہم زبان کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہے۔ اسی طرح نزول قرآن کے وقت جو حالات تھے، وہ بھی سیرت رسول کی شکل میں آج تک محفوظ ہیں۔ نیز قرآن میں تاریخ کے جو حوالے دیے گئے تھے، وہ بعد کی تحقیق سے درست مثلاً فرعون کے غرق ہونے کے بعد اس کی لاش کا محفوظ ہونا (یونس، 10:92)۔ قرآن خدا کا آخری ہدایت نامہ (final guide book of God) ہے۔ کی ابتدا میں اعلان کیا گیا تھا کہ قرآن اس لیے اترا ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے نذیر (الفرقان، 25:1) بنے۔ نذیر کا مطلب ہے گائیڈ بک (guide book)۔ قرآن عالمی گائیڈ بک اس معنی میں نہیں تھا کہ نزول قرآن کے بعد فوراً وہ ساری دنیا میں خود بخود پھیل کر گائیڈ بن
خدا کا منصوبہ ہمیشہ تدریجی عمل (gradual process) کے طور پر ہوتا ہے۔ قانون قرآن کے ساتھ بھی اختیار کیا گیا۔
قرآن کے اترتے ہی خدائی نظام کے تحت ایک عالمی پراسس جاری ہوا، جس کا نقطہ انتہا (culmination) یہ تھا کہ ایک طرف قرآن محفوظ کتاب (preserved book) کی حیثیت اختیار کرلے، اور دوسری طرف انسانی دنیا میں وہ تمام اسباب مکمل صورت میں دستیاب ہو جائیں، جو قرآن کے عالمی ڈسٹری بیوشن کو ممکن بنادیں۔ تقریباً ہزار سال کے تاریخی عمل (historical process) کے بعد اکیسویں صدی میں یہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اب اکیسویں صدی میں وہ تمام اسباب کامل صورت میں دستیاب ہوگئے، جو قرآن کی عالمی اشاعت یا عالمی ڈسٹری بیوشن کے لیے ضروری تھے۔ اسباب کے ڈیویلپمنٹ کا منصوبہ اتنا بڑا تھا کہ صرف اہل ایمان اس کو رو بہ عمل نہیں لا سکتے تھے۔ چنانچہ اللہ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ دنیا کے تمام انسان اس کی تکمیل میں مصروف ہوگئے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائیدِ دین بذریعہ غیر اہل ایمان کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ (حديث نمبر (3062) میں اس کے لیے تائیدِ دین بذریعہ رجل فاجر (إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس حدیث میں فاجر سے مراد سیکولر لوگ ہیں۔ ایک اور روایت میں اس کو غير اہل دین کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالِ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر (14640)۔ گویا اللہ رب العالمین نے ایسے حالات پیدا کیے کہ پوری عالم انسانیت اس عمل کی تکمیل میں مصروف ہوگئی۔ وہ تمام ترقیاں جن کو کمیونی کیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی کا نتیجہ ہیں۔ اور اسی وجہ سے اس دور کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اہل کتاب سے استفادہ قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
سے مراد مفسرین کے نزدیک اہل کتاب ہیں۔ ’’پوچھ لو‘‘ کا مطلب مطلق معنی میں اہل کتاب کے پاس جا کر ان سے پوچھنا نہیں ہے، بلکہ تو سیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس علم وتحقیق کے میدان میں مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں، اس میں وہ اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں۔ مثلاً یہ کہ قرآن میں بہت سی تاریخی حقیقتوں کا بیان ہے۔ پیغمبر نوح کی کشتی، پیغمبر ابراہیم ، پیغمبر موسی (علیہم السلام) اور فرعون کا واقعہ، وغیرہ۔ یہ تاریخی حقیقتیں باکیل میں بھی مذکور ہیں۔ جدید میں جو نئے سائنسی علوم وجود میں آئے ہیں، ان میں سے ایک علم الآثار (Archaeology)
آرکیالوجی ایک ڈسپلن ہے، جس کے ذریعے ماڈرن سائنسی اصول کی روشنی میں قدیم انسانی تاریخ ، ثقافت اور محفوظ رہ جانے والی باقیات (remnants) وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کے آغاز سے قبل قدیم ہجری دور میں جو تہذیبیں دنیا میں موجود تھیں، ان کی تاریخ وثقافت سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے، یعنی آثارِ قدیمہ کی تلاش۔
چنانچہ موجودہ زمانے میں جہاں دیگر علاقوں میں آثارِ قدیمہ پر سائنسی اصول کی روشنی میں کام ہوا ہے، وہیں ان علاقوں میں بھی کام ہوا ہے، جو باکیل یا قرآن میں مذکور تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً کشتی نوح کی ڈسکوری، حضرت ابراہیم کا مقام پیدائش اور مقام ہجرت، فرعون کی لاش، وغیرہ۔ کام زیادہ تر اہل کتاب ، یہود اور کرپچن آرکیالوجسٹوں نے کیا ہے۔ اسی طرح جدید سائنسی تحقیقات جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں، وہ بھی ان اہل کتاب نے دریافت کیے ہیں۔ لیکن مسلمان اس میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اب مسلمان علما کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ان اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں، اور اپنے دین کو یقین مزید کی بنیاد فراہم کریں۔