Al-Risala · October 2021

پہلا قدم

Al-Risala, October 2021, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان لیڈر بڑے جوش سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ جملہ گریمیر کے لحاظ سے صحیح لیکن معنویت کے لحاظ سے خالی ہے۔ اس لیے کہ موجودہ حالت میں مسلمان، ان کے عوام اور لیڈر دونوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس احساس میں جیتے ہیں کہ وہ دشمنوں کے نرغے میں ہیں، وہ دشمنوں کی سازش کا شکار ہیں۔ ان کے دشمن ان کی ترقی میں روک بنے ہوئے ہیں۔ ہر لکھنے اور بولنے والا آدمی براہ راست یا بالواسطہ اسی نفسیات کا شکار ہے۔ اسی نفسیات کے زیر اثر وہ کلام کرتا ہے۔ یہ نفسیات بلاشبہ اس بات کے لیے ایک رکاوٹ ہے کہ مسلمان آزادانہ پلاننگ کریں، اور اپنا مستقبل خود بنائیں۔

اس معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ بہت ہی واضح اسوہ ہے۔ آپ کی بعثت ہوئی تو عرب میں ہر طرف بت پرستی کا غلبہ تھا، لیکن آپ نے ایک دن بھی بت پرستی کے خلاف احتجاج میں ضائع نہیں کیا، آپ نے مکمل طور پر آزاد ذہن کے ساتھ اپنی تحریک کی منصوبہ بندی کی۔ یہاں تک کہ آپ نے بت پرستی کے کلچر کو اپنے لیے آپار چیونٹی میں کنورٹ کر لیا۔ مثلا آپ نے بت پرستی کے لیے جمع ہونے والوں کو خدائی پیغام سنانے کے لیے اڈینس کے طور پر استعمال کیا۔ برٹش مورخ ای ای کلیٹ نے (Ernest Edward Kellett) درست طور پر کہا ہے:

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex)

انھوں نے مشکلات کا مقابلہ اس عزم سے کیا کہ وہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں۔ کے جتنے بھی لکھنے اور بولنے والے ہیں، وہ اس اسپرٹ سے محروم ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ مستقبل کی تعمیر کا پہلا قدم کیا ہوتا ہے۔ ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والے اس معاملے میں بے خبری کا کیس بنے ہوئے ایسے لوگ شبد جنجال کا کیس بن سکتے ہیں، لیکن مستقبل کی تعمیر کا کیس نہیں بن سکتے۔

Printed page