اہل کتاب کا رول
Al-Risala, October 2021, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں آیات وانفس کی نشانیاں ظاہر ہوں گی، اور تبیین حق کا ذریعہ بنیں گی (فصلت، اسی طرح بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرعون کی باڈی کو غرقابی کے بعد محفوظ رکھے گا، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے نشانی بنے (یونس، 10:92)۔ قرآن میں حضرت ابراہیم کی تاریخ کا حوالہ دیا گیا ہے (الانعام، 6:74)۔ یہ سب واقعات قرآن میں صرف اشارے کی زبان میں ہیں، تفصیل کی زبان میں نہیں۔ تفصیل کے لیے بتایا گیا ہے کہ غیر اہل اسلام کے ذریعے ان کو کھولا جائے گا (النحل، 16:43)۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون غیر اہل اسلام ہیں جن کے ذریعے نشانیاں کھولی جائیں گی۔ کرنے کے بعد میں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی منصوبہ بندی کے ذریعے ان لوگوں کو پہلے ڈائسپورا میں بھیجا۔ وہاں ان لوگوں کی تربیت ہوئی۔ انھوں نے اہل مغرب کے ساتھ رہ کر جدید علوم میں مہارت پیدا کی۔ اس کے بعد انھوں نے ان موضوعات پر تحقیق کھدائی (excavation) کے ذریعے انھوں نے تاریخی معلومات کو اکٹھا کیا۔ یہ گویا غیر اہل اسلام کے ذریعے پچھلی قوموں کے احوال کی دریافت تھی، جو اہل کتاب کے ذریعے انجام پائی۔ معلومات قرآن کے مضامین کو سمجھنے کے لیے بہت زیادہ معاون تھے۔
مسلم علما نے بدقسمتی سے اہل کتاب کے نئے رول کو نہیں سمجھا۔ وہ صرف ان کے خلاف فتویٰ کی زبان میں لکھتے اور پڑھتے رہے۔ ضرورت ہے کہ مسلم علما اپنے رویے پر نظرثانی کریں، اور اہل کتاب کے تائیدی رول کو دریافت کر کے ان سے فائدہ اٹھائیں۔ مثلاً یہ کہ اسرائیلی سائنسدانوں نے صحرائی علاقے کو نئے طریقوں کو استعمال کر کے زرعی طور پر ترقی یافتہ بنا دیا۔ اب عربوں کو یہ موقع ہے کہ وہ ان سے استفادہ کر کے اپنے علاقے کو بھی ترقی دیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن اور آپسی تعاون کا معاہدہ ہوا ہے۔ 13 اگست 2020 کو یو اے ای کے کراؤن پرنس محمد بن زاید نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس معاہدے کا اعلان کیا۔ یہ اہل کتاب سے ان کی اختصاصی فیلڈ میں تعاون کے لیے بہت اہم پیش رفت ہے۔