Al-Risala · October 2021

اخلاقیات پر مبنی سوسائٹی

Al-Risala, October 2021, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاقیات پر مبنی سوسائٹی بنانا ہمیشہ سے انسان کا مطلوب نشانہ رہا ہے۔ اس پر بڑے بڑے دماغ کام کرتے رہے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ اخلاقیات پر مبنی سوسائٹی لوگوں کا مطلوب گول تو بنی رہی، لیکن عملاً ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کامل معنوں میں اس مطلوب گول پر مبنی ایک باقاعدہ سوسائٹی بالفعل قائم ہو جائے ۔

اخلاقیات کا یہ خلا ہمیشہ انسان کی سوچ کا مرکز بنی رہی۔ کارل مارکس نے پہلی بار یہ کیا کہ اخلاقیات کو حکومتی سطح پر نافذ العمل ہونے کا درجہ دے دیا۔ گویا اس نے اس گول کو لوگوں کے لیے خارجی دباؤ کے ذریعہ قابل عمل بنا دیا۔ مگر یہ تطبيق صرف مزید تباہی کا ذریعہ بن کر رہ گئی۔ ہے کہ اخلاقیات انسانی ارادہ اور اختیار کا موضوع ہے، نہ کہ قانون کے زور پر نفاذ (impose) کا اخلاق کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً مارکس کا نظریہ یہ تھا کہ حکومت کے ذریعے دولت کی مساوی تقسیم کی جائے۔ یہ اخلاقی تصور ہے۔ یعنی آدمی کو کمائی کے بقدر دینے کے بجائے ملک کے ہر شہری کے درمیان دولت کی مساوی تقسیم، وغیرہ۔

مسلم دنیا میں سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب نے کارل مارکس کے اس تصور کو اسلامائز یہ نظریہ مسلم دنیا میں کافی مقبول ہوا۔ اگرچہ عملاً صرف یہ ہوا کہ اس سے مسلم دنیا کو نفرت اور ٹکراؤ کے سوا کچھ اور نہیں مل سکا۔ اخلاقی بنیاد پر دولت کی تقسیم صرف طاقت کے زور پر ہو سکتی ہے۔ آپ جب بزور لوگوں کے درمیان ایسا کریں گے تو نفرت اور لڑائی کا ماحول پیدا ہوگا۔ کیوں کہ اس تصور کے مطابق، اہل لوگوں کا حق مارا جائے گا، اور نااہل لوگوں کو دولت ملے گی۔ یعنی اس طریقے کو آدمی جبر قبول کر لے تب وہ اس کو دل سے ناپسند کرے گا، بلکہ وہ اس سے نفرت کرے گا۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ اخلاقیات کو تعلیم و تربیت کا موضوع سمجھا جائے، نہ کہ جبری قانون کا موضوع۔ فطرت کے مطابق، یہی قابل عمل بات ہے۔

Printed page