Al-Risala · October 2021

Quran has to be re-defined today.

Al-Risala, October 2021, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

تجدید دین دراصل اس توضیح ثانی (re-definition) کا نام ہے۔ مجدد وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات کو سمجھے اور نئے حالات میں دین کو دوبارہ ایکسپلین کرے۔ یہ کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تجدید (revival) کا کام ہے۔ یہ اصل دین کا دوبارہ احیا ہے۔ اس کا کوئی تعلق اُس عمل سے نہیں جس کو موجودہ زمانے میں اصلاح (reformation) یا نظرثانی (revision) کہا جاتا ہے۔

موجودہ سائنسی دور میں تجدید کا یہ کام پوری شدت کے ساتھ مطلوب ہو چکا ہے۔ اب جب کہ سائنسی تحقیقات کے مطابق، سائنس داں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) کو پہنچنے والی ہے۔ جس زلزلہ کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے (99:1)، اس کے آثار عملاً شروع ہو چکے یہاں تک کہ اب یہ کہا جانے لگا ہے ــ قیامت اب زیادہ دور نہیں: Doomsday is not far. ایسی حالت میں اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس کو متعین کیا جائے کہ جدید سائنسی دور کی نسبت سے تجدید واحیا کا جو کام مطلوب ہے، وہ کیا ہے۔ اور وہ کیا ہے جس کو جدید حالات کی نسبت سے تجدید واحیا کا کام کہا جائے گا۔ قرآن اور حدیث کے حوالے سے اس کام کی نوعیت کو پوری طرح معلوم کیا جا سکتا ہے۔

Printed page