Al-Risala · October 2021

تعلقاتِ انسانی کا اصول

Al-Risala, October 2021, pp. 14–18

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک جامع اصول درکار ہوتا ہے۔ ایک ایسا اصول جو اپنے اور غیر کے درمیان مساوات (equation) کے قیام کی بنیاد بن سکے۔ ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی سماج کو منظم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسلام کی تاریخ میں ابتدائی اور معیاری زمانہ وہ ہے جس کو عہد رسالت کہا جاتا ہے۔ زمانے میں انسانی تعلقات کی بنیاد جس اصول پر قائم کی گئی تھی، وہ شاہد اور مشہود (البروج، 85:3) کی یہ دونوں لفظ شہادت (گواہی) سے اخذ کیے گئے ہیں۔ شاہد کا مطلب ہے گواہ (witness)، اور مشہود کا مطلب ہے وہ جس پر گواہی دی جائے (witnessed)۔ شہادت سے مراد دعوت ہے اور شاہد و مشہود سے مراد وہی چیز ہے، جس کے لیے داعی اور مدعو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان شاہد اور مشہود کی یہ مساوات (equation) عہد رسالت اور عہد صحابہ میں قائم رہی۔ اس کے بعد عباسی سلطنت کا زمانہ آیا، جب کہ دنیا کے بڑے حصے میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہو گیا۔ اب شاہد اور مشہود کی یہ سابق مساوات ٹوٹ گئی، اور نئی مساوات حاكم اور محکوم کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب کہ مسلم فقہانے دارالكفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں اس مساوات کے تحت، دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے دارالاسلام بن گئے، اور اس کے مقابلے میں غیر مسلم علاقے دارالكفر یا دار الحرب قرار پائے۔ انیسویں صدی عیسوی میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد یہ مساوات (equation) دوبارہ ٹوٹ گئی۔ اب مغربی تہذیب کے غلبہ کے تحت دنیا میں ڈیموکریسی کا زمانہ سیاست کے جمہوری تصور کے تحت، حاکم اور محکوم کی مساوات بے معنی قرار پائی۔ اُس نے اپنے حق میں فکری اساس کھو دی۔ مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان بارہویں اور تیر ہویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں (crusades) پیش آئیں ۔ ان جنگوں میں مغربی قوموں کو شکست ہوئی، لیکن اس شکست نے ان کے اندر ایک مثبت نتیجہ پیدا کیا۔ یہ لوگ علم کے میدان میں سرگرم ہو گئے،

یہاں تک کہ مغربی یورپ میں پندرھویں اور سولھویں صدی میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو یورپ کی نشأۃ ثانیہ (renaissance) کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مغربی قوموں نے تجارت اور صنعت کے نئے طریقے دریافت کیے۔ یہاں تک کہ عمومی پیمانے پر ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوگئی۔ یہ تاجر اور خریدار (trader and customer) کی مساوات تھی۔ اس مساوات کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے ایک نیا کلچر وجود میں آیا جو خریدار دوست کلچر (customer-friendly culture) کے اصول پر مبنی تھا۔ یہی کلچر آج کی دنیا میں ابھی تک باقی ہے۔ اس نازک وقت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ (tragedy) پیش آیا۔ وہ حاکم اور محکوم کی سابقہ سوچ سے باہر نہ آ سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جدید اقتصادیات (economy) کی مین اسٹریم میں شامل نہ ہو سکے ۔ اس پچھڑے پن کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑی کہ وہ موجودہ زمانے میں دہرا نقصان کا شکار ہو گئے۔

جدید حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر ایک طرف یہ ہوا کہ وہ اقتصادیات میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ دوسرا اس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ (double standard) کا کیس بن گئے۔ ذہنی طور پر وہ دوسری قوموں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے، لیکن ان کا یہ منفی فکر قابل عمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اپنی مادی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کو اُنھیں قوموں سے مل کر کام کرنا تھا۔ داخلی طور پر وہ ان قوموں کے بارے میں منفی ذہن رکھتے ہوئے خارجی زندگی میں اُنھیں مغربی قوموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا ۔ اس طرح مسلم تاریخ میں پہلی بار ایک سنگین بُرائی پیدا ہوئی۔ یعنی داخلی طور پر منفی رائے رکھتے ہوئے خارجی معاملات میں ان کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اپنی مادی زندگی کی تعمیر کرنا ۔ یہ دو عملی یا ڈبل اسٹینڈرڈ کی عمومی حالت تھی۔ اس قسم کی عمومی دو عملی مسلمانوں کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔

اس بُرائی سے بچنے کا واحد طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دورِ اول کی طرف فکری واپسی۔

یعنی دور اول کی طرح دوبارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کی مساوات (equation) قائم کرنا۔ داعی اور مدعو کی مساوات ہی اسلام کے مطابق صحیح مساوات ہے۔ مساوات کو دوبارہ قائم کرکے مسلمان موجودہ دوغلی کی بُرائی سے بچ سکتے ہیں اور اسی کے ساتھ امتِ مسلمہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا کرسکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔ آئیڈیالوجی آف دعوہ حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا مثلاً ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحْبَنِي، وَمَنْ أَحْبَنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّة (معجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 9439)۔ یعنی جس نے میری سنت زندہ کی، یقیناً اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی، وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا۔ اس حدیث کو سامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلاشبہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جارہے ہیں، لیکن صرف ایک دعوت الی اللہ کی سنت ہے، جو آج عملاً زندہ نہیں۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملی خدمت یا اصلاح المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اس معاملے میں سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم ترین کام دعوت کی اس اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (25:52) کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئیڈیالوجی (ideology of dawah) درکار ہے۔ ایک ایسی آئیڈیالوجی جو اسلام کو

جدید علمی اصول پر ثابت شدہ بنائے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو اسلام کے راستے میں ذہنی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہو۔ یہ خاتمہ فریق ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔ یہ خاتمہ جب بھی ہوگا، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طور پر کیا جائے گا۔ اسی لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا: وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ (7:7)۔ یعنی مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔ موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔ اِس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ان جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ان نظریات کی ایسی توضیح (explanation) کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کر سکے۔ بصورت دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں شتم رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ وہ جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں، جو اُن کے نزدیک شتم رسول کے ہم معنی ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہوجاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طور پر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو موقوف نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ماحول میں مسلمان جب بطور خود شتم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آجاتا ہے، تو لوگ یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ اسلام آزادی رائے کے خلاف ہے۔ اس بنا پر اسلام اس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔

میں ذاتی طور پر شتم رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویے کا حق رکھتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں، یا دلیل کی زبان میں پُرامن طور پر وہ اس کا جواب دیں۔ اس موضوع پر میں نے "شتم رسول کا مسئلہ" کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جو 191 صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہو چکی ہے۔ تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتم رسول ایک قابلِ گردن زدنی معاملہ ہے، اور وہ يُقتل حدًا (بطور حد قتل کیا جائے گا) کا کیس ہے، تب بھی اس کو اس معاملے میں اجتہاد کرنا دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخص اِس معاملے کو اَلضَّرُورَاتِ تُبیحُ الْمَحْظُورَاتِ (الموافقات للشاطبی، جلد 5، صفحہ 99) کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت، اس کو موجودہ زمانے میں موقوف (suspended) قرار ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نااہل (incompetent) قرار پائیں گے۔

اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہِ راست طور پر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوتے ہیں، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ نئے حالات میں جونئ رکاوٹیں پیدا ہوئیں ہیں، ان کا اس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل اُنھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے۔ اس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں۔

ان مسائل سے صرف نظر کر کے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطورِ خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے، تو یہ قرآن (3:188) کے الفاظ میں يُحِبُّوْنَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا (چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیے اس پر ان کی تعریف ہو) کا مصداق ہو گا، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا۔

Printed page