Al-Risala · October 2021

دعوت الی اللہ

Al-Risala, October 2021, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت الی اللہ تمام پیغمبروں کا مشن تھا اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی۔ دعوت الی اللہ کا مطلب ہے لوگوں کو اللہ کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا۔ گویا دعوت خدائی پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کا ایک عمل ہے۔ انبیاء کے لیے اتمام حجت کا جو معیار مقرر کیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیں (النحل، 16:35)۔ چنانچہ انبیاء نے اپنی قوم کو قول بلیغ میں خدا کا پیغام قول بلیغ سے مراد وہ کلام ہے، جو آدمی کے ذہن کو ایڈریس (address) کرنے والا ہو۔ دنیا کے فطری قانون کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان دوسروں کو صرف باخبر کر سکتا ہے۔ قرآن میں رسول اللہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے: تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے (القصص، 28:56)۔ اس آیت کے تحت مفسر النسفی (وفات 710ھ) لکھتے ہیں: لا تقدر أن تدخل في الإسلام كل من أحببت أن يدخل فيه (تفسیر النسفی، جلد 2، صفحہ یعنی تم قدرت نہیں رکھتے ہو کہ تم جس کو چاہو اسلام میں داخل کرلو۔ اسی حقیقت کو دوسری سورت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: پس تم یاد دہانی کر دو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ ان آیات کے مطابق، ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ کسی انسان کو اپنے دین میں لے آئیں، اور نہ ہی اس کو دعوت کی کامیابی کا معیار بنانا چاہیے۔ بلکہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دوسروں تک خدا کا پیغام حکیمانہ انداز میں پہنچا دیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں دعوتی عمل کے لیے جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ سب اطلاع اور آگاہی کے معنی میں ہیں۔ مثلاً صدع بالامر (الحجر، 15:94) یعنی حکم کو کھول کر سنانا۔ تبیین ذکر (النحل، 16:44) یعنی نصیحت کو بیان کرنا۔ ایذان وحی (الانبیاء، 21:109) یعنی وحی کی اطلاع دینا۔ رسالہ (الاعراف، 7:79) یعنی خدا کا پیغام پہنچاتنا۔ قص آیات (الاعراف، 7:35) یعنی آیات کو سنانا۔ قرات قرآن (الاسراء، 17:106) یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانا۔ تلاوت کتاب (العنکبوت، 29:51) یعنی کتاب کو پڑھ کر سنانا۔ انذار وتبشیر (سباً، 34:28) یعنی خوش خبری دینا اور آگاہ کرنا۔ لایمان ( آل عمران، 3:193) یعنی ایمان کی پکار لگانا۔ دعوت الی الاسلام (الصف، 61:7) یعنی اسلام کی دعوت۔ تبلیغ ما انزل اللہ (المائدة، 5:67) یعنی خدا کے نازل کردہ پیغام کو پہنچانا۔ اللہ (ابراهیم، 14:5) یعنی اللہ کے دنوں کو یاد دلانا، وغیرہ۔

1985 کی ڈائری قرآن میں اہل جنت کے بارے میں آیا ہے کہ وہ با اقتدار بادشاہ کے پاس سچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے (فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ 54:55)۔ موجودہ دنیا میں آدمی جھوٹی نشستوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ آخرت میں آدمی سچی نشستوں پر بٹھایا موجودہ دنیا میں ہر آدمی فریب اور استحصال (exploitation) کے ذریعہ اونچی جگہ پائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم کو ایسے لوگوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے، جو اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے اختیار کو صرف عدل کے دائرے میں استعمال کریں۔ آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا کامل اختیار حاصل ہے۔ نے اپنے آپ کو اس کا پابند بنا رکھا ہے کہ وہ عدل اور رحمت ہی کے دائرہ میں اپنے اعلیٰ اختیارات کو اس سلسلے میں قرآن کے متعلق الفاظ یہ ہیں: كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:12)۔ اس نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک ایسی ہستی ہے، جو اعلیٰ ترین معیاری ذوق رکھتا ہے۔ وہ پرفیکٹ سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ ایسے شہنشاہ کے پڑوس میں جگہ پانا کس قدر پر مسرت اور لذیذ ہوگا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔

اللهم انك ملك مقتدر ما تشاء من امر يكون فاستعدنى فى الدارين وكن بي ولا تكن علىَّ وآتنى فى الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنى عذاب النار - موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تقریریں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سوچ تمام تر قومی سوچ ہے۔ وہ خواہ قومی الفاظ بول رہے ہوں یا نظریاتی الفاظ، لیکن

ان کی باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیجیے تو اس کے اندر سے صرف ”قومی اسلام“ برآمد ہوگا۔ مسلمانوں کی قومیت اور دوسروں کی قومیت میں بس یہ فرق ہے کہ دوسرے لوگوں کے پاس اپنے اجتماعی تشخص کو بتانے کے لیے اگر قوم کا لفظ ہے تو مسلمان ”خیر امت“ کا پر فخر لفظ پائے ہوئے دوسرے کے پاس اگر صرف کتاب ہے تو مسلمانوں کے پاس کتاب کامل ہے۔ پاس اگر ”نبی“ ہے تو مسلمانوں کے پاس افضل الانبیاء۔ دوسروں کے لیے جہنم کا خطرہ ہوسکتا ہے مگر مسلمانوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہے کہ ان کے لیے جنت کے بہترین محلات پیشگی طور پر رزرو (reserve) ہو چکے ہیں— آہ، وہ مسلمان جو اپنے آپ کو دین خداوندی میں نہ ڈھال سکے، البتہ دین خداوندی کو اپنے آپ میں ڈھال لیا۔

Printed page