Al-Risala · October 2021

11 نومبر 1985

Al-Risala, October 2021, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آتی ہے: عَنْ سَخْبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ، وَظَلَمَ فَاسْتَغْفَرَ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ - ثُمَّ سَكَتَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالَهُ؟ قَالَ: أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 6613)— یعنی سخب رہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس کو دیا گیا پھر اس نے شکر کیا، اور اس کو آزمایا گیا پھر اس نے صبر کیا، اور اس پر ظلم کیا گیا تو اس نے

معاف کر دیا۔ اتنا کہہ کر آپ چپ ہوگئے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ایسے شخص کے لیے آپ نے کہا: انھیں لوگوں کے لیے امن ہے، اور وہی لوگ ہدایت یاب ہیں۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ بِمَالِهِ، أَوْ فِي نَفْسِهِ، وَكَتَمَهَا، وَلَمْ يَشْكُهَا إِلَى النَّاسِ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ (معجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 737)۔ یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس کے مال یا اس کے جان میں کوئی مصیبت پڑے، پھر وہ اس کو چھپالے اور لوگوں سے اس کی شکایت نہ کرے تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے۔ 12 نومبر 1985 امریکا کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson, 1743-1826) کا قول ہے کہ تمام صفات میں سب سے قیمتی صفت یہ ہے کہ جہاں ایک لفظ بولنے سے کام چل جاتا ہو وہاں آدمی کبھی دو لفظ استعمال نہ کرے:

The most valuable of all talents is that of never using two words when one will do. ایک شخص بہت لمبی تقریریں کرتا تھا۔ اس سے کہا گیا کہ تم مختصر تقریر کیوں نہیں اس نے جواب دیا: مختصر تقریر کرنے کے لیے میرے پاس وقت نہیں۔ لمبی تقریر کرنے والا بس کھڑا ہو کر بولنا شروع کر دیتا ہے، اس کو کچھ سوچنے کی ضرورت مگر جب مختصر وقت میں پوری بات کہنی ہو تو مقرر کو تقریر سے پہلے کافی سوچنا پڑے گا۔ خیالات اور معلومات کو پہلے اپنے اندر ہضم کرے گا۔ پھر ایک سوچی سمجھی تیار شدہ تقریر کرے گا۔ مختصر تقریر کے لیے ہمیشہ لمبی تقریر سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

شیطان کی شیطانی سے بچنا ممکن ہے، مگر انسان کی شیطانی سے بچنا ممکن نہیں۔

شیطان صرف بہکاتا ہے مگر انسان عملی طور پر آپ کے اوپر حملہ آور ہوتا ہے۔ شیطان صوتی آلودگی (noise pollution) پیدا نہیں کرتا ، جب کہ انسان لاؤڈ اسپیکر لگا کر شور کرتا ہے ، اور آپ کے سکون کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ شیطان آپ کے اثاثہ پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ، جب کہ انسان آپ کے اثاثہ پر ناجائز قبضہ کرتا ہے ، اور آپ کو جھگڑے اور مقدمات میں الجھا کر آپ کے سارے تعمیری منصوبہ کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ ابلیس بے سلطان“ شیطان ہے ۔ مگر انسان وہ شیطان ہے ، جس کو وقتی طور پر سلطان بھی دے دیا گیا ہے۔

Printed page