Al-Risala · October 2021

15 نومبر 1985

Al-Risala, October 2021, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

ظن (گمان) کا مطلب ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی خاص رائے رکھنا ، ذہن میں کسی کے بارے میں کوئی امیج بنانا ، خواہ وہ اچھا ہو یا برا :

To have a particular opinion about something or someone, to have a picture in the mind.

انسان کو اپنے خالق کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے، اس تعلق سے مختلف احادیث میں رہنمائی کی گئی ہے۔ مثلاً ایک حدیثِ رسول یہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675 ، مسند احمد، حدیث نمبر 10782)۔ یعنی ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔

دوسری روایتوں میں کچھ مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چند الفاظ یہ ہیں:

(1) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ ( مسند احمد، حدیث نمبر 16016)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ پس وہ جیسا چاہے میرے بارے میں گمان کرے۔

(2) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675)۔ میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھ کو پکارے۔

(3) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَخَيْرٌ ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَشَرٌّ (معجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (401)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں۔

اگر اس نے اچھا گمان کیا تو خیر ہے، اور اگر اس نے برا گمان کیا تو برا ہے۔

Printed page