1985 نومبر
Al-Risala, October 2021, pp. 24–30
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت بریدہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، قال: فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى ( سنن الترمذي،
حدیث نمبر 3475)_ یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور کوئی اس کے برابر کا نہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی نے اللہ کا ایک بہت بڑا نام (اسم اعظم) لے کر دعا کی ہے۔ یہ نام لے کر جب سوال کیا جائے تو وہ پورا کیا جاتا ہے اور جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔
اس حدیث کے مطابق لوگوں کو تلاش ہوئی کہ خدا کا ’’اسم اعظم‘‘ کیا ہے۔ اس تلاش میں بہت سی دوسری روایتیں بھی ملیں جن میں یہی بات کہی گئی تھی۔ مگر ان روایتوں میں دوسرے ایسے اسماء تھے جو اس حدیث میں نہیں ہیں۔ البتہ لفظ اللہ تمام روایتوں میں مشترک تھا، اس سے یہ استدلال (reasoning) قائم کر لیا گیا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے (اَنَّ لَفْظَ اﷲِ مَذْكُورٌ فِی الْکُلِّ فَيُسْتَدَلُّ بِذٰلِكَ عَلَى اَنَّهُ الْاِسْمُ الْاَعْظَم) تحفۃ الاحوذی، جلد 9، صفحہ 313۔ اس استنباط (inference) کے مطابق لوگ ’’اللہ‘‘ کو اسم اعظم سمجھ کر اس کا ورد کرنے لگے۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حدیث میں لفظ ’’اسم‘‘ صفت کے معنی میں ہے اس سے مراد کوئی خاص لفظ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب آدمی اللہ کی صفات عالیہ کو دریافت کرتا ہے اور اس کا اظہار کرتے ہوئے بے تابانہ خدا کو پکارتا ہے تو ایسی پکار ضرور قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ 18 نومبر 1985 ایک انسان جب گاڑی کو چلاتਾ ہے تو اس کا نام بھی چلنا ہے، اور اگر گاڑی کا انجن چلا کر اسے چھوڑ دیں تب بھی وہ دوڑے گی اور اس کو بھی چلنا کہا جائے گا۔ مگر حقیقت میں چلنا وہی ہے جب کہ انسان گاڑی کو چلا رہا ہو (یا ایسی گاڑی ہو جو آٹو پائلٹ (autopilot) نظام سے لیس ہو، جس کو سیلف ڈرائیونگ کار کہا جاتا ہے)۔ کیوں کہ انسان گاڑی کو چلانے کے ساتھ اس کو روکنا بھی جانتا وہ آگے بڑھانے کے ساتھ اس کو موڑنا بھی جانता ہے۔ جب کہ ڈرائیور کے بغیر جو گاڑی ہو وہ صرف سیدھی دوڑتی رہے گی، یہاں تک کہ کہیں ٹکرا کر ختم ہو جائے گی۔
یہی معاملہ زندگی کے سفر کا ہے۔ زندگی میں کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی چپ رہنا۔ ضرورت ہوتی ہے کہ آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف ہٹ جائیں۔ کبھی ضروری ہوتا ہے کہ اپنی شرطوں پر اصرار نہ کیا جائے بلکہ دشمن کی شرطوں کو مان لیا جائے۔
زندہ لوگ باڈرائیور گاڑی کی طرح ہیں اور مردہ لوگ بے ڈرائیور گاڑی کی طرح۔ میں صرف زندہ لوگوں کا سفر کامیابی پر ختم ہوتا ہے۔ مردہ لوگوں کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر دوڑتے رہیں، یہاں تک کہ کسی چٹان سے ٹکرا کر ختم ہو جائیں۔ 19 نومبر 1985 پیغمبر اسلام کے حوالے سے قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ. وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ (6:52-53)۔ یعنی اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ تم پر نہیں اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے بے انصافوں میں سے ہو جاؤ، اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے تا کہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل ہوا ہے۔ کیا اللہ شکر گزاروں سے خوب واقف نہیں۔
حق کے حامل اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظاہر کے اعتبار سے کوئی امتیازی اہمیت نہیں نیز بے آمیز حق کو اختیار کرتے ہی آدمی نیشنل مین اسٹریم سے نکل جاتا ہے۔ یہ چیز بھی اس کو لوگوں کی نظر میں غیر اہم بنا دیتی ہے۔ مگر یہ صورت حال باقی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہی اصل امتحان ہے کہ آدمی غیب (چھپی ہوئی حقیقتوں) کو پہچانے۔ سچائی لانے والے انسان کو جوہر (خوبی) کی سطح پر پہچانے، نہ کہ محض ظاہر کی سطح پر۔
قرآن میں مختلف مقام پر بتایا گیا ہے کہ اسرائیل جب مصر میں آباد تھے تو مصر کا بادشاہ ان کے لڑکوں کو قتل کر دیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ (دیکھیے 2:49؛ 7:141؛ 14:6)۔ ان آیات میں الفاظ بالکل عام ہیں۔ بظاہر ان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے تمام لڑکوں کو قتل کروا دیا کرتا تھا۔ مگر ایسا نہیں۔ کیوں کہ اگر وہ تمام لڑکوں کو قتل کرتا تو بنی اسرائیل کی نسل ہی مٹ جاتی۔ اصل یہ ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے سر بر آوردہ خاندان کے لڑکوں کو قتل کرواتا تھا۔ یا ایسے جوانوں کو قتل کروا دیتا تھا، جن کے اندر سے قیادت کی صلاحیت نظر آتی تھی۔ بنی اسرائیل چوں کہ حضرت یوسف کے زمانے میں حکمران گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، اس لیے وہ ان سے سیاسی خطرہ محسوس کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کے اندر ایسے اعلیٰ افراد نہ ابھریں جو دوبارہ اپنی قوم کو منظم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے عمومی انداز میں اس فعل کی غیر معمولی شدت ظاہر کرنے کے لیے اختیار فرمایا۔ یہی دعوت کا اسلوب ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں، وہ بہت سے گہرے معانی کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔ قرآن میں اہلِ جنت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اس دن کی مصیبت سے ڈرتے ہیں جو ہر طرف پھیل پڑے گی۔ وہ اللہ کی محبت میں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں۔ (اور یہ کہتے ہیں) کہ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں تو صرف اللہ کی خوشی چاہنے کے لیے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے نہ بدلا چاہتے ہیں، اور نہ شکر گزاری۔ ہم اپنے رب سے ایک ایسے دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جو بڑی اداسی والا اور سختی والا ہوگا (76:7-10)۔ ان آیات کو پڑھ کر ایک صاحب نے کہا کہ ایسے موقع پر یہ الفاظ عربی میں کہنا چاہیے یا اس کو اپنی زبان میں بھی کہا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب کسی حاجت
مند کی مدد کی جائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ دہرائے جاتے رہیں۔ اس سے مراد الفاظ نہیں یعنی جب کسی کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو آدمی کے دل میں یہ احساس طاری ہونا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان الفاظ کو یاد کرلے اور ہر ایسے موقع پر ان الفاظ کو دہرادیا کرے۔ زبان سے کچھ الفاظ بھی نکل پڑتے ہیں، مگر اصلًا یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ احساسات ہی ہیں۔ 1985 نومبر 23 قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر یہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے (بِلِسَانٍ عَرَبِیّ مُبِین ) 196:26۔
اس قسم کی آیات کے تحت یہ بحث چھڑ گئی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ کیوں کہ قرآن میں بہت سے الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے کہا کہ قرآن میں 27 الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے اس کی گنتی 60 تک مثلاً حسب ذیل الفاظ :
سَلْسَبِیل، کَوْثَر، سِجِّیل، کافُور، قَرَاطِیس، رَقّ، مِشْکَاة، سُرَادِق، سُنْدُس، إِسْتَبْرَق، قَسْوَرَة، فِرْدَوْس، تَنُّور، زَنْجَبِیل، عَبْقَرِیّ، وغیرہ۔ علما کی بڑی تعداد اس طرف گئی کہ جب قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے تو اس میں غیر عربی الفاظ نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ مذکورہ قسم کے فارسی، رومی، حبشی، نبطی، ہندی وغیرہ الفاظ کی موجودگی کی عجیب عجیب تاویلیں کی گئیں۔ مثلاً کہا گیا کہ یہ الفاظ اصلاً عربی ہی کے تھے۔ کے بعد وہ عربی زبان سے مخفی ہوگئے۔ پھر قرآن نے دوبارہ ان کو عربی میں داخل کیا۔ یہ سب غیر ضروری تاویلیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر زبان میں دوسری زبان کے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود زبان وہی رہتی ہے۔ مثلاً تامس پائلیز (Thomas Pyles) کی ایک کتاب ہے جس میں اس نے انگریزی زبان کے آغاز وارتقا سے بحث کی ہے۔ اس کا نام ہے : The Origins and Development of the English Language اس کتاب میں اس نے ہندی، لاطینی، فرانسیسی، روسی، جرمن وغیرہ زبان کے بہت سے الفاظ کی فہرست دی ہے جو انگریزی میں مستعمل ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ الفاظ اگرچہ ابتدا میں دوسری
زبانوں کے تھے۔ مگر جب وہ انگریزی میں شامل ہو گئے تو وہ انگریزی ہو گئے، اور انگریزی پھر بھی
But English remains English. 25 نومبر 1985 ایک شاعر کا شعر ہے:
ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے فتوحات صلاح الدین ابھی روشن ہے دنیا میں اس قسم کے اشعار اور اس قسم کی تقریروں اور تحریروں سے ہماری جدید تاریخ بھری ہوئی ہر آدمی جو اٹھتا ہے وہ یہیں سے اپنے کلام کا آغاز کرتا ہے کہ ہم نے ایک ہزار برس تک دنیا پر حکومت کی ہے۔ ہم نے روم و ایران کی سلطنتوں کے پرخچے اڑا دئیے ۔ ہم نے ہندوستان سے لے کر فرانس تک اسلامی اقتدار کا جھنڈا گاڑ دیا، وغیرہ وغیرہ۔
موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا ذہن یہی ہے۔ آج کا ہر شخص اس اسلامی تاریخ کو بطور اسلام جانتا ہے، جس نے فتح و غلبہ حاصل کیا۔ کوئی بھی شخص نہیں جو اس اسلام سے واقف ہو جس نے اقوام عالم کو دعوت و رحمت کا مخاطب بنایا۔ جس نے مکہ میں ہر قسم کے مظالم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ جو حدیبیہ کے موقع پر پسپائی کی پالیسی اختیار کرنے پر راضی ہو گیا۔ جس نے خانہ کعبہ میں سیکڑوں بت دیکھے مگر اس کو برداشت کرتا رہا۔ تا کہ وہ انسانوں کو خدا سے قریب کر سکے۔ یہ صورت حال نہایت تشویش ناک ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان گزری ہوئی تاریخ میں اٹکے ہوئے ہیں، وہ زندہ خدا کو پانے میں ناکام رہے ۔ ان کے پاس "حال" کا کوئی سرمایہ نہیں، وہ صرف "ماضی" کی یادوں کے بل پر جی رہے ہیں۔
المنجد ایک مشہور عربی لغت ہے۔ اس کو ایک عیسائی عالم لوئیس معلوف (1946-1867)
نے تیار کیا ہے۔ اس کو موجودہ زمانے میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ حتی کہ وہ عربی مدارس اور اسلامی اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لغت بن گیا۔
اس لغت میں متعدد مقامات پر عیسائی ذہن کی ترجمانی ہے۔ مثلاً ایک عربی لفظ ”الطّلقاء“ یہ طلق کی جمع ہے۔ اس کے معنی آزاد کے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے مشرکین سے فرمایا تھا: اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطّلُقَاء ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 412 )۔ یعنی جاؤ، تم سب آزاد ہو۔ اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق ، بلاشبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) تھے لیکن جب پیغمبر اسلام نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی ۔ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کر دیا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ سلوک دیکھ کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔ اس کے بعد مکہ کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔
مگر المنجد میں الطُّلَقَاء کا مفہوم ان الفاظ میں دیا گیا ہے:
الذین أدخلوا فی الاسلام کُرهاً (وہ لوگ جو اسلام میں زبردستی داخل کیے گئے )۔ ظاہر ہے کہ الطُّلَقَاء کا یہ مفہوم اس کے اصل مفہوم کا بالکل الٹا ہے۔ اس طرح کی اور بھی غلطیاں المنجد میں پائی جاتی ہیں۔ مگر مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں عربی کا کوئی ایسا لغت تیار نہیں کیا جو المنجد کی جگہ لے سکے۔ اس لیے ان غلطیوں کے باوجود عملاً اس کا رواج ہے۔ موجودہ زمانے میں لغت کے علاوہ دوسرے علوم کا بھی ہوا ہے۔