Al-Risala · February 2021

امت محمدی کی ذمے داری

Al-Risala, February 2021, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں تک امت محمدی کی دینی اعتبار سے ذمے داریوں کا سوال ہے، وہ امت نے قدیم دور میں بخوبی طور پر انجام دیا ہے۔ لیکن دور جدید میں امت محمدی اس معاملے میں پیچھے رہ گئی۔ اس کا سبب

یہ ہے کہ جدید دور میں ایسے ڈیولپمنٹ وجود میں آئے ، جو سیکولر قوموں کے لیے ایک محرک بن گئے۔ اس محرک کی بنا پر وہ ان تمام اسباب کو وجود میں لائے ، جن کو سائنس اور ٹکنالوجی کی دریافت کہا جاتا یہ اسباب اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کے منصوبہ کی عالمی تکمیل کے لیے انفراسٹرکچرل سپورٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انفراسٹرکچرل سپورٹ کا یہ کام تقریباً تمام تر مغربی قوموں نے انجام دیا انھوں نے غیر معمولی کوشش اور ریسرچ کے ذریعے ان تمام اسباب کو ڈیویلپ کیا ، جو اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔

اسی کے ساتھ خالق کی جانب سے مزید یہ ہوا کہ اس نے عرب کی زمین کے نیچے پٹرول کے خزانے رکھ دیے۔ علم طبقات الارض کے ماہرین (geologist) اس کو جغرافی حادثہ (geological accident) کہتے ہیں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ عرب کی زمین کے نیچے پٹرول کے خزانے تخلیق خداوندی کا حصہ ہیں ، جو اس لیے وجود میں آئے ، تا کہ امت محمدی اس عظیم کام کی انجام دہی کے لیے ہر ممکن قیمت ادا کر سکے ۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اسی دور میں ایک حادثہ پیش آیا ، جس کی خبر پیشگی طور پر پیغمبر اسلام نے دے دی تھی۔ یہ حادثہ فتنۂ دہیماء (سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر 4242) ، یعنی کامل اندھیرا (utter darkness) کا فتنہ تھا۔

اس فتنے کی بنا پر مسلمان کامل طور پر اس سے بے خبر ہو گئے کہ سیکولر قوموں نے اللہ کی توفیق سے وہ تمام اسباب پیدا کر دیے ہیں ، جن کو استعمال کر کے شہادتِ اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2938) کا کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ فتنۂ دہیماء کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں، ان کا گہرا مطالعہ کیا جائے ، تو معلوم ہوتا ہے کہ غالباً اس سے مراد نفرتِ مغرب (westophobia) کا فتنہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عالمی سطح پر ویسٹوفوبیا کا شکار ہو گئے۔ اس لیے وہ اس عظیم نعمت کو دریافت نہ کر سکے ، تا کہ وہ اس کو دعوتی مواقع (opportunities) کے طور پر آویل کرے۔ فتنۂ دہیماء یا ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ظاہری اسباب کیا تھے ۔ وہ یہ تھے کہ مغربی قوموں نے فطرت کے قوانین (natural laws) کو دریافت کیا ، اور طاقت کے جدید

خوانوں پر عملاً قابض ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں مغربی قوموں اور مسلمانوں کے درمیان ایک نئی کروسیڈس (Crusades) وجود میں آگئی۔ تاریخ میں اس کو کولونیل ازم (colonialism) کا نام دیا گیا ہے۔ اس ’’کروسیڈس‘‘ میں مغربی قوموں کو فتح حاصل ہوئی۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ، حتی کہ یورپ کی مسلم سلطنتوں کو زیر کر لیا۔ مثلاً عثمانی ایمپائر، مغل ایمپائر، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس سیاسی محرومی کو برداشت نہ کر سکے، اور تقریباً تمام مسلمان مغرب کے خلاف نفرت یا تشدد میں مبتلا ہو گئے، جس کو ہم نے عمومی ویسٹوفوبیا کا نام دیا ہے۔

اس موقع پر مسلم رہنماؤں پر فرض کے درجے میں ضروری تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور مغرب کے سیاسی غلبے کو الگ کر کے دیکھیں۔ مگر انھوں نے انتہائی بے خبری کی بنا پر دونوں کو ایک سمجھ لیا۔ مغربی تہذیب (western civilization) حدیث کی پیشین گوئی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر (111) کے مطابق، اسلام کے لیے تائیدی تہذیب (supportive civilization) کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر مسلم رہنماؤں نے مغربی تہذیب کو مغربی استعمار (western colonialism) کے ہم معنی سمجھ لیا۔

Printed page