27 نومبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں ہے : مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ ( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3062 )۔ زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہوگا۔
دوسری حدیث ہے : لَا يَجْتَمِعُ مَاءَ زَمْزَمَ ونار جَهَنَّم في جَوْف عبد أبدا ( الفردوس
بماثور الخطاب، حدیث نمبر (7799) یعنی زمزم کا پانی اور دوزخ کی آگ ایک انسان کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔
اس بنیاد پر فقہانے زمزم کے آداب مقرر کیے ہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے کہ زمزم کا پانی خود اپنے ہاتھ سے نکالا جائے اور قبلہ کی جانب رخ کر کے خوب سیر ہو کر پیا جائے اور ہر سانس پر نظر اٹھا کر بیت اللہ کو دیکھے اور بچا ہوا پانی اپنے منہ اور جسم پر مل لیا جائے اور ہو سکے تو کچھ اپنے جسم پر بھی مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں ہر چیز کو مسئلہ بنا دیا۔ حتیٰ کہ زمزم پینے کو بھی۔ زمزم اس سے بھی زیادہ ہیں جتنا اوپر نقل ہوئے۔