29 نومبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر شخص یا ہر قوم کی زندگی میں ایسی کوئی چیز ہوتی ہے، جس کو وہ سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہر دوسری چیز اس کے ماتحت ہوتی ہے۔ ہر دوسری چیز کے بارے میں اپنے رویہ کا فیصلہ اس کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام قوموں کا حال یہ ہے کہ ان کے لیے ان کا قومی مفاد (نیشنل انٹرسٹ) سپریم بنا ہوا ہے۔ ہر دوسری چیز نیچے ہے، اور قومی مفاد ہر چیز کے اوپر۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی حالت بھی ہے۔ انھوں نے بھی اپنے قومی مفاد کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام دے دیا ہے۔
مسلمان اگر چہ اس کے لیے اسلامی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً دوسرے لوگ اگر قومی مفاد کا لفظ بولتے ہیں تو مسلمان ملی مفاد کا لفظ بولتے ہیں۔ دوسروں کے پاس اگر قومی غیرت کا لفظ ہے تو مسلمانوں کو اسلامی حمیت اور دینی غیرت کا لفظ ملا ہوا ہے۔ دوسرے لوگ جس کو قومی لڑائی کہتے ہیں اس کو مسلمانوں نے مقدس جہاد کا نام دے رکھا ہے۔
مگر اس سے اصل واقعہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسلامی الفاظ بولنے سے مسلمانوں کی قوم پرستی خدا پرستی نہیں بن جائے گی۔ اہل ایمان کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہم ہونی چاہیے وہ دعوت الی اللہ ہے۔ ہمارے تمام معاملات کو دعوت کی روشنی میں طے کیا جانا چاہیے۔ دعوتی مصلحت کو ہر
دوسری مصلحت پر غالب ہونا چاہیے اور دوسری تمام چیزوں کو اس کے ماتحت۔ ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا موضوع تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا دین کیا ہے اور صحابہ کرام کا دین کیا تھا۔
میں نے کہا کہ، ایک لفظ میں، ہمارا اور صحابہ کرام کا فرق یہ ہے کہ ہم نفرت اقوام پر کھڑے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام محبتِ اقوام پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے وہ تمام فرق پیدا کر دیا ہے جو ہمارے اور صحابہ کے درمیان پایا جاتا ہے۔