4 دسمبر 1985
Al-Risala, October 2021, pp. 32–34
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب سے ہندوستان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندو ایک مظاہر پرست قوم ہے۔ وہ ہر نمایاں چیز کے آگے عقیدت سے جھک جاتی ہے، خواہ وہ پیپل کا درخت ہو یا ہمالیہ پہاڑ، یا اور کوئی نمایاں چیز۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے ہندو قوم بہت جلد کسی کی عقیدت مند ہو جاتی ہے۔ آپ کوئی اعلیٰ اخلاقی سلوک کریں۔ کسی برتر انسانی معاملہ کا ثبوت دیں تو ہندو فوراً جھک جائے گا۔ وہ کہے گا کہ آپ تو دیوتا ہیں۔ میں نے اس سلسلہ میں کئی واقعاتی مثالیں دیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت ام ہانی کے گھر گئے۔ پوچھا کہ کچھ کھانے کے انھوں نے کہا کہ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے (كَسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلّ)۔ نے فرمایا: جس گھر میں سرکہ ہو اس کو سالن کے معاملے میں غریب نہیں کہا جا سکتا (فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدُمِ فِيهِ خَلّ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 1841۔ اس کے بعد آپ نے سرکہ اور روٹی نہایت شوق کے ساتھ کھایا۔
اسی طرح مختلف روایتوں میں مختلف کھانوں کے بارے میں آپ کی پسندیدگی کا ذکر ہے۔ مثلاً سرکہ، شہد، روغن زیتون، حلوہ، کدو، گوشت، ککڑی، لاکی، کھچڑی، دودھ، مکھن، کھجور، وغیرہ۔ اس سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ آپ کے پسندیدہ کھانوں کی فہرست میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جو اس وقت کے مدینہ میں رائج تھیں۔ اگر اس سلسلے کی مختلف روایتوں کو جمع کیا جائے تو رائج کھانوں میں سے کوئی بھی چیز نہیں بچے گی، جو آپ کے مرغوب کھانے کی فہرست میں شامل نہ ہو۔ پھر اگر آپ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا معاملہ ہی نہیں۔ آپ کے اس قسم کے تمام کلمات میزبانوں کی حوصلہ افزائی کے اس وقت مدینہ میں کھانے کے سامان کی کمی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جہاں آپ جاتے اس کے یہاں کوئی ایک سالن ہوتا تھا۔ میزبان شرمندگی کے ساتھ ’جو کھانا موجود ہو‘، وہ لے آتا۔ آپ شرافت کے تقاضے کے تحت فرماتے کہ یہ تو بہترین کھانا ہے، اور پھر شوق سے اس کو کھانے اس طرح کے تمام کلمات میزبان کی حوصلہ افزائی کے کلمات ہیں، نہ کہ کھانے کے بارے میں اپنی پسندیدگی بتانے کے کلمات۔
عربی زبان کی باریکیوں سے ایک انسان واقف نہ ہو تو کیسی کیسی غلطی کر سکتا ہے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیدِ (182: 3)۔
اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نا انصافی کرنے والا نہیں۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ خدا زیادہ بڑا ظالم نہیں، یعنی وہ چھوٹے درجہ کا ظلم کر سکتا ہے۔ البتہ وہ بڑے درجہ کا ظلم کرنے والا نہیں۔ کیوں کہ آیت میں ظلام کا لفظ آیا ہوا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے بہت ظلم کرنے والا۔ مگر آیت کا یہ مطلب نہیں۔ نحو (عربی گرامر) کا یہ اصول ہے کہ نفی (negative) کے بعد جب مبالغہ آتا ہے تو سارا زور نفی (انکار عمل) کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں، نہ یہ کہ اللہ بڑا ظلم کرنے والا نہیں۔